پرائیویٹ شریعت بل کی بجائے سرکاری مسودہ!

شریعت بل کے سرکاری مسودہ میں قرار دیا گیا ہے کہ عدالتیں حسب سابق مروجہ قوانین کے مطابق ہی فیصلے کرتی رہیں گی البتہ اگر کسی قانون کے خلافِ شریعت ہونے کی شکایت ہوگی تو معاملہ وفاقی شرعی عدالت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جبکہ غیر سرکاری مسودے میں یہ بات اس طرح ہے کہ عدالتوں کو شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں موجودہ قوانین کی بجائے شرعی قوانین کی بنیاد پر مقدمات کی سماعت کریں گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اکتوبر ۱۹۸۶ء

علامہ محمد اقبالؒ کا اسلام

جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے مساوات پارٹی کے سربراہ جناب محمد حنیف رامے کے اس بیان کو گمراہ کن قرار دیا ہے کہ ہمیں ملّا کا اسلام نہیں بلکہ اقبالؒ کا اسلام چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر رامے نے اس بیان کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ علامہ اقبالؒ چودہ سو سال سے چلے آنے والے مسلمہ اسلام کی بجائے کسی جدید اسلام کے داعی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مارچ ۱۹۸۶ء

جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کا فیصلہ

مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے کہا ہے کہ قادیانیوں کو مسلمان قرار دینے کے بارے میں جنوبی افریقہ کی غیر مسلم عدالت کے حالیہ فیصلہ کی کوئی دینی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے کیونکہ کسی شخص یا گروہ کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا خالصتاً مسلم علماء کا کام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۱۹۸۵ء

دیوبندی بریلوی اتحاد کے بارے میں مولانا عبد الستار خان نیازی کے فارمولا کا خیرمقدم

گکھڑ منڈی (نامہ نگار) کالعدم جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے مولانا عبد الستار خان نیازی کی طرف سے بریلوی اور دیوبندی مکتبہ فکر کے مابین مفاہمت اور اتحاد کی تجاویز کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ان تجاویز پر عمل ہو جائے تو یہ دین اور ملک کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۱۹۸۵ء

’’شریعت بل‘‘ پر اعتراضات ایک نظر میں

سینٹ آف پاکستان میں مولانا قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق کا پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل اس وقت قومی حلقوں میں زیربحث ہے اور اخبارات و جرائد میں اس کی حمایت اور مخالفت میں مسلسل مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ زیربحث مضمون میں ان اہم اعتراضات پر ایک نظر ڈالنا مقصود ہے جو اس وقت تک شریعت بل سے اختلاف کے ضمن میں سامنے آئے ہیں۔ ان اعتراضات کو بنیادی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حصہ ان اعتراضات پر مشتمل ہے جو سیاسی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے پس منظر میں سیاسی اختلافات کارفرما ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۱۹۸۶ء

دستور کی اسلامی دفعات اور ’’سیاسی اسلام‘‘

ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ گکھڑ میں حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی مسجد میں دینی جلسہ تھا، اس دور کے ایک معروف خطیب بیان فرما رہے تھے، موضوعِ گفتگو دارالعلوم دیوبند کی خدمات و امتیازات تھا۔ جوشِ خطابت میں انہوں نے یہ فرما دیا کہ دارالعلوم دیوبند نے شاہ اسماعیل شہیدؒ جیسے سپوت پیدا کیے۔ جلسہ کے بعد دسترخوان پر ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ حضرت! دارالعلوم دیوبند کا آغاز 1866ء میں ہوا تھا جبکہ شاہ اسماعیل شہیدؒ اس سے تقریباً پینتیس سال قبل بالاکوٹ میں شہید ہوگئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۱۷ء

گوجرانوالہ بچاؤ تحریک: چند گزارشات

چند ماہ قبل کچھ دوست گوجرانوالہ کے شہریوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے جناب ایس اے حمید کی رہائش گاہ پر جمع ہوئے تو اس بات پر مشورہ ہوا کہ شہریوں کی مشکلات اور مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا فورم تشکیل دیاجائے جو سیاسی گروہ بندی، برادری ازم اور انتخابی جھمیلوں سے الگ تھلک رہتے ہوئے خالصتاً شہری بنیادوں پر لوگوں کی مشکلات و مسائل کے حل کے لیے کوشش کر سکے۔ اس کا ذکر اس کالم میں اس سے قبل بھی کرچکاہوں۔ اس موقع پر یہ طے ہو گیا کہ یہ فورم سیاسی گروہ بندیوں، فرقہ وارانہ ترجیحات، انتخابی کشمکش اور برادری ازم سے ہٹ کر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۲۰۰۵ء

ایک پر لطف نشست کا احوال

ان دنوں ہمارے استاذ محترم حضرت قاری محمد انور صاحب مدینہ منورہ سے پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں، وہ گزشتہ اٹھائیس برس سے مدینہ منورہ میں مقیم ہیں اور تحفیظ القرآن الکریم کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔میں نے قرآن کریم ان سے حفظ کیا تھا جب وہ گکھڑ میں مدرسہ تحفیظ القرآن کے صدر مدرس تھے، یہ ۱۹۶۰ء کی بات ہے۔ گکھڑ کے اس مدرسہ میں، جو محترم الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم کے تعاون سے اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرازخان صفدر دامت برکاتہم کی زیر نگرانی قائم ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مئی ۲۰۰۷ء

’’پانچویں فقہی کانفرنس‘‘کے حوالے سے چند گزارشات

۱۱ و ۱۲ دسمبر ۲۰۰۴ء کو پشاور میں منعقد ہونے والی ’’پانچویں فقہی کانفرنس‘‘ کی رپورٹ اس وقت میرے سامنے ہے۔ یہ کانفرنس المرکز الاسلامی بنوں کے زیر اہتمام اوقاف ہال پشاور میں منعقد ہوئی جس میں ’’جدید سائنسی انکشافات اور متعلقہ فقہی مسائل‘‘ کے موضوع پر ممتاز ارباب علم ودانش نے مقالات پڑھے اور ان کے علاوہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمان اور صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ جناب محمد اکرم درانی کے فکر انگیز خطابات ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جنوری ۲۰۰۵ء

مرکزی جامع مسجد نارتھ لندن کا معاملہ

گزشتہ روز چند گھنٹوں کے لیے پلندری جانے کا اتفاق ہوا جو آزاد کشمیر کا اہم شہر ہے اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان دامت برکاتہم کا مسکن ہے۔ دارالعلو م تعلیم القرآن پلندری حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہے، اس وقت آزاد کشمیر کے مرکزی دینی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور مولانا سعید یوسف خان کی زیر نگرانی کام کر رہا ہے۔ انہوں نے دارالعلوم کے سالانہ جلسہ میں حاضری کے لیے کہا تو میں نے وعدہ کر لیا مگر اچانک سفر امریکہ کا پروگرام بن گیا جس کی وجہ سے پلندری حاضری کا مسئلہ ڈانواں ڈول ہونے لگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۰۴ء

اسلام آباد و راولپنڈی: کشمیر کا مسئلہ / پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ / دعا کی قبولیت

اسلام آباد اور رالپنڈی میں بہت سے احباب سے ملاقات اور گفتگو کو جی چاہا رہا تھا اس لیے مدرسہ میں اسباق کے آغاز سے قبل ہی دو روز کے لیے حاضری کا پروگرام بنا لیا۔ اس سے قبل جامعہ اسلامیہ کشمیر روڈ راولپنڈی صدر کے سالانہ جلسہ کے موقع پر ۸ ستمبر کو حاضری ہوئی تھی جو اس لحاظ سے یادگار رہے گی کہ مفتی محمد جمیل خان شہید کے ساتھ میری آخری ملاقات اسی پروگرام میں ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۰۴ء

’’شریعت بل‘‘ جائز اجتہاد کی ضمانت دیتا ہے

سوال: سینٹ میں مولانا سمیع الحق اور قاضی عبد اللطیف کے پیش کردہ پرائیویٹ شریعت بل کے بارے میں اس وقت قومی حلقوں میں جو بحث جاری ہے اس کی روشنی میں شریعت بل کی افادیت اور ضرورت پر کیا آپ کچھ روشنی ڈالیں گے؟ جواب: جہاں تک ضرورت کا تعلق ہے وہ تو واضح ہے کہ تحریکِ آزادی اور تحریکِ پاکستان میں دی جانے والی مسلسل قربانیوں کا مقصد محض چہروں اور ناموں کی تبدیلی نہیں تھا۔ بلکہ تحریکِ آزادی، تحریکِ پاکستان اور تحریک نظامِ مصطفٰیؐ کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملک کا نظام تبدیل ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ نومبر ۱۹۸۶ء

کراچی: علم اور ابلاغ / بحث و مباحثہ / تفسیری منصوبہ / بچوں کی تعلیم

مدرسہ نصرۃ العلوم میں سہ ماہی امتحان کے بعد دو تین چھٹیوں کی گنجائش تھی، میں نے یہ تین روز کراچی میں گزارنے کا پروگرام بنا لیا کہ اسباق کے دوران لمبے سفر کی گنجائش نہیں ملتی۔ ۶ مارچ پیر کو رات کراچی پہنچا اور ۱۰ مارچ کو صبح واپسی ہوئی، اس دوران مختلف حضرات سے ملاقاتیں ہوئیں اور متعدد دینی اجتماعات اور فکری نشستوں میں حاضری کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مارچ ۲۰۰۶ء

کراچی کے دینی ادارے اور بریگیڈیئر (ر) قاری فیوض الرحمان کی خدمات

کراچی میں تین روزہ حاضری اور مختلف اداروں کے پروگراموں میں شرکت کا کچھ تذکرہ باقی ہے۔ میں جس روز کراچی پہنچا تو معلوم ہوا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم بھی تشریف لائے ہوئے ہیں اور دفتر ختم نبوت میں قیام پذیر ہیں۔ حضرت مدظلہ سے پرانی نیاز مندی ہے اور وہ بھی ہمیشہ سے مشفق ہیں۔ آپ ایک عرصہ تک جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر رہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ کی حیثیت سے تحریک ختم نبوت کی قیادت حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس سرہ العزیز کے بعد سے ان کے سپرد ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۶ء

اے خاصۂ خاصانِ رسلؐ وقتِ دعا ہے

امریکی صدر ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر کے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس مسئلہ پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کے اب تک چلے آنے والے اجتماعی موقف کو بھی مسترد کر دیا ہے جس پر دنیائے اسلام اس کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ اس مذمت و احتجاج میں عالمی رائے عامہ کے سنجیدہ حلقے برابر کے شریک ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم او آئی سی اور عرب لیگ اس سلسلہ میں مذمت و احتجاج سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کیا اقدامات کرتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ دسمبر ۲۰۱۷ء

اسلام اور انسانی حقوق ۔ سندھ یونیورسٹی میں ایک نشست

سال میں ایک آدھ بار سندھ کے بعض اضلاع میں جانے کا موقع ملتا ہے، اس دفعہ بھی مدرسہ نصرۃ العلوم کے سہ ماہی امتحان کے موقع پر دو تین دن کی گنجائش نکل آئی اور پاکستان شریعت کونسل کے ا میر حضرت مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ کراچی، حیدرآباد اور میرپور خاص کے کچھ دینی اداروں میں حاضری ہو گئی۔ حیدر آباد میں جامعہ مفتاح العلوم کے نائب مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالسلام قریشی کی کتاب ’’احکام فقہیہ قرآن کریم کی روشنی میں‘‘ کی تقریب رونمائی تھی۔ اس مقالہ پر مصنف کو سندھ یو نیورسٹی کی طرف سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری ملی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۰۴ء

جامعہ اشرفیہ کی ساٹھ سالہ تقریبات کا آغاز

جامعہ اشرفیہ لاہور کی ساٹھ سالہ تقریبات کا آغاز ہو گیا ہے اور ملک بھر سے مشائخ عظام، علماء کرام، طلبہ اور دینی کارکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر اس عظیم دینی درسگاہ اور روحانی تربیت گاہ کے ساتھ اپنی نسبت اور تعلق کا اظہار کر رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد نیلا گنبد لاہور کی جامع مسجد اور اس کے قریب ایک عمارت میں شروع ہونے والا یہ مدرسہ آج ایک عظیم درسگاہ کی صورت اختیار کر چکا ہے اور مسلم ٹاؤن میں پنجاب یونیورسٹی کے پہلو بہ پہلو نہر کے دوسرے کنارے پر جامعہ اشرفیہ بھی ایک یونیورسٹی کی آب و تاب کے ساتھ دینی علوم کی تدریس و ترویج میں مصروف کار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

لندن میں علماء کرام سے ملاقاتیں

۱۹ ستمبر کو لندن پہنچا تو معلوم ہوا کہ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی بھی کینیڈا جاتے ہوئے چند روز کے لیے لندن رک گئے ہیں۔ کینیڈا میں ان کے عقیدت مندوں کا ایک حلقہ ہے جس کے اصرار پر وہ شعبان اور رمضان المبارک کی تعطیلات کا بڑا حصہ وہاں گزارتے ہیں، درس قرآن کریم کی محافل ہوتی ہیں اور مسلسل تبلیغی اجتماعات چلتے رہتے ہیں۔ ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا عیسٰی منصوری میرے انتظار میں تھے، سال میں ایک آدھ بار یہاں آتا ہوں تو مختلف ضروری مسائل پر تبادلۂ خیالات ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۰۴ء

کینیڈا میں پانچ دن

گزشتہ سال شکاگو میں ’’عالمی ختم نبوت و حجیت حدیث کانفرنس‘‘ کے موقع پر ٹورانٹو سے آنے والے احباب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے وہاں آنے کی دعوت دی۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی نے وہاں جانا تھا اس لیے میں نے بھی شکاگو میں کینیڈا کے قونصلیٹ جنرل میں ویزا کی درخواست دے دی مگر ویزہ نہ مل سکا اور متعلقہ حکام نے کہا کہ آپ ویزا پاکستان سے ہی لگوا کر آئیں، چنانچہ مولانا چنیوٹی صاحب تشریف لے گئے اور میں نہ جاسکا۔ اس سال اسلام آباد میں کینیڈا کے سفارت خانہ سے ویزا لیا اور بیرونی سفر میں ٹورانٹو حاضری کا پروگرام بھی شامل کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹۸۸ء غالباً

امریکہ میں یورپی آبادکاروں کا’’یوم تشکر‘‘

اٹلانٹا (جارجیا) کا ائیرپورٹ امریکہ کے بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس ائیرپورٹ پر بسا اوقات ایک گھنٹہ میں سو سے زیادہ فلائٹیں اترتی ہیں۔ اتنے بڑے ائیر پورٹ پر آنے والے مسافر کی فلائیٹ کا نمبر اور وقت کا صحیح علم نہ ہو تو مسافر کو لینے کے لیے ائیر پورٹ پر آنے والے حضرات کے لیے مسئلہ بن جاتا ہے جس کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑا۔ میں ۱۹ نومبر کو شام ساڑھے چھ بجے ٹورانٹو سے اٹلانٹا پہنچا اور حسب معمول بیگیج کلیم کے لاؤنج تک آگیا جہاں سے افتخار رانا صاحب مجھے وصول کیا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹۸۹ء غالباً

شکاگو میں مسلمانوں کی دینی سرگرمیاں

شکاگو امریکہ کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا ہے، دنیا کے مختلف حصوں میں یکم مئی کو، جو مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، دراصل شکاگو ہی کے ایک افسوسناک واقعہ کی یادگار ہے کہ یہاں محنت کشوں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ شہادت کے اسلامی تصور سے ناآشنا لوگ انہیں ’’شہدائے شکاگو‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں۔ ان کی یاد ہر سال محنت کشوں کے عالمی دن کی صورت میں یکم مئی کو دنیا بھر میں مزدور برادری میں منائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹۸۹ء غالباً

دینی مدارس کی اسناد اور ملکی یونیورسٹیوں کا طرز عمل

یہ سطور حیدر آباد سندھ میں بیٹھا قلم بند کر رہا ہوں، گزشتہ روز پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی کے ہمراہ حیدرآباد پہنچا تھا، شریعت کونسل کے رہنما مولانا ڈاکٹر عبد السلام قریشی کی تصنیف ’’احکام فقہیہ قرآن کریم کی روشنی میں‘‘ کی تقریب رونمائی کا پروگرام تھا۔ قریشی صاحب حیدرآباد کی مرکزی دینی درسگاہ جامعہ مفتاح العلوم کے مدرس اور نائب مہتمم ہیں، انہوں نے یہ مقالہ ڈاکٹریٹ کے لیے لکھا ہے جس پر سندھ یونیو رسٹی نے انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کردی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اپریل ۲۰۰۴ء

ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینار

ورلڈ اسلامک فورم نے یورپ کے مسلم طلبہ اور طالبات کے لیے ’’اسلامک ہوم اسٹڈی کورس‘‘ کے نام سے خط و کتابت کورس کا آغاز کر دیا ہے اور دعوۃ اکیڈمی بین الاقوامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کا نظریاتی اور عملی رشتہ اسلام کے ساتھ باقی رکھنے کے لیے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اس کورس کے ساتھ وابستہ کریں۔ اس سلسلہ میں ورلڈ اسلامک فورم کا دوسرا سالانہ تعلیمی سیمینار اسلامک کلچرل سنٹر پارک لندن منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۶ء

الشریعہ اکادمی کے تعلیمی پروگرام کا آغاز

بحمد اللہ تعالیٰ الشریعہ اکادمی کنگنی والا گوجرانوالہ میں تعلیمی سلسلہ کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس سلسلہ میں ۲۳ اپریل ۲۰۰۰ء کو اکادمی میں صبح ساڑھے نو بجے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں اکادمی کے سرپرست اعلیٰ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم نے پند و نصائح اور دعا کے ساتھ اکادمی کے تعلیمی پروگرام کا افتتاح فرمایا۔ جبکہ میونسپل کارپوریشن گوجرانوالہ کے ایڈمنسٹریٹر جناب محمد ایوب قاضی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور شہر کے علماء کرام اور دینی احباب کی ایک بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۰۰ء

جبری شادیاں اور برطانیہ کی مسلم کمیونٹی

ان دنوں برطانیہ میں جبری شادیوں پر بحث کا بازار گرم ہے اور مختلف عدالتوں میں مقدمات کے ساتھ ساتھ اخبارات و جرائد اور محافل و مجالس میں بھی گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ مغرب میں لڑکا اور لڑکی اپنا شریک حیات چننے میں آزاد ہیں اور اس میں ماں باپ کا کوئی اہم رول نہیں ہوتا جبکہ ہمارے ہاں رشتے کا چناؤ اور شادی کا اہتمام عام طور پر ماں باپ کرتے ہیں اس لیے ان روایات کا ٹکراؤ مغرب میں رہنے والے مسلمان خاندانوں کے لیے لاینحل مسئلہ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۱۹۹۹ء

امریکی حکام کا ویزا دینے سے گریز

ریاستہائے متحدہ امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے حال ہی میں ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے اگلے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی نامزدگی کے موقع پر ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیاہے کہ وہ بیسیویں صدی کو امریکہ کی عالمی بالادستی کی صدی بنانے کے لیے کام کریں گے۔ امریکہ دنیا کی قیادت کا دعوے دار ہے لیکن اس وقت دنیا کو درپیش مسائل کے حوالے سے اس کا جو کردار سب کے سامنے ہے وہ عالمی قیادت کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اور نہ ہی وہ ان تقاضوں کے ادراک کی ضرورت محسوس کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۸ء

امریکہ کا سفر

مجھے امریکہ آئے آج دسواں روز ہے اور اس وقت نیویارک کے ساتھ جزیرہ لانگ آئی لینڈ میں اپنے پرانے دوست اور ساتھی مولانا عبد الرزاق عزیز کے پاس ایک دو روز کے لیے ٹھہرا ہوا ہوں۔ مولاناعبد الرزاق عزیز کا تعلق ہزارہ سے ہے، ایک عرصہ شیر شاہ کراچی کی مسجد طور کے خطیب رہے ہیں، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رہنماؤ ں میں سے ہیں، میرے (انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہونے کے) بعد جمعیۃ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات بھی رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۰۳ء

چند دن بنگلہ دیش میں

۳۱ جنوری کو صبح دو بجے کے لگ بھگ امارات ایئرلائینز کے ذریعے دبئی سے ڈھاکہ کے لیے روانگی ہوئی، پونے چار گھنٹے کی اس فلائیٹ کو آٹھ بجے کے قریب ڈھاکہ ائیرپورٹ پر اترنا تھا لیکن سخت دھند کی وجہ سے ڈھاکہ کی فضا میں پہنچ جانے کے باوجود ائیرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہ مل سکی۔ جہاز نے فضا میں چکر کاٹنا شروع کیے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد پائلٹ مسافروں کو صورتحال سے آگاہ کرتا رہا حتیٰ کہ آخر میں اعلان کر دیا گیا کہ اگر مزید نصف گھنٹہ تک ہم ڈھاکہ ایئرپورٹ پر نہ اتر سکے تو پھر ہمیں کلکتہ ایئرپورٹ پر اترنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جنوری ۲۰۰۴ء

تحفظ ختم نبوت کا بحران اور قدرت کا سبق!

تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے دھرنے ختم ہوگئے ہیں لیکن اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے جو شاید خاصی دیر تک جاری رہے گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس صورت حال کا نوٹس لیا ہے اور چیف جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی کے ریمارکس دوستوں کی نظر سے گزر چکے ہیں۔ ہائی کورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر عدالت عظمٰی ہی کوئی فیصلہ کرے گی مگر اس سے ہٹ کر کچھ عمومی نوعیت کے سوالات پر چند گزارشات قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۱۷ء

برطانیہ میں چند روز

۲۴ مئی کو برطانیہ پہنچا ہوں اور ۷ جون کو واپسی کی فلائیٹ ہے۔ اس دوران ساؤتھال براڈوے کی ابوبکر مسجد میں جمعۃ المبارک کے بیان کے بعد شام کو نوٹنگھم پہنچ گیا جبکہ جمعرات کو ورلڈ اسلامک فورم کے چیئر مین مولانا محمد عیسیٰ منصوری سے ملاقات ہوئی جو اسی روز انڈیا اور بنگلہ دیش کے سفر سے واپس پہنچے تھے۔ دن کا بیشتر حصہ ابراہیم کمیونٹی کالج میں گزرا اور میرے لیے یہ بات نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی کہ اسی روز مدینہ منورہ سے تشریف لانے والے ایک محترم بزرگ حضرت قاری بشیر احمد صاحب نے کالج میں آنا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۶ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter