کوڑوں کی سزا اور آسمانی تعلیمات
سوات میں ایک نوجوان لڑکی کو کوڑے مارنے کے مبینہ واقعہ کی ویڈیو فلم نے ملکی اور عالمی سطح پر کوڑوں کی سزا کے حوالے سے ایک بار پھر ارتعاش پیدا کر دیا ہے اور ہر سطح پر اس کے بارے میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ جہاں تک اس ویڈیو فلم کا تعلق ہے وہ ابھی تک مشکوک و متنازعہ ہے اور سپریم کورٹ میں اس کے بارے میں کوئی حتمی رپورٹ پیش کیے جانے اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے تک یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلم فی الواقع کسی واقعہ کی فلم ہے یا جعلی طور پر بنائی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور سرکاری طرز عمل
ملی یکجہتی کونسل پاکستان ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو قابو میں لانے اور قومی مسائل پر تمام مکاتب فکر کے متفقہ موقف اور کردار کے اہتمام کے لیے قائم ہوئی تھی اور اس میں مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمدؒ کے ساتھ ساتھ مختلف اوقات میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمان، پروفیسر ساجد میر، مولانا ضیاء القاسمیؒ، علامہ ساجد نقوی اور دیگر زعما کا متحرک کردار کونسل کی تاریخ کا حصہ ہے۔ اب یہ فورم اپنے دورِ ثانی میں صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر اور جناب لیاقت بلوچ کی قیادت میں سرگرم عمل ہے اور ان کے ساتھ مختلف دینی حلقوں کے سرکردہ حضرات شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’خود ہی مدعی، خود ہی گواہ اور خود ہی جج‘‘
پروفیسر حافظ محمد سعید اور مولانا عبد الرحمان مکی کے سروں کی قیمت مقرر کر کے امریکہ اور بھارت نے اپنے تئیں یہ سمجھ لیا ہوگا کہ انہوں نے مبینہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں کوئی پیش رفت کی ہے اور اس سے انہیں اس جنگ میں کوئی فائدہ مل سکتا ہے۔ لیکن اس کے مضمرات اور نتائج پر غور کرنے کی زحمت نہ اس کا فیصلہ کرنے والے امریکی دانشوروں نے گوارا کی ہے اور نہ ہی اس کا خیرمقدم کرنے والے بھارتی دانشوروں کو اس کی توفیق ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغان طالبان کا مختصر پسِ منظر
طویل عرصہ سے اس خبر کا انتظار تھا جو آج پڑھنے کو ملی کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے افغان طالبان قطر میں اپنا سیاسی دفتر قائم کر رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کے نمائندے قطر پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر فوج کشی کے بعد جب طالبان حکومت کا جبر کے ذریعے خاتمہ کر دیا تھا تو لندن سے ہمارے ایک مخدوم و محترم بزرگ حضرت مولانا عتیق الرحمان سنبھلی نے اپنے درد بھرے مضمون میں دکھ کا اظہار فرمایا تھا کہ سب کچھ ختم ہوگیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تجارت و ابلاغ اور اسلامی تعلیمات
’’رفاہ انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی‘‘ کا نام سن رکھا تھا مگر کبھی حاضری کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ ۱۰ جنوری کو یونیورسٹی کے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (MBA) کے شعبے کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا جو راولپنڈی صدر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی سابقہ عمارت میں واقع رفاہ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس میں منعقد ہوئی۔ شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر عمیر صاحب اور دیگر اساتذہ سے ملاقات و گفت و شنید ہوئی اور تجارت میں تشہیر و ابلاغ کی اخلاقیات و آداب کے حوالہ سے منعقدہ تقریب میں کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافتِ راشدہ اور عمران خان
عمران خان آج کل اپنی زندگی کی سب سے بڑی اور سب سے مشکل اننگز کھیل رہے ہیں اور ابھی تک بظاہر کامیاب جا رہے ہیں۔ بلا ہاتھ میں ہوتا ہے تو چوکے چھکے لگاتے چلے جاتے ہیں اور گیند پکڑتے ہیں تو وکٹیں اڑانے کی رفتار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ نوجوانوں کو ورلڈ کپ جیتنے والا عمران خان ایک بار پھر فارم میں دکھائی دے رہے ہے اور مجھ جیسے بوڑھے کبھی آنکھیں ملتے اور کبھی عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے اس قدر نئے منظر کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دفاعِ پاکستان کے پانچ دائرے
پاکستان کے دفاع و سالمیت اور قومی وحدت و خودمختاری پر پوری قوم متفق ہے۔ جوں جوں اس سلسلہ میں عالمی قوتوں کی منفی خواہشات اور بین الاقوامی لابیوں کی سازشیں بے نقاب ہو رہی ہیں عوام کے جوش و جذبے بلکہ غیظ و غضب میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوامی جذبات کا لاوا پکتا جا رہا ہے جو کسی وقت بھی آتش فشاں کی شکل میں پھٹ سکتا ہے۔ اس لیے ہماری قومی قیادت خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا اپوزیشن سے اور خواہ اس کا دائرہ سیاسی ہو یا دینی، سب کی یہ ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
لوڈشیڈنگ اور عوام
لوڈشیڈنگ کے عذاب سے تنگ عوام بار بار سڑکوں پر آکر اپنے غصے اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں مگر منصوبہ سازوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان کو پتھر کے دور میں واپس لے جانے کی جو دھمکی دی گئی تھی، شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کے ہاتھوں اس پر عمل کرایا جا رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ تو غریب عوام کے لیے اس شدید گرمی اور تپش میں عذاب بنی ہوئی ہے لیکن اس کے ردعمل میں جگہ جگہ ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے بھی مستقل پریشانی کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسئلہ قادیانیت کے تین پہلو
جنوبی ایشیا کے کسی حصہ میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے اس پہلو پر جب بات ہوتی ہے تو قادیانیت کا تذکرہ لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ گزشتہ کم و بیش سوا سو برس سے قادیانیت ہی کو عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کے عنوان سے پہچانا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ علمائے اسلام اور دینی جماعتوں کی کشمکش جاری ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے متفقہ طور پر انہیں اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ
۱۸ فروری کو جامعہ ملیہ اسلامیہ لاہور کی سالانہ تقریب میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی۔ یہ جامعہ مفکرِ اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے شاہدرہ لاہور میں امامیہ کالونی سے گزر کر عمرؓ چوک کے بائیں جانب محمود کالونی میں قائم کر رکھا ہے۔ علامہ صاحب خود تو مانچسٹر برطانیہ میں قیام رکھتے ہیں جبکہ ان کی نگرانی میں مفتی عزیر الحسن صاحب اور ان کے رفقا کی ٹیم اس ادارہ کو چلا رہی ہے۔ حضرت علامہ صاحب سال میں ایک بار تشریف لا کر چند ہفتے لاہور میں قیام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 258
- 259
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »