ہمارا تعلیمی نظام و نصاب اور آج کے تقاضے

برصغیر پاک و ہند اوربنگلہ دیش و برما میں دینی مدارس کا موجودہ نظام اس تسلسل کا ایک حصہ ہے جس کا آغاز ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں کی شکست کے بعد ہوا تھا۔ انگریز حکمرانوں نے جنگِ آزادی کو کچلنے کے بعد پورے برصغیر پر تعلیمی و تہذیبی یلغار کر دی تھی، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے تباہ برباد کر دیے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۲۲ء

سودی نظام کی مشکلات اور اسلامی تعلیمات

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دورِ جاہلیت کے جن معاملات کو حرام اور ناجائز قرار دیا ان میں سود بھی شامل ہے جس کا رواج اس وقت عام تھا اور ذاتی قرضوں کے علاوہ تجارتی لین دین میں بھی سود چلتا تھا۔ جب سود کو حرام قرار دینے کا اعلان ہوا تو اس کے بارے میں یہ اشکال پیش کیا گیا کہ بیع اور کاروبار بھی تو سود کی طرح ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۲۲ء

قومی حرمتِ سود سیمینار اور ہماری ذمہ داریاں

کراچی آنا ہوتا ہے تو جامعۃ الرشید میں حاضری میری ترتیب میں شامل ہوتی ہے۔ جامعۃ الرشید کے ساتھ ابتدا سے الحمد للہ تعلق ہے، اللہ تعالیٰ دارین میں یہ تعلق قائم رکھیں۔ کل مجھے دیگر پروگراموں کے علاوہ ’’قومی حرمتِ سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے دعوت نامہ بھیجا تو میں نے عرض کیا کہ اتفاق سے ان دنوں کراچی میں ہی ہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۲۲ء

بچوں سے پہلے والدین پر توجہ دینے کی ضرورت

مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے اپنے خطاب میں تمام والدین کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ نئی نسل کی بے راہ روی اور گمراہی کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ بات بہت ضروری ہے کہ اولاد کو صحیح رخ پر رکھنا ماں باپ کی ذمہ داری ہے جیسا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۲۰۲۲ء

دینی مراکز کو مضبوط کرنے کی ضرورت

دو تین باتیں عرض کروں گا۔ ابھی ہمارے معروف خطیب مولانا شبیر احمد عثمانی گفتگو فرماتے ہوئے تاریخ کا حوالہ دے رہے تھے۔ میں تاریخ کا طالب علم ہوں اس لیے دو باتیں تاریخ کے حوالے سے کروں گا۔ دینی درس گاہ کیا ہے؟ علامہ محمد اقبالؒ ہمارے ملک و قوم کے صف اول اور چوٹی کے رہنماؤں میں سے تھے، اللہ رب العزت نے ان کو بہت عظمت دی اور ان سے بہت کام لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر کو ۲۰۲۲ء

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کا تاریخ میں تعارف دو حوالوں سے ہے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مذہبی حلقوں کی جو نئی تقسیم ہوئی تھی اس میں دیوبندی مکتبۂ فکر کا بانی اور نقطۂ آغاز کہا جاتا ہے۔ ۱۸۵۷ء اور یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور سے پہلے ہمارے ہاں مسلم معاشرے میں جو مذہبی دائرہ بندی تھی اس کے عنوانات اور تھے، ۱۸۵۷ء کے بعد جہاں اور بہت سی باتیں تبدیل ہوئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم نومبر ۲۰۲۲ء

’’اثمھما اکبر من نفعھما‘‘

’’مرکز الاقتصاد الاسلامی‘‘ اور ’’وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان‘‘ کا شکرگزار ہوں کہ ایک اہم ترین قومی و دینی مسئلہ پر تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام اور تاجر طبقہ کے راہنماؤں کے اس اجتماع کا اہتمام کیا، بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۲۲ء

سر سید احمد خان اور قائد اعظم کے کیمپ سے ایک گزارش

قائد اعظم ہمارے قومی لیڈر اور ہمارے محسن تھے، آپ پاکستان کے بانی ہیں، پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہیں۔ آج مجھے کہا گیا کہ اس وقت ملتِ اسلامیہ کو جو چیلنجز درپیش ہیں اور مسلم دنیا کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس پر بات کروں تو میرا جی چاہ رہا ہے کہ قائد اعظم کے حوالے سے ہی بات کروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۲۲ء

جمعۃ المبارک ۲۵ نومبر ۔ یومِ انسدادِ سود

قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ سود کے کاروبار کو اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے اور واضح حکم دیا ہے کہ سودی کاروبار چھوڑ دو۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودی نظام ختم کیا تھا اور خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں ہماری معیشت میں سود کا کوئی شائبہ نہیں تھا۔ سود کا نظام مغرب نے شروع کیا اور چلتے چلتے جب ہم پر غیر مسلم حکومتیں آئیں تو ہمارا نظام بھی سودی ہوتا چلا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ نومبر ۲۰۲۲ء

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانیؒ

حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کچھ عرصہ قبل کراچی حاضری کے دوران ان کی بیمارپرسی کا موقع ملا تو والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا آخری دور یا دآ گیا، انہوں نے بھی ضعف و علالت کا خاصا عرصہ بسترِ علالت پر گزارا تھا اور میں ساتھیوں سے کہا کرتا تھا کہ یہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً‌ و شیبۃ‘‘ کا اظہار ہے کہ جس بزرگ کے ساتھ ان مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۲۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter