دو لڑکیوں کی باہمی شادی کا افسوسناک واقعہ

ان دنوں اخبارات میں فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی دو لڑکیوں کا تذکرہ چل رہا ہے جنہوں نے آپس میں شادی رچا لی ہے، شہزینہ اور نازیہ نامی دو لڑکیوں نے ایک دوسرے کی محبت میں باہمی شادی کا فیصلہ کیا۔ ان میں سے ایک نے لڑکا بننے کے لیے آپریشن کرایا جس سے اس کے چہرے پر داڑھی وغیرہ کے آثار نمودار ہوئے اور دونوں نے آپس میں شادی کر لی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ داڑھی نمودار ہونے کے باوجود وہ ابھی تک لڑکی ہے تو خاندان کی طرف سے بات عدالت تک جا پہنچی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

بین المذاہب مکالمہ اور دینی مراکز کی ذمہ داری

روزنامہ جنگ لندن ۱۰ مئی ۲۰۰۷ء کی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کے وزیر اعظم جناب ٹونی بلیئر ۲۷ جون ۲۰۰۷ء کو وزارت عظمیٰ سے سبکدوش ہونے کے بعد ’’بین المذاہب مکالمہ‘‘ کو فروغ دینے کے لیے لندن میں ایک فاؤنڈیشن قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے لیے ابتدائی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ مسٹر ٹونی بلیئر کے خیال میں عالمی سطح پر کوئی ادارہ سنجیدگی کے ساتھ مکالمہ بین المذاہب یا انٹر فیتھ ڈائیلاگ کے لیے کام نہیں کر رہا اس لیے انہوں نے یہ پروگرام ترتیب دینے کا ارادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۷ء

بہائی مذہب اور عقیدۂ ختم نبوت

ماہنامہ نصرۃ العلوم کے اگست کے شمارے میں ’’حالات و واقعات‘‘ کے تحت راقم الحروف نے فلسطین کے وزیر اعظم محمود عباس کے بارے میں لکھا تھا کہ ان کا تعلق بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق بہائی مذہب سے ہے جو اسلام سے منحرف گروہ ہے اور قادیانیوں کی طرح ختم نبوت کے عقیدہ کا انکار کرتے ہوئے مرزا بہاء اللہ شیرازی کی نبوت کا قائل ہے ۔ اس پر پشاور سے جناب مہربان اختری صاحب کا خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ محمود عباس بہائی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

زائد از ضرورت مکانات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک سفارش حال ہی میں قومی اخبارات کے ذریعہ منظر عام پر آئی ہے جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ مکانات کی تعمیر میں ضروریات کے حوالہ سے درجہ بندی کی جائے اور زائد از ضرورت مکان کی تعمیر پر پابندی عائد کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

پاکستان میں مروجہ قوانین کی تعبیر و تشریح

لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ ماہنامہ شاداب نے جولائی ۲۰۰۳ء کے شمارے میں ایک خبر شائع کی ہے جو علمی و دینی حلقوں کی خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ صائمہ نامی ایک مسیحی لڑکی نے گھر سے بھاگ کر ایک مسیحی نوجوان سے شادی کر لی جس پر لڑکی کی ماں نے عدالت میں اس لڑکے کے خلاف اغوا کا کیس درج کرا دیا اور ساتھ ہی یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی شادی مسیحی مذہب کے قوانین کے مطابق رسومات کی ادائیگی کے ساتھ نہیں ہوئی اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۳ء

اسلام آباد کے مساج پارلر اور لال مسجد

لال مسجد اسلام آباد کی انتظامیہ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک مساج پارلر پر چھاپہ مارا اور وہاں کام کرنے والی لڑکیوں اور کارکنوں کو یرغمال بنا کر لال مسجد میں لے آئے جن میں چین کے باشندے بھی تھے۔ اس پر اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد کی انتظامیہ سے بات چیت کی اور اسلام آباد میں چین کے سفیر محترم بھی حرکت میں آئے جس پر لال مسجد کی انتظامیہ نے اسلام آباد کی انتظامیہ کے اس وعدہ پر ان یرغمالیوں کو رہا کر دیا ہے کہ اسلام آباد میں ان مساج پارلروں کو بند کر دیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

کیا مذہب اور مذہبی شخصیات کی توہین جرم نہیں ہے؟

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۸ جون ۲۰۰۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کے مذہبی آزادی کے بین الاقوامی کمیشن نے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بش حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان سے سرگرمی کے ساتھ رجوع کرے، اور کمیشن نے اس کے ساتھ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توہین مذہب کو غیر مجرمانہ فعل قرار دے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۷ء

عالمی استعمار کے روبوٹس اور افغان طالبان کا امتحان

افغان طالبان کی طرف سے کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات سے دوٹوک انکار پر اس بات پر اطمینان میں اضافہ ہوا ہے کہ تاریخ کا عمل اگرچہ سست رفتار ہے مگر اس کا رخ صحیح سمت ہے اور دھیرے دھیرے صورتحال واضح ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ایک عرصہ سے افغان طالبان پر یہ دباؤ تھا کہ وہ کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کریں یا کم از کم مذاکرات کے عمل میں اسے شمولیت کا موقع دیں، مگر امارت اسلامیہ افغانستان نے گزشتہ روز حتمی طور پر واضح کر دیا ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۱۹ء

شکریہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ!

گزشتہ دنوں افغانستان سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے اعلان پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کالم میں ہم نے شکریہ ادا کیا تو بعض دوستوں نے اس پر الجھن کا اظہا رکیا، مگر اب اس سے بڑا ایک شکریہ ادا کرنے کو جی چاہ رہا ہے اس لیے ان احباب سے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اپنے حالیہ دورۂ بغداد کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کے عالمی پولیس مین کے کردار کے اختتام کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۱۸ء

عالم اسلام اور مغرب کے درمیان غلط فہمیاں

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ اپریل ۲۰۰۷ء کی خبر کے مطابق لاہور کے ایک ہوٹل میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف نیشنل آفیئرز (پائنا) کے زیر اہتمام ’’اسلام اور مغرب کے مابین درپیش چیلنجز اور مواقع‘‘ کے عنوان سے سیمینار منعقد ہوا جس میں قومی سطح کے بہت سے دانشوروں کے علاوہ اسپین سے یونیورسٹی آف بار سلونا کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر پری ویلا نووہ اور پروفیسر راحیل بیونو نے بھی خطاب کیا، مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا ان کے اہم نکات یہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter