لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی کا قیام اور دینی جماعتوں کی ذمہ داری

اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام نے لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحہ کے سلسلہ میں رائے عامہ کو منظم و بیدار کرنے کے لیے ’’لال مسجدعلماء ایکشن کمیٹی ‘‘ کے نام سے فورم قائم کر کے ۶ جولائی کو لال مسجد میں جلسہ کرنے اور وہاں سے احتجاجی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کا فیصلہ

پارلیمنٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالہ سے متعلقہ اداروں کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ اور اس پر بحث و مباحثہ کے بعد جو قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے اس میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پیش کی جانے والی یہ ترمیم بھی شامل کر لی گئی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا از سرِ نو جائزہ لے کر قومی سلامتی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، نیز عسکریت اور انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مذاکرات پہلی ترجیح ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۸ء

سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی اور الاقتصاد اسلامک سوسائٹی کی تقریبات میں شرکت

جنوری کو دو اہم تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ہال میں سید ابوالحسن علی ندویؒ اکیڈمی کے زیر اہتمام مضمون نویسی کے ایک بین الاقوامی مقابلہ کی تکمیل پر انعامات کی تقسیم کے لیے سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کی اور اس سے دیگر ممتاز اصحاب فکر و دانش کے علاوہ معروف اسکالر جناب احمد جاوید نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۱۹ء

تبلیغی جماعت کا معاملہ

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی شش ماہی امتحان کی تعطیلات کے دوران کچھ ایام کراچی میں گزارنے کا معمول ایک عرصہ سے چلا آرہا ہے، اس سال بھی گزشتہ ہفتہ میں چار پانچ روز کراچی میں رہ کر گیا ہوں جس میں میرا بڑا پوتا حافظ محمد طلال خان بھی ہمراہ تھا، اس سفر کی تفصیلات ابھی قلمبند نہیں کر سکا کہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کے ارشاد پر دوبارہ کراچی حاضری ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ء

حضرت مولانا حمد اللہؒ

استاذ العلماء حضرت مولانا حمد اللہ صاحب آف ڈاگئی کی وفات حسرت آیات کی خبر مجھے کراچی کے سفر کے دوران ملی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے ان پرانے بزرگوں میں ایک اہم شخصیت تھے جنہیں عوام کے ساتھ ساتھ اہل علم میں بھی مرجع اور راہنما کی حیثیت حاصل تھی اور بہت سے مشکل معاملات و مسائل میں ان سے رجوع کر کے اطمینان ہو جاتا تھا کہ متعلقہ مسئلہ و معاملہ کا صحیح رخ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۲۰۱۹ء

اللہ تعالیٰ کا نام اور مسیحی ادارے

سہ روزہ ’’دعوت‘‘ نئی دہلی نے ۱۰ جنوری ۲۰۰۸ ء کی اشاعت میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملائیشیا کی مسیحی آبادی گاڈ (God) کے لیے انگریزی میں تو گاڈ کا لفظ استعمال کرتی ہے لیکن مقامی زبان میں لفظ ’’اللہ‘‘ استعمال کرتی ہے حتٰی کہ کیتھولک مسیحیوں کا ہفت روزہ ’’دی ہیرالڈ‘‘ بھی مقامی زبان کے ایڈیشن میں یہی کرتا ہے۔گزشتہ دنوں ملائیشیا کی حکومت نے لفظ ’’اللہ‘‘ کے استعمال پر اس خیال سے پا بندی لگا دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

شیطان کی پیش قدمی او ر پا پائے روم

روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار جناب عبد اللہ طارق نے ۷ جنوری ۲۰۰۸ کو شائع ہو نے والے اپنے کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ میں بتایا ہے کہ رومن کیتھولک چرچ نے شیطان کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے حکمت عملی وضع کی جاری ہے جس کے تحت سینکڑوں روحانی عامل (Exorcists) ٹرینڈ کیے جائیں گے۔منصوبے کے تحت چرچ کا ہر بشپ اپنے ڈایومسسز میں پادریوں کا ایک گروہ ترتیب دے گا اور ان سب کو ایگزارسزم کی خصوصی مہارت دلوائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

جناب صدر! ہماری منزل یہ نہیں ہے

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۸ ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے حالیہ دورۂ یورپ کے دوران یورپی یونین کے دارالحکومت بر سلز میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے غیر حقیقی معیار پر نہیں پرکھا جانا چاہیے‘‘۔ انہوں نے مغرب پر الزام لگایا ہے کہ اس پر جمہوریت کا بھوت سوار ہے اور کہا کہ ’’آپ لوگ جس معیار تک پہنچ چکے ہیں وہاں تک پہنچنے کے لیے ہمیں وقت درکار ہے اور یہ وقت ہمیں ملنا چاہیے‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۸ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا قادیانی امیدوار

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۰ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم، نائب امیر حضرت مولانا سید نفیس الحسینی دامت برکاتہم اور ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے تونسہ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان کی صوبائی سیٹ پر ایک قادیانی امام بخش قیصرانی کو پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ٹکٹ دیے جانے کی مذمت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

امریکہ کا صدارتی امیدوار ’’باراک حسین اوباما‘‘

روزنامہ وقت لاہور ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ ء کی ایک خبر کے مطابق نیویارک کے سابق گورنر باب کیری نے آئندہ انتخاب کے ایک امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما سے اس بات پر معافی مانگ لی ہے کہ انہوں نے ایک اور صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے دوران باراک اوباما کے اسلامی تشخص کو نمایاں کرنے کی کوشش کی تھی۔ باب کیری نے ایک اخباری انٹرویو میں بتایا ہے کہ انہوں نے باراک اوباما کو خط لکھا ہے جس میں ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتخابی مہم کے دوران ان کے اسلامی تشخص کا ذکر کر کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter