اسلام مخالف مہم اور مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری

صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین نے گزشتہ روز رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللہ عبد المحسن الترکی حفظہ اللہ تعالیٰ سے ایوان صدر اسلام آباد میں ملاقات کے دوران دو اہم باتوں کا ذکر کیا ہے جس کی طرف نہ صرف رابطہ عالم اسلامی بلکہ عالم اسلام کے دیگر بین الاقوامی اداروں اور علمی و دینی مراکز کو بھی فوری توجہ دینی چاہیے۔ ایک بات یہ کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی سطح پر چلائی جانے والی مہم اور پروپیگنڈا کا مؤثر جواب دینے کی ضرورت ہے اور صدر محترم کے نزدیک رابطہ عالم اسلامی اس کے لیے موزوں فورم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۱۵ء

اردو زبان کے حوالہ سے سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ماہ سے بھی کم مدت تک چیف جسٹس رہنے والے فاضل جج محترم جسٹس جواد ایس خواجہ گزشتہ روز ریٹائر ہو گئے ہیں مگر ریٹائر منٹ سے پہلے انہوں نے سپریم کورٹ کے فل بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے ایک ایسا تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور آئندہ نسلیں یقیناً انہیں دعائیں دیتی رہیں گی۔ جسٹس (ر) جواد ایس خواجہ کے بارے میں یہ خبریں بھی اخبارات کی زینت بنی ہیں کہ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران نہ کوئی سرکاری پلاٹ لیا اور نہ ہی امتیازی پروٹوکول اور مراعات سے فائدہ اٹھایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

سودی نظام کے خلاف جدوجہد میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں

جامعۃ الرشید کراچی میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سودی بینکاری سے نجات حاصل کرنے کے لیے غیر سودی بینکاری کا تجربہ ضروری ہے اور اس وقت اس حوالہ سے جو محنت ہو رہی ہے اس کی اصلاح اور مزید بہتری کے لیے کوششوں کے ساتھ ساتھ اس کی حوصلہ افزائی بھی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈپٹی گورنر جناب سعید احمد نے جامعۃ الخیر لاہور میں ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سودی بینکاری کا متبادل شرعی نظام موجود ہے مگر اسے چلانے کے لیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۶ء

دینی مدارس کی جدوجہد اور مقتدر طبقات کی روش

۳ اپریل ۲۰۱۶ء کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے زیراہتمام ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ، طلبہ اور معاونین لاکھوں کی تعداد میں ’’استحکام پاکستان کانفرنس‘‘ کے عنوان سے جمع ہو کر ملکی صورتحال اور دینی مدارس کی معاشرتی جدوجہد کے حوالہ سے اپنے موقف اور عزائم کا ایک بار پھر اظہار کر رہے ہیں جو بلاشبہ اہل حق کی جدوجہد اور تاریخ کا اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ آج دینی مدارس کی یہ محنت اپنے علمی و فکری ماحول اور دینی و تہذیبی اثرات و نتائج کے حوالے سے دنیا بھر میں ہر سطح پر بحث و گفتگو کا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۶ء

بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

ممتاز بھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کے روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے: ’’بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس نے ایک غیر شادی شدہ والدہ کی اس اپیل کو قبول کر لیا ہے کہ اس کا بچہ اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ کا نام لکھے، اب ایسے بچوں کو اپنے والد کا نام لکھنا بتانا ضروری نہیں ہوگا۔ عدالت کا یہ فیصلہ پڑھتے ہی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب بھارتی ہر جگہ اپنی ماں کا نام لکھیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

ایران کا ایٹمی سمجھوتہ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل

ایران کے ساتھ چھ بڑے ممالک کے ایٹمی سمجھوتے پر دنیا بھر میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، ایران میں اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے جشن کا سماں ہے، اقتصادی پابندیوں کے ختم ہو جانے پر ہر طرف خوشی منائی جا رہی ہے اور اسے ایران کی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ معروضی صورتحال میں ہمیں بھی اس سے اختلاف نہیں ہے مگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو اسے حالات کے جبر اور طاقت کی حکمرانی کے روایتی طریقِ کار کی ایک بار پھر توثیق کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۵ء

انسانی حقوق سیکرٹریٹ اور علمی اداروں کی ذمہ داری

روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۸ اگست ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’وزیر اعظم نواز شریف نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے جو انسانی حقوق سے متعلق عالمی معاہدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا، وزارت قانون نے نظام انصاف کو مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے حوالہ سے اصلاحات پر مبنی سمری وزیر اعظم کو بھجوائی تھی جس کی روشنی میں وزیر اعظم نے انسانی حقوق سیکرٹریٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۵ء

عوام میں حلال و حرام کا شعور بیدار کرنے کی مہم

روزنامہ اوصاف لاہور نے ۱۴ اکتوبر ۲۰۱۵ء کی ایک خبر میں بتایا ہے کہ: ’’پنجاب حلال ڈیویلپمنٹ ایجنسی کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں سور کے گوشت اور دیگر حصوں کو ۱۰۰ سے زائد کھانے والی اشیا میں استعمال کیا جا رہا ہے جس کو مسلمان بھی انجانے میں استعمال کر رہے ہیں، اس لیے علماء کرام عوام میں حلال و حرام کے استعمال کے حوالہ سے شعور پیدا کریں کہ صرف گوشت ہی حلال اور حرام نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

امت مسلمہ اور اقوام متحدہ ۔ چند ضروری گزارشات

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسلام کی غلط اور غیر معقول عکاسی کرنے والوں کے خلاف کاروائی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے حکمت عملی بنائی جائے اور اسلام کے خلاف متعصبانہ رویے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں اسلامی عقائد کی تعصب پر مبنی کردارکشی کی روک تھام پر بھرپور توجہ دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۵ء

سزائے موت کا قانون اور پاپائے روم

روزنامہ جنگ کراچی ۲۲ فروری ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے: ’’کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ موت کی سزا ختم کر دینی چاہیے، تمام حکومتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مشترکہ رائے سے موت کی سزا کو ختم کر دیں، کیونکہ اس طرح حکومتیں کسی انسان کی ہلاکت کی مرتکب نہیں ہوں گی۔ ویٹی کن سٹی میں سینٹ پیٹرز اسکوائر میں پوپ نے ہزاروں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا بھر کے مسیحیوں کو تلقین کی ہے کہ وہ موت کی سزا کے خاتمہ کے لیے اپنی کوشش شروع کر دیں۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۶ء

امت مسلمہ کی حالت زار اور اہل دین کی ذمہ داری

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی آج ہمارے سامنے ایک زندہ حقیقت کی صورت میں جلوہ گر ہے کہ ’’تداعت علیکم الامم تداع الاکلۃ علی قصعتھا‘‘ دنیا کی قومیں تم مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کی ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے تیار دسترخوان پر کوئی میزبان اپنے مہمان کو کھانے کی دعوت دیتا ہے۔ آج ہم مسلمان دنیا کی قوموں کے سامنے ’’تر لقمہ‘‘ کی صورت میں بکھرے پڑے ہیں اور استعماری عزائم رکھنے والی ہر قوم حسب استطاعت اپنا حصہ وصول کرنے میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۹ء

فرقہ وارانہ کشمکش اور اصول انسانیت

میری گفتگو کا عنوان ’’فرقہ وارانہ کشیدگی اور اصول انسانیت‘‘ ہے اور مجھے انسانی معاشرہ کی مختلف حوالوں سے تفریق کے متنوع دائروں میں انسانی اصول و اخلاق کی پاسداری کے تقاضوں پر کچھ گزارشات پیش کرنی ہیں۔ انسانی سماج میں تفریق کئی حوالوں سے ہمیشہ سے موجود چلی آرہی ہے۔ یہ نسل کے عنوان سے بھی ہے، رنگ اور زبان کے حوالہ سے بھی ہے، مذہب بھی اس کا ایک دائرہ ہے اور وطن، قومیت، علاقہ اور دیگر بہت سے امور اس کے اسباب میں شامل ہیں۔ مگر میں ان میں سے مذہب کے حوالہ سے پائی جانے والی تفریق کی بات کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۲۰۱۹ء

دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے بارے میں مبینہ خدشات

پہلی بات یہ ہے کہ یہ خدشات و خطرات کیسے سامنے آئے ہیں اور کیوں محسوس کیے جا رہے ہیں؟ قادیانی امت کے سربراہ مرزا مسرور احمد کا ایک ویڈیو کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پر مسلسل گردش کر رہا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ پاکستان میں حالات کی مبینہ تبدیلی کے تناظر میں کیا یہ توقع ہے کہ قادیانیوں کا مرکز پاکستان میں واپس چلا جائے گا؟ اس کے جواب میں انہوں نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارا اصل مرکز تو قادیان ہے اور دوسری یہ کہ پاکستان میں ہمارا مرکز واپس جائے یا نہ جائے مگر پاکستان کا دستور ضرور تبدیل ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۹ء

یو ایم ٹی لاہور میں جمہوریت پر سیمینار

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مختلف مسائل کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے جن میں جمہوری نظام میں بیوروکریٹس اور جرنیلوں کی بار بار دخل اندازی، عدلیہ کا کردار، الیکشن کے نظام کی کمزوریاں، عوام میں سیاسی شعور کی کمی، برادری ازم، دھڑے بندی، سیاستدانوں کی مخصوص نفسیات اور دیگر اہم امور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ میں اس مسئلہ کے صرف ایک پہلو کے بارے میں مختصرًا کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد جمہوریت کے جس منفرد ماڈل کو متعارف کرایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۱۹ء

ایبٹ آباد میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سیمینار

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء کو پریس کلب ایبٹ آباد میں مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی حیات و خدمات کے تذکرہ کے لیے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت شہر کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی عبد الواجد نے کی جبکہ میزبان مسجد بیت الحکمت کے خطیب مولانا شکیل اختر تھے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا شیخ نذیر احمد احمدزئی، پروفیسر حافظ وقار احمد، مولانا اورنگزیب اعوان، جناب ابوبکر شیخ، جناب عنایت خان سواتی اور جناب فاروق کشمیری شامل ہیں۔ اس موقع پر مجھے جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء

ریاست مدینہ کی ایک ’’این جی او‘‘

معروف مفسر و مؤرخ حافظ ابن کثیرؒ اور دیگر مفسرین نے سورۃ التوبۃ کی آیات ۱۰۷ تا ۱۱۰ کی تشریح میں مختلف روایات کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار کے قبیلہ بن خزرج کا ایک شخص ابو عامر جو پہلے سے عیسائی ہوگیا تھا اور مسیحیت کا علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کثرت عبادت کی وجہ سے راہب کہلاتا تھا، وہ بھی جناب نبی اکرمؐ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔ علاقہ میں اس کا اپنا ایک حلقہ قائم ہو چکا تھا اور اس کی عقیدت کا ماحول پایا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۱۹ء

اردو زبان اور حکومتی رویہ

ان دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں اردو زبان کے بارے میں حکومتی رویہ پر بحث جاری ہے اور فاضل جج صاحبان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت اردو کو سرکاری زبان بنانے کے حوالہ سے اپنی دستوری ذمہ داریاں پوری کرے۔ اس ضمن میں روزنامہ اوصاف لاہور میں ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ء کو ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کے حوالہ سے شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیں۔ ’’دنیا بھر میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں سے اردو دوسری بڑی زبان بن چکی ہے جبکہ اول نمبر پر آنے والی زبان چینی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

دینی مدارس کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے خیالات

وفاقی وزیر اطلاعات جناب پرویز رشید کی ایک تقریر کے کچھ اقتباسات ان دنوں قومی پریس میں زیر بحث ہیں جو انہوں نے گزشتہ دنوں آرٹس کونسل کراچی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کی ہے اور جس میں انہوں نے دینی مدارس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’’ہماری نفسیات کا حصہ ہے کہ بچوں کو بھی علم سے محروم رکھو اور بڑوں کو بھی علم سے محروم رکھو، اب کتاب تو وجود میں آچکی، اسکول تو وجود میں آچکے، جب پاکستان بنتا ہے، یہ انگریز کا تحفہ ہے، اس کو بند نہیں کیا جا سکتا، اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۱۵ء

یمن کا تنازعہ اور عالمِ اسلام کی ذمہ داری

یمن کا تنازعہ رفتہ رفتہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو اس خاص رُخ کی طرف لے جا رہا ہے جس کی نشاندہی ہم ایک عرصہ سے کرتے آ رہے ہیں کہ اس خطہ میں ایران اور سعودی عرب کی کشمکش نے سنی شیعہ کشیدگی کو خانہ جنگی کا مستقل محاذ بنا دیا ہے اور دن بدن اس کے دائرے میں وسعت دکھائی دے رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے اصلاً تو امریکی استعمار، اسرائیل اور ان کے ہمنوا عالمی حلقے ہیں جن کی دلچسپی شروع سے اس بات میں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عرب اور مسلمان ممالک کے درمیان کوئی ایسی وحدت اور اشتراکِ عمل وجود میں نہ آ سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۵ء

دیوبند کے حالیہ سفر کی مختصر روداد

شیخ الہندؒ ایجوکیشنل چیریٹی ٹرسٹ دیوبند کی دعوت پر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے وفد کے ہمراہ دیوبند دہلی اور بھارت کے بعض دیگر شہروں میں حاضری اور متعدد بزرگوں سے ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا۔ جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے شیخ الہند ؒ کی تحریک ریشمی رومال کو ایک صدی مکمل ہونے پر صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا اور اسی کے تحت ۱۳ و ۱۴ دسمبر ۲۰۱۳ء کو دیوبند میں اور ۱۵ دسمبر کو دہلی میں ’’شیخ الہند امن عالم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۴ء

قربانی کا مقصد: رضائے الٰہی اور انسانی اخوت

اس دفعہ عید الاضحٰی اور یومِ آزادی اکٹھے آرہے ہیں اور وطن عزیز کے مسلمان جہاں جانوروں کی قربانی کریں گے وہاں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کے ماحول کی انسانی قربانیوں کو یاد کریں گے اور عالم اسلام خصوصاً اپنے پڑوس مقبوضہ کشمیر میں انہی قربانیوں کے تسلسل میں قربان ہونے والے مظلوم مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بارگاہ ایزدگی میں ان کے لیے دعاگو ہوں گے۔ گزشتہ روز عرفات کے میدان میں اس سال کے امیر حج محترم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا ہے اس میں کشمیر، فلسطین، اراکان اور دیگر خطوں کے مظلوم مسلمانوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۱۹ء

سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

گزشتہ ہفتہ کے دوران ۶ اگست کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے منعقدہ ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے ریکٹر محترم ڈاکٹر محمد یاسین معصوم زئی میرِ محفل تھے جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور محنت سیمینار کی بھرپور کامیابی میں نمایاں طور پر جھلک رہی تھی۔ قومی اسمبلی میں انسدادِ سود کا بل پیش کرنے والے مولانا عبد الاکبر چترالی ایم این اے مہمان خصوصی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۱۹ء

تقویٰ کا مفہوم اور اس کے تقاضے

مجھے گوجرانوالہ میڈیکل کالج آ کر خوشی ہوتی ہے، ایک تو اس حوالہ سے کہ یہ میرے شہر کا میڈیکل کالج ہے جہاں اساتذہ کے ساتھ ساتھ بچوں اور بچیوں سے اجتماعی ملاقات ہو جاتی ہے اور کالج کی ترقی اور پیشرفت دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے جو یقیناً پرنسپل محترم ڈاکٹر پروفیسر سمیع ممتاز اور ان کے رفقاء کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ اور دوسرا اس حوالہ سے کہ یہاں کا ماحول اور اور سرگرمیاں بھی مسرت کا باعث بنتی ہیں جو فنی، اخلاقی اور دینی تینوں دائروں میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مئی ۲۰۱۹ء

اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور فلسطین پر اس کے قبضہ کا پس منظر

غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری اور زمینی فوجوں کی کاروائیاں مسلسل جاری ہیں، سینکڑوں فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، مکانات جل گئے ہیں اور ہر طرف تباہی مچی ہوئی ہے، مگر عالمِ اسلام پر سکوت مرگ طاری ہے اور خاص طور پر مسلم حکمران بے حسی اور بے بسی کی عبرتناک تصویر بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیل جب سے وجود میں آیا ہے اس کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف جبر و تشدد اور ظلم و استبداد کا یہ عمل مسلسل جاری ہے، لاکھوں فلسطینی دنیا کے مختلف ممالک میں پناہ گزین ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۴ء

پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی متعدد این جی اوز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی کام کرنے والی این جی اوز کو بند کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

اراکانی مسلمانوں کی حالت زار

میانمار (برما) میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اس کے بارے میں دو تازہ رپورٹیں ملاحظہ فرمائیں۔ایک رپورٹ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ جون ۲۰۱۵ء کو اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین آفس کے حوالہ سے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ: ’’میانمار کی مغربی ریاست راکھینی (اراکان) میں تین برسوں سے جاری خانہ جنگی سے تباہ حال پانچ لاکھ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ضرورت ہے، ان افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان لوگوں میں سے ۴ لاکھ ۱۶ ہزار سے زیادہ کی تعداد کو مدد کی شدید ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۵ء

سود سے پاک معاشی نظام اور دستوری تقاضہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جناب یاسین انور نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا مستقبل روشن ہے جبکہ پچھلے چار عشروں میں عالمی سطح پر اسلامی مالیات میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ کی روایتی اسلامی منڈیوں کے علاوہ مختلف مغربی ممالک کے مالی مراکز بھی اس متبادل مالی نظام کی قوت اور افادیت کو تسلیم کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

ہم جنس پرستی اور انجیل مقدس

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانیہ کی انڈیپنڈس پارٹی کے ایک کونسلر ڈیوڈ سلوسٹر نے کہا ہے کہ برطانیہ میں حالیہ طوفانی سیلاب ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے باعث خدائی عذاب کی علامت ہیں، اور وزیر اعظم نے ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قانونی قرار دے کر انجیل مقدس کے فرمان کی خلاف ورزی کی ہے اس لیے حالیہ طوفان اور سیلاب آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف افسوسناک مہم

گزشتہ دنوں سینٹ آف پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور کی باقیات میں سے ہے اور اپنا کام مکمل کر چکی ہے اس لیے اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۴ء

کشمیر، افغانستان اور صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر جناب ڈونلڈ ٹرمپ کے دو بیانات اس وقت ہمارے ہاں زیادہ تر زیر بحث ہیں، ایک کشمیر کے بارے میں ہے اور دوسرا افغانستان کے حوالہ سے، ان دونوں خطوں کے ساتھ ہماری ثقافتی، دینی اور جذباتی وابستگی ہے اس لیے فطری طور پر بحث و مباحثہ میں تنوع اور جذباتیت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے موقع پر کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی جسے پاکستان نے تو قبول کر لیا مگر بھارت کی طرف سے مثبت جواب نہیں آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۱۹ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter