حدود آرڈیننس میں ترامیم ۔ چند حقائق
سب سے پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حدود کیا ہیں؟ ان کے لیے آرڈیننس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ آرڈیننس کی مخالفت کیوں ہو رہی ہے؟ اہم اعتراضات کیا ہیں؟ تحفظ نسواں بل کے ذریعے اس میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں؟ اس حوالہ سے موجودہ قانونی صورتحال کیا ہے؟ اس سلسلہ میں دینی حلقوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور کیا کچھ کیا جا سکتا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ معروضی حالات اور دینی جدوجہد کا مستقبل
گزشتہ منگل (۱۲ فروری) کو کافی عرصہ کے بعد پشاور جانے کا اتفاق ہوا، جامعہ عثمانیہ میں وفاق المدارس کے زیراہتمام دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے چار روزہ ’’تدریب المعلمین‘‘ کورس کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں کچھ موضوعات پر مجھے بھی اظہار خیال کے لیے کہا گیا۔ وفاق المدارس العربیہ کی مجلس شورٰی نے گزشتہ سال جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مولانا مفتی غلام الرحمان کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کا مجھے اور مانسہرہ کے مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب کو بھی رکن بنایا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک نفاذ شریعت اور نظام عدل ریگولیشن
بی بی سی کے نشریہ کے حوالے سے روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ جنوری ۲۰۰۸ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کی نگران حکومت نے اس ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ۱۹۹۴ء میں مولانا صوفی محمد کی سربراہی میں ’’تنظیم نفاذ شریعت محمدی‘‘ کی طرف سے چلائی جانے والی پرجوش عوامی تحریک کے بعد اس وقت کے وزیر اعلیٰ سرحد جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی حکومت نے نافذ کیا تھا۔ اس تحریک میں کم و بیش تیس ہزار کے لگ بھگ عوام مسلح ہو کر سڑکوں پر آگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء کرام اور انتخابی سیاست
آج کل ملک بھر میں عام انتخابات کی گہماگہمی ہے متحدہ مجلس عمل سمیت بہت سی دینی جماعتیں اس معرکہ میں شریک ہیں۔ اس سلسلہ میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو ایک سوال کا عام طور پر سامنا کرنا پڑتا ہے کہ علماء کرام کا انتخابی سیاست اور جمہوری عمل سے کیا تعلق ہے؟ یہ سوال دو طرف سے ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ علماء کرام کا کام لوگوں کو نماز پڑھانا، دین کی تعلیم دینا اور ان کی دینی و اخلاقی راہنمائی کرنا ہے، سیاست ان کے دائرہ کار کی چیز نہیں ہے اس لیے انہیں اس جھمیلے میں پڑے بغیر اپنے کام کو مسجد و مدرسہ تک محدود رکھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اغوا کی وارداتیں اور پولیس کا کردار
بہاولپور کے ایک نوجوان عالم دین مولانا مفتی محمد یوسف کو اغوا ہوئے آج نواں روز ہے اور ان کی رہائی کے لیے آٹھ لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے مگر ہمارا حکومتی نظام ہے کہ ابھی تک اس سلسلہ میں کچھ نہیں کر پا رہا۔ مفتی محمد یوسف دارالعلوم مدینہ (ماڈل ٹاؤن، بہاولپور) کے استاذ ہیں اور دارالعلوم کی طرف سے شائع ہونے والے ماہنامہ جریدہ ’’المصطفٰیؐ‘‘ کے مدیر ہیں۔ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے والد صاحب بہاولپور میں ہی حفظ قرآن کریم کا ایک مدرسہ چلا رہے ہیں اور اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اتنی بڑی رقم ادا کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ میں اسلامی اداروں کی سرگرمیاں اور نوٹنگھم پولیس چیف سے ملاقات
عید الاضحٰی کی تعطیلات میں ہفتہ عشرہ کے لیے برطانیہ جانے کا موقع ملا۔ شعبان اور رمضان المبارک کے دوران برطانیہ اور امریکہ جانے کا معمول ہے لیکن اس سال امریکہ کا ویزا تاخیر سے ملنے کی وجہ سے یہ سفر نہیں کر سکا تھا اور اس کی برطانیہ کی حد تھوڑی سی ’’قضا‘‘ عید الاضحٰی کے موقع پر ہوگئی۔ ۲ جنوری کو گلف ایئر کے ذریعے سے بحرین اور پھر لندن پہنچا اور واپسی پر گلف ایئر کے ذریعے ہی ۱۰ جنوری کو لندن سے روانہ ہو کر قطر ایئرپورٹ پر چند گھنٹے رکنے کے بعد ۱۱ جنوری کی شام اسلام آباد پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کا نفاذ اور مجلس تحفظ حدود اللہ کا قیام
’’مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان‘‘ کے کراچی کنونشن کے بعد اس سلسلہ میں جدوجہد نے جو صورتحال اختیار کر لی ہے وہ بہت سے حوالوں سے غور طلب ہے اور دینی حلقوں سے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کر رہی ہے۔ حکمران حلقوں نے اس حوالے سے واضح موقف اختیار کر لیا ہے کہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے، وہ اس کے خلاف کوئی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے خیال میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے نافذ شدہ ایکٹ پر نظرثانی کی کوئی گنجائش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحفظ حقوق نسواں بل اور اسلامی نظریاتی کونسل
اسلامی نظریاتی کونسل نے گزشتہ روز صدر جنرل پرویز مشرف کی زیر صدارت اجلاس میں ’’تحفظ نسواں بل‘‘ کی حمایت کی ہے اور اسے عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے۔ جبکہ اس سے قبل کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ تحفظ حقوق نسواں بل کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کوئی باقاعدہ رائے قائم نہیں کی البتہ انہوں نے اور کونسل کے بعض ارکان نے ذاتی طور پر صدر جنرل پرویز مشرف کو اس بل کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الرشید ٹرسٹ کی فلاحی و رفاہی خدمات
گزشتہ روز ماڈل ٹاؤن گوجرانوالہ کے ایک ہال میں ’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ الرشید ٹرسٹ رفاہی شعبہ میں اپنی خدمات کا تسلسل نہ صرف جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ اس میں پیشرفت بھی ہو رہی ہے۔ اس پروگرام میں گوجرانوالہ کے کم و بیش دو سو خاندانوں کو رمضان المبارک پیکج کے عنوان سے اشیائے خورد و نوش کی صورت میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا اور بتایا گیا کہ اس طرح کی امدادی سرگرمیاں ملک کے مختلف حصوں میں جاری ہیں اور ہزاروں خاندانوں تک امدادی سامان پہنچایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پوپ کا بیان ۔ وضاحتیں یا لیپاپوتی؟
پاپائے روم نے اس بات پر افسوس اور صدمہ کا اظہار کیا ہے کہ جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں ان کی تقریر کے بعض حصوں کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ ویٹی کن سٹی کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کارڈینل، ٹارسیسیو برٹون کے ایک وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ بینی ڈکٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ مسلمان ان کی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ بعض اخباری رپورٹوں کے مطابق پاپائے روم نے یہ بھی کہا ہے کہ جن الفاظ کے حوالے سے مسلمان اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کا قیام ۔ ایک بھولا ہوا سبق!
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے چند برس قبل اپنی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتہا پسند مسلمان دنیا میں خلافت کو بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اسی بات کو اب امریکی وزیر دفاع رمز فیلڈ نے ایک مضمون میں اس انداز سے دہرایا ہے کہ امریکہ اگر عراق سے نکل گیا تو انتہا پسند مسلمان مراکش سے انڈونیشیا تک خلافت قائم کر لیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
میاں محمد نواز شریف کو سزا کا ایک توجہ طلب پہلو
میاں نواز شریف کو ان کی بیٹی اور داماد سمیت جو سزا سنائی گئی ہے اس پر ایک عرصہ تک تبصروں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب سے اٹھارہ برس قبل جب میاں صاحب موصوف کو طیارہ سازش کیس میں سزا سنائی گئی تھی تو اس وقت کے حالات کی روشنی میں ایک کالم میں اس پر ہم نے تبصرہ کیا تھا جو ۱۱ اپریل ۲۰۰۰ء کو روزنامہ اوصاف اسلام آباد میں شائع ہوا تھا، اسے دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی تعلیم کے مختصر کورسز ۔ ضرورت و اہمیت
گزشتہ روز تھوڑی دیر کے لیے فیصل آباد جانا ہوا، ملت ٹاؤن میں واقع جامعہ دارالارشاد والاصلاح میں ’’فہم دین کورس‘‘ کے آغاز کی تقریب تھی۔ مولانا محمد اشرف ہمدانی کا شمار ایک دور میں ملک کے معروف خطباء میں رہا ہے۔ جس دور میں وہ گوجرانوالہ کی جامع مسجد پل لکڑ والا میں خطیب تھے، میرا طالب علمی کا آخری دور تھا۔ اس کے بعد وہ جناح کالونی فیصل آباد کی مرکزی جامع مسجد میں خاصا عرصہ خطیب رہے اور اب ملت ٹاؤن فیصل آباد میں مذکورہ بالا عنوان سے ادارہ قائم کر کے سرگرم عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسٹیل ملز کیس پر عدالت کا فیصلہ اور حکومت کا ردعمل
پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی نجکاری کے حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ پر مختلف حلقوں کی طرف سے متنوع ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عام طور پر یہ فیصلہ لوگوں کی خوشی کا باعث بنا ہے، اس حوالہ سے بھی کہ ملک کا ایک اہم اثاثہ اخباری رپورٹوں کے مطابق اونے پونے بکنے سے بچ گیا ہے اور اس حوالہ سے بھی کہ عدالت عظمیٰ نے حکومت وقت کے خلاف ایک اہم فیصلہ دے کر اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کی ہے کہ حکومت اعلیٰ عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے میں اکثر کامیابی حاصل کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی تقاضوں کی پاسداری کا وعدہ لیا جائے
بحمد اللہ تعالیٰ پاکستان شریعت کونسل کی اس تجویز کو مسلسل پذیرائی حاصل ہو رہی ہے کہ انتخابی امیدواروں سے دینی و قومی مقاصد کے لیے تحریری وعدہ لینے کا ماحول پیدا کیا جائے تاکہ الیکشن کے اصل مقاصد کی طرف ملک کے منتخب نمائندوں کو توجہ دلائی جا سکے اور جس کام کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا ہے متعلقہ اسمبلیوں میں وہ اس کی انجام دہی کا اہتمام کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اجتہاد ۔ اعتدال کی راہ کیا ہے؟
’’اجتہاد‘‘ موجودہ دور میں زیربحث آنے والے اہم عنوانات میں سے ایک ہے اور یہ دین کی تعبیر کے حوالے سے قدیم و جدید حلقوں کے درمیان کشمکش کی ایک وسیع جولانگاہ ہے۔ اس پر دونوں طرف سے بہت کچھ لکھا گیا ہے، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جاتا رہے گا۔ اور جب تک قدیم و جدید کی بحث جاری رہے گی یہ موضوع بھی تازہ رہے گا۔ اجتہاد کے حوالے سے اس وقت عام طور پر دو نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فکری ارتداد اور تشکیک کی مہم
یہ فکری ارتداد اب منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھ رہا ہے اور اسے بین الاقوامی لابیوں، عالمی میڈیا اور عالمی تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ بہت سی مسلم حکومتوں، این جی اوز اور مغربی فکر و فلسفہ سے متاثر و مرعوب مسلم دانشوروں کی پشت پناہی حاصل ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس فکری یلغار کی خصوصی جولانگاہ ہے۔ ہم ایک عرصہ سے علمائے کرام، دانشوروں اور دینی مدارس و مراکز سے گزارش کر رہے ہیں کہ اس فکری ارتداد کی ماہیت، مقاصد اور طریق کار کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے اور نئی نسل کو اس سے بچانے کے لیے مربوط و منظم محنت کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملکی صورتحال پر مغرب میں مقیم پاکستانیوں کی تشویش
مغرب میں مقیم بہت سے مخلص پاکستانیوں کی طرح یہ دوست بھی اس بات پر سخت پریشان ہیں کہ پاکستان میں امارت بھی بڑھتی جا رہی ہے مگر اس کے ساتھ ہی غربت میں بھی پیہم اضافہ ہو رہا ہے۔ عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں، پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے، علاج کی سہولتیں غریب آدمی کے لیے ناپید ہیں، سڑکوں اور راستوں کا برا حال ہے، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور عام آدمی کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ان حضرات کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے ہم کام کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہمیں مشورہ دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریک ختم نبوت کا مرحلہ وار جائزہ اور ذکری مذہب کا تعارف
راقم الحروف کو تحریک ختم نبوت کے مرحلہ وار جائزہ اور ذکری مذہب کے تعارف کے دو عنوانات پر اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی چنانچہ ایک نشست میں تحریک ختم نبوت کے مختلف مراحل کا تذکرہ کیا اور دوسری نشست میں ’’ذکری مذہب‘‘ کے ساتھ امریکہ کی ’’نیشن آف اسلام‘‘ کو شامل کر کے ان دو مذاہب کا مختصر تعارف کرایا۔ تحریک ختم نبوت کے بارے میں عرض کیا کہ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک دائرہ علمی اور فکری جدوجہد کا ہے اور دوسرا دائرہ رائے عامہ کو قادیانیت کے خلاف بیدار اور منظم کرنے کی تحریکی جدوجہد کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دو خبریں ۔ ایک معاملے کے دو مختلف پہلو
دو خبریں بظاہر الگ الگ ہیں مگر خدا جانے مجھے الگ الگ کیوں نظر نہیں آرہیں۔ ایک خبر یہ ہے کہ پاکستان میں امریکہ کے سفیر ریان سی کروکر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نیٹ ورک ختم ہو چکا ہے اور آئندہ پاکستان میں کوئی ڈاکٹر قدیر پیدا نہیں ہوگا۔ جبکہ دوسری خبر میں بتایا گیا ہے کہ معروف جہادی رہنما مولانا فضل الرحمان خلیل کو گزشتہ روز مسلح افراد نے ان کے ڈرائیور سمیت اغوا کر کے ان پر شدید تشدد کیا اور پھر رات کی تاریکی میں انہیں رسیوں سے جکڑ کر نیم مردہ حالت میں پنڈی گھیپ روڈ پر پھینک دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ علماء اسلام میں اختلافات ۔ پس منظر و پیش منظر
مولانا صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی گزشتہ دنوں اپنے بعض رفقاء سمیت گوجرانوالہ تشریف لائے اور جمعیۃ علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) میں نئے خلفشار کے حوالے سے مجھے کہا کہ میں اس سلسلہ میں اب کوئی متحرک کردار ادا کروں۔ میں نے ان سے عرض کی کہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا مسلسل رکن ہوں اور تاحیات اسی جماعت میں رہنا چاہتا ہوں لیکن اس میں کوئی عملی اور متحرک کردار ادا کرنا بوجوہ میرے بس میں نہیں ہے۔ مجھ سے دریافت کیا گیا کہ میں جمعیۃ کے مختلف دھڑوں میں سے کس میں ہوں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’یوم بشارت‘‘ اور پاکستان میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیاں
مسیحی برادری ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’یوم بشارت‘‘ منا رہی ہے جس کا مقصد نسل انسانی کو مسیحیت قبول کرنے کی دعوت کے مشن کے ساتھ وابستگی کو تازہ کرنا اور مشنری تحریک کو اجاگر کرنا ہے۔ لاہور سے شائع ہونے والے مسیحی جریدہ پندرہ روزہ ’’کاتھولک نقیب‘‘ کے ماہِ رواں کے دوسرے شمارے میں بتایا گیا ہے کہ ہر سال کلیسا اکتوبر کا مہینہ مشنری کاموں کو سراہنے اور مشنری تحریکوں کو اجاگر کرنے کے لیے وقف کرتی ہے۔ اسی روایت کے پیش نظر اس سال ۷۹ واں عالمی یوم بشارت ۲۳ اکتوبر کو دنیا بھر میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عام انتخابات اور دینی حلقے
ماہِ رواں پاکستان میں عام انتخابات کا مہینہ ہے، الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق ۲۵ جولائی کو ملک بھر میں عوام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کا انتخاب کریں گے اور اکثریت حاصل کرنے والی پارٹیاں اگلے پانچ سال کے لیے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیں گی۔ انتخابات کا انعقاد وقفہ وقفہ سے ہوتا رہتا ہے جس کی بنیاد قیام پاکستان کے بعد سے قرارداد مقاصد اور دستور پاکستان کے طے کردہ اس اصول پر ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور حکومت عوام کے منتخب نمائندے کریں گے جو قرآن و سنت کی راہنمائی کے پابند ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات
وہ طلبہ اور طالبات خوش قسمت ہیں جو کسی بھی مدرسہ میں اور کسی بھی درجہ میں دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں مگر وہ طلباء اس لحاظ سے زیادہ خوش قسمت ہیں جو دینی اور عصری تعلیم دونوں اکٹھی حاصل کر رہے ہیں۔ یہ دونوں تعلیمیں ہماری ضرورت ہیں اور قرآن کریم نے ’’فی الدنیا حسنۃ‘‘ اور ’’فی الآخرۃ حسنۃ‘‘ کی دعا سکھا کر یہ سبق دیا ہے کہ دین و دنیا دونوں ضروری ہیں۔ انسان جسم اور روح دونوں کا مجموعہ ہے، ہم عصری علوم میں جو کچھ سیکھتے ہیں وہ ہمارے جسم کی ضروریات کے لیے ناگزیر ہے اور دینی علوم میں جسم کے ساتھ ساتھ روح کی ضروریات کا بھی پوری طرح لحاظ رکھا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’سیرت امہات المؤمنین‘‘
مولانا عبد المعبود صاحب راولپنڈی کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں، باغ سرداراں کے علاقہ میں مسجد پھولوں والی کے خطیب ہیں اور مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف نہ صرف عوام بلکہ علماء کرام کے لیے بھی استفادہ کا باعث بن رہی ہیں۔ تاریخ مکہ مکرمہ اور تاریخ مدینہ منورہ پر ان کی تصانیف نے بطور خاص شہرت حاصل کی ہے اور اب انہوں نے امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کے حالات زندگی اور سوانح پر قلم اٹھایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خطبہ حجۃ الوداع کے چند اہم نکات
مغرب میں انسانی تاریخ کے تاریک دور اور روشن دور کی تقسیم کا واضح تصور موجود ہے اور ان میں حدِ فاصل انقلابِ فرانس کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ انقلاب جو یورپ میں جمہوری دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں رونما ہوا اور اس نے مغربی دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ چنانچہ مغرب میں انقلاب فرانس سے پہلے کے دور کو تاریک دور اور قرون مظلمہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جبکہ انقلاب فرانس کے بعد کا دور روشنی، علم، انسانی حقوق اور تمدن کا دور کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کچھ دیر کیمبرج یونیورسٹی اور واٹن جیل میں
اس سال برطانیہ کے سولہ روزہ سفر کے دوران بعض تقریبات میں جانے کا اتفاق ہوا اور کچھ نئی باتیں سامنے آئیں جن کا تذکرہ قارئین کے سامنے کرنا چاہتا ہوں۔ برطانیہ میں آکسفورڈ اور کیمبرج کو تعلیمی اور ثقافتی مراکز کے طور پر عالمگیر شہرت حاصل ہے اور انہیں مغرب کے فکر و فلسفہ اور تہذیب و تمدن کے علمی سرچشمے سمجھا جاتا ہے۔ مجھے گزشتہ بیس سال کے دوران کم و بیش ہر سال برطانیہ جانے کا موقع ملا ہے اور آکسفورڈ میں کئی بار گیا ہوں مگر کیمبرج جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ناقدین کی خدمت میں!
۶ دسمبر ۲۰۱۳ء کو جامعہ فاروقیہ کراچی کے رئیس مولانا سلیم اللہ خان زیدمجدہم کی طرف سے ملک بھر کے علماء کے نام ایک تحریر جاری کی گئی جس میں کہا گیا کہ ’’مولانا ابوعمار زاہد الراشدی نے ’’آزاد فورم‘‘ کے نام سے ’’ماہنامہ الشریعہ‘‘ میں حساس، نازک اور اہم موضوعات پر ایسی تحریریں شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو نہ صرف مذہب اہل سنت، مسلک احناف اور مشرب دیوبند سے مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ وہ سراسر اسلام کے اجماعی موقف سے بھی متصادم ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وطنِ عزیز کے خلاف قادیانی گروہ کی ریشہ دوانیاں
قادیانی گروہ کو برطانوی استعمار نے جنوبی ایشیا پر اپنے تسلط کے دوران امت مسلمہ میں فکری انتشار پیدا کرنے اور مسلم معاشرے میں استعمار کے ایجنٹ کا کردار ادا کرنے کے لیے جنم دیا اور سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا۔ چنانچہ قادیانی مذہب کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی کے اپنے اعتراف کے مطابق برطانوی استعمار کے اس ’’خودکاشتہ پودے‘‘ نے استعمار کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ برطانوی استعمار سے جنوبی مکمل تحریر
وکلاء تحریک کی قیادت کے ساتھ ایک اتفاقیہ سفر
ان دنوں ملک بھر کے دینی مدارس میں سالانہ اجتماعات اور خاص طور پر ختم بخاری شریف کی تقریبات کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ ۲۵ جولائی کو مجھے اسی حوالہ سے خانپور ضلع رحیم یار خان کے معروف دینی مدرسہ جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا تھا، جمعہ کی نماز گوجرانوالہ میں پڑھا کر عشاء کے بعد کی نشست کے لیے خانپور پہنچنا تھا لیکن اس موقع پر رحیم یار خان یا بہاولپور کے لیے کوئی فلائیٹ نہیں تھی اس لیے میں نے لاہور سے ملتان تک کا سفر بذریعہ طیارہ اور اس سے آگے کا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا پروگرام بنایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 83
- 84
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »