شرعی عدالتوں کا قیام
۱۹۷۵ء کے دوران جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے ملک بھر میں شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان اور اس کی اصولی وضاحت کے حوالہ سے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک مضمون کے اقتباسات گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ آج اس سلسلہ میں ۲۸ و ۲۹ مارچ ۱۹۷۶ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہونے والے دو روزہ کنونشن کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ۹ اپریل ۱۹۷۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کی کوششوں کا پس منظر
جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ۱۹۷۵ء میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں حکومتی رویے سے مایوس ہو کر ملک بھر میں پرائیویٹ شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور طے کیا تھا کہ جو مقدمات اور تنازعات قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں ہیں اور جن میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق تحکیم، پنچایت اور ثالثی کے ذریعے اپنے تنازعات کا فیصلہ کرا سکتے ہیں، ان میں عام مسلمانوں کو اپنے مقدمات کے فیصلے شرعی قوانین کی روشنی میں کرانے کے لیے سہولت اور نظام فراہم کیا جائے۔ میں نے اپنے ایک دو گزشتہ کالموں میں اس کا ذکر کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کا نفاذ اور اس پر مختلف حلقوں کا ردعمل
مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کا اعلان ہوگیا ہے اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر ہوتی نے مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ تحریک کے مطالبات منظور کر لیے گئے ہیں جن کے تحت سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کے ضلع کوہستان میں شرعی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو لوگوں کے مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کا ایک اہم پہلو
عید الاضحٰی کی تعطیلات کے دوران مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا، صوابی کے علماء کرام ہر سال عید الاضحٰی کے بعد علاقائی سطح پر علماء کا اجتماع کرتے ہیں، اس سے قبل مجھے اس اجتماع میں ضلع صوابی کے مقام باجہ میں شرکت کا موقع حاصل ہوا تھا، جبکہ اس سال یہ اجتماع صوابی سے آگے ضلع بونیر کے مقام طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں منعقد ہوا جس سے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ دامت برکاتہم نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ ملکی صورتحال میں پاکستان شریعت کونسل کا موقف
عام انتخابات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے مرکزی مجلس شورٰی کا اجلاس ۲ اگست کو مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں طلب کیا جس میں بعض دیگر ہم خیال دینی راہنماؤں کو بھی خاص طور پر دعوت دی گئی تاکہ ان کی رائے اور مشاورت سے استفادہ کیا جا سکے۔ ان میں سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمان ثانی، جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی، اور مجلس احرار اسلام کے راہنما قاری محمد قاسم احرار نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں سیرۃ النبیؐ کی تقریب
گزشتہ روز گوجرانوالہ میڈیکل کالج میں کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا، ڈاکٹر فضل الرحمان ہمارے محترم دوست ہیں اور جامعہ نصرۃ العلوم کی انتظامیہ سے تعلق رکھتے ہیں، والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے خصوصی متعلقین بلکہ خدام میں سے ہیں۔ ان کی دعوت پر کالج میں منعقدہ ایک پروگرام میں شرکت ہوئی جس میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر مختلف کالجوں کے طلبہ اور طالبات کے درمیان تقریری مقابلہ کی نشست بھی تھی اور اس میں مجھے جج بنایا گیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد کے مشترکہ فورم کی ضرورت
گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی راہنماؤں کے دو اجتماعات ہوئے جن سے کچھ امید ہونے لگی ہے کہ ملی و دینی مسائل میں دینی حلقوں کے موقف کے اجتماعی اظہار کی کوئی مناسب صورت بن جائے گی۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر قومی و ملی امور پر تمام دینی حلقوں کا موقف کم و بیش یکساں ہوتا ہے جس کا اپنی اپنی جگہ وہ اظہار بھی کرتے ہیں لیکن کوئی مستقل فورم ایسا نہیں ہے جس پر وہ اس موقف کا اجتماعی طور پر اظہار کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان کا مسئلہ ۔ پارلیمنٹ کے اجلاس سے توقعات
افغانستان میں برطانوی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر مازک اسمتھ نے سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں جنگ جیتنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات کی کوئی صورت اختیار کرنا ہوگی۔ ادھر عراق میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل پیٹریوس نے بغداد میں غیر ملکی میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں سے نمٹنے اور بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور پاکستان کے بعض علاقوں میں طالبان کا کنٹرول ختم کرنا انتہائی مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ہنگ پارلیمنٹ‘‘
الیکشن گزر چکے ہیں، وفاق اور صوبوں میں حکومت سازی کی سرگرمیاں جاری ہیں، متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیتے ہوئے حلف برداری کی تقریب کے بائیکاٹ اور احتجاجی مہم کی کال دے رکھی ہے، الیکشن کمیشن دھاندلیوں کے وسیع تر اور سنگین الزامات کی زد میں ہے، اور مختلف اطراف سے بیان بازی زور و شور کے ساتھ ہو رہی ہے۔ مگر اس ساری فضا میں ہمارا دکھ قدرے مختلف ہے کہ سب متعلقہ حلقے موجودہ صورتحال کو حالیہ انتخابات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان کے عام انتخابات / امریکی وزارت خارجہ کی مذہبی کانفرنس
عام انتخابات کے نتائج سے پیدا شدہ صورتحال پر اس سرسری تبصرہ کے بعد آج کے کالم میں ایک اور اہم مسئلہ پر کچھ عرض کرنا ضروری اور بروقت معلوم ہوتا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ مذہبی آزادی کے عنوان سے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی کانفرنس منعقد کر رہی ہے جس کا آغاز ۲۹ جولائی کو واشنگٹن میں ہوگا اور وہ مسلسل تین روز تک جاری رہے گی۔ امریکی وزیر خارجہ جناب مائیک پومپیو کے اعلان کے مطابق چالیس سے زائد ممالک کے وزرائے خارجہ، مذہبی راہنما، دانشور، این جی اوز اور انسانی حقوق کے وکلاء اس میں شریک ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 239
- 240
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »