ترکی میں احادیث کی نئی تعبیر و تشریح ۔ علمی شخصیات و مراکز کی خدمت میں ایک اہم مکتوب

مکرمی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ مزاج گرامی؟ برادر مسلم ملک ترکی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے جو اس عریضہ کے ساتھ منسلک ہے کہ اس کی وزارت مذہبی امور نے احادیث نبویہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام کے پورے ذخیرے کی ازسرنو چھان بین اور نئی تعبیر و تشریح کے کام کا سرکاری سطح پر آغاز کیا ہے جو اس حوالے سے یقیناً خوش آئند ہے کہ ترکی نے اب سے کم و بیش ایک صدی قبل ریاستی و حکومتی معاملات سے اسلام اور مذہبی تعلیمات کی لاتعلقی کا جو فیصلہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۰۸ء

امت مسلمہ کو درپیش فکری مسائل: چند اہم گزارشات

’’عصر حاضر میں اسلامی فکر ۔ چند توجہ طلب مسائل‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون کم و بیش ربع صدی قبل تحریر کیا گیا تھا لیکن اس کی اہمیت و افادیت آج بھی موجود ہے بلکہ مسائل کی فہرست اور سنگینی میں کمی کے بجائے اس دوران میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بیشتر مسائل خود میرے مطالعہ کا موضوع رہے ہیں اور بعض مسائل پر کچھ نہ کچھ لکھا بھی ہے مگر یہ خواہش رہی ہے کہ ایجنڈا اور تجاویز کے طور پر ایسے مسائل کی ایک مربوط فہرست سامنے آجائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۲ء

حضرت لاہوریؒ کی جدوجہد و خدمات کی ایک جھلک

شیرانوالہ گیٹ لاہور میں عالمی انجمن خدام الدین کا دو روزہ سالانہ اجتماع آج شروع ہوگیا ہے جو کل شام تک جاری رہے گا اور اس میں سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے مشائخ اور متوسلین کے علاوہ علماء کرام اور کارکنوں کی بھرپور شرکت رہے گی، ان شاء اللہ تعالٰی۔ اجتماع کے اشتہار میں اسے ۱۰۲ واں اجتماع بتایا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انجمن خدام الدین ایک صدی مکمل کر کے دوسری صدی میں داخل ہو گئی ہے اور یہ بات بہرحال خوشی کی ہے کہ اس کا تسلسل اور سرگرمیاں بدستور جاری ہیں، اللہ تعالٰی ترقیات اور ثمرات سے ہمیشہ بہرہ ور فرماتے رہیں، آمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۱۹ء

کراچی یونیورسٹی کی سالانہ سیرت کانفرنس میں حاضری

۲۷ و ۲۸ نومبر کراچی میں گزارنے کا موقع ملا، شعبہ علوم اسلامی کراچی یونیورسٹی کی سیرت چیئر کی سالانہ سیرت کانفرنس میں شرکت کا وعدہ تھا، اس دوران قیام معہد الخلیل الاسلامی بہادر آباد میں رہا اور ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ کی ہفتہ وار کلاس میں گفتگو کی۔ یہ کلاس معہد الخلیل الاسلامی کراچی کے زیر اہتمام الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اشتراک و تعاون سے ہر منگل کو اڑھائی بجے سے ساڑھے تین بجے تک آن لائن ہوتی ہے۔ معہد کے مدیر مولانا محمد الیاس مدنی کا ارشاد تھا کہ جب آپ کراچی آ ہی رہے ہیں تو ایک نشست بالمشافہہ ہو جائے جو جمعرات کو ظہر کے بعد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی ’’اصول پرستی‘‘

آج کی ایک خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۹ء

بلاول بھٹو زرداری سے چند گزارشات

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی جگہ ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت مکمل کرنے تک ان کے والد جناب آصف علی زرداری کو شریک چیئرمین کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، جبکہ مخدوم امین فہیم کو آئندہ وزارت عظمی کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح پاکستان پیپلز پارٹی کی آئندہ قیادت کے خدوخال کچھ نہ کچھ واضح ہوگئے ہیں۔ چیئرمین شپ کو بھٹو خاندان میں رکھنا ہمارے خطے کی روایتی مجبوری ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

جامعہ حفصہ کی تعمیر نو اور ’’تحریک طالبان و طالبات اسلام‘‘

سپریم کورٹ کے حکم پر لال مسجد کے کھل جانے کے بعد سے وہاں نماز وغیرہ کی معمول کی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ عدالت عظمٰی نے لال مسجد کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کا ازخود نوٹس لینے کے بعد اس سلسلہ میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے دائر کی جانے والی رٹ اور غازی عبد الرشید شہید کے خاندان کی طرف سے دی جانے والی درخواستوں کو یکجا کر دیا ہے اور ان سب پر مجموعی طور پر کارروائی آگے بڑھ رہی ہے۔ جس میں لال مسجد کے دوبارہ کھولے جانے اور جامعہ حفصہ کی ازسرنو تعمیر کا معاملہ بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۷ء

پاکستان اسٹیل ملز اور عدالت عظمیٰ

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات سے پہلے جب ملک میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تو وہ میری سیاسی اور خطابتی زندگی کا ابتدائی دور تھا۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس اللہ سرہ العزیز سے عقیدت زیادہ تھی جو اب بھی ہے، ان کی سیاسی جدوجہد اور سیاسی افکار سے سب سے زیادہ متاثر تھا اور اسی مناسبت سے استعمار دشمنی کی بات کسی طرف سے بھی ہو، اچھی لگتی تھی۔ جمعیت علمائے اسلام کا اجتماعی ذوق بھی یہی تھا (جو اب پس منظر میں چلا گیا ہے)۔ اس حوالے سے لیفٹ کے سیاسی کارکنوں کے ساتھ ہمارا میل جول زیادہ رہتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ اگست ۲۰۰۶ء

عدلیہ کی بحالی اور دستور و قانون کی بالادستی

سپریم کو رٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب اعتزاز احسن اور وکلاء تحریک کے دیگر قائدین جسٹس (ر) طارق محمود اور جناب علی احمد کرد دوبارہ نظر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات پھر واضح ہوگئی ہے کہ صدر پرویز مشرف اور ان کی حکومت دستور کی بالادستی اور پی سی او کے تحت معزول کیے جانے والے معزز جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ملک بھر کے قانون دانوں اور رائے عامہ کی بات پر توجہ دینے کے لیے ابھی تک تیار نہیں۔ لیکن کیا اس طرح وکلاء کی قیادت کو ان سے دور رکھ کر اس تحریک کو دبایا جا سکے گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۸ء

وکلاء اور علماء کے مابین ایک ملاقات کا احوال

وکلاء کی تحریک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جج صاحبان کی بحالی کے لیے نئی حکومت جن عزائم کا اظہار کر رہی ہے، پوری قوم کو ان میں پیشرفت کا بے چینی کے ساتھ انتظار ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ زبردستی خالی کرانے کی بھونڈی حرکت نے جہاں نومنتخب وزیر اعظم کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے سے معذرت کرنے پر مجبور کیا ہے، وہاں وکلاء کی تحریک کے لیے بھی مہمیز کا کام دیا ہے اور ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس محترم جناب افتخار محمد چودھری کے اس بیان نے ان کی عزت و وقار میں مزید اضافہ کیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter