مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کا تعلق نانوتہ میں مقیم صدیقی خاندان سے تھا، انہوں نے خود اپنا نسب نامہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق وہ حضرت قاسم بن محمدؒ کی اولاد میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پوتے تھے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے نہ صرف بھتیجے تھے بلکہ ان کے علوم و فیوض کے ورثاء میں ان کا نام سرفہرست شمار ہوتا ہے اور وہ تابعینؒ کے دور کے سات بڑے فقہاء کرام میں شامل ہیں۔ حضرت نانوتویؒ ایک زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے لیکن قدرت نے ان کی راہ نمائی دینی تعلیم کی طرف کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد اللطیف انورؒ
شاہکوٹ کے مولانا عبد اللطیف انور گزشتہ دنوں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دینی و مسلکی کارکنوں کی موجودہ کھیپ شاید اس نام سے اتنی مانوس نہ ہو مگر دو عشرے قبل کے تحریکی ماحول میں یہ ایک متحرک اور جاندار کردار کا نام تھا۔ شیرانوالہ لاہور اور جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ گہری عقیدت اور بے لچک وابستگی رکھنے والے مولانا عبد اللطیف انور رحمہ اللہ تعالیٰ کا نام سامنے آتے ہی نگاہوں کے سامنے ایک بے چین اور مضطرب شخص کا پیکر گھوم جاتا ہے جو ملک میں نفاذ شریعت، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس صحابہؓ اور مسلک علماء دیوبند ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ
جامعہ حمادیہ کراچی کے حضرت مولانا عبد الواحدؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت شاہ صاحبؒ ملک کے ان بزرگ اور مجاہد علماء کرام میں سے تھے جنہوں نے نہ صرف تعلیم و تدریس کی مسند کو آباد کیا بلکہ زندگی بھر نفاذ شریعت کی جدوجہد اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ کی محنت میں مصروف رہے۔ وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الحقؒ کے نامور تلامذہ میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی قوتوں کا باہمی انتشار کم کرنے کی ضرورت
گزشتہ بعض دینی پروگراموں میں شرکت کے سلسلے میں فیصل آباد جانا ہوا تو النور ٹرسٹ فیصل آباد کے چیئرمین حافظ پیر ریاض احمد چشتی نے فون پر دریافت کیا کہ بریلوی مکتب فکر کے معروف عالم دین مولانا مفتی سعید احمد اسعد آپ سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، انہیں کیا جواب دوں؟ میں نے عرض کیا کہ آج کے پروگرام کا نظم آپ کے ہاتھ میں ہی ہے۔ اگر گنجائش ہو تو ان کے ہاں جانے کی ترتیب بنالیں۔ چنانچہ جاتے ہی پہلے ان سے ملاقات کا پروگرام بن گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جسٹس (ر) سرمد جلال کے متنازع ریمارکس اور تحریک انسداد سود
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے رخصت ہوتے ہوئے قومی زبان اردو کے متعلق تاریخی فیصلہ صادر کر کے ایک کریڈٹ اپنے نام تاریخ میں محفوظ کر لیا تھا، جبکہ جسٹس (ر) سرمد جلال عثمانی نے بھی جاتے ہوئے سودی نظام کے خلاف حافظ عاکف سعید کی رٹ مسترد کر کے اور متنازعہ ریمارکس دے کر ایک ’’کریڈٹ‘‘ اپنے نام ریکارڈ کرا دیا ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے جج کے طور پر فرمایا کہ سودی نظام ختم کرانا سپریم کورٹ کا کام نہیں او رنہ ہی وہ سپریم کورٹ میں مدرسہ کھول کر کے سود کے حرام ہونے کی تعلیم دے سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اقوام متحدہ اور عالم اسلام
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جنرل اسمبلی کی لیگل کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے۔ اسلام کے خلاف متعصبانہ رویہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردار کشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور اشتعال انگیز کاروائیاں ناقابل برداشت ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سنی شیعہ تصادم روکنے کی ضرورت
مشرق وسطیٰ ہو یا پاکستان، ہم کسی بھی جگہ سنی شیعہ کشیدگی میں اضافہ اور اس کے فروغ کے حق میں نہیں ہیں اور پہلے کی طرح اب بھی دل سے چاہتے ہیں کہ اس کی شدت اور سنگینی میں کمی لائی جائے اور اس ماحول کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے جو سنی شیعہ کشیدگی کے باقاعدہ خانہ جنگی کی صورت اختیار کرنے سے قبل موجود تھا کہ باہمی اختلافات کے باوجود مشترکہ قومی مسائل میں ایک دوسرے سے تعاون کیا جاتا تھا، اختلافات کو دلیل اور مناظرہ کے دائرے میں محدود رکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میری صحافتی زندگی
صحافتی زندگی میں میری باضابطہ انٹری ستمبر 1965ء میں ہوئی جب میں نے گکھڑ میں روزنامہ وفاق لاہور کے نامہ نگار کے طور پر کام شروع کیا۔ 6 ستمبر کو جنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی صبح نماز کے وقت گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے بمباری کی جس میں ہمارے ایک دوست صفدر باجوہ شہید ہوگئے۔ وہ ریلوے اسٹیشن کی دوسری جانب اپنے کھیتوں کی طرف جا رہے تھے کہ بھارتی طیارے کی بمباری کا نشانہ بن گئے۔ میں نے اس واقعہ پر ایک فیچر لکھا جو روزنامہ وفاق لاہور میں شائع ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنرل حمید گل مرحوم
جنرل حمید گل مرحوم آج ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی تاریخی جدوجہد اور تگ و دو کے اثرات ایک عرصہ تک تاریخ کے صفحات پر جگمگاتے رہیں گے۔ ان کا تعلق پاک فوج سے تھا اور ان کا نام جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم اور جنرل اختر عبد الرحمن مرحوم کے ساتھ جہادِ افغانستان کے منصوبہ سازوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔ وہ جہاد افغانستان جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا اور جس کے مثبت و منفی دونوں قسم کے اثرات سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے یا انہیں بھگت رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ
حضرت مولانا قاضی عبد الکریم آف کلاچیؒ کا انتقال علمی و دینی حلقوں کے لیے غم و صدمہ کا باعث ہے اور بلاشبہ ہم ایک مخلص بزرگ اور مدبر راہ نما سے محروم ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے والد گرامی حضرت مولانا قاضی نجم الدین کلاچویؒ اپنے دور کے بڑے علماء کرام میں سے تھے اور علمی و دینی دنیا میں مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے فتاوٰی ’’نجم الفتاوٰی‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل میں موجود ہیں اور علماء کرام کے لیے راہ نمائی اور استفادہ کا اہم ذریعہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 422
- 423
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »