بخاری شریف اور اہل سنت کے علمی مسلّمات
امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری شریف کا آغاز اس روایت سے کیا ہے کہ اعمال کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے، اور آخری حدیث یہ لائے ہیں کہ قیامت کے دن اقول و اعمال کا وزن ہوگا۔ اس سے امام بخاریؒ یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ کسی بھی عمل کا ابتدائی مرحلہ اس کی نیت اور ارادہ ہوتا ہے مگر اس کی آخری منزل قیامت کے دن وزنِ اعمال ہے۔ درمیان میں بہت سے مراحل آتے ہیں، اگر ایک مسلمان کا عمل نیت کے اعتبار سے صحیح ہے اور وزنِ اعمال کے مرحلہ تک محفوظ رہا تو وہ اس کے کام آئے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عوامی نمائندگی اور سیرتِ طیبہؐ
انتخابات کے موقع پر عام طور پر یہ سوال زیربحث آجاتا ہے اور بعض حلقوں کی طرف سے اس پر اظہار خیال کا سلسلہ بھی چلتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں عوام کی رائے اور ان کے نمائندوں کے چناؤ کی شرعی حیثیت کیا ہے اور کیا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں اس سلسلہ میں کوئی راہنمائی ملتی ہے؟ آج اس حوالہ سے کچھ گزارش کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ بات تو معروف و مسلم ہے کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جن معاملات میں وحی نازل نہیں ہوتی تھی ان میں لوگوں سے مشورہ کر کے فیصلے کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پارلیمنٹ کیسی ہونی چاہیے؟
گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی راہنماؤں مولانا قاری جمیل الرحمان اختر، مفتی محمد نعمان پسروری، قاری عبید اللہ عامر، مولانا عبد المالک فاروقی اور قاری محمد عثمان رمضان کے ساتھ فیصل آباد کے دورے پر تھا کہ دوران سفر مفتی محمد نعمان نے ایک پرانا کالم یاد دلایا جس میں عام انتخابات کے کسی موقع پر میں نے لکھا تھا کہ میں پارلیمنٹ میں کن حضرات کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ ان کا تقاضہ تھا کہ وہ کالم دوبارہ شائع ہونا چاہیے مگر حالات میں تغیرات کی وجہ سے میں اپنے جذبات و احساسات کے دائرے میں اس حوالہ سے ازسرنو کچھ عرض کرنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریاں
۲ اگست کو صبح مجھے لاہور سے نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا، چھ بج کر پچاس منٹ پر پی آئی اے کی فلائٹ تھی اس لیے یکم اگست کو جمعہ پڑھا کر شام ہی لاہور حاضری کا پروگرام بنا لیا۔ والد محترم مدظلہ کی خدمت میں ایک روز قبل حاضر ہو آیا تھا، مجھ سے اکثر ملکی حالات کے بارے میں پوچھا کرتے ہیں، میں نے عرض کیا کہ حالات روز بروز مزید بگڑ رہے ہیں اور بظاہر صورتحال میں اصلاح کی کوئی توقع نظر نہیں آرہی، یہ سن کر آبدیدہ ہوگئے۔ میں نے سفر کے بارے میں بتایا، واپسی کا پوچھا تو عرض کیا کہ حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک تک ان شاء اللہ واپسی ہو جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شادی و کفالت اور سزا و جزا کا اسلامی تصور
میری تعلیمی سندِ حدیث والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے حوالہ سے ہے جو شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد ہیں، مگر طالبات کے سامنے بخاری شریف کی روایت میں ایک اور سند کے حوالہ سے پڑھتا ہوں جس میں واسطے کم ہیں اور ایک عظیم محدثہ خاتون بھی اس سند میں شامل ہیں۔ اس سند کے مطابق مجھے مکہ مکرمہ کے ایک معروف شافعی محدث الشیخ ابوالفیض محمد یاسین الفادانیؒ سے مشافہتًا روایت حدیث کی اجازت حاصل ہے اور انہیں الشیخہ امۃ اللہ محدثہ دہلویہؒ سے روایت حدیث کی اجازت حاصل تھی جو معروف محدث شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کی دختر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند جواہر پاروں کی مکرر اشاعت
میرے نانا جی محترم مولانا محمد اکبرؒ کا تعلق راجپوت جنجوعہ فیملی سے تھا۔ میں نے جب ہوش سنبھالا اور تو وہ موجودہ تھانہ سیٹلائیٹ ٹاؤن گوجرانوالہ کے عقبی محلہ کی ایک مسجد میں امام و خطیب تھے اور مسجد کے مکان میں ہی ان کی رہائش تھی۔ ان کی وفات تک یہ محلہ میرے کھیل کود اور بچپن کی سرگرمیوں کی جولانگاہ رہا۔ وہ قرآن کریم معروف لہجے میں اچھی طرز سے پڑھتے تھے جو اس دور میں کمیاب تھا۔ مطالعہ کے شوق کے ساتھ ساتھ اس کا عمدہ ذوق بھی رکھتے تھے، دہلی کا ماہنامہ برہان اور لکھنؤ کے دو رسالے النجم اور الفرقان ان کے پاس پابندی سے آتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شہدائے لال مسجد اور تحفظ ختم نبوت کانفرنسیں
۶ جولائی کو ملک کی مختلف دینی جماعتوں کے راہنماؤں کا رخ اسلام آباد کی جانب تھا جبکہ میں اسی روز کندیاں کی طرف عازم سفر تھا۔ اسلام آباد میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سانحہ فاجعہ کو ایک سال گزر جانے کے باوجود مسائل کے حل کی طرف کوئی پیشرفت نہ ہونے پر ’’لال مسجد علماء ایکشن کمیٹی‘‘ نے لال مسجد میں ہی احتجاجی کنونشن رکھا ہوا تھا جس کی مشاورت میں شرکت کی مجھے بھی سعادت حاصل تھی اور میں نے مختلف مضامین میں اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خادم الحرمین الشریفین کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش
آج ۱۶ جولائی کے ایک قومی اخبار نے مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مسلم علماء کانفرنس اور دانشوروں کی حالیہ کانفرنس کے حوالہ سے خادم الحرمین شریفین شاہ سلیمان بن عبد العزیز حفظہ اللہ تعالیٰ کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے افغانستان میں جلد از جلد امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالیں اور فرمایا ہے کہ افغانستان میں جلد از جلد امن کا قیام سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات
لال مسجد کے سانحہ کو ایک برس ہونے والا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں اور بظاہر ان کے جلد طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچیوں اور دیگر افراد کی مظلومانہ شہادت کے ذمہ داروں کی نشاندہی، جامعہ فریدیہ کی مسلسل بندش، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر، مولانا عبد العزیز کی رہائی، اور اس سلسلہ میں درج کیے جانے والے مقدمات کے بارے میں حکومتی پالیسی جیسے اہم مسائل کے بارے میں آج بھی صورتحال وہی ہے جو اب سے گیارہ ماہ قبل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہینِ رسالتؐ کے خلاف منظم جدوجہد کی ضرورت
ڈنمارک کے اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف ممالک میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان میں بھی متعدد شہروں میں پرجوش مظاہرے ہوئے ہیں اور دھیرے دھیرے یہ احتجاجی مہم ملکی سطح پر منظم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ان خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا حق استعمال کر رہے ہیں اس لیے مسلمانوں کو اس سے غصہ میں نہیں آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 240
- 241
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »