دنیا میں دعوت اسلام کی معروضی صورتحال

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا مفتی محمد نعمان احمد کا شکر گزار ہوں کہ ’’تخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ کی اس نشست میں آپ حضرات کے ساتھ گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ دعوت اور ارشاد اس کورس کا موضوع ہیں۔ دعوت کا مطلب کسی کو کسی بات یا کام کی دعوت دینا، اور ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ صحیح راستہ کی طرف راہنمائی کرنا۔ انہیں امت مسلمہ کے مجموعی دائرہ میں دیکھا جائے تو یہ ہماری ملی ذمہ داریوں کے دو دائرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جون ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کا تعلیمی سال تذبذب کا شکار

دینی مدارس کا تعلیمی سال شوال میں شروع ہوتا ہے جو ابھی تک تذبذب کا شکار ہے اور مختلف مقامات سے احباب پوچھ رہے ہیں کہ اس سال کیا ترتیب ہو گی؟ ان سے یہی گزارش کر رہا ہوں کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت اس سلسلہ میں باہمی صلاح مشورہ میں مصروف ہے اور امید ہے کہ دو چار روز تک وہ کسی حتمی پروگرام کا اعلان کر دے گی۔ جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ کرونا بحران کی وجہ سے تعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۰ء

اَن دیکھا جہان اور اَن دیکھا دشمن

رمضان المبارک کے دوران تراویح میں ختم قرآن کریم کی بیسیوں تقریبات میں شرکت کا سالہا سال سے معمول ہے، جو اس سال کرونا بحران کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا، البتہ مسجد نور جامعہ نصرۃ العلوم ، مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ اور الشریعہ اکادمی کے علاوہ قریب کی کچھ گھریلو تقریبات میں حاضری اور گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، جن کا خلاصہ نذرِ قارئین ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۰ء

حدیث و فقہ اور سلوک و احسان

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بحمد اللہ تعالیٰ اس سال بھی اس مسجد میں ہماری ماہانہ فکری نشست کا تسلسل جاری رہا اور ہم نے مختلف مجالس میں تصوف و سلوک کے متعدد پہلوؤں پر گفتگو کی، اگرچہ ترتیب اور جامعیت کے ساتھ یہ بات چیت حسب منشاء نہیں ہو سکی مگر چند اہم امور پر کچھ نہ کچھ بات ہو گئی، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ آج اس سال کی آخری نشست ہے اور میں اس موقع پر تصوف و سلوک کے اس پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مارچ ۲۰۲۰ء

عاشورۂ محرم الحرام اور اس کے تقاضے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ نئے ہجری سال کا آغاز ہو گیا ہے اور محرم الحرام کے پہلے عشرہ کی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ اس عشرہ کے حوالہ سے ایک روایت تو دورِ اسلام سے قبل کی چلی آ رہی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں کے یہودی دس محرم الحرام کو روزہ رکھتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس روز بنی اسرائیل کو فرعون کی آزادی سے نجات ملی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۴ء

عالمی کنونشنز پر پاکستان کے دستخط اور کچھ تحفظات

مختلف اخبارات میں ”آن لائن“ کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے عالمی کنونشنز پر دستخط کر کے ان کی توثیق کر دی ہے۔ عالمی کنونشنز نے مراد انسانی حقوق کے حوالے سے اقوام متحدہ کے عالمی چارٹر اور اس کی تشریح و تعبیر میں مختلف اوقات میں اقوام متحدہ کے تحت ہونے والی کانفرنسوں اور کنونشنز کے فیصلے ہیں ، جن میں عورتوں کے حقوق، بچوں کے حقوق، مزدوروں کے حقوق، قیدیوں کے حقوق ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۲۰۱۰ء

محترمہ عاصمہ جہانگیر کی جیت: چند تحفظات

محترمہ عاصمہ جہانگیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی صدر منتخب ہو گئی ہیں، اس سال وکلاء کے قافلے کی قیادت وہ کریں گی۔ چند ماہ قبل انہوں نے بار کی صدارت کا الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تو ہمارے ذہن میں تحفظات نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا اور مختلف مجالس میں ہم نے ان کا اظہار بھی کیا۔ ملک میں وکلاء کے سب سے فورم کی سربراہی کے مسئلے سے ہمیں بظاہر کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ نومبر ۲۰۱۰ء

حادثہ یا سازش؟

گزشتہ جمعرات کو جس روز علماء کرام نے مولانا عبد الغفور حیدری کی قیام گاہ پر حلوہ نوش جان کیا، میں بھی اسلام آباد میں تھا، لیکن وزارت مذہبی امور کے طلب کردہ اجلاس میں نہیں، بلکہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی دعوۃ اکیڈمی کے ایک تربیتی کورس میں لیکچر دینے کی غرض سے وہاں گیا تھا۔ دعوۃ اکیڈمی نے فیصل مسجد میں ائمہ مساجد اور خطباء کے لیے سہ ماہی تربیتی کورس کا اہتمام کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جنوری ۲۰۱۰ء

تبلیغی جماعت کی دعوت کا بنیادی مقصد

تبلیغی جماعت کی برکت سے اس ہفتے مسلسل تین دن فیصل آباد میں رہنے کا موقع مل گیا۔ میرا ایک طرح سے معمول ہے کہ عید الاضحیٰ کی تعطیلات میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سالانہ سہ روزہ لگاتا ہوں، جس کا مقصد ایک کارِ خیر میں کسی بھی درجے کی شرکت اور اس کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے علاوہ چند دن عام روٹین سے ہٹ کر گزارنا بھی ہوتا ہے، اور سنن و مستحبات کے بہت سے اعمال جو عام دنوں میں رہ جاتے ہیں، دو تین دن میں وہ بھی کرنے کی سعادت حاصل ہو جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ نومبر ۲۰۱۰ء

پنجاب میں کراچی برانڈ فرقہ واریت کی سازش

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمی مرحوم کا مکان نذر آتش کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جو واقعات ۱۲ ربیع الاول کے روز پیش آئے ہیں ان پر ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود یقین نہیں آ رہا کہ پاکستان میں اور پھر فیصل آباد میں ایسا بھی ہو سکتا ہے اور اس دن ہو سکتا ہے جو ایسا کرنے والوں کے خیال میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری کے حوالہ سے خوشی اور عید کے طور پر منایا جانا چاہیے اور وہ اپنے طور پر اس کی ہر ممکن کوشش بھی کرتے ہیں۔ خیر یہ ان کا مسئلہ ہے، لیکن کیا عید اس طرح بھی منائی جاتی ہے؟ یہ بات ذہن میں ابھی تک جگہ نہیں پکڑ رہی۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۱۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter