حضرت سلمان فارسیؓ کی نصیحت، زندگی کے اصول

جناب سرور کائناتؐ کی سیرت طیبہ قیامت تک نسل انسانی کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں سے ہر دور میں انسانی سوسائٹی نے استفادہ کیا ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ مگر میں آج سیرت طیبہ کے ایک پہلو کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا کہ جناب رسول اللہ نے نسل انسانی کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی عبادت میں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرنے پر زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ جو لوگ اللہ کو بھول جاتے ہیں اللہ انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۱۰ء

موجودہ حالات اور جنرل حمید گل

دو روز قبل جنرل (ر) حمید گل صاحب نے فون پر مجھے کہا کہ ۸ دسمبر کو راولپنڈی میں کچھ حضرات کو ملک کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے جمع ہونے کی دعوت دی گئی ہے جس میں آپ کی آمد بھی ضروری ہے۔ میرا خیال تھا کہ کوئی محدود سطح کا مشاورتی اجلاس ہوگا لیکن میں جب ۳ بجے کے لگ بھگ راولپنڈی صدر کے فلیش مین ہوٹل کے مین ہال میں داخل ہوا تو وہاں ایک اچھے خاصے قومی سیمینار کا سماں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۰۹ء

دینی جدوجہد کی معروضی صورتحال کی بحث

دینی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں معروضی صورتحال کے حوالے سے ان کالموں میں گفتگو کر رہا ہوں، اس میں ماضی کے تجربات کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اور مستقبل کے امکانات اور ضروریات کا جائزہ بھی اس کا حصہ ہے۔ اس پس منظر میں حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب نے ایک مضمون میں مجھ سے تقاضا کیا کہ دوسرے حضرات کو توجہ دلانے کی بجائے خود اس سمت پر پیشرفت کیوں نہیں کرتا؟ اس کے جواب میں ایک قدرے تفصیلی مضمون میں راقم الحروف نے ان اسباب کا تذکرہ کیا جو اس بارے میں میری عملی پیشرفت میں حائل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد ۔ ضرورت اور تقاضے

ہمارے محترم دوست حافظ عبد الوحید اشرفی صاحب (مدیر ماہنامہ فقاہت لاہور) نے روزنامہ اسلام میں گزشتہ دنوں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں راقم الحروف کی ان گزارشات کو موضوع بحث بنایا ہے جن میں کچھ عرصہ سے مسلسل یہ عرض کر رہا ہوں کہ قومی سیاست میں دینی نمائندگی اور ہمارے تحریکی ماضی کے تسلسل کا خلا دن بدن گھمبیر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے اس خلا کو پر کرنے اور تحریکی تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے کسی نہ کسی کو آگے بڑھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ و ۶ دسمبر ۲۰۰۹ء

نیدرلینڈز کے مجوزہ گستاخانہ خاکوں کے پروگرام کی منسوخی

مسلمانوں کا ایمانی جذبہ بالآخر رنگ لایا ہے اور ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی حکومت نے گستاخانہ خاکوں کے ان مجوزہ نمائشی مقابلوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جو دس نومبر کو وہاں کی پارلیمنٹ میں منعقد کرائے جانے والے تھے۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ’’تحریک لبیک یا رسول اللہؐ‘‘ کی ریلی کے اسلام آباد پہنچنے پر تحریک کے راہنما پیر محمد افضل قادری کو مذاکرات میں بتایا ہے کہ ہالینڈ کے وزیرخارجہ نے انہیں فون پر اطلاع کی ہے کہ یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۲۰۱۸ء

شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اور مفکر اسلام مولانا مفتی محمودؒ کی جدوجہد کے دو اہم پہلو

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں ۳۰ اکتوبر کو خانیوال میں سیمینار منعقد ہو رہا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان مہمان خصوصی ہوں گے اور مختلف ارباب فکر و دانش حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت مفتی صاحبؒ کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ اس سیمینار کا اہتمام جناب اکرام القادری اور ان کے رفقاء کی طرف سے کیا جا رہا ہے جو ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے دور میں جمعیۃ علماء اسلام کے آرگن ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے سالہا سال تک مدیر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۰۹ء

ایک اور ’’دینِ الٰہی‘‘؟

روزنامہ جنگ لاہور ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء کی رپورٹ کے مطابق حکمران پارٹی کی سربراہ بیگم بے نظیر بھٹو نے لاہور ایئرپورٹ پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے شریعت بل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ: ’’ہم ایسا اسلام چاہتے ہیں جو واقعی اللہ کی ہدایات کے مطابق ہو۔ پوری دنیا اللہ کی ہے۔ عوام اللہ کے نمائندے ہیں۔ منتخب پارلیمنٹ اللہ کی امانت ہوتی ہے۔ ہم پارلیمنٹ کی بالادستی قائم رکھیں گے۔ ہم انسانوں کے کان یا ہاتھ کاٹنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۱۹۹۰ء

گلگت بلتستان صوبہ ۔ چند سنجیدہ خدشات و تحفظات

بلتستان کے مطالعاتی دورے کے بارے میں کچھ گزارشات ایک گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ یہ علاقہ سنی شیعہ کشیدگی کے حوالے سے بہت حساس ہے۔ گلگت بلتستان کے جس خطے کو ایک الگ صوبائی یونٹ کی حیثیت دی گئی ہے اس میں اہل سنت کی مجموعی آبادی ۲۷ فیصد بیان کی جاتی ہے، ان میں اکثریت علماء دیوبند سے متعلق ہے، کچھ اہل حدیث حضرات بھی ہیں اور اب خال خال لوگ بریلوی مکتب فکر کے مدارس سے تعلیم حاصل کرنے والے بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ اہل تشیع میں اثنا عشریوں کے علاوہ اسماعیلیوں اور نور بخشیوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۲۰۰۹ء

موجودہ حالات اور تحفظ ختم نبوت کا محاذ

ماہِ رواں کی پانچ تاریخ کو مجلسِ احرار اسلام پاکستان کے مرکزی دفتر لاہور میں مختلف دینی جماعتوں کے سرکردہ حضرات کا ایک مشترکہ اجلاس متحدہ تحریک ختم نبوت رابطہ کمیٹی کی دعوت پر امیر احرار پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ بخاری کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جمعیۃ علماء اسلام، جماعت اسلامی، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، پاکستان شریعت کونسل، خاکسار تحریک، مجلس احرار اسلام، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، ملت اسلامیہ پاکستان اور دیگر جماعتوں کے ذمہ دار حضرات نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۲۰۰۹ء

امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے چند ضروری گزارشات

میں مسجد الہدٰی واشنگٹن ڈی سی کی انتظامیہ اور جمعیۃ المسلمین کے ذمہ دار حضرات کا شکر گزار ہوں جنہوں نے آج یہاں اس محفل کا انعقاد کر کے ہمیں اپنی دینی ذمہ داریوں کے بارے میں کچھ کہنے سننے کا موقع فراہم کیا، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دیں۔ تفصیلی خطاب تو حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی کا ہوگا جو قادیانیت کی فتنہ خیزیوں کے بارے میں آپ سے کھل کر بات کریں گے، مجھے مختصر وقت میں آپ دوستوں سے یہاں امریکہ میں مقیم مسلمانوں بالخصوص پاکستانی دوستوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۱۹۸۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter