مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کا سفرِ آخرت

مولانا سید شمس الدین شہیدؒ مارچ ۱۹۷۴ء کے پہلے ہفتے گھر سے روانہ ہو کر کوئٹہ پہنچے تو صوبائی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء اسلام جناب محمد زمان خان اچکزئی نے حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم کا وہ پیغام آپ کو پہنچایا جو حضرت مدظلہ نے مدینہ منورہ میں مولانا شمس الدین کے لیے خان صاحب کے سپرد کیا تھا۔ پیغام یہ تھا کہ آپ گورنر بلوچستان خان احمد یار خان سے ملاقات کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۱۹۷۵ء

دینی جدوجہد: بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟

قومی خود مختاری کے تحفظ کے لیے عوامی جدوجہد اور تحریک کی ضرورت ملک کے ہر حصے میں اور ہر سطح پر محسوس کی جا رہی ہے اور اس کا مختلف ذرائع سے اظہار بھی ہو رہا ہے، مگر ”بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟“ کے نکتے پر گیئر پھنسا ہوا ہے۔ جناب عبد الوحید اشرفی نے ایک کالم میں یہ گھنٹی مجھے پکڑانے کی کوشش کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۰۹ء

امام اہل سنتؒ پر تصنیفی و تالیفی کاموں کا مختصر تعارف

میں نے گزشتہ کالم میں والد محترم امامِ اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں مستقل طور پر قائم کی جانے والی ویب سائٹ کا ایڈریس دیا تھا، جس میں غلطی سے ایک a زیادہ لکھا گیا ہے۔ بعض دوستوں کو رابطے میں مشکل پیش آ رہی ہو، اس لیے اس کا صحیح ایڈریس دوبارہ دیا جا رہا ہے۔

www.sarfrazsafdar.org مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۰۹ء

ملی مجلس شرعی کا اجلاس

جس روز محترمہ ہیلری کلنٹن لاہور تشریف لائیں، میں بھی اس روز لاہور میں تھا۔ ظہر کی نماز مسجد خضراء سمن آباد میں پڑھی، جہاں مجھے ورلڈ اسلامک فورم کے احباب کے ساتھ ایک مشاورت میں شریک ہونا تھا۔ پروفیسر عبد الماجد پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں استاد ہیں، ملتان کے معروف علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، حضرت سید نفیس شاہؒ کے خصوصی متعلقین میں سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۰۹ء

شاہ جی کی خدمت میں

پیر سید عطاء المؤمن شاہ بخاری ہمارے محترم بزرگوں میں سے ہیں، میں نے بحمد اللہ ان کا ہمیشہ بڑے بھائی کی طرح احترام کیا ہے اور اب بھی ان کے بارے میں میرے جذبات یہی ہیں۔ ہم تعلیمی دور کے ساتھی بھی ہیں کہ کچھ عرصہ ہم دونوں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں اکٹھے پڑھتے رہے ہیں اور اس دور کی باہمی محفلیں آج بھی ذہن میں تازہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۰۹ء

دینی مدارس کے تحفظ کے لیے علماء کرام کا اہم فیصلہ (۱)

دینی مدارس کو قومی تحویل میں لینے کے فیصلہ کے بارے میں اخبارات نے گزشتہ دنوں جو خبر شائع کی تھی اس نے ہر دین دار شخص کو دینی اداروں کے مستقبل کے بارے میں تشویش اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملک کے دوسرے شہروں کی نسبت دینی مدارس کے مرکز ملتان میں زیادہ گہماگہمی رہی۔ قائد جمعیۃ کی پریس کانفرنس: قائد جمعیۃ علماء اسلام حضرت مولانا مفتی محمود صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ فروری ۱۹۷۵ء

جمعیۃ کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عاملہ اور صوبائی امراء و نظماء کا مشترکہ اجلاس ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ بروز بدھ صبح ساڑھے دس بجے دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں منعقد ہوا۔ جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جنوری ۱۹۷۷ء

ایک اور آپ بیتی

روزنامہ ”پاکستان“ کے کالم نگار پروفیسر ڈاکٹر قاری محمد طاہر لدھیانوی ہمارے بزرگ دوستوں میں سے ہیں، انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں شکوہ کیا ہے کہ راقم الحروف کے کالم میں بسا اوقات آپ بیتی کا عنصر ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ مگر میں اپنے ذوق کے ہاتھوں مجبور ہوں کہ جو کچھ دیکھتا یا بھگتتا ہوں، اس کے تاثرات میں اکیلا نہیں رہنا چاہتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۰۹ء

مسئلہ رؤیت ہلال اور معمر قذافی کی تقریر کا

آج گفتگو کے لیے دو موضوع سامنے ہیں اور دونوں کے بارے میں کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک رؤیت ہلال کا مسئلہ ہے، جس پر رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن اور صوبہ سرحد کی حکمران جماعت اے این پی کے درمیان بحث و مباحثے کا بازار گرم رہا ہے اور دوسرا موضوع اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں لیبیا کے صدر جناب معمر قذافی کا خطاب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۹ء

’’ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا‘‘

اے پی پی کے حوالے سے ایک خبر اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ امریکی ریاست نیوجرسی نے غلاموں کی تجارت میں اپنے کردار پر معافی مانگنے کے لیے ایک بل پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق نیوجرسی میں دو سو سال قبل غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم ریاستی حکومت اس تجارت میں اپنے کردار پر بدستور پریشان ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جنوری ۲۰۰۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter