’’احسان شناسی‘‘ اور حسین حقانی کا شکوہ!

جناب حسین حقانی واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر محترم ہیں اور ملک کے معروف دانشوروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ پاکستانی لوگ امریکہ سے شکایتیں تو بہت کرتے ہیں اور تنقید و اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن امریکہ کے احسانات انہیں یاد نہیں رہتے اور امریکہ نے پاکستان اور اس کے عوام پر جو مہربانیاں کی ہیں ان کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ حقانی صاحب کا یہ شکوہ گزشتہ روز ایک اخبار میں نظر سے گزرا جو خدا جانے انہوں نے کس پس منظر میں کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۲۰۰۸ء

علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

جون بدھ کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ جنڈ ضلع اٹک کے زیراہتمام جامعہ سراج العلوم میں علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے نائب امیر اول مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور عزیز ساتھی عبد القادر عثمان رفیق سفر تھے۔ اس اجتماع میں موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع لا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۱۸ء

کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر

پانچ فروری کو پاکستان میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال قومی سطح پر منایا جاتا ہے، قوم کے مختلف طبقات عام جلسوں، ریلیوں، مذاکرات اور مضامین و بیانات وغیرہ کی صورت میں کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کے فورم پر ان کے ساتھ کیا گیا یہ وعدہ پورے کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۰۵ء

قرآن و سنت کی بالادستی اور پندرہویں آئینی ترمیم کا بل

دستور پاکستان میں پندرہویں ترمیم کا بل جسے شریعت بل کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینٹ میں جا چکا ہے اور حکومتی حلقے اس بات کا اعتماد کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ بل سینٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے دستور کا حصہ بن جائے گا۔ جبکہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت کو سینٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے اور وہ قومی اسمبلی میں بعض ایسی جماعتوں کا ووٹ حاصل نہیں کر سکی جن سے حکومت حمایت کی توقع کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء

ڈاکٹر محمود احمد غازی کی فکر انگیز باتیں

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی ۲ جنوری کو ہماری دعوت پر ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور بہت مصروف دن گزارا۔ وہ یکم جنوری کو ہی رات وزیرآباد آگئے تھے جہاں ہمارے رفیق کار پروفیسر حافظ منیر احمد ان کے میزبان تھے۔ ۲ جنوری کو صبح ناشتے پر انہوں نے وزیرآباد کے معززین کی ایک بڑی تعداد کو مدعو کر رکھا تھا جن سے ڈاکٹر صاحب نے مختلف مسائل پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۰۵ء

دینی خدمات کا معاوضہ

گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۸ء

قرآن کریم اور سماجی تبدیلیاں

اس سال ہماری گفتگو کا موضوع ’’قرآن کریم اور انسانی سماج‘‘ ہے جس کے ایک حصہ پر ۳ رمضان المبارک کی نشست میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں کہ اس وقت کے انسانی سماج کے لیڈروں نے بجا طور پر یہ بات سمجھ لی تھی کہ قرآن کریم سماج کے پورے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہا ہے اس لیے انہوں نے ہر ممکن مزاحمت کی اور اس مزاحمت کی مختلف صورتوں اور مراحل کا ہم نے تذکرہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۸ء

پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ۔ خطرات و خدشات

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ۱۸ دسمبر ہفتہ کو اسلام آباد میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کر لی ہے جس کا مقصد پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے بارے میں حکومتی کارروائی کا جائزہ لینا ہے اور دینی حلقوں کے اس مطالبہ کی حمایت کرنا ہے کہ حسب سابق پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے۔ مولانا موصوف نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو اس سلسلہ میں جو دعوت نامہ جاری کیا ہے اس کا متن یہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۰۴ء

انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

آج جبکہ میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں دس دسمبر ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس چارٹر پر کم و بیش تمام ممالک نے دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے، اس کے تحت بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی پر بہت سے ملکوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے، سالانہ رپورٹیں جاری ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا پس منظر

پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کی موجودگی یا اسے ختم کرنے کے مسئلہ کا تعلق موجودہ اور معروضی حالات میں دو امور سے ہے۔ اور یہ صرف اتنا مسئلہ نہیں ہے کہ ایک سرکاری دستاویز میں مذہب کا خانہ موجود تھا جسے اب مبینہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے بلکہ اس کا ایک طویل پس منظر ہے جسے ذہن میں رکھے بغیر اس کی اہمیت اور نزاکت کو سمجھنا بہت مشکل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ نومبر ۲۰۰۴ء

کیا موجودہ عالمی کشمکش تہذیبی نہیں؟

اس وقت مغرب اور عالم اسلام کے درمیان جاری کشمکش کے بارے میں بعض دانشور مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کشمکش اسلام اور مغرب کے درمیان نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثقافت و تہذیب کی جنگ ہے بلکہ یہ امن کی خواہشمند دنیا اور تشدد و دہشتگردی کے خوگر افراد و طبقات کے درمیان معرکہ آرائی ہے جس میں امن پسند اقوام دہشت گردوں کو کچل کر عالمی امن کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس معرکہ آرائی میں مغرب کے اتحادی مسلم حکمرانوں کا موقف بھی یہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۴ء

چنیوٹ مسجد تنازع ۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا قابل تحسین اقدام

۷ ستمبر کو ملک کا ’’یوم فضائیہ‘‘ تھا کہ اس روز پاکستان ایئرفورس کے شاہینوں نے ۱۹۶۵ء کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کا غرور توڑا تھا اور خود سے کئی گنا بڑی ایئرفورس کے مقابلہ میں فضا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ جبکہ یہی دن ’’یوم ختم نبوت‘‘ بھی ہے کہ اس دن ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ایک متفقہ دستوری ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم بڑھایا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۰۴ء

عدالت عظمیٰ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خدمت میں!

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے لوکل میڈیا اور کیبل چینلز میں غیر ملکی فلموں اور پروگراموں کی یلغار کا ازخود نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بینچ ان دنوں اس کیس کی سماعت کر رہا ہے۔ گزشتہ روز کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے بینچ نے لوکل میڈیا انڈسٹریز کے حوالہ سے مانیٹرنگ رپورٹ دو دن کے اند رطلب کر لی ہے اور کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کو بھی اس سلسلہ میں نوٹس جاری کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۱۸ء

عالمی تناظر میں دینی مدارس کا کردار

۲۳ مئی کو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دستار بندی کی سالانہ تقریب تھی جس میں پاکستان شریعت کونسل صوبہ خیبر پختونخوا کے امیر مولانا عبد القیوم حقانی مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے تفصیلی خطاب کیا اور جامعہ سے فارغ ہونے والے طلبہ کی دستار بندی کی۔ جامعہ نصرۃ العلوم ۱۹۵۲ء سے دینی خدمات سرانجام دے رہا ہے، اس کا تعارف پورے برصغیر کے علمی و دینی حلقوں میں ہزارہ سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے حوالہ سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۱۴ء

حدیث کا دین میں مقام و مرتبہ

ہم دینی علوم میں سے کوئی علم بھی حاصل کرنا چاہیں تو اس کےلیے ہمارے پاس سب سے بڑا ذریعہ حدیث نبویؐ ہے، حتیٰ کہ قرآن کریم تک رسائی کا ذریعہ بھی حدیث نبویؐ ہے۔ اس کی ایک مثال عرض کرنا چاہوں گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی وحی سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات ہیں جو ’’اقراء‘‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ لیکن یہ بات معلوم کرنے کے لیے کہ یہ پہلی پانچ آیات ہیں جن سے قرآن کریم کے نزول کا آغاز ہوا تھا، ہمارے پاس ذریعہ صرف غار حرا کا واقعہ ہے جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۴ء

غامدی صاحب اور اہلِ فتویٰ

رجب کے دوران ملک بھر میں بیسیوں مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا اور دینی مدارس کے مختلف النوع اجتماعات میں شرکت کے علاوہ متعدد ارباب علم و دانش کے ساتھ بعض علمی و فکری مسائل پر تبادلہ خیالات کا موقع ملا، ان میں سے ایک اہم اور نازک مسئلہ جاوید احمد غامدی صاحب کے بارے میں بعض اہل علم کے فتویٰ کی بات بھی تھی جس کے بارے میں احباب نے میرا موقف معلوم کرنا چاہا۔ متعدد دوستوں کے ساتھ کی گئی متفرق گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۸ء

موجودہ صورتحال میں افغان طالبان کا موقف

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو نے گزشتہ دنوں سینٹ کی خارجہ امور سے متعلقہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلہ میں نئی حکمت عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کا بنیادی نکتہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات پر لانے کے لیے ہر ممکن دباؤ ڈالا جائے گا۔ اور اس سلسلہ میں ان کے بقول افغان طالبان کی صفوں میں ’’درست قیادت‘‘ کی شناخت کی ضرورت ہے جو امن مذاکرات میں شرکت کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۱۸ء

خواتین کی نسل کشی، دورِ جاہلیت کی روش

ایک قومی اخبار میں شائع ہونے والی ’’آن لائن‘‘ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے ایک تنظیم متحرک ہوئی ہے جس کا نام ’’جینڈرسائیڈ اویئرنیس پروجیکٹ‘‘ بتایا گیا ہے اور اس کی بانی چیئرمین بیورلی بل نامی خاتون ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں ڈیلس میں ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ساتھ میٹنگ میں کہا ہے کہ خواتین کو دنیا بھر میں نسل کشی کا سامنا ہے جس میں چین سرفہرست ہے اور اس کے بعد بھارت دوسرے نمبر پر ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اس ضمن میں پیچھے نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۱۴ء

سرحد اسمبلی کا شریعت بل، حکومتی کیمپ اور محترمہ بے نظیر بھٹو

سرحد اسمبلی میں شریعت بل پیش کیے جانے کے ساتھ بلکہ اس سے بھی پہلے اس پر ردعمل کے اظہار کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور اس میں دن بدن شدت آرہی ہے۔ ایک طرف وہ عملی اقدامات ہیں جو سرحد حکومت کو ناکام بنانے اور اسے نت نئے مسائل میں الجھانے کے لیے کیے جا رہے ہیں جن میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کے تبادلوں کا فیصلہ اور ضلعی ناظموں کی طرف سے استعفوں کا اعلان سرفہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جون ۲۰۰۳ء

متحدہ مجلس عمل کی شرائط

ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر) پر حکومت اور متحدہ مجلس عمل سمیت اپوزیشن کے تنازع نے مولانا فضل الرحمان کی طرف سے ان شرائط کے اعلان کے بعد ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے کہ اگر حکومت ملک میں (۱) قرآن و سنت کو سپریم لاء تسلیم کر لے (۲) اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے مطابق قانون سازی کا اہتمام کرے (۳) جمعہ کی چھٹی بحال کر دے (۴) بلاسود بینکاری کا آغاز کرے (۵) اور تعلیمی اداروں کی نجکاری روک دے تو متحدہ مجلس عمل ایل ایف او کے بارے میں اپنے موقف میں لچک پیدا کر سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۳ء

’’فک کل نظام‘‘

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اب سے تین صدیاں قبل ایک بات کہہ دی تھی کہ اب آئندہ عالم اسلام میں اسلامی نظام کے احیا اور خلافت کے قیام کی بنیاد ’’فک کل نظام‘‘ پر ہوگی اور اس کے لیے ان کے افکار و فلسفہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ ’’فک کل نظام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ملت اسلامیہ کے موجودہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی ڈھانچے میں اصلاح و ترمیم کی گنجائش نہیں ہے اور اس ڈھانچے سے مکمل نجات حاصل کر کے نئے نقشے پر ہی ملت اسلامیہ کی نئی اسلامی زندگی کا آغاز ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۲۰۰۳ء

’’مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا‘‘

بغداد ایک بار پھر ’’سقوط‘‘ کے گھاٹ اتر گیا ہے اور امریکہ اور برطانیہ کی اتحادی فوج نے عراق کے عوام کو صدام حسین کی مبینہ طور پر جابرانہ حکومت سے آزادی دلانے کے اعلان کے ساتھ بغداد پر قبضہ کر لیا ہے۔ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوجیں ضرورت سے زیادہ ایک دن بھی عراق میں قیام نہیں کریں گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ’’ضرورت‘‘ کا تعین خود امریکہ اور برطانیہ کے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۰۳ء

چوہدری شجاعت حسین سے وابستہ توقعات

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مسلمان بھائیوں کے خون کے بدلے میں ملنے والے پیسوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ خبر بھی آئی ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے ذمہ ایک ارب ڈالر کا قرضہ معاف کر دیا ہے جس کے بارے میں بعض سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کر کے امریکہ نے وہ وعدہ پورا کیا ہے جو اس نے دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی عالمی مہم میں اس کا ساتھ دینے کے حوالہ سے پاکستانی حکومت کے ساتھ کر رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اپریل ۲۰۰۳ء

پھر آگیا ہوں گردش دوراں کو ٹال کر

ایشیا کے بزرگ ترین سیاستدان اور اسلامی تعاون تنظیم کے سابق سربراہ ڈاکٹر مہاتیر محمد ترانوے سال کی عمر میں ایک بار پھر انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے ملائیشیا کے وزیراعظم بن گئے ہیں اور ملکی پالیسیوں میں اپنی ترجیحات اور ایجنڈے کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مہاتیر محمد کے سابقہ دور حکمرانی سے واقفیت رکھنے والے میرے جیسے بے شمار نظریاتی لوگوں کو ان کی دوبارہ واپسی پر بے حد خوشی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم و ۲ جون ۲۰۱۸ء

ضلع دیامر کے زلزلے اور شمالی علاقہ جات کی سیاسی و مذہبی حیثیت

اوصاف نے گیارہ مارچ کو اے پی پی کے حوالہ سے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں زلزلے کے نئے جھٹکوں اور ان سے درجنوں مکانات کے مسمار ہونے کی جو خبر دی ہے اس سے ماہرین ارضی کے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس خطہ میں زلزلوں کا جو سلسلہ گزشتہ سال نومبر میں شروع ہوا تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا اور زیر زمین آتش فشاں لاوے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے مزید زلزلوں کا خطرہ موجود ہے جو بہت زیادہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء

شکر ہے مسلم حکمرانوں نے بھی سکوت مرگ توڑا

خدا خدا کر کے اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کا بھی اجلاس ہوا ہے اور قطر کے دارالحکومت میں او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں ۵۷ ملکوں کے نمائندوں نے مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے عراق پر امریکی حملے اور طاقت کے زور پر عراق کی حکومت کی تبدیلی کے پروگرام کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ممالک عراق یا کسی بھی اسلامی ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور سلامتی پر حملے میں شرکت سے باز رہیں۔ صدام حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے افکار پر ایک نظر

ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے گزشتہ دنوں کوالالمپور میں غیر وابستہ تحریک کی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے اور اس کے بعد اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے جہاں اپنے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے وہاں دنیا بھر کے باضمیر افراد اور خاص طور پر مظلوم مسلمانوں کی یہ کہہ کر توجہ بھی حاصل کر لی ہے کہ مجھے بھی سپرپاور سے خوف محسوس ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ خطرہ ہے کہ میری گردن دبوچ لی جائے گی لیکن اس کے باوجود ضمیر بھی آخر کوئی چیز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۳ء

کیا جنرل مشرف اس پیغام کو سمجھنے کی زحمت کریں گے؟

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ اور سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد نیٹو کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا تو نیٹو کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل نے ایک مختصر سے جملے میں یہ کہہ کر نیٹو کو باقی رکھنے کا جواز پیش کیا تھا کہ ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘۔ ’’نیٹو‘‘ اس فوجی معاہدہ کا نام ہے جو سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے باہمی مشترکہ دفاع کے لیے طے کر رکھا تھا، جبکہ اس کے جواب میں سوویت یونین نے ’’وارسا پیکٹ‘‘ کے نام سے ہم خیال ملکوں کے ساتھ باہمی فوجی تعاون کا معاہدہ کیا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کے بارے میں پانچ سوالات کے جوابات

پچھلے دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کے سالانہ اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا اور عام طور پر دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار کے حوالے سے عام ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ خانپور، جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، دارالعلوم ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا، جامعہ رشیدیہ ساہیوال، جامعہ عثمانیہ شورکوٹ، جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی، جامعہ مدینۃ العلم فیصل آباد، جامعہ فاروقیہ شیخوپورہ اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۸ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter