امریکہ کے دینی مراکز
میں سات جولائی کو نیویارک پہنچا تھا، دو دن دارالعلوم نیویارک میں قیام رہا، نماز جمعہ کی امامت کی اور ہفتے کے روز گیارہ حفاظ کے آخری سبق کی تقریب میں شرکت کے بعد اتوار کو ورجینیا پہنچ گیا۔ مولانا عبد الحمید اصغر نے دارالہدٰی سے الگ ہونے کے بعد مدینۃ العلم کے نام سے ایک درسگاہ قائم کی ہے جہاں بچیوں اور بچوں کو حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کے ساتھ اسکول کی تعلیم دی جاتی ہے اور طلبہ و طالبات کا رجحان بحمد اللہ تعالیٰ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ وہاں دو روز مغرب کے بعد بیان ہوا اور ۱۳ جولائی کو بالٹی مور پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہجرت و پناہ گزینی، کل اور آج
ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ نیویارک نے جون ۲۰۱۱ء کے آخری شمارے میں پناہ گزینوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی سالانہ رپورٹ کی کچھ تفصیلات شائع کی ہیں جو پناہ گزینوں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں اس وقت ایک کروڑ پچپن لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں اور ان پناہ گزینوں میں سے ۸۰ فیصد کے میزبان غریب ممالک ہیں۔ جبکہ ۲۰۱۰ء کے دوران پونے تین کروڑ افراد اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور ساڑھے آٹھ لاکھ سے زائد افراد نے مختلف ممالک میں سیاسی پناہ طلب کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں درس قرآن کی چند محافل
حسب سابق اس سال بھی رمضان المبارک کا پہلا جمعہ دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا میں پڑھایا اور دو تین روز تک تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصہ کے طور پر کچھ معروضات پیش کیں۔ اس کے علاوہ بالٹی مور، نیوجرسی، برونکس اور لانگ آئی لینڈ کی متعدد مساجد میں قرآن کریم کے حوالہ سے گفتگو ہوئی جس کا خلاصہ درج ذیل ہے: بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن کریم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جس کے اعجاز کے بیسیوں پہلو مفسرین کرام نے بیان فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عطاء الرحمان شہبازؒ / دورۂ امریکہ اور اردو کی عالمگیریت
۱۶ جولائی جمعرات کو مغرب کے بعد الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں تقریب اسناد کی سالانہ تقریب تھی، تنظیم اہل سنت پاکستان کے سربراہ مولانا عبد الستار تونسوی مدظلہ نے بطور مہمان خصوصی شرکت فرمانا تھی اور مختلف شعبوں سے فارغ ہونے والے طلبہ اور فضلاء کو ان کے ہاتھوں سندیں دینے کا پروگرام تھا۔ وہ اس سے پہلی رات جامعہ نصرۃ العلوم کے سالانہ جلسہ دستار بندی سے خطاب فرما چکے تھے اور دورۂ حدیث شریف میں شریک ایک سو کے لگ بھگ فضلاء کے سروں پر انہوں نے دستار فضیلت سجائی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہانگ کانگ میں چار روز
ہانگ کانگ میں چار دن گزار کر آج وطن واپس جا رہا ہوں۔ اس وقت بینکاک کے ایئرپورٹ پر ہوں اور کراچی کے لیے فلائٹ میں دو گھنٹے کے وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ میں سالانہ اجتماعات میں شرکت کے لیے مجھے دعوت دی تھی اور ’’تذکرۂ خیر الورٰی‘‘ کے عنوان سے ان اجتماعات کا سلسلہ مسلسل چار روز تک جاری رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’وار آن ٹیرر‘‘ کی قانونی و اخلاقی پوزیشن کا سوال
میں امریکہ سے حسب معمول رمضان المبارک کے دوسرے جمعۃ المبارک کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا۔ امریکہ میں اپنے چالیس روزہ قیام کے دوران وہاں کے دوستوں کے تاثرات سے اس کالم میں قارئین کو آگاہ کرتا رہا ہوں۔ آخری چار روز میں نیویارک میں رہا، یہ دن وہ تھے جب جناب آصف علی زرداری ملک کے صدر منتخب ہو چکے تھے اور ان کی حلف برداری ہو رہی تھی۔ امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے تاثرات بھی اسی طرح کے ہیں جیسے یہاں ہیں، البتہ ایک فرق ہے کہ وہاں ملکی سیاسیات اور اس میں بیرونی دلچسپیوں اور مداخلت کا منظر زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ناسا مصلیٰ
ڈیٹرائٹ امریکہ کے اہم شہروں میں سے ہے اور مشی گن ریاست میں ہے۔ مجھے اب سے بیس برس قبل اس کے ایئرپورٹ سے کئی چکر لگانے کا موقع ملا تھا مگر شہر میں داخل ہونے اور مسلمان دوستوں سے ملاقات کا اتفاق نہیں ہوا۔ اس زمانے میں وزٹ پر آنے والوں کو بعض فضائی کمپنیوں کی طرف سے فضائی سفر کے سستے کوپن مل جایا کرتے تھے جن پر وہ اس فضائی کمپنی کے جہازوں پر کسی بھی روٹ پر سفر کر سکتے تھے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے یہ کوپن لندن سے غالباً ساڑھے تین سو پاؤنڈ میں ساٹھ کی تعداد میں خریدے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں رؤیت ہلال کا مسئلہ
حسب سابق اس سال بھی امریکہ میں چاند کا مسئلہ زوروں پر ہے اور علمی و دینی مجالس میں ان دنوں زیادہ تر یہی مسئلہ زیربحث رہتا ہے۔ مسلمانوں کا ایک حلقہ ایسا ہے جو فلکیات کے حساب کی بنیاد پر پہلے سے رمضان المبارک اور عید الفطر کے دن کا اعلان کر دیتا ہے چنانچہ اس سال بہت پہلے سے ان کی طرف سے اعلان کر دیا گیا تھا کہ بروز پیر یکم ستمبر کو یکم رمضان المبارک ہوگی۔ ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ چونکہ فلکیات کا حساب اس قدر سائینٹفک ہو چکا ہے کہ اس کے اندازوں میں غلطی کا امکان نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعہ بورڈ آف امریکہ
گزشتہ روز شریعہ بورڈ آف نیویارک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا موقع ملا۔ شریعہ بورڈ نیویارک کے دفتر میں اس سے قبل بھی متعدد بار حاضری اور دوستوں کو اس حوالہ سے کام کرتے ہوئے دیکھنے کا موقع مل چکا ہے۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی جمال الدین اور مولانا مفتی روح الامین جبکہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے مولانا مفتی محمد نعمان اس سلسلہ میں زیادہ سرگرم عمل ہیں اور پاکستان کے علماء کرام میں سے مولانا عبد الرزاق عزیز اور مولانا قاری مطیع الرحمان آف آزاد کشمیر بھی ان کے ساتھ شریک کار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں قادیانی سرگرمیوں کی ایک جھلک
اگست اتوار سے میں امریکہ میں ہوں۔ گزشتہ سال دارالعلوم نیویارک کے مہتمم بھائی برکت اللہ نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ اگلے سال آپ آئیں گے تو کم از کم ایک ہفتہ ہمارے پاس رہیں گے۔ بھائی برکت اللہ ایک عرصہ سے دارالعلوم نیویارک کے نام سے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کے ایک مدرسہ کا نظام چلا رہے ہیں، بہت باذوق اور زندہ دل دوست ہیں اور برصغیر کے کسی بھی ملک کے علماء کرام کو کسی نہ کسی بہانے دارالعلوم میں لانے کے بہانے تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکی مسلمانوں کا دین کی طرف رجوع
تقریباً ۴۸ روز کے قیام کے بعد گزشتہ ہفتے امریکہ سے واپسی ہوئی۔ ۱۸ ستمبر کو نیویارک پہنچا تھا اور ۴ نومبر کو شام واشنگٹن کے ڈلس ایئرپورٹ سے روانہ ہو کر ۶ نومبر کو صبح ۹ بجے کے لگ بھگ لاہور واپس پہنچ گیا۔ یہ سفر امریکی دارالحکومت کے نواح میں واقع دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا کی دعوت پر کیا تھا جہاں سیرت النبیؐ کے مختلف پہلوؤں پر دس لیکچرز کے علاوہ متعدد دینی عنوانات پر سلسلہ وار خطابات کا پروگرام تھا۔ احباب کی فرمائش پر بخاری شریف، مسلم شریف اور مشکوٰۃ کے بعض ابواب کا درس دیا اور نماز تراویح میں چند پارے سنانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغرب اور مسلمانوں کے درمیان کشمکش کا فیصلہ کن مورچہ
الحاج عبد الرحمان باوا تحفظ ختم نبوت کے محاذ کے سرگرم اور مشنری رہنما ہیں۔ پہلے برما میں قادیانیت کے خلاف مصروف عمل رہے، پھر مشرقی پاکستان کو اپنی سرگرمیوں کا میدان بنایا، سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان آئے اور کراچی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کو منظم کرنے میں دن رات ایک کر دیا۔ لندن میں ختم نبوت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ ہوا تو ان کا اور مولانا منظور احمد الحسینی کا انتخاب ہوا۔ دونوں نے مل کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو برطانیہ میں منظم کیا اور اسٹاک ویل کے علاقہ میں ختم نبوت سنٹر کے قیام میں اپنی توانائیاں صرف کر دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آئی تھنک کا فتنہ
حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی ان دنوں امریکہ آئے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ گزشتہ تین روز سے واشنگٹن ڈی سی اور اس کے قریب ورجینیا کے علاقہ میں ہیں۔ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ میں انہوں نے مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا اور مختلف مسائل پر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس اجتماع کے لیے دارالہدٰی کے ڈائریکٹر مولانا عبد الحمید اصغر نے خاصی محنت کی تھی جس کی وجہ سے ورکنگ ڈے (منگل) ہونے کے باوجود بھرپور اجتماع ہوا اور مفتی صاحب کے خطاب اور سوال و جواب کی نشست تقریباً دو گھنٹے جاری رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کیا ہمارے فیصلے ہمیشہ دباؤ کے تحت ہوتے رہیں گے؟
میں اس وقت دارالہدٰی (سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہوں، یہاں مجھے ۱۸ ستمبر کو پہنچنا تھا مگر طوفان کی آمد کے باعث واشنگٹن کے ایئرپورٹس بند کر دیے گئے اور میں لندن سے واشنگٹن براہ راست آنے کی بجائے نیویارک کے راستہ سے ایک دن تاخیر کے ساتھ پہنچا۔ دارالہدٰی نے روزانہ مغرب کے بعد سیرت نبویؐ پر لیکچرز کا اہتمام کر رکھا ہے جو میرے یہاں قیام کے دوران جاری رہیں گے اور اس کے علاوہ چند احباب نے بخاری شریف کی کتاب العلم اور مسلم شریف کی کتاب الفتن کے خصوصی درس کا بھی تقاضا کیا ہے جو آج شام سے ان شاء اللہ العزیز شروع ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سانحہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا احوال
امریکہ حاضری کا ایک مقصد ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کے سانحہ کے بعد یہاں کے مسلمانوں کے حالات اور تاثرات کا جائزہ لینا بھی ہے اس لیے جہاں بھی موقع ملتا ہے دوستوں سے اس کا تذکرہ کر دیتا ہوں اور ان کے تاثرات معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مختلف محافل میں اس کا ذکر ہوا اور کئی دوستوں سے الگ بھی گفتگو ہوئی۔ اس ضمن میں جو باتیں سامنے آئیں تحقیق و تمحیص کی چھلنی سے گزارے بغیر عوامی تاثرات کے طور پر ان میں سے بعض باتوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ میں چند روز
میں اس وقت امریکی ریاست ورجینیا کے علاقہ سپرنگ فیلڈ (واشنگٹن ڈی سی کے قریب) کے ایک ادارہ ’’دارالہدٰی‘‘ میں بیٹھا یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں۔ یہ ادارہ مولانا عبد الحمید اصغر نے قائم کیا ہے جو پیر طریقت حضرت مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندیؒ کے خلفاء میں سے ہیں اور ایک عرصہ سے اس علاقہ میں دینی و تعلیمی خدمات کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔ مجھے تیرہ سال کے بعد امریکہ آنے کا اتفاق ہوا ہے، اس سے قبل ۱۹۸۷ مکمل تحریر
موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریاں
علماء کرام میری برادری ہے اس لیے ان سے گفتگو کرنے اور بہت سی گزارشات پیش کرنے کو جی چاہتا ہے لیکن ڈر بھی لگتا ہے کہ کوئی ایسی بات نہ ہو جائے جو ان کے شایان شان نہ ہو، اور یہ خوف بھی دامن گیر ہوتا ہے کہ کوئی بات کسی نازک مزاج پر گراں گزر گئی تو پھر وہی کچھ نہ ہو جائے جو ایسے مواقع پر ہوجایا کرتا ہے۔ اس لیے پیشگی معذرت خواہی کے ساتھ ڈرتے ڈرتے کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں جو موجودہ عالمی صورتحال میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ہوں گی اور جن میں تین امور کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حافظ قرآن کریم کا ایک اور بڑا اعزاز
اس سال برطانیہ سے واپسی سے ایک روز قبل لیسٹر کی اسلامک دعوہ اکیڈمی کی سالانہ تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور اکیڈمی کی تعلیمی پیش رفت دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ اکیڈمی لیسٹر کے نوجوان عالم دین مولانا محمد سلیم دھورات نے قائم کی ہے اور نو سال قبل ایک گھر میں قائم ہونے والا یہ ادارہ اب ایک خوبصورت بلڈنگ میں منتقل ہو چکا ہے جو پہلے بوڑھوں کی دیکھ بھال کے کام آتی تھی مگر مولانا سلیم دھورات نے اسے خرید کر مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے مرکز میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جنوبی افریقہ کے علماء کرام کی سرگرمیاں
جنوبی افریقہ کے ایک عالم دین مولانا ابراہیم سلیمان بھامجی گزشتہ ہفتے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر سے ملاقات کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور دو تین روز قیام کیا۔ اس دوران جہلم کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ کی وفات پر ان کے جنازے میں شرکت کے لیے حضرت شیخ الحدیث کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا تو مولانا ابراہیم سلیمان بھامجی بھی رفیق سفر تھے۔ ان سے جنوبی افریقہ کے حالات اور وہاں مسلمانوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو ہوئی اور بہت سی معلومات حاصل ہوئیں جن کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ
جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان بنانے میں حصہ لیا اور قیام پاکستان کے بعد اسے ایک اسلامی جمہوریہ بنانے میں بھی سرگرم کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ ایک بلند پایہ عالم دین اور نامور صوفی تھے۔ انہوں نے حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ کی صحبت میں فیض حاصل کیا اور پھر اس فیض کو زندگی بھر بانٹتے رہے۔ ان سے ایک دنیا نے سلوک واحسان کی تربیت حاصل کی اور اس بھٹی سے کندن بننے والوں نے لاکھوں افراد کو رشد وہدایت کا راستہ دکھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا حمید الرحمان عباسیؒ
مولانا حمید الرحمان عباسیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ گڑھی حبیب اللہ سے تھا اور ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ گیٹ لاہور میں تدریسی خدمات سرانجام دیتے ہوئے بسر ہوا۔ اپنے اساتذہ میں ضلع اٹک کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا نور محمدؒ آف ملہوالی کا نام کثرت سے لیا کرتے تھے، انہی سے حضرت مولانا نور محمدؒ کا نام بار بار سن کر میرے دل میں ان کی زیارت کا شوق پیدا ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا حسن جانؒ
حضرت مولانا حسن جان کی شہادت کی المناک خبر میں نے دار الہدیٰ واشنگٹن ڈی سی میں سنی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے حافظ محمد عرفان قریشی صاحب واشنگٹن میں کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اور اس سال دار الہدیٰ میں تراویح میں قرآن کریم سنا رہے ہیں۔ انہوں نے فون کر کے مجھے بتایا کہ ایک انتہائی افسوس ناک خبر سنا رہا ہوں کہ ابھی نصف گھنٹہ قبل پشاور میں حضرت مولانا حسن جان صاحب کو شہید کر دیا گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ
مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ سے میرا پہلا تعارف گکھڑ میں ہوا جہاں ان کا ننھیال ہے۔ ان کے نانا مرحوم حضرت حافظ احمد حسن لدھیانویؒ میرے اساتذہ میں سے ہیں اور مولانا خورشید احمد گنگوہیؒ میرے حفظ قرآن کریم کے استاذ حضرت قاری محمد انور مدظلہ کے شاگردوں میں سے ہیں۔ مولانا گنگوہیؒ کی رہائش لاہور میں تھی اور وہ چوبرجی کے قریب پونچھ ہاؤس کی جامع مسجد میں خطیب کی حیثیت سے خدمات سرانجام د یتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا نصیب علی شاہ الہاشمیؒ
مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ گزشتہ دنوں انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا موصوف بنوں سے قومی اسمبل کے رکن تھے، بنوں میں ایک بڑے تعلیمی و تحقیقی ادارے ’’المرکز الاسلامی‘‘ کے بانی و مہتمم تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے ساتھیوں میں سے تھے۔ ہمارا ان سے تعلق جمعیۃ طلباء اسلام کے دور میں ہوا اور اس کے بعد جمعیۃ علماء اسلام میں یہ رفاقت قائم رہی۔ وہ درہ پیزو کے معروف دینی مدرسہ جامعہ حلیمیہ سے وابستہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اہلیہ محترمہ حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ
ماہنامہ البلاغ کراچی کے مطابق حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ کی اہلیہ محترمہ گزشتہ دنوں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ نماز جنازہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الحئی صاحب نے پڑھائی جس میں ہزاروں کی تعداد میں شہریوں اور علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
موجودہ حالات اور مفتی محمودؒ
حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے دو عشرے ہونے کو ہیں لیکن ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ وہ نہ صرف ہمارے درمیان موجود تھے بلکہ اہل حق کی دینی و سیاسی راہنمائی کے لیے پوری طرح متحرک اور سرگرم عمل بھی تھے۔ ایک دانشور کا قول ہے کہ ہماری کمزوریاں جانے والوں کی خوبیاں ہمارے سامنے زیادہ نمایاں کرتی ہیں اور ان کا شدت کے ساتھ احساس دلاتی ہیں۔ ہمارے ساتھ بھی اپنے جانے والے بزرگوں کے حوالہ سے یہی معاملہ ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خدمتِ خلق اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ
حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ دار العلوم دیوبند کے ممتاز فضلاءمیں سے تھے، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے اور میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی کو اپنی علمی ودینی جولان گاہ بنایا اور بہت جلد ملک کے بڑے مفتیان کرام میں ان کا شمار ہونے لگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امریکہ سے وطن واپسی اور مولانا نذیر احمدؒ کا سانحۂ ارتحال
۴ جولائی کو رات ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ گھر پہنچا تو یہ غمناک خبر ملی کی شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد کا فیصل آباد میں انتقال ہو گیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے، چند ماہ قبل احوال پرسی کے لیے ان کے ہاں حاضری ہوئی تھی، اس وقت طبیعت کچھ بہتر تھی مگر تقدیر الٰہی کے فیصلوں میں ہر شخص کا وقت مقرر ہے اور ہر ایک نے اپنے مقررہ وقت پر دنیا سے رخصت ہو جانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا عبد الغنیؒ
مولانا عبد الغنیؒ دار العلوم دیوبند کے فضلاءمیں سے تھے، آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں بیس بگلہ کے ساتھ ’’جھڑ‘‘ نامی جگہ کے رہنے والے تھے جسے اب غنی آباد کا نام دے دیا گیا ہے۔ وہ تحریک آزادی کشمیر کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے، ۱۹۴۷ء میں انہوں نے ڈوگرہ شاہی سے آزادی کے لیے نہ صرف خود عملاً جہاد میں حصہ لیا بلکہ علاقہ کے سینکڑوں لوگوں کو اس کے لیے تیار کیا، ان کی عسکری ٹریننگ کا اہتمام کیا اور میدان جہاد میں ان کے شانہ بشانہ شریک جنگ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سائیں محمد حیات پسروری مرحوم
ملک کے دینی و قومی حلقوں کے لیے یہ خبر انتہائی رنج و غم کا باعث ہوگی کہ تحریک آزادی کے ممتاز شاعر امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے رفیق اور دینی قومی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے بزرگ راہنما سائیں محمد حیات پسروری گزشتہ روز طویل علالت کے بعد پسرور میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 97
- 98
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »