کیا پاکستان کو اسرائیلی ریاست تسلیم کر لینی چاہیے؟

مجھے اس سوال پر گفتگو کرنی ہے کہ آج کل اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی جو بات ہو رہی ہے اس کے بارے میں پاکستان کا اصولی موقف کیا ہے؟ کیا موقف ہونا چاہیے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے مسئلہ کی نوعیت سمجھنے کے لیے اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر کچھ گفتگو کرنا ہوگی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال صحیح طور پر سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا۔ آج سے ایک صدی پہلے اسرائیل کا کوئی وجود نہیں تھا اور فلسطین کا سارا علاقہ خلافت عثمانیہ کا صوبہ تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۹ء

حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں سیمینار

گزشتہ اتوار کو جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں حضرت مولانا سید محمد میاںؒ کی یاد میں منعقدہ سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ مولانا رشید میاں صدارت کر رہے تھے، سینیٹر مولانا عطاء الرحمان مہمان خصوصی تھے اور بہت سے فاضل مقررین نے حضرت رحمہ اللہ تعالٰی کی دینی و قومی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ اسی روز مولانا قاری جمیل الرحمان اختر کی دختر کا نکاح تھا، میں جب وہاں سے فارغ ہو کر جامعہ مدنیہ پہنچا تو مولانا نعیم الدین کا خطاب جاری تھا اور وہ مولانا سید محمد میاںؒ کی علمی و دینی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۱۹ء

جکارتہ میں بین الاقوامی خلافت کانفرنس

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں حزب التحریر کے زیراہتمام خلافت کے موضوع پر ایک بین الاقوامی اجتماع منعقد ہوا ہے جس میں ستر ہزار افراد کے لگ بھگ علماء، اسکالرز اور دینی کارکنوں نے شرکت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حزب التحریر کے راہنماؤں نے کہا کہ یہ خلافت اسلامیہ کے قیام کا بہترین وقت ہے اور تمام مسلمانوں کو اس کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

پاکستان کا اسلامی تشخص اور غیر مسلم اقلیتیں

روزنامہ الجریدہ لاہور نے ۱۳ اگست ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں آن لائن کے حوالہ سے آل پاکستان مینارٹیز الائنس کے تحت لاہور میں منعقد ہونے والی ایک ریلی کی تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے جس میں ’’۳۰ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز ‘‘کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے۔ قومی یکجہتی ریلی کے عنوان سے یہ اجتماع لاہور میں مینار پاکستان کے سبزہ زار میں منعقد ہوا جس میں خبر کے مطابق تمام غیر مسلم اقلیتوں کے راہنماؤں نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

سانحہ لال مسجد کے اثرات اور دینی وسیاسی حلقوں کی ذمہ داری

سانحہ لال مسجد کے اثرات و نتائج جوں جوں سامنے آرہے ہیں ان کے اسباب و عوامل پر بحث و تمحیص کا سلسلہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا از خود نوٹس لیتے ہوئے کاروائی کا آغاز لال مسجد کے خلاف آپریشن کے دوران ہی کر دیا تھا، جبکہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر حضرت مولانا سلیم اللہ خان اور سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں رٹ دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۷ء

ترکی میں اسلام پسندوں کی کامیابی

برادر مسلم ملک ترکی میں ہونے والے عام انتخابات میں جناب طیب اردگان کی جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے اور وہ ساڑھے پانچ سو میں سے تین سو چالیس نشستیں جیت کر دوبارہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ اس سے قبل بھی ترکی میں اسی پارٹی کی حکومت تھی اور طیب اردگان اس کے وزیر اعظم چلے آرہے تھے لیکن حالیہ انتخابات میں ملک کے سیکولر حلقوں نے فوج کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ جس طرح طیب اردگان اور ان کی جماعت کے خلاف عوامی مظاہرے کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

چیف جسٹس کی بحالی اور قوم کی توقعات

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف چار ماہ قبل دائر کیے جانے والے ریفرنس کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے بعد جسٹس افتخار محمد چوہدری نے عدالت عظمیٰ کے سربراہ کے طور پر اپنے فرائض دوبارہ سرانجام دینا شروع کر دیے ہیں اور ملک بھر میں عدالت عظمیٰ کے اس تاریخی فیصلہ پر خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔ اس سے کم و بیش ساڑھے چار ماہ قبل ان الزامات کی آڑ میں، جن کا صدارتی ریفرنس میں تذکرہ کیا گیا ہے، چیف جسٹس پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

لال مسجد کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے سانحے نے پوری قوم کو غم اور صدمہ سے دو چار کر دیا ہے اور جس شخص کے سینے میں بھی گوشت کا دل ہے وہ اس المیہ پر مضطرب اور بے چین ہے۔ ۱۰ جولائی کی صبح کو عین اس وقت جبکہ حکومت اور غازی عبدالرشید شہیدؒ کے درمیان مذاکرات ایک مثبت نتیجے پر پہنچ چکے تھے، ان مذاکرات کو ملک کی مقتدر شخصیت نے ویٹو کر دیا اور پھر مذاکرات کا سلسلہ ختم ہوتے ہی جس بے دردی اور سنگدلی کے ساتھ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے اندر موجود افراد بالخصوص طالبات اور بچوں کو مسلح آپریشن کا نشانہ بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۷ء

ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کا تحفظ ناموس رسالتؐ سیمینار

میں سب سے پہلے گوجرانوالہ کے وکلاء اور ڈسٹرکٹ بار کو اس حالیہ کامیابی پر مبارکباد پیش کروں گا جو گوجرانوالہ میں لاہور ہائیکورٹ کا بینچ قائم کرنے کے سلسلہ میں انہوں نے حاصل کی ہے۔ یہ گوجرانوالہ ڈویژن کے عوام کا حق اور وکلاء کا جائز مطالبہ تھا جسے پورا کرنے پر حکومت بھی تحسین کی مستحق ہے۔ تحفظ ناموس رسالتؐ کے عنوان پر وکلاء کا یہ سیمینار آپ حضرات کے ایمانی ذوق اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت ہے۔ گوجرانوالہ کے وکلاء نے ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی جدوجہد میں ہمیشہ بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۹ء

دینی مدارس کا حمیت وغیرت پر مبنی کردار

گزشتہ ماہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں شرکت کا موقع ملا تو ایک خوشگوار خبر سننے کو ملی، وہ یہ کہ گزشتہ برسوں میں امریکہ اور یورپی ممالک کی طرف سے دینی مدارس کی مالی امداد اور خطیر رقوم کے ذریعہ دینی مدارس کو تعاون کی حکومتی پیشکش کے جواب میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے پابندی لگا دی کہ وفاق سے ملحق کوئی مدرسہ سرکاری امداد قبول نہیں کرے گا اور سرکاری امداد قبول کرنے والے مدارس کا وفاق کے ساتھ الحاق ختم کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter