لال مسجد و جامعہ حفصہ کے حل طلب معاملات

لال مسجد کے سانحہ کو ایک برس ہونے والا ہے مگر اس سے متعلقہ مسائل ابھی تک جوں کے توں ہیں اور بظاہر ان کے جلد طے ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف وحشیانہ آپریشن اور اس کے نتیجے میں سینکڑوں معصوم بچیوں اور دیگر افراد کی مظلومانہ شہادت کے ذمہ داروں کی نشاندہی، جامعہ فریدیہ کی مسلسل بندش، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر، مولانا عبد العزیز کی رہائی، اور اس سلسلہ میں درج کیے جانے والے مقدمات کے بارے میں حکومتی پالیسی جیسے اہم مسائل کے بارے میں آج بھی صورتحال وہی ہے جو اب سے گیارہ ماہ قبل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جون ۲۰۰۸ء

توہینِ رسالتؐ کے خلاف منظم جدوجہد کی ضرورت

ڈنمارک کے اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات میں ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے اور مختلف ممالک میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان میں بھی متعدد شہروں میں پرجوش مظاہرے ہوئے ہیں اور دھیرے دھیرے یہ احتجاجی مہم ملکی سطح پر منظم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ان خاکوں کی اشاعت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ آزادیٔ اظہارِ رائے کا حق استعمال کر رہے ہیں اس لیے مسلمانوں کو اس سے غصہ میں نہیں آنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۰۸ء

ووٹ، نتائج اور نئی صورتحال

میں پیر کے دن سے کراچی میں ہوں۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں سہ ماہی امتحان کی تعطیلات میں تین چار روز کے لیے میں نے کراچی کا پروگرام بنا لیا تھا جہاں جامعہ انوار القرآن (آدم ٹاؤن، نارتھ کراچی) میں مولانا فداء الرحمان درخواستی نے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے تین روزہ تربیتی پروگرام تشکیل دے رکھا تھا جو منگل سے جاری ہے اور کل جمعرات کو صبح آٹھ بجے سے بارہ بجے تک اس کی آخری نشست ہوگی، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ فروری ۲۰۰۸ء

توہینِ رسالت کے خلاف بیداری کا مظاہرہ کیا جائے

ڈنمارک کے اخبارات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی بات چل رہی ہے اور اس پر عالم اسلام کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے کہ ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے قرآن مجید کے حوالے سے فلم کا مسئلہ کھڑا کر کے ’’یک نہ شد دو شد‘‘ والا معاملہ کر دیا ہے۔ اور عالم اسلام کے حکمرانوں کا رویہ وہی روایتی سا ہے کہ رسمی احتجاج کر کے وہ مطمئن ہیں کہ انہوں نے قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ اپنے تعلق کا ثبوت فراہم کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۰۸ء

دینی مدارس کی جدوجہد کی تاریخ کا ایک باب

ڈاکٹر ممتاز احمد ہمارے فاضل دوست ہیں، گوجر خان سے تعلق رکھتے ہیں، ایک عرصہ سے امریکہ میں مقیم ہیں، ہیمپسٹن یونیورسٹی ورجینیا میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے دینی مدارس ان کی تحقیق و تدریس کا خصوصی موضوع ہیں۔ اس سلسلہ میں ان کی تحقیقاتی رپورٹوں سے بین الاقوامی حلقوں میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں انہوں نے راقم الحروف کے ایک بہت پرانے مضمون کی فوٹو کاپی ارسال کی ہے جو ان کی فائل میں محفوظ تھا۔ یہ مضمون ’’دینی مدارس کا جرم؟‘‘ کے عنوان سے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں ۳۱ جنوری ۱۹۷۵ء کو شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۸ء

افغان حکومت اور طالبان کے مبینہ مذاکرات ۔ دو اہم موقف

۱۲ جولائی کے قومی اخبارات میں اے ایف پی کے حوالہ سے شائع ہونے والی خبر میں بتایا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں او آئی سی کے زیر اہتمام ۱۰۰ کے لگ بھگ مسلم اسکالرز کے ایک اجتماع میں افغان حکومت اور طالبان سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنے کی اپیل کی گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف امارت اسلامیہ افغانستان نے بھی اس سلسلہ میں اپنا موقف جاری کیا ہے، صورتحال کو معروضی تناظر میں صحیح طور پر سمجھنے کے لیے دونوں کا مطالعہ ضروری ہے اس لیے ہم سردست یہ دونوں موقف قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء

حدود آرڈیننس میں ترامیم ۔ چند حقائق

سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حدود کیا ہیں؟ ان کے لیے آرڈیننس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آرڈیننس کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ اہم اعتراضات کیا ہیں؟ تحفظ نسواں بل کے ذریعے اس میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟ اس حوالہ سے موجودہ قانونی صورتحال کیا ہے؟ اس سلسلہ میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ تا ۳۰ دسمبر ۲۰۰۶ء

موجودہ معروضی حالات اور دینی جدوجہد کا مستقبل

گزشتہ منگل (۱۲ فروری) کو کافی عرصہ کے بعد پشاور جانے کا اتفاق ہوا، جامعہ عثمانیہ میں وفاق المدارس کے زیراہتمام دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے چار روزہ ’’تدریب المعلمین‘‘ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کچھ موضوعات پر مجھے بھی اظہار خیال کے لیے کہا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شورٰی نے گزشتہ سال جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کا مجھے اور مانسہرہ کے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کو بھی رکن بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۰۸ء

تحریک نفاذ شریعت اور نظام عدل ریگولیشن

بی بی سی کے نشریہ کے حوالے سے روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کی نگران حکومت نے اس ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ۱۹۹۴ء میں مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تنظیم نفاذ شریعت محمدی‘‘ کی طرف سے چلائی جانے والی پرجوش عوامی تحریک کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی حکومت نے نافذ کیا تھا۔ اس تحریک میں کم و بیش تیس ہزار کے لگ بھگ عوام مسلح ہو کر سڑکوں پر آگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۰۸ء

علماء کرام اور انتخابی سیاست

آج کل ملک بھر میں عام انتخابات کی گہماگہمی ہے متحدہ مجلس عمل سمیت بہت سی دینی جماعتیں اس معرکہ میں شریک ہیں۔ اس سلسلہ میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو ایک سوال کا عام طور پر سامنا کرنا پڑتا ہے کہ علماء کرام کا انتخابی سیاست اور جمہوری عمل سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال دو طرف سے ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کا کام لوگوں کو نماز پڑھانا، دین کی تعلیم دینا اور ان کی دینی و اخلاقی راہنمائی کرنا ہے، سیاست ان کے دائرہ کار کی چیز نہیں ہے اس لیے انہیں اس جھمیلے میں پڑے بغیر اپنے کام کو مسجد و مدرسہ تک محدود رکھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter