قومی وملی تحریکات میں اہل تشیع کی شمولیت (۱)
اس سوال پر کہ ہمارے والدمحترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدرؒ کا موقف اور طرزعمل کیا تھا؟ خصوصاً اس پس منظر میں کہ انہوں نے اثناء عشری اہل تشیع کی تکفیر پر’ ’ارشاد الشیعہ‘‘ کے نام سے کتاب بھی لکھی ہے۔ میں نے گزارش کی کہ انہوں نے ’’ارشادالشیعہ‘‘ تصنیف فرمائی اور اس میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ صرف ان کا موقف نہیں بلکہ یہ تو اہل سنت کا موقف ہے، اور خود ہمارا موقف بھی اثنا عشری اہل تشیع کی حد تک یہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ ان تمام تحریکات کا حصہ رہے ہیں جن کا میں نے تذکرہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہین رسالتؐ قانون ۔ مختلف طبقات کا موقف
ایک طبقہ ان لوگوں کا ہے جو سرے سے توہین رسالت کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور اس پر سزا کو آزادیٔ رائے، آزادیٔ ضمیر اور آزادیٔ مذہب کے منافی تصور کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے مغربی معیار کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، بلکہ اس پر ظالمانہ قانون اور کالا قانون ہونے کی پھبتی بھی کستے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرز فکر کے نمائندہ دانشور سیکولر جمہوریت کو عدل وانصاف کا واحد معیار تصور کرتے ہوئے سوسائٹی کے اجتماعی معاملات اور ریاست و حکومت کی پالیسیوں میں مذہب کا کوئی حوالہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ
ڈاکٹر صاحب کا تعلق حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی اور حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی کے خاندان سے تھا۔ انھوں نے ابتدائی دینی تعلیم جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی اور دورۂ حدیث دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار راول پنڈی میں کیا۔ ان کے حدیث کے استاذ صوبہ خیبر پختون خواہ کے معروف محدث حضرت مولانا عبد الرحمن المینوی رحمہ اللہ تعالیٰ اور قرآن کریم کے ترجمہ وتفسیر کے استاذ شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نفاذِ شریعت کی جدوجہد: علمی مباحثہ کی ضرورت
یہ سوال قیام پاکستان کے فوراً بعد اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ایک نئی نظریاتی ریاست کا دستوری ڈھانچہ کیا ہوگا اور اس کی تشکیل میں مختلف مذہبی مکاتب فکر کے باہمی اختلافات کا کس حد تک عمل دخل ہوگا؟ چنانچہ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات قوم کے سامنے پیش کیے تھے تاکہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے اور قانونی نظام کے بارے میں دینی حلقوں کا متفقہ موقف سامنے آ جائے اور یہ بات بھی واضح ہو جائے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افکار مفتی محمودؒ اور عصر حاضر
بنیادی طور پر زمینداروں اور کارخانوں کے مسائل کا حل کرنا ضروری ہے ۔اسلام میں یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ غیرآباد زمین کو آباد کرنے والا شرعاً اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس اصول کے مطابق وہ تمام زمینیں جو قریب کے زمانے میں آباد ہوئی ہیں، ان کے آبادکار مزارعین ان زمینوں کے مالک قرار دیے جائیں، اور قدیم آباد زمینوں سے متعلق یہ تحقیق کی جائے کہ آیا یہ اراضی کسی جائز طریقے سے حاصل کی گئی تھیں یا انگریزوں نے ’’حق الخدمت‘‘ میں بطور جاگیر کے کسی کو عطا کی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
افراد کی غلامی سے قوموں کی غلامی تک
انسانوں کی تجارت قدیم دور سے جاری ہے اور ہر زمانے میں اس کی کوئی نہ کوئی شکل موجود رہی ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت بھی یہ سلسلہ وسیع پیمانے پر جاری تھا۔ خود حضورؐ کے صحابہؓ میں سے حضرت زید بن حارثہؓ اسی انسان فروشی کے باعث غلام بنے تھے اور فروخت ہوتے ہوتے آپؐ کی بابرکت غلامی تک پہنچے تھے، مگر آپ نے انھیں آزاد کر کے منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ بھی اسی بردہ فروشی کا شکار ہوئے اور فروخت ہوتے ہوتے مدینہ منورہ کے ایک یہودی خاندان کی غلامی میں آ گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عالم اسلام کے تکفیری گروہ: خوارج کی نشاۃ ثانیہ
عالم اسلام کے مختلف حصوں میں اس قسم کے تکفیری اور متشدد گروہوں کو دیکھ کر خوارج کے اس دور کی یاد پھر سے تازہ ہو گئی ہے۔ میں علماء کرام سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ بات بات پر تکفیر اور اس کی بنیاد پر بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام کی نفسیات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے خوارج کی تاریخ کا مطالعہ اوران کے مقابلے میں اہل سنت کے ائمہ کرام خصوصاً امام اعظم ابو حنیفہؒ کی سیاسی جدوجہد سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر آج کے متشدد گروہوں کی نفسیات اور ذہنیت کو پوری طرح سمجھنا آسان نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شاہ ولی اللہ یونیورسٹی کا تجدیدی منصوبہ
قارئین کے سامنے ایک پرانی داستان کی یاد تازہ کرنا چاہتا ہوں جو بہت سے دوستوں کو شاید یاد ہوگی۔ کم وبیش ربع صدی قبل کی بات ہے کہ گوجرانوالہ میں دیوبندی مسلک کے علماء کرام اور دیگر متعلقین نے جمعیت اہل السنۃ و الجماعۃ کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کا مقصد مسلکی معاملات کی بجا آوری اور بوقت ضرورت دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے حلقوں اور جماعتوں کو باہمی اجتماع کے لیے مشترکہ فورم مہیا کرنا تھا۔ یہ جمعیت آج بھی موجود ہے، لیکن زیادہ متحرک نہیں رہی اور صرف علماء کرام تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی مسئلے کو ری اوپن کرنے کی تمہیدات؟
لاہور کے سانحہ کے ذمہ دار عناصر جو بھی ہیں انھوں نے ملک، دین اور قوم تینوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر خدا نخواستہ کسی انتہا پسند تنظیم نے اس کی پلاننگ کی ہے تو یہ قادیانیوں کے ساتھ نمٹنے کا انتہائی غلط طریق کار ہے۔ اور اگر یہ کارروائی پس پردہ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی ہے تو ملک کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کا دائرہ کار وسیع کرنے کی کسی سازش کاحصہ ہے۔ اس بات کا فیصلہ کرنا قانون اور عدالت کا کام ہے کہ اس افسوس ناک واقعہ کے عوامل واسباب کیا ہیں اور یہ کن لوگوں کی کارروائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فوجی افسران کی گرفتاری اور سرکاری موقف
پاک فوج کے بعض افسروں کی گرفتاری کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وزیراعظم اور وزیردفاع کے بیانات نے اس سلسلہ میں ملکی اور عالمی سطح پر ہونے والی بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور حکومت کی مسلسل خاموشی سے پیدا ہونے والے شکوک و خدشات ختم ہونے کی بجائے مزید سوالات و شبہات کو جنم دینے کا باعث بن گئے ہیں۔ میجر جنرل ظہیر الاسلام اور بریگیڈیر مستنصر باللہ سمیت دو درجن کے لگ بھگ افراد اس وقت زیرحراست ہیں جن میں فوجی افسران کے علاوہ بعض علماء کرام بھی شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم اور دستور پاکستان
کیا قرآن کریم خود کسی اسلامی ریاست کے لیے دستور کی حیثیت نہیں رکھتا اور کیا قرآن کریم کو ریاست ومملکت کے تمام معاملات میں بالادستی حاصل نہیں ہے؟ خطبہ حجۃ الوداع میں جناب نبی اکرم ﷺ نے جب اپنی امت کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ ’’اپنے حکمران کی اطاعت کرو خواہ وہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، جب تک وہ تمھارے معاملات کو قرآن کریم کے مطابق چلاتا رہے‘‘ تو یہ قرآن کریم کی اسی حیثیت کا اعلان تھا کہ وہ اسلامی ریاست کا دستور ہے اور ریاست و حکومت کے تمام معاملات کا اسی دستور کے دائرے میں رہنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر اسرار احمدؒ
ڈاکٹر صاحبؒ نے جماعت اسلامی سے اپنا راستہ الگ کیا، لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد سے دست برداری اختیار نہیں کی اور آخر وقت تک مصروف عمل رہے۔ اس بڑھاپے میں نفاذ شریعت کے لیے ان کی تڑپ اور محنت قابل رشک تھی جسے دیکھ کر جوانوں کو بھی حوصلہ ملتا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ شیخ الہند مولانا محمودحسن دیوبندی ؒ نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی وطن کی جدوجہد میں مالٹا جزیرے میں ساڑھے تین سال کی قید و بند کے بعد واپسی پر اپنی جدوجہد کا جو راستہ اختیار کیاتھا، وہی اس محنت کا صحیح راستہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حالات حاضرہ ۔ علمائے دیوبند کا اجتماعی موقف
ہمارے ملک کے بہترین وسائل ان عوامی امنگوں کو دور کرنے اور ان کے اسباب کا ازالہ کرنے کی بجائے امریکہ کی مسلط کی ہوئی جنگ میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہے ہیں۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے ہماری سرحدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر کے ان ڈرون حملوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جن میں ہمارے بے گناہ شہریوں، عورتوں او ر بچوں کی بہت بڑی تعداد شہید ہو کر بستیاں اجڑ چکی ہیں۔ اور یہ بات واضح ہے کہ امریکہ نے اپنی بالادستی قائم کرنے اور عالم اسلام کے وسائل پر قبضہ کرنے اور اسلام اور امت مسلمہ کے تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کی کاروائیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دستوری ترامیم اور حکمران طبقے کا رویہ
ستم بالائے ستم یہ کہ ہماری رولنگ کلاس کے اوپر ایک اور ’’رولنگ کلاس‘‘ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی صورت میں مسلط ہے جو پہلے ان دیکھی اور خفیہ ہوتی تھی، اب کھلم کھلا ملک کے ہر شہری کو دکھائی دے رہی ہے۔ اور صورتحال یہ ہے کہ دستور و قانون کی جو صورت ان دونوں کے مفاد میں ہوتی ہے اور اس پر عملدرآمد سے ان میں سے کسی کا مفاد مجروح نہیں ہوتا، وہ کسی درجے میں عمل میں آجاتی ہے۔ لیکن جمہوریت، رائے عامہ اور دستور وقانون کی جو تعبیر ان میں سے کسی کی ترجیحات کے لیے رکاوٹ بنتی ہے، وہ ان دیکھے فریزر میں منجمد ہو کر رہ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مسلکی اختلافات اور امام اہل سنتؒ کا ذوق ومزاج
آج کی نشست میں، میں مسلکی اختلافات ومعاملات کے حوالے سے والد محترم، امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور ان کے دست راست حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمہما اللہ کے ذوق وفکر اور طرز عمل کا ایک سرسری خاکہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں، اس لیے کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران پورے برصغیر میں حضرت والد محترمؒ کو علماء دیوبند کے مسلکی ترجمان کی حیثیت حاصل رہی ہے اور پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے دیوبندی علما انھیں اپنا مسلکی اور علمی راہ نما سمجھتے آ رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی جدوجہد کے عصری تقاضے اور مذہبی طبقات
انقلاب ایران کے بعد مجھے علماء کرام اور وکلا کے ایک وفد کے ساتھ ایران جانے کا موقع ملا جس میں مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حافظ حسین احمد بھی شامل تھے۔ یہ ۱۹۸۷ء کی بات ہے۔ اس موقع پر ایک مجلس میں یہ سوال سامنے آیا کہ کیا پاکستان میں کوئی عالم دین اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خمینی صاحب کی طرح ایک عوامی انقلاب کی قیادت کر سکے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک نہیں بلکہ ہمارے پاس دو شخصیات ایسی موجود تھیں جو خمینی بن سکتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مساجد ومدارس کے ملازمین کے معاشی مسائل
مساجد و مدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات ان کے معاشرتی مقام سے بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے- لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور موذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور علماء
علماء کرام سے ملک کے بعض حلقوں کا یہ مسلسل مطالبہ ہے کہ وہ خود کش حملوں کے خلاف اجتماعی فتویٰ جاری کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومتی پالیسی کی حمایت کا دو ٹوک اعلان کریں، لیکن موجودہ صورت حال میں یہ بات بہت مشکل ہے کہ علماء کرام حکومت کی پالیسیوں کی آنکھیں بند کر کے حمایت کریں اور نہ ہی حکومت کو اس کی توقع کرنی چاہیے، اس لیے کہ جو بات جس حد تک درست ہوگی، اس کی ضرور حمایت کی جائے گی، لیکن جو بات درست نہیں ہوگی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی طبقات، دہشت گردی اور طالبان ۔ ڈاکٹر یوگندر سکند کا سوالنامہ
جو دینی جماعتیں اور افراد پر امن طور پر اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے کام کر رہی ہیں، وہ بھی انہی دینی مدارس کے تعلیم یافتہ ہیں اور جو لاکھوں علماء کرام، مدرسین اور خطبا و ائمہ ملک بھر میں امن و سلامتی کے ماحول میں دینی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں انہوں نے بھی انہی مدارس میں تعلیم پائی ہے۔ یہ حضرات نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں پر امن طور پر تعلیمی اور دعوتی خدمات بجا لا رہے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں، ان کا تناسب آٹے میں نمک کا بھی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تدریس حدیث کے چند اہم تقاضے
جب ہم حدیث پڑھا رہے ہوں تو جس طرح ایک عام اجتماع میں حدیث بیان کرتے ہوئے پبلک کی ذہنی نفسیات، ذہنی سطح اور اس کے معروفات ومسلمات کو سامنے رکھنا ضروری ہے، اسی طرح ہمارے سامنے جو کلاس بیٹھی ہے اس کی ذہنی سطح کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ کون سی بات ان کے ذہن میں جائے گی اور کون سی نہیں جائے گی۔ کیونکہ آج ہمارے سامنے جو طلبہ حدیث پڑھنے بیٹھتے ہیں ان کا لیول آج سے پچاس سال پہلے والا نہیں ہے۔ چالیس پچاس سال پہلے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ کی اکثر یت مطالعہ کرکے آتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ارباب علم ودانش کی عدالت میں ماہنامہ الشریعہ کا مقدمہ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے آرگن ماہنامہ ’’وفاق المدارس‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ اس کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ کی عمومی پالیسی پر نقد وتبصرہ کرتے ہوئے کچھ ایسے امور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن کی وضاحت کے لیے قلم اٹھانا ضروری ہو گیا ہے۔ چنانچہ ’’وفاق المدارس‘‘ کے تفصیلی تبصرہ کے جواب کے طور پر نہیں، بلکہ توجہ دلانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اہم امور کی وضاحت کے لیے یا ’’ارباب علم ودانش کی عدالت میں ’الشریعہ‘ کامقدمہ‘‘ کے طورپر کچھ معروضات پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ
گزشتہ دنوں میرے بہنوئی مولانا قاری خبیب احمد عمر کا انتقال ہو گیا ہے جو ایک متحرک دینی جماعت ’’تحریک خدام اہل سنت‘‘ کے صوبہ پنجاب کے امیر اور ملک کے معروف دینی ادارہ’’ جامعہ تعلیم الاسلام‘‘ جہلم کے مہتمم تھے۔ وہ ایک ماہ قبل برطانیہ کے تبلیغی دورے پر گئے اور نوٹنگھم میں اپنی بیٹی کے ہاں قیام پذیر تھے کہ انھیں نمونیہ کی تکلیف ہوگئی۔ اسی حالت میں تکلیف کے باوجود انہوں نے بریڈ فورڈ کی ایک مسجد میں جمعہ پڑھایا جس سے تکلیف بڑھ گئی۔ انہیں برمنگھم کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیث وسنت ۔ غامدی صاحب کا موقف
اگر صرف اتنی سی بات ہے تو اصطلاحات و تعبیرات کے اس فرق میں یہ پہلو ضرور ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ نئی اصطلاح اور جداگانہ تعبیر سے کیا نئی نسل کے ذہن میں کوئی کنفیو ژن تو پیدا نہیں ہو رہا ہے۔ کیونکہ اس وقت ہماری نئی نسل مختلف اطراف سے پھیلائے جانے والے کنفیوژنز کی زد میں ہیں، اسے اس ماحول سے نکالنا ایک مستقل دینی ضرورت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے ماحول میں سنجیدہ اہل علم کو نئی نسل کی ذہنی اور فکری الجھنوں میں اضافہ کرنے کی بجائے ان میں کمی کرنے کا اسلوب اختیار کرنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند روز ہانگ کانگ میں
ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی دعوت پر ’’تذکرہ خیر الوریٰ‘‘ کے عنوان سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقد ہونے والے متعدد اجتماعات میں شرکت کے لیے ۵ مارچ سے ۹ مارچ تک ہانگ کانگ میں وقت گزارنے کا موقع ملا۔ شجاع آباد ضلع ملتان میں ہمارے ایک بزرگ دوست مولانا رشید احمد تھے جن کا قائم کردہ مدرسہ جامعہ فاروقیہ ایک عرصہ سے تعلیمی ودینی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مالاکنڈ ڈویژن میں شرعی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ
مالاکنڈ ڈویژن میں یہ مطالبہ گزشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ وہاں مروجہ عدالتی سسٹم کی بجائے شرعی عدالتوں کا نظام قائم کیا جائے اور اس کے لیے مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدی‘‘ نے ایک عوامی تحریک منظم کر رکھی تھی جس کے نتیجے میں ایک مرحلے میں کم وبیش تیس ہزار کے لگ بھگ مسلح افراد مینگورہ کی سڑکوں پر کئی دنوں تک دھرنا دیے بیٹھے رہے تھے اور ان کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں شرعی عدالتی نظام فراہم کیا جائے جہاں قاضی حضرات قرآن وسنت کے مطابق ان کے مقدمات کے فیصلے کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خودکش حملہ ۔ ڈاکٹر محمد فاروق خان کے ارشادات
خود کش حملہ ایک جنگی ہتھیار ہے جو مظلوم قومیں ہمیشہ سے استعمال کرتی آرہی ہیں۔ یہ ہتھیار جاپانیوں نے بھی استعمال کیا تھا، جنگ عظیم میں برطانیہ نے بھی استعما ل کیا تھا، اور ۱۹۶۵ء کی جنگ میں پاک فوج نے بھی چونڈہ کے محاذ پر استعمال کیا تھا۔ دوسرے جنگی ہتھیاروں کی طرح یہ بھی میدان جنگ میں استعمال ہو تو جائز ہے، لیکن پرامن ماحول میں ا س کا استعمال ناجائز ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
غامدی صاحب کے تصور سنت کے حوالہ سے بحث ومکالمہ
مجھے اس امر پر اصرارنہیں ہے کہ غامدی صاحب کی عبارات سے سنت کا جو مفہوم میں نے سمجھا ہے، وہی غامدی صاحب کی مراد بھی ہے۔ اور اسی لیے میں نے ان سے وضاحت کی درخواست کی ہے، لیکن یہ وضاحت غامدی صاحب کو خود کرنی چاہیے۔ ان سے ہٹ کر کسی اور دوست کی وضاحت ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ اگر محترم جاوید غامدی صاحب بذات خود اس بحث میں شریک ہوتے ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور ان کے پورے احترام کے ساتھ اس بحث کو آگے بڑھائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد وقتال کے شرعی احکام اور بین الاقوامی قانون
ایک طرف ایک منظم عالمی نظام ہے جسے دنیا کے اکثر ممالک کی حمایت اور پشت پناہی حاصل ہے اور اس بین الاقوامی چھتری کے نیچے بین الاقوامی قوانین، عالمی معاہدات اور معاملات کاایک مربوط سسٹم موجود ومتحرک ہے جسے مسلم دنیا کی کم وبیش سب حکومتیں تسلیم کرتی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف عالم اسلام کے وہ دینی، فکری اور علمی حلقے ہیں جو دنیا پر اسلام کے غلبہ اور مسلم معاشروں میں اسلامی شریعت کے نفاذ و ترویج کے لیے کوشاں ہیں اور پورے خلوص کے ساتھ اس کے لیے ہر نوع کی قربانی پیش کرتے چلے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ اور پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد
ملک میں امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ’’ دہشت گردی اور اس کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے سرفہرست ہے اور اس جنگ کا پھیلاؤ جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے، عوام کے اضطراب میں اضافے کے ساتھ ساتھ قومی خود مختاری اور ملکی سا لمیت کے بارے میں سوالات میں بھی شدت پیدا ہو رہی ہے۔ یہ ’’دہشت گردی ‘‘ کیا ہے اور اس کے خلاف جنگ کے اہداف ومقاصد کیا ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی شریعت کی تعبیرو تشریح: علمی وفکری سوالات
آج کے نوجوان اہل علم جو اسلام کے چودہ سو سالہ ماضی اور جدید گلوبلائزیشن کے ثقافتی ماحول کے سنگم پر کھڑے ہیں، وہ نہ ماضی سے دست بردار ہونا چاہتے ہیں اور نہ مستقبل کے ناگزیر تقاضوں سے آنکھیں بند کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ ماضی کے علمی ورثہ کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے قدیم و جدید میں تطبیق کی کوئی قابل قبول صورت نکل آئے۔ مگر انھیں دونوں جانب سے حوصلہ شکنی کا سامنا ہے اور وہ بیک وقت ’قدامت پرستی‘ اور ’تجدد پسندی‘ کے طعنوں کا ہدف ہیں۔ مجھے ان نوجوان اہل علم سے ہمدردی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 147
- 148
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »