شریعت بل کا مخالف کون ہے اور کس لیے ہے؟
شریعت بل کی مخالفت میں سب سے پیش پیش حکومتی حلقے ہیں۔ جس روز سینٹ میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کیا گیا اس وقت کے وزیر قانون اقبال احمد خان نے اسے بحث کے لیے منظور کرنے کی مخالفت کی، لیکن ووٹنگ میں اس وقت تک غیر جماعتی ایوان ہونے کی وجہ سے تین ووٹوں کی اکثریت سے شریعت بل کو بحث کے لیے منظور کر لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۱۶ نومبر، قومی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ
۱۶ نومبر کے عام انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے اور یہ سطور قارئین کے سامنے آنے تک انتخابی جوش و خروش انتہائی عروج تک پہنچ چکا ہو گا۔ اسلامی جمہوری اتحاد کے میدانِ عمل میں آنے سے اس وقت ملک دو واضح کیمپوں میں تقسیم ہو چکا ہے: ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی ہے جو اس ملک کی دینی روایات اور نظریاتی تشخص کے برعکس ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افغانستان اور روسی فوجیں
روس نے جنیوا گٹھ جوڑ کے ذریعہ یہ منصوبہ بندی کی تھی کہ افغان مجاہدین کو درمیان سے نکال کر افغانستان میں اپنی مرضی کی کوئی اور حکومت قائم ہو جائے، اور پھر عالمی رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اسے افغان عوام کی نمائندہ حکومت تسلیم کرا لیا جائے۔ لیکن روسی فوجوں کی واپسی کے ساتھ ساتھ افغان مجاہدین نے مختلف محاذوں پر جو کامیاب پیش قدمی کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فرقہ وارانہ واقعات اور دینی راہنماؤں کی ذمہ داری
گزشتہ روز پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بیگم کوٹ کے مقام پر فرقہ وارانہ دہشت گردی کا ایک اور افسوسناک سانحہ رونما ہوا اور ایک مکتبِ فکر کی مسجد پر دوسرے مکتبِ فکر کے قبضہ کی کوشش نے ایک نوجوان کی جان لے لی۔ مبینہ طور پر بیگم کوٹ لاہور کی مسجد طیبہ اہل السنت والجماعۃ حنفی دیوبندی مکتبِ فکر کے لوگوں کے زیر انتظام چلی آتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی سنی کنونشن کے سلسلہ میں ایک ضروری وضاحت
یادش بخیر حضرت مولانا فضل الرحمٰن نے روزنامہ جنگ لاہور کے ۱۳ جنوری ۱۹۸۸ء کے شمارہ میں شائع ہونے والے ایک بیان میں ’’قومی سنی کنونشن‘‘ سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے تین باتیں فرمائی ہیں: کنونشن کے سلسلہ میں ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور وہ اس کے مقاصد اور اہداف سے بے خبر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا سید ارشد مدنی اور مولانا اعجاز احمد قاسمی کی پاکستان تشریف آوری
شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے فرزند اور دارالعلوم دیوبند کے استاذ الحدیث حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی گزشتہ ہفتہ پاکستان تشریف لائے اور اسیر مالٹا حضرت مولانا عزیر گل دامت برکاتہم کی زیارت و عبادت کے علاوہ مختلف مقامات پر علماء کرام اور دیگر راہنماؤں سے ملاقات کی۔ حضرت موصوف شیرانوالہ گیٹ لاہور بھی تشریف لے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت درخواستی اور مفتی محمود کی قیادت میں ’’نظام العلماء‘‘ کا قیام
ملک کی معروف دینی درسگاہ مدرسہ عربیہ مخزن العلوم والفیوض عیدگاہ خانپور ضلع رحیم یار خان کا سالانہ جلسہ تقسیم اسناد و دستار بندی اس سال اس لحاظ سے خاصی اہمیت کا حامل تھا کہ مدرسہ کے مہتمم اور علماء حق کے قافلہ سالار حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم نے جلسہ میں شرکت و خطاب کے لیے کسی امتیاز کے بغیر دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے تمام سرکردہ علماء و مشائخ کو دعوت دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے تحفظ کے لیے علماء کرام کا اہم فیصلہ (۲)
مولانا پیر کرم شاہ الازہر: مولانا پیر کرم شاہ الازہری نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ تجربہ جو یہاں کیا جانے والا ہے، اس سے قبل تاشقند، بخارا، ماوراء النہر جیسے علمی مراکز میں کامیاب ہو چکا ہے، اور اس سلسلہ میں علماء کرام کو جس حریف سے پالا پڑا ہے وہ بہت شاطر ہے، اس لیے علماء کرام کو سوچ سمجھ کر مضبوط قدم اٹھانا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قائد جمعیۃ مولانا مفتی محمود کا دورۂ لاہور ڈویژن
قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب یکم دسمبر کو لاہور ڈویژن کے تین روزہ دورے پر تشریف لائے۔ اس روز آپ ظہر کے بعد گوجرانوالہ پہنچے اور حضرت مولانا عبد الواحد صاحب سے ملاقات کے بعد ڈسکہ روانہ ہو گئے۔ رات کو دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ کی وسیع گراؤنڈ میں مقامی جمعیۃ کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ عام منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عرب اسرائیل جنگ
نہر سویز کے مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج کے حملہ کے نتیجہ میں اسرائیل اور مصر و شام کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑ گئی ہے۔ تادمِ تحریر مصر و شام کی بہادر افواج دشمن کو دھکیلتے ہوئے اور اسے بھاری جانی نقصان پہنچاتے ہوئے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اسرائیل جب سے سامراجی سازشوں کے نتیجہ میں قائم ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 45
- 46
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »