ملتِ اسلامیہ کا علمی ورثہ

خلافتِ عثمانیہ کے اضمحلال اور بتدریج خاتمہ سے امتِ مسلمہ کو جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ان میں فکری و علمی ماحول میں مرکزیت اور اجتماعیت کا کمزور ہوتے چلے جانا بھی شامل ہے کہ ایک طرف فقہ و شریعت اور دینی فکر تطبیق و تنفیذ کے دائرہ سے نکل کر محض نظری اور فقہی مباحث میں سمٹ گئی، اور اجتماعی عملیت کی جگہ گروہی، طبقاتی اور علاقائی رجحانات آگے بڑھتے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۲۳ء

پیغامِ پاکستان اور میثاقِ وحدت

قیامِ پاکستان کے بعد سے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کا اس پر اجماع چلا آ رہا ہے کہ پاکستان میں اس کے مقصدِ قیام کے مطابق شریعتِ اسلامیہ کا مکمل اور عملی نفاذ ناگزیر مِلّی تقاضہ اور ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے جس کی دستورِ پاکستان میں بھی صراحت موجود ہے، مگر اس کے لیے کسی مسلح جدوجہد کی بجائے پُرامن سیاسی جدوجہد اور جمہوری عمل ہی واحد راستہ ہے جس پر اب تک مجموعی طور پر عمل ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۲۳ء

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ کی خدمات

مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ بھارت کے مظلوم مسلمانوں کے لیے بہت بڑے سہارے اور ڈھارس کی حیثیت رکھتے تھے اور صرف قلم اور زبان کی دنیا کے آدمی نہیں تھے بلکہ انہوں نے عملی میدان میں بھارتی مسلمانوں کی جرأت مندانہ قیادت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

خلافتِ صدیق اکبرؓ کے پانچ راہنما اصول

کچھ عرصہ سے ہماری اس ہفتہ وار نشست میں ’’اسلام کا نظامِ خلافت‘‘ کے عنوان سے گفتگو چل رہی ہے۔ ان دنوں چونکہ ملک بھر میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختلف قسم کے پروگرام ہو رہے ہیں اس لیے اسی سلسلہ میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۲۰۲۳ء

حدیثِ نبویؐ۔ علومِ دینیہ کا سرچشمہ

مدرسہ انوار العلوم جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے دورہ حدیث کے طلبہ نے شیخ الحدیث حضرت مولانا داؤد احمد کی سربراہی میں اساتذہ کرام سے اپنے نصاب کی تعلیم حاصل کی ہے اور آج وہ بخاری شریف کا آخری سبق اور حدیث شریف پڑھنے کا اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔ اس سعادت پر میں طلبہ، ان کے والدین و اہل خاندان، اساتذہ اور مدرسہ کے منتظمین و معاونین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جنوری ۲۰۲۳ء

سودی نظام۔علماء کرام کی ذمہ داری کیا ہے؟

آج کل ہمارا عام طور پر موضوع سود ہی ہوتا ہے کیونکہ سودی نظام کے خلاف مہم جاری ہے اور مختلف طبقات تاجر برادری ، علماء کرام اور دینی حلقے اس حوالے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آج میں اس پہلو پر گزارش کرنا چاہوں گا کہ وطنِ عزیز کو سودی نظام سے نجات دلانے کی جدوجہد میں علماء کرام کو کیا کرنا چاہیے؟ علماء کرام خواہ کسی بھی مکتبہ فکر کے ہوں، مسجد، جمعہ، وعظ و خطابت اور تدریس سے جو تعلق رکھتے ہیں، انہیں دو تین کام تو کرنے ہی چاہئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۲۳ء

مسئلہ ختمِ نبوت میں عالمی اداروں کی دلچسپی

اس وقت دین کے حوالے سے جدوجہد کے جتنے بھی دفاعی محاذ ہیں، ان میں سب سے بڑا محاذ ختم نبوت کا ہے۔ یہ سب سے بڑا محاذ کیوں ہے؟ یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ باقی محاذوں اور مسائل پر ہمارا سامنا آپس کے داخلی گروپوں سے ہوتا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو وہ امتِ مسلمہ کے داخلی گروپوں کا ہوگا، یا اپنے آپ کو امتِ مُسلمہ میں شمار کرنے والوں کا ہوگا۔ لیکن ختمِ نبوت کے مسئلے پر ہمارا محاذ اور مورچہ داخلی نہیں بلکہ خارجی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۲۲ء

ویلفیئر اسٹیٹ، چائلڈ الاؤنس اور حضرت عمرؓ

ویلفیئر اسٹیٹ، بچوں کا وظیفہ اور حضرت عمرؓجناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں عملاً یہ ماحول بنا دیا تھا کہ بیت المال شہریوں کی ضروریات کا کفیل ہوتا تھا۔ معذوروں، بیروزگاروں اور مقروضوں کو تعاون ملتا تھا۔ جو آدمی اپنا خرچہ پورا نہیں کر سکتا، یا جو آدمی اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا، یا معذور، یا بے روزگار ہوتا، تو بیت المال اس سے تعاون کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۲۳ء

اسلام آباد کے علماء کرام کی دوہری ذمہ داری

آج اسلام آباد حاضری اس سلسلہ میں ہوئی ہے کہ سود کے نظام کے خلاف جو جدوجہد چل رہی ہے اور پچھتر سال سے اس نے مختلف اتار چڑھاؤ آئے ہیں، وہ کس پوزیشن میں ہے اور اس وقت کیا تقاضے ہیں؟ اس حوالے سے جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام مارگلہ ہوٹل اسلام آباد میں ایک مشترکہ اجتماع تھا، جس میں حاضر ہو کر میں نے وہاں علماء اور رہنماؤں کی باتیں سنیں اور کچھ گزارشات پیش کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ دسمبر ۲۰۲۲ء

قرآن کریم آج بھی راہنمائی کا سرچشمہ ہے

میرے اور آپ سب کے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ جن بچوں نے قرآن پاک حفظ مکمل کیا ہے، انہوں نے آخری سبق سنایا ہے اور ان کی دستار بندی ہوئی ہے، اور ان بچوں، ان کے والدین اور استاد محترم کی خوشی میں ہم شریک ہو رہے ہیں۔ اصل خوشی تو ان کی ہے۔ اللہ پاک ان کو یہ خوشیاں مبارک کریں اور ان کا قرآن کریم حفظ کرنا ہم سب کے لیے دنیا و آخرت کی برکات، سعادتوں اور خوشیوں کا ذریعہ بنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۲۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter