فیصل آباد میں ختم نبوت کانفرنس

۹ اگست کو ستیانہ روڈ فیصل آباد کے سلیمی چوک میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت مرکزی نائب امیر مولانا خواجہ عزیز احمد آف کندیاں شریف نے کی اور خطاب کرنے والوں میں مولانا اللہ وسایا، پروفیسر ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی، مولانا ضیاء الدین آزاد اور دیگر سرکردہ حضرات شامل تھے جبکہ راقم الحروف نے بھی کچھ معروضات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۲۰۱۸ء

دینی مدارس اور این جی اوز کے بارے میں دوہرا حکومتی طرز عمل

روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۱۳ جولائی ۲۰۱۸ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’بیرونی امداد کی تفصیل نہ بھجوانے والی ضلع بھر کی ۱۰۵ این جی اوز کو شوکاز جاری ہوئے مگر سماجی تنظیموں کے سربراہان نے ڈیٹا نہ بھجوا کر احکامات کو ہوا میں اڑا دیا، ذرائع کے مطابق عام انتخابات کی مصروفیت کے باعث سماجی تنظیموں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کا امکان ہے، جس سے ساری تنظیموں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۸ء

اسلامی احکام و مسائل اور آج کی دنیا

اس دفعہ سہ ماہی امتحان کی تعطیلات کے موقع پر تین دن کے لیے کراچی حاضری کا پروگرام بنا تو میں نے یہ سوچ کر کہ کبھی کبھار کراچی آنے کا موقع ملتا ہے بہت ٹائٹ قسم کا شیڈول بنا لیا، بہت سے دوستوں کے تقاضے جمع تھے، میں نے سب کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی لیکن پہلی بار اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ’’من بعد قوۃ ضعفاً و شیبۃ‘‘ کی عملی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ کہنے کو تو میں نے وہ شیڈول جیسے کیسے بنا لیا لیکن واپسی پر خود کو پہلی کیفیت پر واپس لانے میں ایک ہفتہ لگ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ فروری ۲۰۰۹ء

دینی مدارس ۔ کردار اور توقعات

۲۳ نومبر کو ادارہ علوم اسلامی بارہ کہو اسلام آباد کے سالانہ اجتماع میں حاضری کا موقع ملا، اس موقع پر دورۂ حدیث سے فارغ ہونے والے طلبہ اور حفاظ کی دستار بندی کے علاوہ مختلف امتحانات میں اچھی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دیے گئے اور اسناد تقسیم کی گئیں۔ یہ ادارہ مولانا فیض الرحمان عثمانی کی سربراہی میں کئی برسوں سے مصروف عمل ہے اور اس کا امتیاز یہ ہے کہ درس نظامی کی مکمل تعلیم کے ساتھ ساتھ اسکول و کالج کی بھی معیاری تعلیم دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۰۸ء

صدر باراک حسین اوباما کے لیے اصل چیلنج

فتح مکہ کے موقع پر جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان دینے کا حکم دیا تو مکہ میں کہرام مچ گیا۔ حضرت بلالؓ نے اسی مکہ مکرمہ میں غلامی کی حیثیت سے زندگی بسر کی تھی، انہیں اسی سرزمین میں سنگریزوں پر گھسیٹا گیا تھا، وہ قریشی نہیں بلکہ حبشی تھے اور ان کا رنگ بھی کالا تھا۔ حرم مکہ میں قریش کے بڑے بڑے لوگ جمع تھے، ابو سفیان بن الحرب، حارث بن ہشام اور عتاب بن اسید اکٹھے بیٹھے صورتحال پر تبصرہ کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جنوری ۲۰۰۹ء

صدر باراک حسین اوباما اور امریکی پالیسیاں

باراک حسین اوباما نے امریکہ کے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے جس سے امریکہ کی قومی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہو گیا ہے۔ وہ سیاہ فام آبادی جسے آج سے پون صدی پہلے تک امریکہ میں ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا اس کا نمائندہ آج امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بیٹھا ہے اور محاورہ کی زبان میں امریکہ کے سیاہ و سفید کا مالک کہلاتا ہے۔ باراک حسین اوباما کا باپ حسین ہے جو مسلمان تھا اور کینیا سے تعلق رکھتا تھا جبکہ اس کی ماں مسیحی خاتون تھی۔ ماں اور باپ کی علیحدگی کے بعد باراک حسین ماں کے ساتھ رہا اور اسی کے مذہب پر اس کی پرورش ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۰۹ء

مجوزہ نجی شرعی عدالتیں ۔ اہمیت اور امکانات

پرائیویٹ سطح پر شرعی عدالتوں کے قیام کی ضرورت اور اس کے لیے اس سے قبل کی جانے والی مساعی کے بارے میں چند معروضات گزشتہ کالموں میں پیش کر چکا ہوں۔ اور آج اس حوالے سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج کے عالمی اور قومی تناظر میں اس کی اہمیت و ضرورت اور امکانات کی کیا صورتحال ہے اور اگر ہم آج کے ماحول میں اس کارِ خیر کی شروعات کرنا چاہیں تو وہ کس طرح کی جا سکتی ہے؟ پہلے ان مساعی پر ایک سرسری نظر پھر سے ڈال لینا مناسب معلوم ہوتا ہے جو اس سے قبل اس سلسلہ میں سامنے آچکی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء

شرعی عدالتوں کا قیام

۱۹۷۵ء کے دوران جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے ملک بھر میں شرعی عدالتوں کے قیام کا اعلان اور اس کی اصولی وضاحت کے حوالہ سے حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے ایک مضمون کے اقتباسات گزشتہ کالم میں پیش کر چکا ہوں۔ آج اس سلسلہ میں ۲۸ و ۲۹ مارچ ۱۹۷۶ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقد ہونے والے دو روزہ کنونشن کی رپورٹ پیش کی جا رہی ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے ۹ اپریل ۱۹۷۶ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ و ۱۱ جنوری ۲۰۰۹ء

پرائیویٹ شرعی عدالتوں کے قیام کی کوششوں کا پس منظر

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے ۱۹۷۵ء میں نفاذ شریعت کے سلسلہ میں حکومتی رویے سے مایوس ہو کر ملک بھر میں پرائیویٹ شرعی عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا تھا اور طے کیا تھا کہ جو مقدمات اور تنازعات قابل دست اندازیٔ پولیس نہیں ہیں اور جن میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق تحکیم، پنچایت اور ثالثی کے ذریعے اپنے تنازعات کا فیصلہ کرا سکتے ہیں، ان میں عام مسلمانوں کو اپنے مقدمات کے فیصلے شرعی قوانین کی روشنی میں کرانے کے لیے سہولت اور نظام فراہم کیا جائے۔ میں نے اپنے ایک دو گزشتہ کالموں میں اس کا ذکر کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۰۹ء

مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کا نفاذ اور اس پر مختلف حلقوں کا ردعمل

مالاکنڈ ڈویژن میں ’’نظامِ عدل ریگولیشن‘‘ کے نفاذ کا اعلان ہوگیا ہے اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب امیر حیدر ہوتی نے مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ اعلان کیا ہے کہ تحریک کے مطالبات منظور کر لیے گئے ہیں جن کے تحت سوات سمیت مالاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ کے ضلع کوہستان میں شرعی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو لوگوں کے مقدمات کے فیصلے قرآن و سنت کے مطابق کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ فروری ۲۰۰۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter