جامعہ اشرفیہ لاہور کے ساٹھ سال

جامعہ اشرفیہ لاہور اپنی عمر کی ساٹھ بہاریں مکمل کر کے ساتویں عشرہ میں قدم رکھ رہا ہے۔ یہ تعلیمی ادارہ جو صرف ایک درسگاہ اور ادارہ نہیں بلکہ تحریک ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے قیام کی جدوجہد کا وارث بھی ہے۔ جامعہ اشرفیہ کے بانی حضرت مولانا مفتی محمد حسنؒ کا شمار برصغیر کے ان نامور علماء کرام میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب اور شمس العلماء حضرت مولانا شمس الحق افغانی قدس اللہ سرہما کی جدائی کا غم ابھی مندمل نہیں ہو پایا تھا کہ علمی دنیا کو ایک اور محقق عالم، وسیع المطالعہ مصنف اور نکتہ رس خطیب کی مفارقت کا غم بھی اٹھانا پڑ گیا ہے۔ یہ شخصیت حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ بخاریؒ کی ہے جن کے بارے میں گزشتہ روز اخبارات میں غیر نمایاں طور پر ایک کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ ان کا ملتان میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۱۹۸۴ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے چھ برس ہوگئے ہیں مگر ان کی متحرک اور جری و جسور شخصیت ابھی تک نگاہوں کے سامنے پھر رہی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ابھی وہ ساتھ بیٹھے کام کرتے کرتے تھوڑی دیر کے لیے اٹھ کر باہر چلے گئے ہوں۔ دراصل شہیدؒ نے مختصر سی عملی زندگی میں اپنے اکابر احباب اور رفقاء کے دلوں میں جرأت و جسارت اور غیرت و حمیت کے کچھ ایسے نقوش قائم کر دیے ہیں کہ بڑے سے بڑے زخم کو مندمل کر دینے والا مرہم ’’وقت‘‘ بھی ان کی جدائی کے صدمہ کی شدت کو کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۱۹۸۰ء

مولانا سید محمد شمس الدین شہیدؒ

شہید حریت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کو ہم سے جدا ہوئے ۱۳ مارچ ۱۹۷۸ء کو چار برس ہو جائیں گے لیکن ان کی جرأت و استقامت اور عزم و استقلال کے مظاہر ابھی تک نظروں کے سامنے ہیں او ریوں لگتا ہے جیسے وہ ہم سے جدا ہو کر بھی ہمارے درمیان موجود ہیں متحرک ہیں اور سرگرم ہیں کہ جرأت و جسارت کا ہر واقعہ ان کی یاد کو دل میں تازہ کیے دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

مولانا سید محمد شمس الدین کے ساتھ ایک نشست

برادرِ مکرم حضرت مولانا سید محمد شمس الدین صاحب امیر جمعیۃ علماء اسلام بلوچستان و ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی میرے ساتھی اور دوست ہیں۔ دورۂ حدیث میں ہم اکٹھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزم و استقامت کے میدان میں جو سبقت عطا فرمائی ہے وہ موصوف کے میرے جیسے ساتھیوں کے لیے قابل فخر بھی ہے اور قابل رشک بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزم و ہمت میں برکت دیں۔ مولانا گزشتہ دنوں گوجرانوالہ تشریف لائے تو ایک مختصر محفل میں تعارف و خیالات کی رپورٹ قلمبند ہوگئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۱۹۷۳ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ

مولانا مفتی محمودؒ کو ہم سے جدا ہوئے ایک برس ہو چکا ہے۔ مفتی محمودؒ بنیادی طور پر ایک عالم دین تھے لیکن ان کی صلاحیتیں اور خوبیاں اس قدر متنوع تھیں کہ ان کے باعث موافق اور مخالف سب حلقوں میں ان کا دلی احترام پایا جاتا تھا اور ان کا بڑے سے بڑا مخالف بھی ان کے علم، تدبر اور حوصلہ کا معترف تھا۔ مرحوم کا نمایاں وصف ٹھوس اور ہمہ گیر علم تھا جو انہوں نے اپنے وقت کے جید علماء اور اساتذہ کی صحبت میں حاصل کیا اور پھر اسے افتاء و تدریس کی برس ہا برس کی علمی و تجرباتی زندگی میں پختہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۱ء

خان محمد کمتر مرحوم

شاعر تنظیم اہل سنت اور مداح صحابہؓ جناب خان محمد کمتر کی وفات بھی اہل حق کے لیے کچھ کم صدمہ کا باعث نہیں۔ مرحوم نے رفض و تشیع کے عروج اور جارحیت کے دور میں مدح صحابہ کرامؓ کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور پھر اس مشن میں شب و روز سفر کرتے ہوئے اپنی جان دے دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۱۹۸۰ء

مولانا ابوبکر شہیدؒ

حضرت مولانا غلام اللہ خانؒ کی وفات کے دوسرے روز ریڈیو پاکستان کوئٹہ نے یہ روح فرسا خبر نشر کی کہ بلوچستان کے ممتاز عالم دین مولانا ابوبکر آف خضدار انتقال فرما گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۱۹۸۰ء

مولانا محمد صدیق شہیدؒ

ٹیکسلا ضلع راولپنڈی کے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد صدیق کو گزشتہ دنوں جب وہ تعلیم القرآن ہائی سکول میں بچوں کو پڑھانے کے بعد گھر جا رہے تھے، راستہ میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مئی ۱۹۸۱ء

مسئلہ ختم نبوت: حالیہ قانونی بحران اور مکمل انصاف کا مطالبہ

اسلام آباد میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کا دھرنا گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہے اور حکومت دھرنے والوں کے مطالبات کو منظور کیے بغیر دھرنا ختم کرانے کے تمام حربوں میں ابھی تک ناکام ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو دھرنا ہر حالت میں ختم کرانے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی ہے۔ دھرنے کے مختلف مراحل کے مشاہدہ بلکہ ایک لحاظ سے ذاتی شرکت کے حوالہ سے کچھ گزارشات گزشتہ ایک کالم میں کر چکا ہوں - - - مکمل تحریر

۲۲ نومبر ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ

ملک کی مشہور دینی درسگاہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث اور مادر علمی دارالعلوم دیوبند کے سابق مدرس حضرت مولانا الحاج محمد ادریس کاندھلویؒ ۲۸ جولائی ۱۹۷۴ء بروز اتوار صبح ۵ بجے انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مرحوم ایک عظیم مدرس، یگانہ روز خطیب، قابل صد فخر محدث و مفسر اور ایک مایہ ناز مصنف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اگست ۱۹۷۴ء

صدر ضیاء الرحمان شہید

بنگلہ دیش کے صدر جناب ضیاء الرحمان کو گزشتہ دنوں، جب وہ چٹاگانگ کے دورہ پر تھے، فوج کے بعض افسروں کی بغاوت کے دوران قتل کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ بغاوت، جس کی قیادت میجر جنرل منظور احمد کر رہا تھا، بنگلہ دیش فوج کی مداخلت کے بعد ختم ہوگئی ہے۔ جنرل منظور احمد خود قتل ہوگیا ہے جبکہ اس کے رفقاء بنگلہ دیش حکومت کی حراست میں ہیں جن پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جون ۱۹۸۱ء

حافظ جی حضورؒ

بنگلہ دیش کے بزرگ عالم دین حافظ جی حضورؒ گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۹۰ برس سے متجاوز تھی اور وہ آخر دم تک نفاذِ اسلام کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ حافظ جی حضورؒ حکیم الامت حضرت شاہ اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کے خلفاء میں سے تھے اور ایک بڑی دینی درسگاہ کے سربراہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۱۹۸۷ء

حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ

مناظر اسلام حضرت مولانا لال حسین اخترؒ اور خورشید المشائخ حضرت مولانا پیر خورشید احمدؒ کے وصال کے کچھ وقفہ بعد ہی شیر سرحد، مجاہد ملت اور بطل حریت حضرت مولانا سید گل بادشاہ ؒ بھی داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا سید گل بادشاہؒ اس قافلۂ حریت کی باقیات صالحات میں سے تھے جس نے لہو کے چراغ جلا کر اس ملک میں آزادی اور مذہب کے متوالوں کو شعور کی روشنی بخشی اور اپنا سب کچھ لٹا کر قوم کی متاع مذہب و حریت کو لٹنے سے بچایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء

حضرت مولانا عبد الحقؒ

حضرت مولانا عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ کا شمار پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کی ان عظیم شخصیتوں میں ہوتا ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا میں علوم دینیہ کی ترویج واشاعت اور اسلامی اقدار و روایات کے تحفظ وفروغ کا ذریعہ بنیں۔ تعلیمی اور تہذیبی حوالے سے مولانا عبدالحقؒ کی دینی، علمی، تدریسی اور فکری خدمات جنوبی ایشیا اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں دینی جدوجہد کی اساس کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ مئی ۲۰۱۲ء

