مولانا مفتی محمودؒ کی آئینی جدوجہد اور اندازِ سیاست

قائدِ محترم حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کی علمی، دینی اور سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالتے ہوئے ان کی جو امتیازی خصوصیات او رنمایاں پہلو دکھائی دیتے ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ مرحوم نے قومی سیاست کے دھارے میں شامل ہو کر خود کو اس میں جذب نہیں کر دیا بلکہ وہ اس دھارے کو اپنے عزائم اور مقاصد کی طرف موڑنے میں کامیاب بھی رہے۔ اور اگر آپ آج سے پچیس سال قبل کی قومی سیاست کا آج کی قومی سیاست سے موازنہ کریں گے تو ان نمایاں تبدیلیوں کے پس منظر میں مولانا مفتی محمودؒ اور ان کے رفقاء کی جدوجہد جھلکتی نظر آئے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۱۹۸۱ء

حضرت مولانا علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کا شمار تحریک آزادی اور تحریک پاکستان کے ان عظیم المرتبت قائدین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے علم و فضل، جہد و عمل اور ایثار و استقامت کے ساتھ تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کیا اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کی روشن شمعیں جلا کر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔ علامہ شبیر احمدؒ عثمانی ایک ایسی جامع الکمالات شخصیت تھے جو بیک وقت اپنے دور کے بہت بڑے محدث، مفسر، متکلم، محقق اور فلسفی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ بصیرت سیاستدان بھی تھے اور انہوں نے علم و فضل کے ہر شعبہ میں اپنی مہارت اور فضیلت کا لوہا منوایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۱۹۹۶ء

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ

الشیخ اسامہ بن لادن شہیدؒ کا نام پہلی بار افغانستان کی پہاڑیوں میں جہادِ افغانستان کے دوران سنا جب افغانستان میں روسی افواج کی آمد اور سوشلسٹ نظریات کے تسلط کے خلاف افغانستان کے مختلف حصوں میں علماء کرام اور مجاہدینِ آزادی نے علمِ جہاد بلند کیا اور افغانستان کی آزادی کی بحالی اور اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے میدانِ کارزار میں سرگرم ہوگئے۔ ابتداء میں یہ مجاہدین کسمپرسی کے عالم میں لڑتے رہے حتیٰ کہ پرانی بندوقوں اور بوسیدہ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ بوتلوں میں صابن اور پٹرول بھر کر ان دستی بموں کے ساتھ روسی ٹینکوں کا مقابلہ کرتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۱۱ء

تجدیدِ عہد برائے دفاع وطن

آج کی اس تقریب کا عنوان ’’تجدیدِ عہد اور دفاعِ وطن‘‘ ہے مگر میں اس میں ایک لفظی ترمیم کر کے اسے ’’تجدیدِ عہد برائے دفاعِ وطن‘‘ کی صورت میں پیش کرنا چاہوں گا اور اپنے ان عزیز نوجوانوں کو جو اسلام، وطن اور قوم کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں، وطنِ عزیز پاکستان کے حوالہ سے چند باتوں کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وطنِ عزیز پاکستان اس وقت ہم سے جن باتوں کا تقاضہ کر رہا ہے اسے سامنے رکھنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔ وطنِ عزیز کا پہلا تقاضہ پاکستان کی تکمیل ہے، جغرافیائی تکمیل بھی، نظریاتی تکمیل بھی اور معاشی تکمیل بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۱۷ء

حضرت درخواستیؒ کی پون صدی کی جدوجہد اور اہداف

مجھے 1960ء میں حضرت درخواستیؒ کو قرآن کریم حفظ کا آخری سبق سنا کر ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا اور پھر ان کی وفات تک عقیدت و محبت اور وفاداری کا سلسلہ قائم رہا۔ ان کے ساتھ سفر و حضر اور جلوت و خلوت کی رفاقت کے اس طویل سلسلہ کی بے شمار یادیں ہیں جن کا تذکرہ شروع کردوں تو کسی ایک پہلو کا بھی اس محفل میں شاید احاطہ نہ ہو سکے۔ چنانچہ ان میں سے صرف ایک پہلو پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا ارادہ ہے، اور چونکہ میں خود اس مورچے اور محاذ کا آدمی ہوں اس لیے طبعی طور پر اسی پہلو کو گفتگو کے لیے ترجیح دینا زیادہ پسند کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۰۰ء

آہ! رخصت ہوا شیخ درخواستیؒ

مجھے شعر و شاعری کے ساتھ ایک سامع اور قاری کی حیثیت سے زیادہ کبھی دلچسپی نہیں رہی اور نہ ہی عروض و قافیہ کے فن سے آشنا ہوں۔ تاہم شاید یہ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے ساتھ عقیدت و محبت کا کرشمہ ہے کہ گزشتہ روز گلاسگو میں ان کی وفات کی خبر ملی تو طبیعت بہت بے چین رہی۔ گلاسگو سے لندن واپس آتے ہوئے دورانِ سفر جذباتِ غم مندرجہ ذیل اشعار کی صورت اختیار کر گئے جو میری زندگی کی پہلی کاوش ہے۔ اہلِ فن سے معذرت کے ساتھ یہ منظوم جذباتِ غم پیش خدمت ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۱۹۹۴ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

میں 20 جون کو واشنگٹن پہنچا تھا، اس سے ایک دو دن بعد کی بات ہے کہ نماز فجر کے بعد درس دے کر دارالہدٰی کی لائبریری میں سوگیا۔ خواب میں دیکھا کہ پاکستان میں ہوں اور اچانک اطلاع آئی ہے کہ حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کا انتقال ہوگیا ہے، گوجرانوالہ سے روانہ ہو کر ویگن کے ذریعے چنیوٹ پہنچا اور دیکھا کہ مولانا کی میت چارپائی پر ہے اور چاروں طرف سوگوار حضرات بیٹھے ہیں۔ میں ان کے صاحبزادوں میں سے کسی کو نظروں نظروں میں تلاش کر رہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۰۴ء

مولانا علی احمد جامیؒ

مولانا علی احمد جامیؒ کھیالی گوجرانوالہ کے رہائشی تھے اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے طالب علمی کے دور سے میرے ساتھی تھے۔ انہوں نے ساری زندگی دینی جدوجہد میں گزاری، جمعیۃ علمائے اسلام (س) کے ضلعی امیر تھے، اور اب صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی نے صوبائی امارت کے لیے ان کا انتخاب کیا تھا مگر مسلسل علالت کی وجہ سے وہ کسی عملی ذمہ داری کی پوزیشن میں نہیں تھے۔ متحدہ مجلس عمل ضلع گوجرانوالہ کے صدر رہے اور تحریک ختم نبوت میں بھی ان کا کردار نمایاں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

ڈاکٹر غلام محمد مرحوم

مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک سو روپے ماہانہ وظیفے پر مبلغ کی حیثیت سے کام شروع کیا اور غالباً ایک سو روپے کی مالیت کا ایک سیکنڈ ہینڈ سائیکل خرید کر انہیں دیا گیا جس پر انہوں نے ضلع بھر میں گاؤں گاؤں گھوم کر جمعیۃ کو منظم کیا۔ پھر انہیں جمعیۃ کا ضلعی سیکرٹری جنرل چن لیا گیا اور ایک مدت تک وہ اس حیثیت سے سرگرم عمل رہے۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم شہر میں ہوتے تو میرا دفتر ہی ان کا دفتر ہوتا تھا۔ اور اکثر ایسا ہوتا کہ ان کی جیب میں خرچ کے لیے پیسے نہ ہوتے تو میں اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتا جتنے پیسے نکلتے ہم آدھے آدھے تقسیم کر لیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد مرحوم

مولانا حافظ عبد الرشید ارشد کا تعلق میاں چنوں سے تھا۔ جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے فیض یافتہ تھے اور حضرت مولانا فاضل حبیب اللہ رشیدی کے رفقاء میں سے تھے۔ پاکستان میں علماء دیوبند کے مسلک اور تعارف کو فروغ دینے میں جامعہ رشیدیہ اور اس کے دورِ اول کے بزرگوں کا جو کردار رہا ہے وہ بجائے خود دینی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے۔ مولانا حافظ عبد الرشید ارشدؒ کو اللہ تعالیٰ نے لکھنے پڑھنے اور طباعت و اشاعت کا خصوصی ذوق عطا کیا تھا، دینی لٹریچر کی عمدہ طباعت و اشاعت میں خاص دلچسپی رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

حافظ محمد صادق مرحوم

1967ء سے 1970ء تک جمعیۃ علمائے اسلام کا جو دور گزرا اور جس میں جمعیۃ قومی سیاست میں ایک باشعور اور حوصلہ مند سیاسی قوت کے طور پر متعارف ہوئی اس دور کے ملک بھر کے چند گنے چنے کارکنوں میں حافظ صاحب مرحوم کا شمار ہوتا ہے۔ حضرت درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جیسے بزرگوں کے ساتھ انہوں نے کام کیا اور ان کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل کی۔ حافظ محمد صادق مرحوم اپنا کاروبار کرتے تھے اور جمعیۃ کا کام بھی کرتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۴ء

مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ

مولانا مفتی محمد ضیاء الحقؒ حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ کے داماد تھے اور ان کی جگہ مرکزی جامع مسجد کچہری بازار فیصل آباد میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ بنیادی طور پر تبلیغی جماعت سے تعلق تھا اور دعوت و تبلیغ کی سرگرمیوں میں ہمہ تن منہمک رہتے تھے لیکن حضرت مفتی زین العابدینؒ کی طرح سیاسی اور تحریکی ذوق سے بھی بہرہ ور تھے۔ کچہری بازار کی مرکزی جامع مسجد فیصل آباد میں دینی و سیاسی تحریکات کا مرکز رہی ہے اور اب بھی ہے۔ مفتی ضیاء الحق صاحبؒ اس کے تقاضوں سے بے خبر نہیں تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ دسمبر ۲۰۰۴ء

حاجی غلام دستگیر مرحوم

ڈاکٹر حاجی غلام دستگیر مرحوم شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرؒ مدنی کے خلفاء میں سے تھے۔ انارکلی لاہور سے باہر مسلم مسجد کے نیچے ’’لاہور میڈیسن‘‘ کے نام سے ان کی دکان ہوا کرتی تھی جس میں ان کے ساتھی ان کے بھائی حاجی غلام سبحانی صاحب تھے جو کچھ عرصہ قبل حجازِ مقدس منتقل ہوگئے ہیں۔ لوئر مال روڈ پر ایم اے او کالج کے قریب حاجی غلام دستگیر مرحوم کی رہائش تھی جو ایک زمانے میں قومی سیاست کا مرکز رہی ہے۔ حاجی صاحب کا گھر حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا مہمان خانہ ہوا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۶ء

الرشید ٹرسٹ ۔ حکومت سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ قبول کرے

سندھ ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے فنڈز منجمد کرنے کے بارے میں اسٹیٹ بینک کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور ملک بھر میں اسے انصاف کی فتح قرار دیتے ہوئے اس پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ الرشید ٹرسٹ ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد اس وقت امریکی دباؤ کی زد میں آگیا تھا جب امریکہ نے عالم اسلام کی جہادی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں کچلنے کا اعلان کیا تھا اور اس کے ساتھ ہی مسلم دنیا کے سینکڑوں رفاہی ادارے صرف اس لیے اس دباؤ کے دائرے میں آگئے تھے کہ ان کی رفاہی سرگرمیاں اسلام اور دینی تعلیمات کے حوالے سے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اگست ۲۰۰۳ء

قرآن کریم کا متن اور حدیث نبویؐ

اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے زندگی میں ایک بار پھر ملاقات کا بلکہ چند ملاقاتوں اور دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس حاضری کو اور ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرمائے اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۰۸ء/۲۰۰۹ء

قرآن و سنت کا باہمی ربط

حدیث گفتگو کو کہتے ہیں اور سنت طریقے کو محدثین کی اصطلاح میں حدیث اور سنت میں فرق بھی ہے اور یہ دونوں مترادف بھی ہیں۔ بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا نام حدیث ہے اور عمل کا نام سنت ہے۔ محدثین نے یہ بھی کہا ہے کہ حدیث وہ ہے جو ایک آدھ مرتبہ بیان ہوئی جبکہ سنت وہ ہے جو معمول یا قانون کا درجہ اختیار کر گئی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ آپؐ کی ساری زندگی کے ارشادات حدیث ہیں، جبکہ جن ضوابط اور قوانین پر آپؐ رخصت ہوئے یعنی آپؐ کی زندگی کے جو آخری اقوال و اعمال ہیں وہ سنت کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

روزے کا تاریخی پس منظر اور رمضان المبارک کی فضیلت

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے رمضان المبارک اور اس کے ساتھ روزے کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بات بتائی ہے کہ تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں اور بھوکا پیاسا رہنا تمہارے لیے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ پھر یہ بتایا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی امتوں پر روزے فرض کیے گئے تھے۔ اور جب سے یہ مذہب اور انسان چلے آرہے ہیں نماز، روزہ اور دیگر عبادات بھی چلی آرہی ہیں۔ یعنی تم سے پہلے لوگ بھی روزے رکھتے تھے اور ان پر بھی روزے ایسے ہی فرض تھے جیسے تم پر فرض کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۸ء

قرآن کریم کی بعض آیات سمجھنے میں اشکال

آج کی گفتگو کا عنوان یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرامؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ حضورؐ قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضورؐ کی سنت اور حضورؐ کے ارشادات قرآن کریم کی تشریح ہے۔ چنانچہ تابعین یعنی خیر القرون اور قرون اولیٰ کے لوگ صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے تھے اس لیے کہ انہی کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا تھا اور وہ اس کے پس منظر اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور اس کی زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

حضرت شیخ احمدفاروقی المعروف مجدد الفؒ ثانی اور ان کی جدوجہد

سب سے پہلے تو اِس خطاب یعنی ’’مجددِ الفِ ثانی‘‘ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ’’الف‘‘ ہزار کو کہتے ہیں۔ ’’الفِ ثانی‘‘ یعنی دوسرا ہزاریہ۔ مطلب یہ ہوا کہ ایک ہزار سال گزرنے کے بعد جو دوسرا ہزاریہ شروع ہوا تھا مجدد صاحب اس کے آغاز میں آئے۔ وہ دسویں صدی ہجری کے آخر میں پیدا ہوئے اور ان کی محنت کا جو دورانیہ ہے وہ گیارہویں صدی کے پہلے تین عشرے ہیں۔ ۱۰۳۲ء تک حضرت مجدد الفؒ ثانی نے اپنی علمی و دینی خدمات سر انجام دیں۔ چنانچہ انہیں دوسرے ہزاریے کا مجدد کہا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۲ء

استحکامِ پاکستان اور اس کے تقاضے

میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (MSO) کو اس بر وقت اجتماع پر مبارک باد دینا چاہوں گا۔ آج پاکستان کا استحکام، پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کی وحدت بہت سی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کی وجہ سے سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ اِن حالات میں وہ نوجوان جو دین کی بات کرتے ہیں اور دین سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کا استحکام پاکستان کے عنوان پر اکٹھے ہونا پاکستان کے اچھے مستقبل کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کے جذبات قبول فرمائیں۔ مجھ سے پہلے ہمارے فاضل دوست جناب قمر الزمان صاحب جس صورت حال کی طرف اشارہ کر رہے تھے، یہ کشمکش تو ہماری صدیوں سے جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نامعلوم

دینی اور دنیاوی علوم کی ضرورت

ایک صحابیؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللّٰہ متی الساعۃ؟ کہ اے اللہ کے رسول قیامت کب آئے گی؟ یہ وہی سوال ہے جو کافر بھی کیا کرتے تھے اور جو حضرت جبرائیلؑ نے کیا تھا۔ حضورؐ نے جواب دیا کہ ما أعددت لھا؟ کہ (قیامت کا تو پوچھ رہے ہو) کوئی تیاری بھی کر رکھی ہے؟ یعنی جناب نبی کریمؑ نے سوال کا رخ موڑ دیا کہ ایک مسلمان کا یہ سوال کرنا نہیں بنتا کہ قیامت کب آئے گی بلکہ مسلمان کا سوال یہ ہونا چاہیے کہ میری قیامت کے لیے تیاری کتنی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

اسلام میں حج کا تصور اور نظم

فتح مکہ ۸ ہجری کے سال ہوئی۔ فتح مکہ کے بعد پہلا حج ۹ ہجری میں آیا۔ نبی کریمؐ نے ۹ ہجری کا حج ادا نہیں فرمایا بلکہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کی اِمارت میں صحابہ کرامؓ کو ادائیگیٔ حج کے لیے بھیجا۔ حضورؐ نے ۹ ہجری کا سال اصلاحات و تبدیلیوں کے لیے استعمال کیا۔ آپؐ نے حضرت صدیق اکبرؓ کے ذریعے ۹ ہجری کے حج کے موقع پر بہت سے اعلانات کروائے جو حج کے نظام کی تطہیر ، دیگر قوموں کے ساتھ معاہدات، جاہلی رسومات پر پابندی اور دیگر دینی و انتظامی امور کے متعلق تھے۔ یہ اعلان بھی ہوا کہ اگلے سال حضورؐ حج کے لیے تشریف لائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۱ء

دینی اداروں کی ضرورت

دینی مدارس میں جو تعلیم دی جاتی ہے اس کا ہماری عملی زندگی سے کیا تعلق ہے؟ یعنی ہمیں اپنی پریکٹیکل لائف میں دینی تعلیم کی کہاں کہاں ضرورت پڑتی ہے اور کس کس جگہ یہ ہمارے کام آتی ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اپنی ذات کی پہچان کے لیے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہم کوئی چیز دنیا میں دیکھتے ہیں تو یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے، کیوں ہے اور کس نے بنائی ہے? ایک قلم کی مثال لے لیں۔ پہلی بات تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہ قلم کس چیز سے بنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ میں پاکستانیوں کی سرگرمیاں

نیویارک کے علاقہ بروکلین میں مقیم پاکستانی ان دنوں پاکستان سوسائٹی کے سالانہ انتخابات کی گہماگہمی میں مصروف ہیں۔ ایک طرف جناب عبد الشکور کا گروپ ہے اور دوسری طرف جناب محمد الیاس اور ان کے رفقاء سرگرم عمل ہیں۔ جناب عبد الشکور پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم راہنما کی حیثیت سے پاکستان میں معروف ہیں اور یہاں حلقہ اسلامی شمالی امریکہ کے امیر کے منصب پر فائز اپنے مشن کے لیے مصروفِ کار ہیں، سرگرم، پرجوش اور مرنجان مرنج شخصیت کے حامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۷ء

تعلیم نسواں کی اہمیت و تقاضے

آج کے دور میں جبکہ ہر مسلمان اپنے اپنے معاملات میں بے حد مصروف ہے یہ جو ریفریشر کورسز اور سمر کورسز وغیرہ ہیں یہ بہت ضروری ہیں اور بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہیں۔ اگرچہ اصل ضرورت تو باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی ہے لیکن باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کا وقت اور گنجائش نہ ہو اور اس کی مہلت نہ ملے تو کم از کم اس طرح کے چھوٹے کورسز یعنی ایک ہفتے کا، ایک مہینے کا، دو ماہ کا، ان سے فائدہ اٹھانا بہت ضروری ہے۔ دین کی معلومات حاصل کرنے سے ذوق بنتا ہے، حصولِ علم کا شوق پیدا ہوتا ہے اور انسان مزید علم و معلومات حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

فقہ حنفی کی چار امتیازی خصوصیات

فقہ حنفی کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باقاعدہ فقہ ہے۔ امام صاحبؒ سے پہلے بھی تفقہ کے مختلف دائرے رہے ہیں لیکن اس تفقہ کی بنیاد پر کسی باقاعدہ فقہ کی تشکیل سب سے پہلے امام صاحبؒ نے کی۔ فقہ حنفی کی اولین امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عالم اسلام کی پہلی باضابطہ مدون فقہ ہے۔ اس کا اعتراف مؤرخین و محدثین نے کسی تأمل کے بغیر کیا ہے۔ ہمارے علمی ماضی کا ایک حسن یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کے امتیازات کا اور ایک دوسرے کی خصوصیات کا اعتراف کرنے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۱۱ء

عصرِ حاضر میں امام ابو حنیفہؓ کے طرزِ فکر کی اہمیت

یہ سیمینار حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے حوالے سے ہے اس لیے میں اِن تین اسلامی شخصیات کے تعارف کے حوالے سے یہ بات مزید لمبی نہیں کرتا۔ لیکن ایک طالب علم کے طور پر میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انقلاب اور حکومتی نظام میں حضرت عمر بن عبد العزیزؒ ، فقہ اور قانون میں حضرت امام ابو حنیفہؒ ، جبکہ فکر و فلسفے میں حضرت شاہ ولی اللہؒ ۔ میں علماء سے درخواست کیا کرتا ہوں کہ ان شخصیات کا بطور خاص مطالعہ کریں۔ آج کے حالات کو سامنے رکھ کر گہرائی سے ان شخصیات اسٹڈی کو کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۰ء

امام ابوحنیفہؒ کی سیاسی خدمات

امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کی خدمات اور حیات کے بارے میں اس سیمینار کا انعقاد ایک خوش آئند امر ہے اور ہماری دینی ضروریات میں سے ہے۔ اپنے اسلاف کو یاد کرنا اور ان کی تعلیمات اور جدوجہد کو اجاگر کر کے نئی نسل کی راہنمائی کا سامان فراہم کرنا ایک اہم ضرورت ہے جس کے اہتمام پر میں سیمینار کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ مجھے گفتگو کے لیے حضرت امام اعظمؒ کی سیاسی خدمات کا موضوع دیا گیا ہے اور میں اسی کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۱ء

حدیث قدسی کسے کہتے ہیں؟

چند سالوں سے معمول ہے کہ جناب نبی کریمؐ کی احادیث مبارکہ کے کسی ایک پہلو پر گفتگو ہوتی ہے۔ ایک سال بخاری شریف کی ’’ثلاثیات‘‘ پر بات ہوئی، ایک سال مسلم شریف کے ’’باب الفتن‘‘ کے بارے میں گفتگو ہوئی، اور ایک سال ابن ماجہ کی’’ کتاب السنن‘‘ پر خطاب کا موقع ملا۔ اس سال بھی احادیث مبارکہ ہی کے ایک پہلو ’’احادیث قُدسیہ‘‘ کا انتخاب کیا ہے جو کہ احادیث کریمہ میں ایک مستقل شعبہ ہے۔ اہل علم کے ہاں حدیث اور سنت میں تھوڑا سا تکنیکی فرق ہے لیکن عام لوگوں کے ہاں یہ دونوں لفظ ایک ہی معنٰی میں سمجھے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۸ء

حضرت مولانا حافظ نذیر احمد

گزشتہ دنوں ملک کے معروف دینی ادارہ جامعہ ربانیہ پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سالانہ تقریب میں حاضری کا موقع ملا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا حافظ نذیر احمد مدظلہ کی زیارت و ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت مولانا حافظ نذیر احمد میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھیوں میں سے ہیں اور تقریباً ساٹھ سال سے پھلور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں۔ نابینا ہیں لیکن قرآن و حدیث کے علوم پر اس قدر دسترس رکھتے ہیں جو بڑے بڑے اساتذہ کے لیے قابل رشک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۰۴ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter