سنی شیعہ کشیدگی کی آڑ میں!

یہ امر واقعہ ہے کہ سوسائٹی کے ایسے غنڈہ عناصر کی اچھی خاصی تعداد نے، جن کا پیشہ ہی غنڈہ گردی ہے، ان دونوں کیمپوں کو پناہ گاہ بنا لیا ہے اور ان کی چھتریوں تلے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل میں انہیں بدستور آسانی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کے علاوہ ذاتی انتقام اور خاندانی جھگڑوں کے لیے بھی اس ’’شیلٹر‘‘ کو استعمال کیا گیا ہے۔ ان سب عوامل نے مل کر فرقہ واریت کو ایک مہیب دیو کی شکل دے ڈالی ہے جسے قابو میں لانے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۱۹۹۸ء

صدر محترم اور ان کی مسنون داڑھی

صدر محترم جناب محمد رفیق تارڑ جب سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ہیں ان کی داڑھی مسلسل موضوع گفتگو بنی ہوئی ہے اور کسی نہ کسی حوالہ سے اس کا تذکرہ سامنے آتا رہتا ہے۔ جہاں تک نمازی ہونے کا تعلق ہے موجودہ ایوان صدر میں داخل ہونے والے سارے صدر نمازی رہے ہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق شہیدؒ ، جناب غلام اسحاق خان، جناب وسیم سجاد، اور سردار فاروق احمد خان لغاری سکہ بند نمازی شمار ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مارچ ۱۹۹۸ء

خلافت راشدہ اور حضرت عمر ثانی ؒ

مذہبی امور کے وفاقی وزیر راجہ محمد ظفر الحق نے گزشتہ روز اسلام آباد میں حمید نظامی مرحوم کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بڑی دلچسپ باتیں کی ہیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں قوم کو ملت اسلامیہ کے شاندار ماضی کے آئینے کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ راجہ صاحب کا کہنا ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ پاکستان میں خلافت راشدہ کا نظام کیسے نافذ ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے لیے ’’خلیفہ راشد‘‘ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تاریخ سے ’’عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا بھی ذکر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۱۹۹۸ء

امریکی جرائم اور شہر سدوم

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نسل انسانی کا ایک بڑا حصہ آسمانی تعلیمات سے انکار پر ڈٹا ہوا ہے اور ’’ہم جنس پرستی‘‘ کے مادر پدر آزاد کلچر اور ’’فری سیکس سوسائٹی‘‘ کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس دو نکاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنی پوری توانائیاں ، وسائل اور صلاحیتیں وقف کر چکا ہے۔ امریکی نفسیات کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے، اس لیے کہ امریکی ایک قوم نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۱۹۹۸ء

روزنامہ اوصاف میں ’’نوائے قلم‘‘ کا آغاز

میں ’’صحافت برائے صحافت‘‘ کا قائل نہیں ہوں اور نہ ہی اس معنٰی میں خود کو صحافی سمجھتا ہوں۔ صحافت میرے نزدیک محض ایک ذریعہ ہے لوگوں کے ذہنوں تک رسائی کا، اور اس ذریعے کو صحیح مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہی اس کے ساتھ انصاف کا اصل تقاضہ ہے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی حجاب محسوس نہیں کرتا کہ اسلام، ملت اسلامیہ اور پاکستان کے ساتھ میری کمٹمنٹ دو ٹوک اور بے لچک ہے۔ اور ان تین میں سے کسی ایک حوالہ سے بھی ’’غیر جانبداری‘‘ کا قائل بلکہ متحمل نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۱۹۹۸ء

پاکستان میں نفاذ اردو، ہندوستان میں فروغ اردو

جہاں تک اردو زبان کی دفتری اور عدالتی شعبوں میں ترویج و تنفیذ کا معاملہ ہے، اور قومی اداروں میں اردو کے عملی فروغ کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کا تعلق ہے، ان پر عملدرآمد کا کوئی سنجیدہ ماحول سرکاری حلقوں میں دکھائی نہیں دے رہا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ نظریۂ پاکستان کی پہلی اساس یعنی مسلم تہذیب و ثقافت کے امتیاز و تحفظ کے ساتھ ساتھ اس کی دوسری اساس یعنی اردو زبان بھی ورلڈ اسٹیبلشمنٹ اور اس کے سائے میں قومی اسٹیبلشمنٹ کی مصلحتوں کے جال میں الجھ کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۶ء

دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کا خواب ۔ قومی تعلیمی کمیشن کا سوالنامہ

مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ’’ہمیں ایک ایسے نظام تعلیم کی ضرورت ہے جس میں دینی اور دنیوی تعلیم اکٹھی دی جائے، جہاں دین کی بنیادی معلومات سب کو پڑھائی جائیں۔ اس کے بعد ہر ہر شعبہ میں اختصاص کے مواقع دیے جائیں۔ یہ نظام تعلیم ہمارے اسلاف کی تاریخ سے مربوط چلا آرہا ہے۔‘‘ یہ پڑھ کر دل سے بے ساختہ ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘ کی صدا بلند ہوئی اور ماضی کی بعض یادیں تازہ ہوگئیں۔ یہ بات سب سے پہلے مفتی صاحب کے والد گرامی مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیعؒ نے اب سے کوئی چھ عشرے قبل فرمائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ و ۲۱ مارچ ۲۰۱۶ء

اب قرآن کریم میں ردوبدل کا مطالبہ!

تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی تعداد پانچ سے کم کر کے ایک کر دیں۔ ایک عرصہ قبل انہوں نے قرآن کریم پر (نعوذ باللہ) نظر ثانی اور مروجہ عالمی نظام و قوانین کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ضروری ترامیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر ان کے خلاف بنگلہ دیش میں ’’توہین مذہب‘‘ کا مقدمہ درج ہوا اور دینی حلقوں نے عوامی سطح پر احتجاج کا اہتمام کیا۔ اس پر وہ گرفتار ہوئیں مگر یورپین یونین کی مداخلت پر انہیں رہائی دلا کر یورپ کے ایک ملک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۶ء

ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل

غازی ممتاز قادری شہیدؒ کو پھانسی دیے جانے کے بعد ملک بھر میں دینی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی نے باہمی رابطوں کا جو ماحول پیدا کر دیا ہے وہ یقیناً خوش آئند ہے اور اس سے دینی کارکنوں کا حوصلہ بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میڈیا نے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے جنازہ اور ملک بھر کی احتجاجی سرگرمیوں کو جس طرح بلیک آؤٹ کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے، یہ طرز عمل اظہار رائے کی آزادی اور رائے عامہ کے جمہوری حق کے منافی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۶ء

غازی ممتاز قادری شہیدؒ

ہماری مروجہ دانش کو صرف اپنے ایجنڈے کی فکر ہے جو خود اس کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ ریموٹ کنٹرول بھی اب خفیہ نہیں رہا بلکہ ساری دنیا کو دکھائی دے رہا ہے کہ کون کس کے ایجنڈے پر چل رہا ہے۔ اس دانش کو نہ دستور کی نظریاتی اساس سے کوئی دلچسپی ہے، نہ شریعت کے تقاضوں کی کوئی پروا ہے، اور نہ ہی سول سوسائٹی کے احساسات و جذبات اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ اسے صرف اپنے ایجنڈے سے غرض ہے اور اس کے لیے مروجہ دانش اکثر اوقات جنگل کا شیر بن جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter