مولانا محمد حیاتؒ اور مولانا عبد الحئیؒ

مولانا محمد حیاتؒ ایک اولوالعزم انسان تھے جنہوں نے علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ کی پیروی میں علمی محاذ پر قادیانیت کے تعاقب کو اپنا مشن بنایا اور پھر اپنا تمام تر علم و فضل، قوت و توانائی اور صلاحیتیں اس کے لیے وقف کر دیں۔ احرار کی قیادت نے انہیں قادیان میں اپنے مشن کے لیے بھیجا تو ان کی جرأت و استقامت نے ’’فاتح قادیان‘‘ کے خطاب کو ہمیشہ کے لیے ان کے سینے کا تمغہ بنا دیا۔ دیکھنے میں ایک بھولا سا جاٹ مگر عزم و ہمت کا پیکر یہ مرد درویش اپنے وقت کا عظیم مناظر تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

مولانا عبد الحئیؒ آف بھوئی گاڑ

گزشتہ دنوں مولانا حکیم مفتی عبد الحئی آف بھوئی گاڑ انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم کا تعلق قافلہ حق و صداقت سے تھا اور وہ اپنے علاقہ میں حق پرست قافلہ کے باہمت اور جری سالار تھے۔ انہوں نے ہر دینی و قومی تحریک میں قائدانہ حصہ لیا اور صبر و استقلال کی روایات زندہ کیں۔ وہ کفر و الحاد کے ہر وار کے سامنے علاقہ کے عوام کے لیے ڈھال بنے۔ وہ (جسمانی طور پر) معذور تھے لیکن انتخابی و تحریکی مہموں میں جماعتی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے انہوں نے میدانی اور پہاڑی راستوں کو اپنے ناتواں قدموں تلے روند ڈالا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اگست ۱۹۸۰ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ اور مولانا سید امین الحقؒ

گزشتہ دنوں ہمیں فرشتہ اجل نے ملک کی دو قیمتی علمی و دینی شخصیتوں سے محروم کر دیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا تاج الدین بسمل شہیدؒ

جماعتی حلقوں میں یہ خبر انتہائی رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ تحریک آزادی و تحریک ختم نبوت کے سرگرم کارکن اور جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر مولانا تاج الدین بسمل کو عید الفطر کے روز پڈعیدن ضلع نواب شاہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق ضلع گجرات (پنجاب) سے تھا اور کم و بیش چالیس سال سے پڈعیدن میں رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے تحریک آزادی، تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفٰی میں سرگرم کردار ادا کیا تھا اور متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مئی ۱۹۸۹ء

مولانا فضل رازقؒ

ہری پور ہزارہ کے ممتاز عالم دین اور صوبہ سرحد کی صوبائی کونسل کے رکن مولانا فضل رازق مرحوم کی اچانک موت علمی و دینی حلقوں کو ایک ایسے صدمے سے دوچار کر گئی ہے جس کی کسک حساس دلوں کو دیر تک محسوس ہوتی رہے گی۔ مولانا مرحوم نے تقریباً پینتیس برس کی مختصر عمر میں علمی و سیاسی حلقوں میں جو نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا وہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور مسلسل جدوجہد کا مظہر تھا اور انہیں ایک پختہ عالم، پرجوش خطیب اور زیرک سیاستدان کے ساتھ ساتھ ایک بے لوث اور انتھک سماجی کارکن کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۱۹۸۴ء

’’یوم پاکستان‘‘

حتیٰ کہ اب یہ کہنے میں کوئی باک محسوس نہیں کیا جا رہا کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘‘ کا نعرہ لگانے میں اور پاکستان میں قرآن و سنت کے قوانین نافذ کرنے کے اعلان میں تحریک پاکستان کی قیادت سنجیدہ نہیں تھی بلکہ صرف وقتی سیاست کی خاطر ایسا کیا گیا تھا۔ اگرچہ درحقیقت ایسا نہیں ہے کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے ارشادات اور سابق وزیراعظم خان محمد لیاقت خان شہید کی طرف سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد مقاصد اس خیال کی نفی کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۷ء

اہانتِ رسولؐ پر ایک صحابیؓ کا طرز عمل

صحابیٔ رسولؐ حضرت زید بن ارقمؓ فرماتے ہیں کہ جہاد کے ایک سفر میں وہ آنحضرتؐ کے ساتھ تھے اور عبد اللہ بن ابی بھی چند ساتھیوں کے ساتھ شریک تھا۔ ایک مقام پر مہاجرینؓ اور انصارؓ کے چند لوگوں میں کسی بات پر تنازعہ ہوگیا جس پر عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ مہاجرین جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ مدینہ منورہ میں آکر آباد ہوئے ہیں ان کا معاملہ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے، اس لیے انصار مدینہ ان مہاجرین پر جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کا سلسلہ روک دینا چاہیے تاکہ یہ لوگ مدینہ چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۲۰۱۷ء

وزیراعظم اور ’’متبادل بیانیہ‘‘

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے دینی حلقوں کی طرف سے ’’متبادل بیانیہ‘‘ کی جس ضرورت کا ذکر کیا ہے اس کے بارے میں مختلف حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ارباب فکر و دانش اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ انہوں نے موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں جس ضرورت کا اظہار کیا ہے وہ یقیناً موجود ہے لیکن ’’بیانیہ‘‘ کی اصطلاح اور ’’متبادل‘‘ کی شرط کے باعث جو تاثر پیدا ہوگیا ہے وہ کنفیوژن کا باعث بن رہا ہے، ورنہ یہ بات زیادہ سیدھے اور سادہ انداز میں بھی کی جا سکتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مارچ ۲۰۱۷ء

انسدادِ سود قومی کنونشن

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق کی زیرصدارت منعقدہ اس سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا سمیع الحق، علامہ ساجد نقوی، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، جناب حامد میر، مولانا اشرف علی، جناب عبد اللہ گل، اعجاز احمد چودھری، مفتی محمد سعید خان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، پروفیسر محمد ابراہیم خان اور جناب اسد اللہ بھٹو کے علاوہ جمعیۃ العلماء پاکستان نورانی گروپ، جماعت الدعوہ پاکستان، پاکستان عوامی تحریک، وفاق العلماء الشیعہ اور دیگر جماعتوں کے سرکردہ راہنما شامل ہیں۔ سیمینار میں متفقہ طور پر منظور کیا جانے والا اعلامیہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۲۰۱۷ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا تعارف ۔ مولانا مفتی محمودؒ کی زبانی

اپریل کے پہلے عشرہ کے دوران پشاور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ’’عالمی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس کے لیے ملک بھر میں سرگرمیاں جاری ہیں۔ وطن عزیز کی موجودہ عمومی صورتحال خاص طور پر ملک کے نظریاتی تشخص، اسلامی تہذیب و معاشرت اور دستور و قانون کی اسلامی دفعات کے خلاف بین الاقوامی اور ملکی سیکولر لابیاں جس طرح ہر سطح پر متحرک ہیں اس کے پیش نظر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کا یہ اجتماع، بلکہ کسی بھی دینی حوالہ سے اس نوعیت کے عوامی اجتماعات قومی اور ملی ضرورت کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۱۷ء

عربی زبان کی تعلیم اور ہمارے قومی ادارے

روزنامہ اسلام لاہور میں ۱۷ فروری ۲۰۱۷ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے۔ ’’اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے ارکان نے ’’عربی بل ۲۰۱۵ء‘‘ کو بطور لازمی تعلیم پڑھانے پر بحث کے دوران اسے بطور مضمون نصاب میں شامل نہ کرنے کی وجہ کو دہشت گردی کا سبب قرار دیا۔ اسمبلی کی خصوصی نشست پر منتخب ہونے والی رکن اسمبلی نعیمہ کشور کی جانب سے پیش کردہ بل کو ان کی غیر موجودگی میں ہی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۷ء

صلح حدیبیہ کے چند اہم پہلو

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ رفقاء کو حدیبیہ کے مقام پر روک دیا گیا اور یہ بات سامنے آگئی کہ قریش مکہ جناب رسول اللہؐ اور ان کے ساتھیوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے تو آنحضرتؐ نے وہاں رک کر اس صورتحال کا جائزہ لیا اور اپنی آئندہ حکمت عملی طے فرمائی۔ قبیلہ بنو خزاعہ کے ساتھ نبی کریمؐ کے اچھے تعلقات تھے وہ مسلمانوں کے بارے میں دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے، ان کے سردار بدیل بن ورقاء خزاعی اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ حضورؐ سے ملاقات کے لیے آئے تو آپؐ نے ان کے ذریعے قریش مکہ کو ایک پیغام بھجوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲۰۱۷ء

ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور ڈاکٹر عبد القدیر خان

میرا ایک سوال ہے جس کا جواب میں ارباب فکر و دانش سے چاہوں گا کہ وہ کونسا سانچہ تھا جس میں ڈھل کر ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ علم و فکر کے اس مقام پر پہنچے تھے؟ کیا یہ محض شخصی کمال تھا کہ ایک باذوق شخص نے اس کے سارے تقاضوں کو اپنے گرد جمع کر لیا تھا یا ہمارے نظام میں بھی اس کی کوئی جھلک موجود ہے؟ اصل ضرورت یہ ہے کہ اس سانچے کو ایک نظام کی صورت دی جائے جس نے ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ جیسی شخصیت ہمیں عطا کی اور اسے مستقبل میں ایسی ہمہ گیر شخصیات سامنے لانے کا ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۱۷ء

’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘

گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی بات چل پڑی، ایک دوست نے کہا کہ مذہب اور ریاست میں تعلق کبھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ریاست کی بنیاد مذہب رہا ہے۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کا مجموعی دورانیہ تیرہ صدیوں کو محیط ہے اور ان سب کا ٹائٹل ہی ’’خلافت‘‘ تھا جو خالصتاً ایک مذہبی اصطلاح ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ مارچ ۲۰۱۷ء

موجودہ ملکی و علاقائی صورت حال میں علماء دیوبند کا’’مشترکہ موقف‘‘

اجتماع اور مشاورت میں شریک ہونے والے حضرات میں صدر وفاق المدارس و صدر اجلاس حضرت مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، مولانا مفتی غلام الرحمن، مولانا عبد المجید آف کہروڑ پکا، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عبید اللہ اشرفی، مولانا فضل الرحیم، مولانا عبد الرحمن اشرفی، مولانا سید عبد المجید ندیم، مولانا محمد احمد لدھیانوی، ڈاکٹر خادم حسین ڈھلوں، مولانا اللہ وسایا، مولانا اشرف علی، مولانا عبد السلام، مولانا قاضی ارشد الحسینی، حافظ حسین احمد، مولانا پیر عزیز ارحمن ہزاروی ،مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی، مولانا محمد عبد اللہ آف بھکر، مولانا انوار الحق حقانی، مفتی کفایت اللہ ہزاروی اور مولانا سعید یوسف خان بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۰ء

سودی نظام اور مذہبی طبقات کی بے بسی

دینی طبقات کی بے بسی یہ ہے کہ وہ عملی طور پر صرف مطالبات ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس نہ تو اتنی پارلیمانی قوت ہوتی ہے کہ وہ جمہوری ذرائع سے اپنے مطالبات کو عملی جامہ پہنا سکیں، اور نہ ہی ملک کے دیگر ریاستی اداروں میں ان کی کوئی نمائندگی نظر آتی ہے کہ وہ منظور شدہ قوانین کو حقیقی معنوں میں نافذ کروا سکیں۔ بہرحال حسب صورتحال دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ حکومت سے دوٹوک مطالبہ کریں کہ وہ سودی نظام کے خاتمہ کے لیے اپنی دستوری ذمہ داری کو فوری طور پر پورا کرے۔ اس مطالبہ کو مؤثر بنانے کے لیے دینی حلقوں اور رائے عامہ کو بیدار و منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ فروری ۲۰۱۷ء

آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کانفرنس کے مطالبات

اصل ضرورت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴، اور ۱۹۸۴ء کی طرز کی ہمہ گیر تحریک کا ماحول پیدا کرنے کی ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب صورتحال خاصی مختلف ہو چکی ہے۔ مذکورہ تحریکات میں ذرائع ابلاغ بالخصوص اخبارات کی مجموعی حمایت تحریک ختم نبوت کو حاصل ہوتی تھی، اب میڈیا کی عمومی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی اور میڈیا کے اہم مراکز خود ان مطالبات کے خلاف فریق کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ماضی کی ان تحریکات کے دوران ملک کے اندر بیرونی سرمائے اورا یجنڈے کے تحت کام کرنے والی سینکڑوں این جی اوز اس طرح متحرک نہیں تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ فروری ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے اور امیر بھی۔ میں نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ ایک خادم، مرید اور ساتھی کے طور پر گزارا ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضل دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۱۶ء

قومی اسمبلی کا منظور کردہ قانونِ تنازع جاتی تصفیہ

اپنی نوعیت کے لحاظ سے بلاشبہ یہ بل تاریخی نوعیت کا ہے جس کے لیے مختلف حلقوں کی طرف سے ایک عرصہ سے تقاضہ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت ملک بھر میں ہر سطح کی عدالتوں میں مقدمات کی جو بھرمار ہے اور جس طرح کوئی تنازع اپنے حل کے لیے سالہا سال تک عدالتوں کی فائلوں میں دبا رہتا ہے اس کے پیش نظر یہ مصالحتی او رپنچایتی سسٹم ایک اہم قومی ضرور ت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں نچلی سطح پر عام نوعیت کے تنازعات کے تصفیہ کے لیے اس قسم کے سسٹم موجود ہیں جن کو دستوری اور قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۱۷ء

مسئلہ کشمیر اور نوآبادیاتی نظام کی جکڑبندی

ان سب شعبوں میں گزشتہ سات عشروں کی صورتحال پر نظر ڈال لیں آپ کو تبدیلی کے مطالبات نظر آئیں گے، اصلاح و تجاویز کی فائلیں ادھر سے ادھر گھومتی دکھائی دیں گی، بیانات اور تجزیوں کا وسیع تناظر سامنے آئے گا، وعدوں اور تسلیوں کے سبز باغ آپ کی نگاہوں کے سامنے رہیں گے، احتجاج و اضطراب کی لہریں بھی مسلسل موجود ملیں گی لیکن کیا مجال ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود کسی شعبہ میں کوئی عملی تبدیلی دیکھنے میں آجائے۔ ہم ستر سال کے بعد بھی کولہو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں گھوم رہے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو ہم اس سے بھی پیچھے جا چکے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۱۷ء

وطنِ عزیز پاکستان کی خصوصیات اور انہیں درپیش خطرات

پاکستان جب ۱۹۴۷ء کے دوران دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کے طور پر نمودار ہوا تو دنیا میں عام طور پر یہ سمجھا گیا کہ جنوبی ایشیا کے اس خطہ کے مسلمانوں نے جذباتیت کا اظہار کر کے اسلام کے نام پر ایک الگ ملک کے قیام کا مقصد تو حاصل کر لیا ہے مگر اسے ایک مستحکم نظریاتی ریاست بنانے کے مراحل شاید وہ نہیں طے کر پائیں گے اور بھارت کے اردگرد موجود دیگر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کی طرح یہ ملک بھی اسی طرز کی ایک ریاست کی صورت اختیار کر جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۷ء

تحفظ ناموس رسالتؐ قانون اور سینٹ آف پاکستان

سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اس قانون کے مبینہ طور پر غلط استعمال کی روک تھام کے عنوان سے اس کا از سرِ نو جائزہ لے رہی ہے۔ اس لیے مختلف مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کے مشترکہ عملی فورم ’’ملّی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے اس کے متعلقہ ضروری پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا ہے اور مجلس کے مرکزی راہ نماؤں کی طرف سے جن میں راقم الحروف بھی شامل ہے ، ایک جائزہ رپورٹ سینٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی کو محترم سنیٹرفرحت اللہ بابر کی وساطت سے بھجوائی ہے جو قارئین کے مطالعہ کیلئے پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۷ء

انسدادِ توہینِ رسالتؐ کا قانون طے شدہ مسئلہ ہے

عمومی روایت یہ ہے کہ کسی مسئلہ پر رائے عامہ کی اکثریت ایک طرف ہو جائے اور منتخب پارلیمنٹ اس پر قانون سازی کر دے تو اسے قومی فیصلہ تصور کیا جاتا ہے اور کسی شدید مجبوری کے بغیر اسے دوبارہ زیر بحث لانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ عجیب صورتحال بنا دی گئی ہے کہ اسلامی عقائد و احکام سے متعلقہ ہر فیصلہ کو بار بار چیلنج کرنے اور اس پر بحث و تمحیص کا دروازہ کھولنے کی کوشش اس کے ساتھ ہی شروع کر دی جاتی ہے جسے متعدد عالمی اداروں اور لابیوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ جنوری ۲۰۱۷ء

راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر

موجودہ عالمی اور ملکی صورتحال پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے طلبہ سے عرض کیا کہ آپ کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اپنے علم کو پختہ کریں اور تعلیم کی طرف پوری توجہ دیں۔ اس لیے کہ علمی استعداد اور صلاحیت جس قدر مضبوط ہوگی اسی قدر آج کے فکری اور علمی فتنوں کا اعتماد کے ساتھ مقابلہ کر سکیں گے۔ جبکہ ادھورا علم اور ناقص استعداد خود فتنوں کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لیے ’’ملاّ‘‘ بننے کی کوشش کریں اور ’’نیم ملاّ‘‘ نہ بنیں کیونکہ نیم ملا ہمیشہ ایمان کے لیے خطرہ ثابت ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۲۰۱۷ء

سعودی دانشور ڈاکٹر محمد المسعری کے خیالات

ڈاکٹر محمد المسعری نے کہا کہ طالبان کو اپنا نظام باقاعدہ طور پر تشکیل دینا چاہیے، اس کا اعلان کرنا چاہیے اور اس کے لیے عالم اسلام کے دانشوروں سے استفادہ کرنا چاہیے۔ طالبان نے اپنے داخلی نظام کی بنیاد فقہ حنفی اور فتاویٰ عالمگیری پر رکھی ہے مگر میرے خیال میں انہیں فتاویٰ عالمگیری کی بجائے اس کے مرتب کرنے والے حکمران سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے اس وقت کے منتخب اربابِ علم و دانش کو جمع کر کے اس دور کے تقاضوں کے مطابق فتاوٰی عالمگیری کے نام سے ایک نظام مرتب کرایا اور اسے نافذ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ و ۵ ستمبر ۱۹۹۹ء

حضرت مولانا سلیم اللہؒ ، حضرت قاری محمد انورؒ، حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ

گزشتہ دو روز سے صدمہ در صدمہ در صدمہ کی کیفیت میں ہوں۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ کی وفات پر صدمہ کے اظہار کے لیے حواس کو مجتمع کر رہا تھا کہ مدینہ منورہ سے استاذِ محترم حضرت قاری محمد انورؒ کی وفات کی خبر نے دوہرے صدمے سے دوچار کر دیا ۔ اور ابھی اس کی تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش میں تھا کہ جنوبی افریقہ سے حضرت مولانا عبد الحفیظ مکیؒ کی اچانک وفات کی خبر آگئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ تینوں بزرگوں کا تذکرہ خاصی تفصیل کا متقاضی ہے مگر سرِدست ابتدائی تاثرات ہی پیش کر سکوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۱۷ء

اقوام متحدہ کا منشور اور اسلامی نقطۂ نظر

اقوامِ متحدہ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں ناموسِ رسالت کے تحفظ کا قانون تبدیل کیا جائے۔ توہینِ رسالتؐ پر سزا کا قانون، تحفظ ختم نبوت کی قانونی دفعات، نافذ شدہ چند شرعی قوانین اور دستور کی اسلامی دفعات ایک عرصہ سے بین الاقوامی دباؤ کی زد میں ہیں۔ اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بہت سے عالمی ادارے ہمارے ان قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر ان کی تبدیلی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ تا ۳۰ دسمبر ۲۰۱۷ء

سرکاری شریعت ایکٹ کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کا تاریخی فیصلہ

وفاقی شرعی عدالت نے پارلیمنٹ کے منظور کردہ شریعت ایکٹ کی دفعہ ۳ اور ۱۹ کو قرآن و سنت کے منافی قرار دے دیا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۳ مئی ۱۹۹۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی شرعی عدالت کے فل بینچ نے جو چیف جسٹس جناب جسٹس تنزیل الرحمان، جناب جسٹس فدا محمد خان اور جناب جسٹس میر ہزار خان پر مشتمل تھا، یہ فیصلہ ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کے کنوینر جناب محمد اسماعیل قریشی اور دیگر تین شہریوں کی درخواست پر صادر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۱۹۹۲ء

’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۰ء

صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نفاذ شریعت آرڈیننس

ہم ان سطور میں اس سے قبل بھی عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے لیے اس سے زیادہ مسرت کی کوئی بات نہیں ہو سکتی کہ پاکستان میں شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور بالادستی کے لیے ایسی مؤثر پیش رفت ہو جس سے ملک کے قانونی، عدالتی اور معاشی نظام میں کوئی عملی تبدیلی بھی نظر آئے۔ بدقسمتی سے گزشتہ گیارہ سال سے اس ضمن میں ہونے والے اسلامی اقدامات اس معیار پر پورے نہیں اترتے اور انہی تجربات کے باعث ملک کے سنجیدہ حلقے اس نئے او ربظاہر بہت اہم اقدام کے ساتھ بھی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کے لیے خود کو تیار نہیں پا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۸۸ء ۔ جلد ۳۱ شمارہ ۲۵

Pages

2016ء سے
Flag Counter