حضرت مولانا محمد زکریاؒ

یہ خبر پورے عالم اسلام کے لیے انتہائی صدمہ اور گہرے رنج و غم کا باعث بنی ہے کہ ملت اسلامیہ کے بزرگ رہنما، تبلیغ اسلام کی عالمی تحریک تبلیغی جماعت کے سرپرست اعلیٰ، مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور کے سابق شیخ الحدیث اور لاکھوں مسلمانوں کے روحانی پیشوا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ ۲۴ مئی کو مدینہ منورہ میں طویل علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ مئی ۱۹۸۲ء

جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم

سترہ اگست کی شام کو ریڈیو پاکستان کی اس المناک خبر نے پوری قوم کو سکتہ کی کیفیت سے دوچار کر دیا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق بہاولپور کے قریب فضائی حادثہ میں دیگر کئی فوجی افسران کے ہمراہ جاں بحق ہوگئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ صدر جنرل محمد ضیاء الحق متعدد اعلیٰ فوجی افسران کے ساتھ بہاولپور ڈویژن میں فوجی مشقیں دیکھنے کے بعد بہاولپور سے بذریعہ طیارہ اسلام آباد واپس جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۱۹۸۸ء

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ

مفتی نظام الدین شامزئی کا تعلق سوات سے تھا، انہوں نے دینی علوم کی تکمیل جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی میں کر کے وہیں تدریسی زندگی کا آغاز کر دیا تھا۔ مولانا مفتی نظام الدین شامزئی کا نام میں نے پہلی بار اس وقت سنا جب انہوں نے حضرت امام مہدی کے بارے میں کتاب لکھی۔ امام مہدی کے ظہور کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں ہر دور میں گمراہی پھیلانے والے گروہوں کا نشانہ مشق رہی ہیں اور سینکڑوں افراد نے اب تک امام مہدی ہونے کا دعویٰ کر کے ان پیش گوئیوں کو خود پر فٹ کرنے کی کوشش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا رسول خانؒ

جامعہ اشرفیہ کا آغاز قیام پاکستان کے بعد نیلا گنبد لاہور کی مسجد سے ہوا او رمسجد کے قریب ایک عمارت میں دینی علوم و فیوض کا یہ مرکز قائم کیا گیا۔ میں پہلی بار اس تعلیمی و روحانی تربیت گاہ میں حاضر ہوا تو میرا طالب علمی کا دور تھا۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ کے سالانہ جلسے کی ایک نشست میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۰۷ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ روز ایک خودکش حملہ میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ پورا ملک سوگ میں ڈوب گیا ہے، ہر باشعور شہری اشک بار ہے اور اس کا دل ایک عوامی راہنما کے المناک قتل کے غم کے ساتھ ساتھ ملک اور قومی سیاست کے مستقبل کے حوالہ سے انجانے خدشات سے دوچار ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۰۷ء

سردار عبد القیوم خان سے ملاقات

سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میری علیک سلیک اس دور سے ہے جب وہ ممتاز کشمیری لیڈر چودھری غلام عباس خان مرحوم کے رفیق کار کی حیثیت سے کشمیری سیاست میں آگے بڑھ رہے تھے۔ میری جماعتی زندگی (جمعیۃ علماء اسلام) کا ابتدائی دور تھا اور ان کا عنفوان شباب تھا۔ گوجرانوالہ میں آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے سرگرم راہ نما مولانا عبد العزیز راجوروی مرحوم ہمارے ساتھ دینی تحریکات میں متحرک رہتے تھے۔ میں نے ان کے ساتھ اکٹھے جیل بھی گزاری ہے، بڑے زندہ دل اور دلیر سیاسی راہ نما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۰۵ء

مولانا محمد شریف جالندھریؒ

ملتان کے معروف دینی ادارہ خیر المدارس کے مہتمم اور برصغیر کے نامور عالم دین حضرت مولانا خیر محمد جالندھریؒ کے فرزند حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ حج بیت اللہ شریف کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ میں تھے کہ وہاں سے اچانک خبر آئی کہ مولانا موصوف کا مکہ میں انتقال ہوگیا ہے اور انہیں جنت المعلاۃ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

مولانا سید امین الحقؒ

مولانا سید امین الحقؒ اپنے گاؤں طورو ضلع مردان میں طویل علالت کے بعد گزشتہ دنوں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ امام المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز شاگردوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ مولانا مرحوم حضرت اقدس مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلفاء میں سے تھے اور حضرت لاہوریؒ اور ان کے خانوادہ کے ساتھ مرحوم کا والہانہ تعلق آخر دم تک قائم رہا ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ ستمبر ۱۹۸۱ء

اشتیاق احمد مرحوم

اشتیاق احمد مرحوم کے ساتھ زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں، دو تین بار کی ملاقات یاد ہے اور چند مضامین بھی نظر سے گزرے ہیں۔ انہوں نے زیادہ تر بچوں کے لیے لکھا ہے اور جب ان کی تصانیف اور مضامین کی شہرت ہوئی میں بچپن کی حدود سے بہت آگے جا چکا تھا۔ البتہ ان کے فن کی اہمیت و ضرورت سے ضرور آشنا رہا اور اسی وجہ سے ان سے محبت و انس کا تعلق رہا۔ وہ بنیادی طور پر جاسوسی ادب کے دائرے کے ادیب تھے اور جاسوسی ادب سے ایک دور میں میرا بہت زیادہ رشتہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۱۵ء

ارباب سکندر خان خلیل شہید

صوبہ سرحد کے سابق گورنر اور ملک کے معروف سیاسی رہنما ارباب سکندر خان خلیل گزشتہ روز صبح کے وقت جبکہ وہ معمول کے مطابق سیر کر رہے تھے، قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ارباب صاحب مرحوم کا شمار بااصول، معتدل مزاج اور ایثار پیشہ راہنماؤں میں ہوتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مارچ ۱۹۸۲ء

شاہ فیصل بن عبد العزیز آل سعود شہید

۲۵ مارچ ۱۹۷۵ء کو اخبارات میں ڈاکٹر ہنری کسنجر وزیرخارجہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا یہ بیان جلی سرخیوں میں شائع ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں ان کا امن مشن اسرائیل کی ہٹ دھرمی کے باعث ناکام ہوگیا ہے۔ اس کے ساتھ صدر انور سادات کا یہ نعرۂ حق بھی منظرِ عام پر آیا کہ اسرائیل نے ہٹ دھرمی ترک نہ کی تو جہاد شروع کیا جائے گا، اور عرب وزراء خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیے جانے کی خبر بھی اخبارات کی زینت بنی۔ یہ خبریں اس امر کا احساس دلانے کو کافی تھیں کہ مشرق میں ’’کچھ‘‘ ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۱۹۷۵ء

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ ؔ

حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ بھی طویل علالت کے بعد چل بسے اور وہاں کا رختِ سفر باندھا جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ مفتی صاحبؒ کم و بیش دس برس سے فالج، ذیابیطس اور بلڈ پریشر کے مریض تھے اور علالت کے طویل دور سے گزرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ کو جناح میموریل ہسپتال گوجرانوالہ میں انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۱۹۸۳ء

اہل حدیث یوتھ فورس کے جلسہ میں دلخراش سانحہ

گزشتہ شمارہ کے ادارتی صفحات میں ہم نے لاہور کی اہل حدیث کانفرنس میں بم کے دھماکے کی المناک واردات پر تبصرہ کرتے ہوئے اس میں زخمی ہونے والے دو اہل حدیث راہنماؤں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور مولانا حبیب الرحمان یزدانی کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی تھی لیکن مشیت ایزدی سے دونوں راہنما زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مارچ ۱۹۸۷ء

الحاج مولانا عبد الشکور دین پوریؒ

۱۴ اگست ۱۹۸۷ء کو جب پوری قوم یوم آزادی منا رہی تھی، بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال میں ملک کے معروف خطیب و مقرر، جید عالم دین، اسلامی مشن بہاولپور کے سربراہ جمعیۃ علماء اہل سنت کے امیر اور جمعیۃ علماء اسلام کے معروف راہنما الحاج مولانا عبد الشکور دین پوری راہیٔ ملک عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

شاہ خالد مرحوم

گزشتہ دنوں اسلامی کانفرنس کے سربراہ اور سعودی عرب کے فرمانروا جلالۃ الملک شاہ خالد بن عبد العزیز آل سعود انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ شاہ خالد چند سال قبل اپنے مرحوم بھائی شاہ فیصل کی شہادت پر ان کے جانشین بنے تھے اور علالت کے باوجود پوری استقامت کے ساتھ اپنے شہیدؒ بھائی کے نقش قدم پر چلتے رہے اور ان کی پالیسیوں پر گامزن رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۱۹۸۲ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter