مانسہرہ میں ’’ناموس رسالتؐ ملین مارچ‘‘

ملک بھر میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو کا کام جاری ہے، رکن سازی کے بعد مرحلہ وار انتخابات کا سلسلہ چل رہا ہے اور مرکزی و صوبائی جماعتی انتخابات کی طرف پیشرفت ہو رہی ہے، اس کے ساتھ ہی ’’تحفظ ناموس رسالتؐ ملین مارچ‘‘ کے عنوان سے اجتماعات بھی تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور ایک درجن کے لگ بھگ شہروں میں کامیاب عوامی ریلیوں کے بعد اب ۲۸ اپریل کو مانسہرہ میں بڑا عوامی مظاہرہ کرنے کی تیاریاں نظر آرہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۹ء

قرآن و سنت کی دستوری بالادستی

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ (۱۸ جنوری ۲۰۱۲ء) کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محترم جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ اگر کوئی قانون قرآن و سنت کے کسی قانون کے درمیان حائل ہے تو اس کے لیے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا جائے۔ یہ بات انہوں نے ایک رٹ درخواست کی سماعت کے دوران کہی جس میں درخواست گزارنے استدعا کی ہے کہ قوانین کو اسلامی رنگ میں ڈھالنے کے لیے قراردادِ مقاصد کے تحت قرآن و سنت کے احکام کو ملکی قوانین کے طور پر نافذ کرنے کا حکم دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

قومی خواتین کمیشن کا قیام

روزنامہ نئی بات لاہور (۲۰ جنوری ۲۰۱۲ء) میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق قومی اسمبلی نے گزشتہ روز ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ کے قیام کا بل منظور کر لیا ہے جو وزیر اعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نواز کھوکھر نے پیش کیا اور اسے اپوزیشن کی بعض ترامیم کو شامل کرنے کے بعد متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس قانون کے مطابق حکومت پاکستان ’’قومی کمیشن برائے خواتین‘‘ قائم کرے گی جس میں ہر صوبہ سے دو جبکہ وفاق، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت و بلتستان کا ایک ایک نمائندہ شامل ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

افغان طالبان کی استقامت کو سلام

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۱۴ جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے ایک ٹاپ سیکرٹ جائزے میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان نے اقتدار حاصل کرنے اور دوبارہ سخت مذہبی قوانین نافذ کرنے کے مقصد کو ترک نہیں کیا۔ اس جائزے نے اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے کابل اور شورش پسندوں کے درمیان امن معاہدہ کرانے کے لیے جو کوششیں کی جا رہی ہیں، ان کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۲ء

انسانی اسمگلنگ اور غلامی کی نئی شکلیں

مغربی ملکوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے انسانی معاشرہ سے غلامی کو ختم کر دیا ہے اور انسان کو وہ عزت فراہم کر دی ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ لیکن یہ دعویٰ صرف اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر اور اس کی فائلوں میں درج ہے، جبکہ اس کی عملی صورت یہ ہے کہ لاکھوں انسانوں کو آج بھی عالمی سطح کے منظم ادارے ورغلا کر اور دوسرے ملکوں میں بہتر روزگار کی فراہمی کی لالچ دے کر تکنیکی طور پر غلام بنا لیتے ہیں اور پھر ان سے غلاموں کی طرح ہی کام لیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

موسمی تبدیلیاں اور دنیا کو درپیش خطرات

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی میں ۲۸ جولائی ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے افسر رثم سٹائز نے کہا ہے کہ موسمی تبدیلیوں کے باعث مستقبل میں امن اور سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اس سے قدرتی آفات میں اضافہ ہو گا اور ان آفات کی وجہ سے آنے والی دہائیوں میں بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۱ء

جنوبی سوڈان کی آزادی اور سوڈان کا مستقبل

اقوام متحدہ کی طرف سے ’’جنوبی سوڈان‘‘ کو ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر رکنیت دینے کے فیصلے کے ساتھ ہی سوڈان کی پہلی تقسیم مکمل ہو گئی ہے اور دوسری تقسیم کی طرف پیشرفت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سوڈان جو افریقہ کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا مسلمان ملک تھا نسلی اعتبار سے تین اکائیوں پر مشتمل ہے: (۱) شمالی سوڈان، جہاں عرب مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ (۲) جنوبی سوڈان جہاں مسیحیوں اور روح پرست افریقی قبائل کی اکثریت ہے۔ (۳) اور مغربی سوڈان جہاں افریقی مسلمان آباد ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۱ء

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کا پاکستان میں شرعی قوانین ختم کرنے کا مطالبہ

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۰ دسمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ ملاحظہ فرمائیے! ’’اسلام آباد (طاہر خلیل) پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے ایک اور حربہ کے طور پر برسلز میں قائم مغربی ترجمان انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے وفاقی شرعی عدالت کو ختم اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ آئی سی جی نے ’’پاکستان میں اسلامی پارٹیاں‘‘ کے عنوان سے رپورٹ جاری کر دی ہے۔ تازہ رپورٹ میں جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن)، جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

خواتین کے حقوق کا بل

روزنامہ اسلام لاہور (۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء) کی ایک خبر کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے منظور کردہ خواتین کے حقوق کے بل پر دستخط کر دیے ہیں جس سے یہ بل قانون کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔یہ قانون پارلیمنٹ کے منظور کردہ دو مسودوں پر مشتمل ہے جس کے مطابق: خواتین کی جبری شادی پر ۳ سے ۷ سال کی سزا ہو گی۔ خواتین کو وراثت سے محروم کرنے پر ۵ سے ۱۰ سال سزا ہو گی اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

بے حیائی کا مسلسل فروغ اور ہماری کوتاہیاں

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۱۱ء کی ایک خبر کے مطابق بھارت کی ایک مسلمان تنظیم ’’ آل انڈیا مسلم کمیٹی‘‘ نے ایک معروف پاکستانی اداکارہ کی شرمناک حرکات کے باعث اسے مسلم کمیونٹی سے خارج قرار دے کر بھارتی مسلمانوں سے اس کے سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے، کمیٹی کے بیان کے مطابق پاکستانی اداکارہ کی قابل اعتراض اور نازیبا تصاویر اور ریئلٹی شو میں نکاح کی توہین کا رویہ اسلامی معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ دے سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter