عصرِ حاضر کے چیلنجز اور علماء کرام کی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مکتبہ یاران اور العصر فاؤنڈیشن کراچی کا شکر گزار ہوں کہ علماء کرام اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے اہلِ علم کی اس متنوع مجلس اور گلدستہ میں مجھے بھی حاضری کا شرف بخشا، عروس البلاد کراچی کے حضرات سے ملاقات ہوئی اور کچھ عرض کرنے کا موقع مل رہا ہے، اللہ رب العزت اس کاوش کو قبول فرمائیں، انتظام کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائیں اور ہم سب کی حاضری کو قبول کرتے ہوئے اسے دارین کی سعادتوں اور خیر کا ذریعہ بنائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۲۰۲۳ء

نوجوان اہلِ علم کی تعلیمی و معاشرتی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ محترم ڈاکٹر محمد زمان چیمہ صاحب پرنسپل کالج، اساتذہ کرام، عزیز طلباء و طالبات! میرے لیے سعادت کی بات ہے کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے منعقد ہونے والے اس اجتماع میں اپنے شہر کی قدیم درسگاہ اور تعلیمی مرکز اسلامیہ کالج میں ایک مرتبہ پھر حاضری کا موقع ملا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

دو ریاستی حل : نگران وزیر اعظم سے تین گزارشات

گزشتہ دنوں اسلام آباد کنونشن سینٹر میں ’’حرمتِ مسجدِ اقصیٰ اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داری‘‘ کے عنوان پر ایک بڑا قومی سیمینار ہوا تھا جس میں تمام مکاتب فکر کے قائدین جمع ہوئے، میں بھی اس میں شریک تھا، وہاں میں نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اسرائیل کے بارے میں پاکستان بننے کے فوراً بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جسے ہم کبھی تسلیم نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۲۳ء

عظیم تر مشرقِ وسطیٰ یا عظیم تر اسرائیل؟

ایک قومی اخبار نے اپنے برسلز کے نمائندے کے حوالے سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بادشاہتوں کے خاتمے کا ایک امریکی منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہے اور اس کے تحت تمام اسلامی دنیا اور عرب ممالک کو مغربی تحفظ کی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔ یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق ’’اقدام برائے عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ کی حکمتِ عملی پر امریکہ، یورپی یونین، اور جی ایٹ ممالک میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۲۰۰۴ء

اسرائیلی وزیراعظم کا منصوبہ اور امریکی صدر کی منظوری

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم شیرون کے ساتھ ملاقات کے بعد ان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دریائے اردن کے مغربی کنارے پر یہودی بستیوں کی تعمیر، اور اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے ایک بڑے حصے پر اسرائیلی قبضے کے بارے میں اسرائیل کے موقف کی جس حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء

قدرتی آفات کا ضابطہ اور اسوۂ نبویؐ

محترم ڈاکٹر جسٹس (ر) جاوید اقبال صاحب نے ایک اخباری انٹرویو میں فرمایا ہے کہ پاکستان کے شمالی حصوں میں آنے والے زلزلے کے بارے میں یہ نہ کہا جائے کہ یہ لوگوں کی بداعمالیوں کے نتیجے میں آیا ہے، اس لیے کہ جو لوگ اس زلزلے کا سب سے زیادہ نشانہ بنے ہیں ان کی اکثریت دیندار لوگوں کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۲۰۰۵ء

مہنگائی، قوتِ خرید اور طبقاتی کلچر

تین خبریں بظاہر ایک دوسرے سے الگ نظر آتی ہیں مگر خدا جانے کیوں مجھے ایک سی لگتی ہیں: ایک یہ کہ وزیر اعظم نے بجٹ کے موقع پر عوام کو خوشخبری دی ہے کہ دالیں کچھ سستی ہو گئی ہیں۔ دوسری یہ کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر نے اس شکایت کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے کہ ارکانِ اسمبلی کو ایک روز ناشتہ میں جو حلوہ دیا گیا اس میں ریت پائی گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۰۶ء

قانون سازی کا اختیار اور غامدی صاحب

جس طرح بہت سی دواؤں کا سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور ماہر معالجین اس سے تحفظ کے لیے علاج میں معاون دوائیاں شامل کر دیتے ہیں، اسی طرح بہت سی باتوں کا بھی سائیڈ ایفیکٹ ہوتا ہے اور سمجھدار لوگ جب محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کسی بات سے کوئی غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے تو وہ اس کا ازالہ بھی اپنی اسی گفتگو میں کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ دسمبر ۲۰۰۵ء

شرعی سزائیں اور مغربی فلسفہ

گزشتہ ہفتے بریڈ فورڈ، برطانیہ کے ’’ریڈیو رمضان‘‘ کے ذمہ دار حضرات کی طرف سے فرمائش ہوئی کہ ان کے سامعین سے ٹیلیفون کے ذریعے ’’اسلام کی مقرر کردہ سزائیں اور ان پر شکوک و اعتراضات‘‘ کے حوالے سے گفتگو کروں۔ یہ گفتگو سوالات و جوابات سمیت ایک گھنٹہ سے زیادہ جاری رہی جو براہ راست نشر کی گئی۔ اس کے اہم حصوں کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۰۵ء

انسانی حقوق کے خودساختہ نظام کی ناکامی

۱۰ دسمبر اتوار کو دنیا بھر میں ’’انسانی حقوق کا عالمی دن‘‘ منایا گیا، اس روز ۱۹۴۸ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا وہ عالمی منشور منظور کیا تھا جسے باہمی انسانی حقوق کے لیے معیار سمجھا جاتا ہے، اور تمام ممالک و اقوام سے اس کی پابندی اور اس کے مطابق اپنے ممالک کے قانونی و معاشرتی نظام کو ڈھالنے کا نہ صرف تقاضہ کیا جاتا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد کے لیے دباؤ اور بازپرس کے مختلف طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۲۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter