مغرب میں انسانی حقوق کی تاریخ اور جواہر لال نہرو کے خطوط

۱۰ دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جاتا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں اس روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا ۳۰ نکاتی اعلامیہ منظور کیا تھا جسے آج کی دنیا میں انسانی حقوق کا عالمی معیار قرار دے کر تمام اقوام و ممالک پر اس کے احترام اور پابندی کے لیے مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ چنانچہ جنرل اسمبلی کی طرف سے اس منشور کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’جنرل اسمبلی اعلان کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا یہ عالمی منشور تمام اقوام کے واسطے حصول مقصد کا مشترک معیار ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ و ۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کی مذہبی سرگرمیاں / لاہور میں ایک چرچ کا انہدام

عید الاضحیٰ اور کرسمس دونوں گزر گئی ہیں، مسلمان اور مسیحی دنیا بھر میں اپنی اپنی عید سے فارغ ہو کر معمول کی مصروفیات میں مگن ہو گئے ہیں البتہ پاکستان کے مسلمانوں کو عید الاضحیٰ پر جانوروں کی قربانی کے بعد ایک بہت بڑی انسانی قربانی کا سامنا بھی کرنا پڑ گیا ہے جو محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے جاں نثاروں کی المناک موت کی صورت میں پوری قوم کو سوگوار کر گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۰۷ء

جمعیۃ علماء اسلام کے اتحاد کا بنیادی تقاضہ

ماہِ رواں کی چار تاریخ کو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اخباری نمائندوں سے گفتگو کے دوران ایک اخبار نویس دوست نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دوبارہ متحد ہونے کا کوئی امکان ہے؟ میں نے اس کے جواب میں عرض کیا کہ جمعیۃ میں تفریق ایم آر ڈی میں شرکت کے سوال پر ہوئی ہے کیونکہ اسلامی نظام اور دینی مقاصد کی بالادستی کی شرط کے بغیر کسی سیاسی اتحاد میں شمولیت ہماری روایات، دینی تشخص اور ولی اللہی مشن کے منافی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

حضرت طلیحہ بن خویلد اسدیؓ، قادیانیت کے لیے ایک سبق

قادیانی جماعت نے مرزا غلام احمد قادیانی کی وفات کے ایک سو سال مکمل ہونے پر ۲۲ مئی کو چناب نگر میں صد سالہ تقریبات کا اہتمام کیا اور دنیا بھر میں قادیانی جماعت اس نوعیت کی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اہلِ اسلام کی مختلف جماعتوں نے بھی اس موقع پر اپنے جذبات کے اظہار کے لیے ’’جوابِ آں غزل‘‘ کے طور پر جلسے کیے ہیں اور تمام بڑے مکاتب فکر نے اس کی ضرورت محسوس کی ہے، چنانچہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث نے ۲۲ مئی کو چنیوٹ میں خاتم النبیینؐ کے نام سے اجتماع کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۰۸ء

نظامِ شریعت کنونشن اور ہماری ذمہ داریاں، کارکن توجہ فرمائیں!

ملک کی موجودہ صورتحال جو منظر پیش کر رہی ہے اور ہواؤں کا رخ مستقبل کے بارے میں جن خدشات و توقعات کی نشاندہی کر رہا ہے اس کے پیش نظر یہ ضروری ہے کہ علماء حق سستی اور تساہل کو خیرباد کہتے ہوئے آنکھیں کھولیں، گرد و پیش کا جائزہ لیں، آنے والے وقت کی ضروریات اور تقاضوں کا احساس کریں، اپنی توانائیوں، وسائل اور صلاحیتوں کو مجتمع کریں، نئی صف بندی میں اپنے مقام کا تعین کریں اور پھر اس کے حصول کے لیے اپنی استعداد اور قوتوں کو منظم طریقہ کے ساتھ استعمال میں لائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اکتوبر ۱۹۸۴ء

جمعیۃ راولپنڈی کا اجلاس ‒ اکابر کی عیادت ‒ دینی مدارس کے منتظمین سے

۸ جولائی کو دارالعلوم عثمانیہ ورکشاپی راولپنڈی میں راولپنڈی ڈویژن کے جماعتی امراء و نظماء اور کارکنوں کا اجلاس منعقد ہوا، جمعیۃ کے صوبائی نائب امیر حضرت مولانا قاری عبد السمیع صاحب سرگودھوی نے اجلاس کی صدارت فرمائی اور اپنے زریں ارشادات سے شرکاء اجلاس کو محظوظ کیا۔ مولانا نے جماعتی احباب پر زور دیا کہ اپنی صفوں کو منظم کرنے اور جمعیۃ علماء اسلام کے حلقۂ اثر کو وسیع بنانے کے لیے پوری محنت اور تندہی کے ساتھ جدوجہد کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جولائی ۱۹۷۵ء

نظامِ شریعت کنونشن کی تیاروں کا آغاز ‒ لائل پور میں شعبہ نشر و اشاعت کا قیام

مرکزی مجلس شوریٰ جمعیۃ علماء اسلام نے ملتان کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ کل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر کو گوجرانوالہ میں ہوگا۔ حضرت مولانا عبید اللہ انور دامت برکاتہم کو مجلس استقبالیہ کا صدر منتخب کر کے باقی عہدہ داروں اور ارکان کا تعین گوجرانوالہ جمعیۃ کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ چنانچہ کنونشن کی تیاریوں کے آغاز او رمجلس استقبالیہ کے باقاعدہ قیام کے سلسلہ میں ۳۰ جون کو مکی مسجد بخاری روڈ گوجرانوالہ میں جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کی مجلس عمومی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۱۹۷۵ء

شعبہ نشریات اور انصار الاسلام ۔ چند اہم فیصلے

۱۵ مئی کو مرکزی دفتر جمعیۃ علماء اسلام لاہور میں مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد شریف صاحب وٹو، سالارِ اعظم انصار الاسلام حاجی کرامت اللہ صاحب، سالارِ اعلیٰ انصار الاسلام پنجاب خواجہ عبد الرؤف صاحب، ناظم نشر و اشاعت راقم الحروف، ناظم جمعیۃ علماء اسلام ملتان شیخ محمد یعقوب اور سالار انصار الاسلام ضلع گوجرانوالہ مولانا گل محمد توحیدی نے ایک غیر رسمی مشاورت میں اہم تنظیمی امور پر غور و خوض کے بعد تنظیمی تعطل کو دور کرنے کے لیے چند تجاویز مرتب کیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۱۹۷۵ء

نظامِ شریعت کنونشن کے سلسلہ میں چند اہم گزارشات

کل پاکستان جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلہ کے مطابق آل پاکستان نظامِ شریعت کنونشن ۱۸ و ۱۹ اکتوبر ۱۹۷۵ء بروز ہفتہ و اتوار گوجرانوالہ میں ان شاء اللہ پروگرام کے مطابق منعقد ہو رہا ہے۔ تمام صوبوں اور اضلاع کی جمعیتوں کو کنونشن کی تفصیلات سے بذریعہ سرکلر آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۱۹۷۵ء

علامہ محمد اقبالؒ اور تجدد پسندی ۔ ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ صاحب کے خیالات

روزنامہ نوائے وقت کی ۱۸ و ۱۹ نومبر کی اشاعت میں ’’جدید اسلامی ریاست میں تعبیرِ شریعت کا اختیار‘‘ کے عنوان سے محترم ڈاکٹر محمد یوسف گورایہ کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے علامہ محمد اقبالؒ کے حوالہ سے اس عنوان پر بحث کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے قانون سازی اور تعبیر شریعت کا دائرہ کار اور دائرہ اختیار کیا ہونا چاہیے۔ یہ مضمون اس لحاظ سے قابلِ قدر ہے کہ اس کے ذریعے اس قومی بحث کو ایک واضح رخ دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء

مرکزی مجلس عمل کے صدر کا انتخاب کیوں نہ ہو سکا؟

۱۱ دسمبر ۱۹۸۳ء کو مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سربراہ کا باقاعدہ انتخاب نہیں ہو سکا تھا اور مولانا محمد شریف جالندھری کو سیکرٹری اور راقم الحروف کو رابطہ سیکرٹری منتخب کر کے باقی کام آئندہ پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ ایک معمول کی کاروائی تھی جسے روزنامہ جنگ کے لاہور کے ڈائری نویس نے ۲۴ دسمبر ۱۹۸۳ء کے جنگ میں شائع ہونے والی لاہور کی ڈائری میں تجسس اور سنسنی خیزی کا رنگ دے کر شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ فروری ۱۹۸۴ء

دورۂ بھارت: مولانا قاضی حمید اللہ خان کے تاثرات

۱۲ اگست ۲۰۰۳ء کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں عصر کی نماز کے بعد پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ایک نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا قاضی حمید اللہ خان ایم این اے نے اپنے حالیہ دورۂ بھارت کے تاثرات بیان کیے۔ نشست کی صدارت جمعیۃ علماء اسلام کے رہنما مولانا سید عبد المالک شاہ نے کی اور اس میں علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۰۳ء

کیوبا سے رہائی پانے والے ایک مجاہد کی داستان

بحمد اللہ تعالیٰ گزشتہ چونتیس برس سے گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد میں خطابت و امامت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ جمعہ کی نماز کے بعد ایک عام سی روایت بن گئی ہے کہ کچھ دوست ملاقات کرتے ہیں اور تھوڑی دیر میرے دفتر میں بیٹھتے ہیں، کسی نے کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا ہے، کوئی کسی معاملہ میں مشورہ کے خواہاں ہوتے ہیں اور کوئی ویسے ہی ملاقات اور گپ شپ کے لیے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسا عام طور پر مساجد میں دینی جلسوں کے بعد بھی ہوتا ہے، خطاب اور دعا کے بعد کچھ حضرات کی خواہش ہوتی ہے کہ مصافحہ کریں ملاقات ہو اور تھوڑی بہت گفتگو بھی ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جولائی ۲۰۰۳ء

نفاذ اسلام کی کوششیں اور قومی خودمختاری کا مسئلہ

گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ ’’حسبہ ایکٹ‘‘ کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے واپس کر دیا ہے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ گورنر کی طرف سے حسبہ ایکٹ پر سات اعتراضات کیے گئے ہیں جن میں آئین سے تجاوز اور عدالتوں کو نظر انداز کرنے کے دو اعتراض بھی شامل ہیں۔ جبکہ صوبائی وزارت قانون نے چھ صفحات پر مشتمل جواب میں ان اعتراضات کو غلط فہمی پر مبنی قرار دیا ہے۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حسبہ ایکٹ ممتاز آئینی اور قانونی ماہرین کی مشاورت سے بنایا گیا ہے اور اس میں جو طریق کار اختیار کیا گیا ہے اس کی آئین میں گنجائش موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جولائی ۲۰۰۳ء

فلسطینی وزیراعظم محمود عباس اور بہائی فرقہ

فلسطین کی آزادی اور فلسطینیوں کے لیے الگ ریاست کے قیام کے لیے کم و بیش پینتیس برس سے مسلسل جدوجہد کرنے والے لیڈر یاسر عرفات کو منظر سے ہٹا کر محمود عباس کو سامنے لایا گیا ہے اور اب امریکہ اور اسرائیل فلسطین کے مستقبل کے حوالہ سے کم و بیش سارے معاملات محمود عباس سے طے کر رہے ہیں۔ قارئین کو یہ بات یاد ہوگی کہ یاسر عرفات کو پس منظر میں لے جانے اور محمود عباس کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیراعظم بنوانے میں سب سے زیادہ دلچسپی امریکہ نے لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۰۳ء

شیعہ سنی فسادات کون کرانا چاہتا ہے؟

جدید ڈپلومیسی کی ایک تکنیک یہ بھی ہے کہ جو غلط کام خود کرنا چاہو اسے اپنے مخالف کی طرف منسوب کر کے اس قدر پراپیگنڈا کرو کہ عوام کی نظروں میں اس کارِ بد کی ذمہ داری سے خود بچ سکو اور مخالفین کو بدنام کرنے کا ایک بڑا بہانہ ہاتھ آئے۔ حکمران گروہ دراصل اسی تکنیک کو اختیار کر کے اپوزیشن رہنماؤں کی مسلسل کردار کشی میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۱۹۷۶ء

جونیجو فضل الرحمان ملاقات ۔ قومی سیاست میں نئی صف بندی کا آغاز

۱۷ مارچ کو پاکستان کے وزیراعظم جناب محمد خاں جونیجو جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان پہنچے تو اس موقع پر انہوں نے ایم آر ڈی کے راہنما مولانا فضل الرحمان سے بھی ان کی رہائش گاہ پر عبدل الخیل میں ملاقات کی جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔ اس ملاقات کا پروگرام پہلے سے طے شدہ تھا جس کا اعلان قومی اخبارات میں آچکا تھا اور متعدد وفاقی وزراء اس ملاقات کا انتظام کرنے کے لیے کافی دنوں سے متحرک تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

نوابزادہ نصر اللہ خان، ایم آر ڈی اور مجلس تحفظ ختم نبوت

تحریک ختم نبوت کے ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کے ادوار میں اس مقدس مشن کے ساتھ نوابزادہ موصوف کی پرجوش وابستگی اور خدمات کے باعث تحریک ختم نبوت کے راہنما اور کارکن ان کا بے حد احترام کرتے ہیں۔ لیکن اس ضمن میں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ تحریک ختم نبوت کے ساتھ نوابزادہ نصر اللہ خان کی ذاتی وابستگی اور شخصی خدمات کے سہارے ایم آر ڈی کو مرکزی مجلس عمل کا پلیٹ فارم اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۱۹۸۴ء

جہاد کی فرضیت اور افرادی قوت کا تناسب

جہاد کے بارے میں سورۃ الانفال کی آیت ۶۵ و ۶۶ میں اللہ تعالیٰ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اہل ایمان کو لڑائی پر ابھاریں اور اس کے ساتھ یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر دس کافروں کے مقابلہ میں ایک مسلمان ہوگا اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ساتھ شامل ہوگا تو دس کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو غلبہ نصیب ہوگا۔ یہ ابتدائی حکم تھا جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تخفیف فرما دی کہ دو کے مقابلہ میں ایک مسلمان کو غلبہ ملے گا اگر اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم اور حکمت شامل ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۲ء

فیصل آباد کا شہباز احمد ۔ امام مہدی ہونے کا ایک اور دعویدار

فیصل آباد میں شہباز احمد نامی ایک نئے مہدی کے ظہور نے امام مہدی کی آمد کے بارے میں بحث و گفتگو کا بازار ایک بار پھر گرم کر دیا ہے اور ملک بھر میں دینی محافل میں اس کا تذکرہ پھر سے ہونے لگا ہے۔ جہاں تک قیامت سے پہلے نسل انسانی کے آخری دور میں کسی مصلح شخصیت کے ظہور کا تعلق ہے یہ انتظار کم و بیش ہر مذہب کے پیروکاروں کو ہے البتہ اس کے عنوانات مختلف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جنوری ۲۰۰۶ء

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اہم فیصلے

حضرت امیر مرکزیہ مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم، قائد جمعیۃ حضرت مولانا مفتی محمود مدظلہ، حضرت مولانا عبید اللہ انور مدظلہ، حضرت مولانا خان محمد مدظلہ آف کندیاں شریف اور حضرت مولانا سید نیاز احمد شاہ گیلانی پر مشتمل وفد بہت جلد مندرجہ ذیل شہروں کا دورہ کر کے کارکنوں کے علاقائی اجتماعات سے خطاب کرے گا۔ کراچی، حیدر آباد، سکھر، رحیم یار خان، ملتان، لاہور، گوجرانوالہ، لائل پور، سرگودھا، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، جھنگ، سیالکوٹ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۱۹۷۵ء

اقوام متحدہ کے منشور پر نظرثانی کی ضرورت

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی نے کچھ عرصہ قبل اسلامی جمہوریہ ایران کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ایرانی حکومت سے متعدد قوانین اور پالیسیوں کی تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد ۵۲ کے مقابلہ میں ۷۱ ووٹوں سے منظور ہوئی ہے۔ قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والوں میں اکثریت مسلم ممالک اور سابق کمیونسٹ ملکوں کی ہے جبکہ ۴۱ ممالک رائے شماری سے غیر حاضر رہے جن میں زیادہ افریقی ممالک ہیں۔ اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی اگلے ماہ اس قرارداد کی حتمی منظوری دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ دسمبر ۲۰۰۱ء

رسول اللہؐ کی محبت اور مسلمانوں کے جذبات

سرورِ کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں کی محبت و احترام کا معاملہ ایسا ہے کہ اس کی اور کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ اور یہ جناب رسول اللہؐ کا اعجاز ہے کہ جس کا ان کے ساتھ ایمان و عقیدت کا تعلق قائم ہوگیا اس کے لیے دنیا کی ہر چیز ہیچ ہوگئی اور باقی سب رشتوں اور تعلقات کی کشش ثانوی حیثیت اختیار کر گئی۔ اس میں نیک اور گنہگار کا کوئی فرق نہیں، جو نیکی اور تقویٰ میں سب سے آگے ہے اس کی محبت اور عقیدت کا بھی وہی عالم ہے اور اس محبت اور عقیدت میں فاسق و فاجر بھی کسی سے کم نہیں رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۶ء

استنبول اعلامیہ، متحدہ مجلس عمل اور دفاع پاکستان کونسل

گزشتہ ہفتہ کی تین اہم خبروں کے حوالہ سے آج کچھ گزارشات پیش کرنا چاہ رہا ہوں۔ پہلی خبر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے استنبول میں ہونے والے سربراہی اجلاس کی ہے جس میں امریکہ کا سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا گیا ہے کہ ’’القدس‘‘ فلسطین کا دارالحکومت ہے اور امریکی صدر کا یہ اعلان غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۱۷ء

سنی شیعہ کشیدگی کے اسباب پر ایک نظر

سنی شیعہ کشیدگی اور باہمی قتل و قتال کی افسوسناک صورتحال کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے کے لیے تنظیم اسلامی پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی سربراہی میں علماء کمیٹی نے کام شروع کر دیا ہے اور اس کے پہلے باضابطہ اجلاس کے بعد ابتدائی سفارشات کی جو شکل سامنے آئی ہے اس ے اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف کمیٹی اپنے کام میں سنجیدہ ہے بلکہ کمیٹی قائم کرنے والے حضرات بھی اس سلسلہ میں کوئی عملی پیش رفت چاہتے ہیں۔ یہ کمیٹی وزیراعظم پاکستان نے قائم کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ و ۱۶ اپریل ۱۹۹۹ء

عوامی سفر اور مجاز اتھارٹی

روزنامہ اوصاف کے صفحۂ اول پر ایک بس کی تصویر دیکھ کر گزشتہ ہفتے کے ایک سفر کی یاد پھر سے ذہن میں تازہ ہوگئی ہے۔ تصویر کا منظر یہ ہے کہ بس میں بڑے مزے سے بکرے سیٹوں پر براجمان ہیں اور کھڑکیوں سے باہر سر نکالے ماحول کا نظارہ کر رہے ہیں۔ جبکہ تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ زیرنظر تصویر تیسری دنیا کے انسانوں کے بے وقعت ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے، مسافر بسوں میں جانوروں کی طرح سفر کرتے ہیں جبکہ قربانی کے قیمتی جانوروں کو سیٹوں پر بٹھا کر بڑے آرام اور احتیاط سے لایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۱۹۹۹ء

سپاہ صحابہ کا موقف اور انصاف کے معروف تقاضے

ماہِ رواں کے آغاز میں سپاہ صحابہؓ کے کارکنوں نے اسلام آباد میں جو مظاہرہ کیا اس کے حوالہ سے خبر آئی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب وفاقی وزیرداخلہ کی موجودگی میں سپاہ صحابہؓ کے رہنماؤں سے مذاکرات کریں گے اور اس کے لیے تاریخ کا اعلان بھی ہوگیا تھا۔ وہ تاریخ گزرے ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے مگر ابھی تک مذاکرات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے جبکہ اس کے بعد سپاہ صحابہؓ پاکستان کے سربراہ مولانا علی شیر حیدری کو تین سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے اور سپاہ صحابہؓ کی قیادت نئے سرے سے مظاہروں کے پروگرام بنا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۱۹۹۸ء

چکوال پولیس، مدنی مسجد اور جنرل (ر) عبد المجید ملک

گزشتہ دنوں دارالعلوم حنفیہ چکوال میں سلسلہ نقشبندیہ حبیبیہ کے سالانہ روحانی اجتماع میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ شرکت کا موقع ملا تو اس موقع پر تھوڑی دیر کے لیے ہم مدنی مسجد میں بھی گئے جو ان دنوں چکوال پولیس کے ایک آپریشن کی وجہ سے خاصی شہرت اختیار کر گئی ہے۔ اسلام آباد کے علماء مولانا عبد الخالق، مولانا قاری میاں محمد نقشبندی اور مولانا محمد رمضان علوی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے مدنی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کی، چکوال پولیس کی ’’فتوحات‘‘ کا معائنہ کیا اور وہاں موجود احباب سے حالات معلوم کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۱۹۹۸ء

پرائیویٹ شریعت بل کو ترامیم کے بعد نئی شکل دےدی گئی

سینٹ میں زیر بحث پرائیویٹ شریعت بل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور مختلف مکاتب فکر کے اعتراضات کی روشنی میں ضروری ترامیم کے بعد اسے نئی شکل دے دی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کی ایک مشترکہ کمیٹی نے شریعت بل کے متن پر نظر ثانی کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء

لندن کی بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس ۔ تحریک ختم نبوت کے تقاضوں کی روشنی میں

تحریک ختم نبوت کی تازہ صورتحال یہ ہے کہ آئینی طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے اور اسلام کے نام پر قادیانیوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کے بعد مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اب ان آئینی اور قانونی فیصلوں پر عملدرآمد کرانے اور باقی مطالبات کی منظوری کے لیے جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس وقت تحریک ختم نبوت کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۱۹۸۶ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter