قاہرہ میں پانچ دن ۔ مشاہدات، تاثرات اور محسوسات

بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی چوتھی سالانہ کانفرنس گزشتہ روز ختم ہوگئی ہے۔ یہ کانفرنس پانچ روز جاری رہی، اس کے افتتاحی اجلاس سے صدرِ مصر جناب حسنی مبارک نے اور اختتامی اجلاس سے وزیراعظم جناب ڈاکٹر عاطف صدقی نے خطاب کیا۔ اس دوران مختلف وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں نے کانفرنس کے شرکاء کے سامنے مصری حکومت کی پالیسیوں پر روشنی ڈالی اور بیرونِ ملک مقیم مصریوں کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے بارے میں سالانہ کانفرنس کی تجویز

دوبئی سے قاہرہ روانگی سے قبل میں نے اپنے تاثراتی مضمون میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بعض مسائل اور مشکلات کا ذکر کیا تھا اور جب قاہرہ پہنچا تو یہاں بیرونی ممالک میں کام کرنے والے مصریوں کی سالانہ کانفرنس شروع تھی۔ اس کانفرنس کا اہتمام حکومتِ مصر کرتی ہے اور اس میں بیرونِ مصر کام کرنے والے مصریوں کے سرکردہ نمائندوں کے علاوہ حکومت کے ذمہ دار حضرات بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس وقت مصر کا قومی اخبار ’’الاہرام‘‘ میرے سامنے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ ستمبر ۱۹۸۷ء

متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے بعض اہم مسائل

مجھے ۹ اگست سے ۱۷ اگست تک متحدہ عرب امارات کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا اور اس دوران دوبئی، شارجہ، عجمان اور ابو ظہبی میں متعدد دینی اجتماعات میں شرکت کے علاوہ پاکستانی باشندوں کی مختلف تقریبات میں حاضری کا بھی اتفاق ہوا۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات اس دورہ کی میزبان تھی اور جمعیۃ کی طرف سے دیگر اجتماعات کے علاوہ یوم پاکستان کے موقع پر ۱۴ اگست کو ابوظہبی کی قدیمی جامع مسجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موضوع پر جلسۂ عام کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات کے سربراہ مولانا محمد فہیم سے ملاقات

سوات سے تعلق رکھنے والے بزرگ عالم دین مولانا محمد فہیم کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ متحدہ عرب امارات کا دوبارہ متفقہ طور پر امیر منتخب کر لیا گیا ہے۔ مولانا موصوف ۱۹۸۰ء سے، جب سے جمعیۃ اہل السنۃ قائم ہوئی ہے، اس کے امیر چلے آرہے ہیں۔ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ للدعوۃ والارشاد متحدہ عرب امارات کی سطح پر گزشتہ سات برس سے کام کر رہی ہے اور اس میں متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے علماء اور دینی کارکن شریک ہیں۔ تمام ریاستوں میں جمعیۃ کی باقاعدہ شاخیں کام کر رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اگست ۱۹۸۷ء

دارالعلوم مدنیہ ڈسکہ

گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے وسط میں واقع ڈسکہ ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتا ہے جہاں زرعی مشینری کے آلات اور لوہے کی الماریوں کی صنعت نے خاصی ترقی کی ہے، اس کے علاوہ یہ شہر ہسپتالوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ اور اس کی شہرت کا ایک اور بھی باعث ہے اور وہ ہے بین الاقوامی شہرت کے قادیانی لیڈر آنجہانی ظفر اللہ خان ڈسکہ کے رہنے والے تھے اور آج بھی ان کا بیشتر خاندان ڈسکہ میں رہائش پذیر ہے۔ چوہدری ظفر اللہ خان کو قیام پاکستان سے قبل سرکاری حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مئی ۱۹۸۷ء

دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات

گزشتہ شمارہ میں دارالعلوم دیوبند کی صد سالہ تقریبات کے سلسلہ میں ایک مختصر اور سرسری رپورٹ پیش کر چکا ہوں۔ مجھے چونکہ تقریبات کے آخری دن دیوبند پہنچنے کا موقع ملا تھا اس لیے زیادہ تفصیلات قلمبند نہ ہو سکیں۔ غالباً دارالعلوم کا دفتر اہتمام تقریبات کی تفصیلی رپورٹ باضابطہ طور پر جلد جاری کر رہا ہے جس سے قارئین تقریبات کی تفصیلات سے آگاہ ہو سکیں گے۔ آج کی معروضات میں دیوبند، دہلی، سہارنپور اور بھارت کے دیگر شہروں میں حاضری کے سلسلہ میں اپنے ذہنی تاثرات قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۱۹۸۰ء

معزول تیونسی صدر کے اثاثے / طالبان کے لیے امریکی امداد / شام کی صورتحال

گزشتہ دو روز سے مدینہ منورہ میں ہوں، حرم نبوی کی برکات سے فیض یاب ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے استاذ محترم حضرت قاری محمد انور کا مہمان ہوں اور ان کے اکلوتے بیٹے برادرم قاری محمد اشفاق صاحب کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ قاری محمد انور صاحب کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہے۔ ۱۹۵۹ء سے ۱۹۷۷ء تک گکھڑ میں مدرسہ تجوید القرآن کے صدر مدرس رہے ہیں، میں نے انہی دنوں ان سے قرآن کریم حفظ کیا تھا اور بحمد اللہ تعالیٰ اکتوبر ۱۹۶۰ء میں مکمل کر لیا تھا۔ اس کے بعد وہ کینیا کے شہر ممباسہ میں دو سال تک حفظ قرآن کریم کے استاذ رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۲ء

بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معاشرتی مسائل

میں ۸ جولائی کو پاکستان سے روانہ ہوا تھا اور پانچ دن متحدہ عرب امارات میں گزار کر ۱۶ جولائی کو جدہ پہنچا ہوں۔ متحدہ عرب امارات میں دوبئی، شارجہ، عجمان، جبل علی اور الفجیرہ میں دوستوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور بہت سی باتیں مشاہدے میں آئیں۔ پہلی بار ۱۹۸۵ء میں دوبئی آنا ہوا تھا اس کے بعد یہاں کے متعدد سفر ہوئے لیکن اس بار جب دوبئی آیا تو قدرے اطمینان کے ساتھ گھومنے پھرنے کا موقع ملا او ریوں لگا جیسے ۱۹۸۵ء میں کسی قصبے میں آیا تھا اور اب کسی بڑے بین الاقوامی شہر میں چل پھر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جولائی ۲۰۱۲ء

برطانوی ویزا حکام کی بلاجواز بدگمانی

شعبان المعظم اور رمضان المبارک میں عام طور پر دینی مدارس میں تعطیلات ہوتی ہیں اور گزشتہ ربع صدی سے میرا معمول یہ رہا ہے کہ ان چھٹیوں کا زیادہ حصہ برطانیہ یا امریکہ میں گزارتا ہوں۔ مگر اس سال میرے پاس ان دونوں میں سے کسی ملک کا ویزا نہیں ہے اس لیے شارجہ میں گوجرانوالہ کے ایک دوست محمد فاروق شیخ کے گھر میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں جہاں چند روز کے لیے قیام پذیر ہوں۔ برطانہ میرا آنا جانا اس دور سے ہے جب وہاں جانے کے لیے ویزا پیشگی طور پر حاصل کرنا ضروری نہیں ہوتا تھا، لندن ایئرپورٹ پر مختصر انٹرویو کے بعد انٹری کی مہر لگ جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جولائی ۲۰۱۲ء

برمی مسلمانوں پر مظالم

میں گزشتہ دو روز سے شارجہ میں ہوں اور اپنے ایک پرانے دوست محمد فاروق شیخ کے ہاں چند روز آرام کے ارادے سے قیام پذیر ہوں، جمعرات تک یہاں رہوں گا اور پھر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ گزشتہ کالم میں مولانا فضل الرحمان صاحب سے ملاقات کے حوالے سے میں نے برما کے صوبہ اراکان کے مسلمانوں کی مظلومیت اور کسمپرسی کا ذکر کیا تھا، اس سلسلہ میں دوبئی سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’سمندر پار‘‘ کے ۶ تا ۱۲ جولائی ۲۰۱۲ء کے شمارہ میں ایک رپورٹ نظر سے گزری ہے وہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ جولائی ۲۰۱۲ء

تین صحابہ کرامؓ کی معافی

بروکلین نیویارک کی مکی مسجد میں تراویح کے دوران حافظ صاحبان نے گیارہواں پارہ پڑھا، تراویح کے بعد مجھے کچھ بیان کرنا تھا، میں نے انہی آیات کریمہ میں سے ایک واقعہ کا انتخاب کیا اور قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا۔ قارئین کو بھی اس میں شریک کرنا چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ تین صحابہ کرامؓ حضرت کعب بن مالکؓ، حضرت ہلال بن امیہؓ اور حضرت مرارہ بن ربیعؓ کا ہے جو غزوۂ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسلسل پچاس دن تک سوشل بائیکاٹ کی سزا دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۱ء

نیویارک کے مسلمانوں کی قرآن فہمی میں دلچسپی

میں ان دنوں نیویارک میں ہوں اور کوئنز کے علاقہ جمیکا میں واقع دارالعلوم نیویارک میں قیام پذیر ہوں۔ رات کو تراویح کے بعد تراویح میں پڑھے جانے والے قرآن کریم کے خلاصے کے طور پر کچھ گزارشات پیش کر دیتا ہوں اور نماز فجر کے بعد ایک حدیث نبویؐ مختصر وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کا معمول ہے۔ اس کے علاوہ باقی دن رات کا وقت تھوڑے سے دیگر معمولات کے ساتھ سوتے جاگتے گزرتا ہے اور میرے لیے یہ دن پورے سال میں سب سے زیادہ آرام کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۱۱ء

امریکہ میں مسلمانوں کی تعلیمی اور تبلیغی سرگرمیاں

گزشتہ تین ہفتوں سے امریکہ میں ہوں اور ہفتہ عشرہ تک مزید یہاں رہ کر رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اس سفر میں دو تین تبدیلیاں واضح طور پر محسوس ہو رہی ہیں۔ ایک یہ کہ ایئرپورٹس پر تلاشی اور چیکنگ میں سختی والا ماحول اب رفتہ رفتہ نرم پڑتا جا رہا ہے۔ نیویارک ایئرپورٹ پر امیگریشن چیکنگ اور تلاشی وغیرہ کا دورانیہ جو اس سے قبل تین چار گھنٹوں تک پھیل جاتا تھا اس بار چار پانچ منٹوں میں نمٹ گیا جبکہ تلاشی کی سرے سے نوبت ہی نہیں آئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۱۱ء

انتہا پسندی اور اس کی خودساختہ تعریف

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو اخبار ہفت روزہ ’’پاکستان پوسٹ‘‘ کا جون کا آخری شمارہ اس وقت میرے سامنے ہے اور اس میں انتہا پسندی کے حوالے سے شائع ہونے والی دو خبریں توجہ کو اپنی طرف مبذول کیے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ امریکی کانگریس کی ’’ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی‘‘ نے گزشتہ دنوں اس مسئلہ پر انکوائری کا اہتمام کیا کہ امریکہ کی جیلوں میں محبوس مسلمان قیدیوں میں انتہاپسندی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں ان پر کیسے قابو پایا جائے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جولائی ۲۰۱۱ء

مشی گن کی قدیم ترین مسجد

امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ میں چار روزہ قیام کے دوران نصف درجن کے لگ بھگ مساجد میں حاضری ہوئی، ان میں سے اکثر میں بیان بھی ہوئے۔ آج کل رمضان المبارک کے حوالے سے روزوں، قرآن کریم کی تلاوت اور رمضان المبارک سے متعلقہ دیگر اعمال خیر کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ان بیانات میں ابتداء سے اعلان کر دیا جاتا ہے کہ بیان اردو میں ہوگا اور اردو نہ سمجھنے والوں کے لیے ایک کونے میں انگریزی میں ساتھ ساتھ ترجمے کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اگست ۲۰۰۹ء

پی آئی اے کے ساتھ پرواز کے تجربات

فیصل آباد کے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے، جو اکثر بیرونی سفر کرتے رہتے ہیں، مجھ سے کئی بار کہا ہے کہ پی آئی اے کے ذریعے سفر سے پکی توبہ کر لوں مگر بار بار کے تلخ تجربے کے باوجود ابھی تک دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا اور پی آئی اے کے ذریعے سفر اب بھی میری ترجیحات میں شامل ہے۔ اس سلسلہ میں دو دلچسپ حالیہ تجربات قارئین کے علم میں لانا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جولائی ۲۰۱۱ء

دو انتہاؤں پر کھڑے مذہبی طبقات

مجھے امریکہ میں آئے تقریباً ایک ماہ ہوگیا ہے، اس دوران نیویارک، واشنگٹن ڈی سی، بالٹی مور، ڈیٹرائیٹ، ہیوسٹن، ڈیلاس اور شارلٹ وغیرہ میں بہت سے احباب سے ملاقاتوں اور تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ میری یہاں ہر سفر میں کوشش ہوتی ہے کہ دینی حلقوں، بالخصوص پاکستانیوں کی مذہبی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل کروں اور انہیں بہتر بنانے کے لیے جو صورت سمجھ میں آئے اس کا دوستوں کے سامنے اظہار بھی کروں۔ میرا زیادہ تر تعلق پاکستانی حلقوں سے رہتا ہے اور دینی درسگاہیں اور مساجد میری جولانگاہ ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۰۸ء

شریعہ بورڈ آف امریکہ اور اس کے فیصلے

گزشتہ ماہ میں نیویارک گیا اور کوئنز کے علاقے میں واقع دینی درسگاہ دارالعلوم نیویارک کے سالانہ امتحانات میں مصروف رہا جہاں درس نظامی کا وہی نصاب پڑھایا جاتا ہے جو ہمارے ہاں مدارس میں مروج ہے۔ برطانیہ اور امریکہ میں بیسیوں مدارس اس نصاب کے مطابق نئی نسل کی دینی تعلیم و تدریس میں سرگرم عمل ہیں۔ طلبہ کے مدارس بھی ہیں اور طالبات کے بھی۔ درس نظامی سے میری مراد یہ ہے کہ بنیادی ڈھانچہ اور اہداف وہی ہیں کہ دینی تدریس و تعلیم اور امامت و خطابت کے لیے رجال کار تیار کیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۰۸ء

لاہور تا نیویارک سفر بذریعہ پی آئی اے

میری کوشش ہوتی ہے کہ سفر کے لیے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو ذریعہ بناؤں مگر ہر بار کوئی نہ کوئی بار ایسی ضرور ہو جاتی ہے کہ اس کوشش پر نظر ثانی کو جی چاہنے لگتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ مجھے اگست کے آغاز میں امریکہ کے لیے سفر کرنا تھا جس کے لیے میں نے ۲ اگست کو لاہور سے نیویارک تک پی آئی اے کی سیٹ بک کرالی اور ریٹرن ٹکٹ خرید لیا۔ فیصل آباد سے ہمارے ایک دوست قاری خالد رشید صاحب نے بھی جانا تھا وہ امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں اور وقتاً فوقتاً آتے جاتے رہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۲۰۰۸ء

امریکہ کا نرالا الیکشن اور مسلمان

اس بار امریکہ میں زیادہ گھومنے پھرنے کا موقع نہیں ملا، صرف ورجینیا اور واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں تقریباً بیس دن گزار کر واپسی ہو رہی ہے۔ ۱۱ اکتوبر کو لندن سے نیویارک کے لیے سیٹ بک کرالی تھی کہ دارالہدٰی سپرنگ فیلڈ (ورجینیا، امریکہ) کے پرنسپل مولانا عبدا لحمید اصغر کا پیغام ملا کہ آپ نیویارک کی بجائے سیدھے واشنگٹن آئیں کیونکہ نیویارک سے آنے جانے میں دو تین دن نیویارک میں صرف ہو جائیں گے اور ہمارے لیے وقت کم رہے گا اس لیے کہ ۲۲ اکتوبر کو امریکہ سے میری واپسی کا پروگرام تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ

مفتی محمد جمیل خان شہید اور مولانا نذیر احمد تونسوی شہیدؒ کے المناک قتل کی خبر مجھے لندن میں ملی۔ مفتی محمد جمیل خانؒ سے ۸ ستمبر کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے سالانہ جلسہ ختم بخاری شریف میں ملاقات ہوئی تھی، ۱۳ ستمبر کو بیرونی سفر پر روانہ ہوگیا تھا اس لیے یہ آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ پہلی ملاقات جہاں تک یاد پڑتا ہے ۱۹۷۴ء میں ہوئی تھی جب وہ مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ میں طالب علم تھے اور میں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے خطیب حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی نیابت کے فرائض سرانجام دے رہا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۴ء

مسلمانوں میں فکر و شعور کی بیداری، وقت کا اہم تقاضا

حرمین شریفین کی حاضری کے بعد لندن روانگی سے قبل ایک دو روز جدہ میں قیام رہا اور ایک بزرگ محدث کی خدمت میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ الشیخ عبد اللہ بن احمد الناجی مدظلہ معمر علماء کرام میں سے ہیں اور حدیث نبویؐ کے ممتاز فضلاء میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ایک سو پندرہ برس ان کی عمر ہے اور اب سے پون صدی قبل کے اکابر محدثین سے تلمذ کا شرف رکھتے ہیں۔ سماعت کمزور ہو چکی ہے مگر گفتگو بے تکلفی سے کرتے ہیں۔ شافعی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور زندگی بھر حدیث نبویؐ کی خدمت میں مصروف رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اکتوبر ۲۰۰۴ء

سعودی عرب کی عمرہ پالیسی اور پاکستانی ایجنٹ

یہ سطور مدینہ منورہ میں بیٹھا لکھ رہا ہوں۔ ۱۹۹۸ء کے بعد چھ سال کے وقفے سے یہاں حاضری ہوئی ہے۔ ۱۹۸۴ء سے معمول تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے سال لندن سے واپسی پر حرمین شریفین کی حاضری کی سعادت حاصل ہو جایا کرتی تھی مگر سعودی عرب کی نئی عمرہ پالیسی کی وجہ سے اب یہ آسان نہیں رہا۔ پہلے لندن میں سعودی سفارت خانہ وزٹ پر برطانیہ آنے والوں کو واپسی پر سعودی ایئرلائن کے ذریعے سفر کی صورت میں عمرے کا ویزا دے دیا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۰۴ء

امریکہ: لورے کیورن کی سیر

میرے سفر کے مقاصد میں گھومنا پھرنا اور تاریخی آثار کو دیکھنا بھی شامل ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اس کی تلقین فرمائی ہے کہ زمین میں گھومو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے آثار کے ساتھ ساتھ قوموں کے عروج و زوال کے اسباب و عوامل اور نشانات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کرو۔ واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں دو پاکستانی دوست محمد اشرف خان (آف جوہر آباد) اور جناب ناہن علی (آف سیالکوٹ) اس سلسلہ میں میری معاونت و رفاقت کرتے ہیں۔ گزشتہ سال وہ مجھے آمشوں کے علاقے میں لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جولائی ۲۰۰۴ء

جاہلی اقدار و روایات اور جدید تہذیب

۲۵ جون کو میں نے جمعہ کی نماز واشنگٹن ڈی سی کے علاقے اسپرنگ فیلڈ کی مسجد دارالہدٰی میں پڑھائی اور اس سے قبل خطبہ و بیان کا موقع بھی ملا۔ میں اس سے قبل کئی بار یہاں آچکا ہوں اور ہر بار یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نمازیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال یہاں آیا تو معلوم ہوا کہ جمعۃ المبارک کے موقع پر زیادہ رش ہونے کی وجہ سے ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے ساتھ تین بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے۔ ایک نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے اور اس کے بعد مسجد کے ساتھ ملحقہ وسیع ہال میں دو بار نماز ادا کی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جون ۲۰۰۴ء

نیویارک کی دینی سرگرمیاں

جمادی الاول کے آغاز میں مدرسے کے شش ماہی امتحان کا آغاز تھا جو ایک ہفتہ جاری رہنا تھا، اس کے بعد ایک ہفتہ کی تعطیلات تھیں۔ میں نے یہ چھٹیاں برطانیہ میں گزارنے کا پروگرام بنا رکھا تھا مگر ویزے کی درخواست دینے میں اتنی تاخیر ہوگئی کہ چھٹیوں کے اختتام سے قبل ویزا ملنے کا امکان مشکوک ہوگیا اس لیے ویزے کے لیے پاسپورٹ جمع کرانے کی بجائے میں نے امریکہ کے سفر کا ارادہ کر لیا جہاں سے دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) کے مولانا عبد الحمید اصغر کی دعوت پہلے سے موجود تھی کہ میں یہ تعطیلات ان کے ہاں گزاروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جون ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کے دینی مدارس

بنگلہ دیش میں گیارہ دن قیام کے بعد ۱۰ جنوری کو ہماری واپسی تھی، اس دوران ہم نے ڈھاکہ، چاٹگام، سلہٹ، سونام گنج، ہاٹ ہزاری، ٹیسیا، درگاپور، مدھوپور اور دیگر مقامات پر مختلف دینی اجتماعات میں شرکت کی اور سرکردہ علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ ہمارے قافلے میں راقم الحروف کے علاوہ لندن سے ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری، ابراہیم کمیونٹی کالج وائٹ چیپل، لندن کے ڈائریکٹر مولانا مشفق الدین، دارالارقم کالج ایمسٹر (برطانیہ) کے ڈائریکٹر مولانا محمد فاروق، اور دارالارشاد میرپور ڈھاکہ کے ڈائریکٹر مولانا محمد سلمان ندوی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جنوری ۲۰۰۴ء

قیام مدینہ کی کچھ حسین یادیں

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سفر سے میں یکم اگست کو گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا تھا لیکن آتے ہی مختلف اداروں میں دورۂ تفسیر قرآن کے آخری اسباق میں مصروف ہوگیا اس لیے قارئین کی خدمت میں حاضری قدرے تاخیر سے ہو رہی ہے۔ الشریعہ اکادمی اور جامعہ مدینۃ العلم جناح کالونی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کے اسباق میں خود شروع کرا کے گیا تھا۔ اول الذکر میں دو پارے اور ثانی الذکر میں ایک پارہ پڑھانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اگست ۲۰۱۲ء

چند دن متحدہ عرب امارات میں

متحدہ عرب امارات میں پانچ دن گزار کر گزشتہ روز (جمعۃ المبارک) جدہ پہنچ گیا ہوں۔ عرب امارات میں دوبئی، شارجہ، عجمان، جبل علی اور الفجیرہ میں دوستوں سے ملاقاتیں کیں اور آرام اور سیر و سیاحت میں زیادہ وقت گزرا۔ شارجہ میں پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ کے پاس رہا جو گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں اور جمعیۃ طلباء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے ایک دور میں صدر رہے ہیں۔ ۱۹۷۵ء کے دوران چند روز کے لیے میرے جیل کے رفیق بھی تھے، کم و بیش چھبیس سال سے شارجہ کی ایک کمپنی میں ملازم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جولائی ۲۰۱۲ء

امریکہ میں چند روز

میں پروگرام کے مطابق ایک ماہ امریکہ میں گزار کر گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں۔ سات جولائی کو لاہور سے نیویارک کے لیے روانہ ہوا تھا اور ۱۰ اگست کی شام کو بذریعہ پی آئی اے لاہور پہنچ گیا۔ اس دوران میں نے نیویارک کے مختلف علاقوں لانگ آئی لینڈ، برونکس، بروکلین اور جمیکا کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی، سپرنگ فیلڈ، بالٹی مور، ڈیٹرائٹ، اٹلانٹا، ہیوسٹن، ڈیلاس اور برمنگھم وغیرہ میں علماء کرام سے ملاقاتیں کیں۔ درجنوں دینی اجتماعات میں شرکت ہوئی، مختلف دینی مدارس کا دورہ کیا اور بحمد اللہ تعالیٰ پاکستان کی طرح ہی شب و روز مصروفیت رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۱۱ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter