بھٹو مرحوم ۔ مخالفین کا خراجِ عقیدت
گزشتہ روز ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی سالگرہ منائی گئی اور قوم کے مختلف طبقات اور جماعتوں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی قومی خدمات کو سراہنے والوں میں ان کے سیاسی کارکن اور ساتھی بھی تھے اور ان حضرات نے بھی اس سلسلے میں بخل سے کام نہیں لیا جو ان کی زندگی میں ان کے مخالف سیاسی کیمپ میں رہے ہیں بلکہ انہیں اقتدار سے ہٹانے کی تحریک میں پیش پیش تھے۔ بھٹو مرحوم کے دنیا سے چلے جانے کے ربع صدی سے بھی زیادہ عرصے کے بعد انہیں اس انداز سے یاد کیا جانا جہاں پاکستان کی قومی سیاست میں ان کے انمٹ کردار کا اعتراف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یاسر عرفات مرحوم
یاسر عرفات کی وفات سے فلسطین کی تحریک آزادی کا ایک دور ختم ہوگیا ہے اور اب یہ ان کے سیاسی جانشینوں پر منحصر ہے کہ وہ آزادیٔ فلسطین کی جدوجہد کو کس انداز سے آگے بڑھاتے ہیں۔ یاسر عرفات نے اس دور میں تحریک آزادیٔ فلسطین کا پرچم اٹھایا جب خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین پر برطانیہ نے تسلط جما لیا تھا۔ اور برطانوی حکومت یہودیوں کے ساتھ کیے گئے اس وعدہ کی تکمیل کے لیے سرگرم عمل تھی کہ وہ انہیں فلسطین میں آباد ہونے اور اپنا الگ قومی وطن قائم کرنے میں مدد دے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یاسر عرفات مرحوم
یاسر عرفات بھی اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ انہیں رملہ میں ان کے ہیڈکوارٹر میں امانتاً سپرد خاک کیا گیا ہے اور فلسطینی قیادت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور بیت المقدس کی اس ریاست میں شمولیت کے بعد انہیں بیت المقدس میں دفن کیا جائے گا۔ یاسر عرفات کے جنازے پر فلسطینی عوام اور ان کے عقیدت مندوں کے بے پناہ ہجوم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ زندگی کے آخری حصے میں متنازعہ ہوجانے کے باوجود فلسطینی عوام کے محبوب ترین رہنما تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
صدام حسین کا اصل قصور جس کا تذکرہ کہیں نہیں
امریکی ذرائع کے مطابق عراق کے معزول صدر صدام حسین کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ اس وقت اتحادی فوجوں کی تحویل میں ہیں۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ انہیں تکریت کے علاقہ میں زیر زمین پناہ گاہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ سوئے ہوئے تھے، ان کے پاس دو رائفلیں اور متعدد دستی بم تھے اور لاکھوں ڈالر بھی ان کے پاس تھے، جبکہ ان کی ڈاڑھی بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پر تھکن اور مشقت کے آثار تھے۔ ان کی ڈاڑھی سمیت تصویر اخبارات میں آئی ہے جس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ حالت جنگ میں تھے اور آخر وقت تک ہتھیار بکف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا اللہ وسایا قاسمؒ
گزشتہ روز گوجرانوالہ گھر فون کیا تو یہ غمناک اطلاع ملی کہ مولانا اﷲ وسایا قاسم ٹریفک کے حادثہ میں شہید ہو گئے ہیں، انا ﷲ و انا الیہ راجعون ۔وہ میرے بہت پرانے اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے شاگرد اور عقیدت مند تھے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان جب درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم تھی ،وہ جمعیۃ علماءاسلام درخواستی گروپ کے نظم میں شریک ہوئے اور اپنی جوانی کا پورا زور جمعیۃ علماءاسلام کی تنظیم و ترقی اور خاص طور پر ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کی اشاعت کو بڑھانے میں صرف کردیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علامہ محمد اقبالؒ اور پارلیمنٹ کے لیے تعبیر شریعت کا اختیار
دین کی اجماعی تعبیر جو حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف صالحین کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے اس تعبیر و تشریح سے ملت اسلامیہ کو ہٹانے اور قرآن و سنت کو جدید تعبیر و تشریح کی سان پر چڑھانے کے لیے استعماری قوتیں اپنے آلۂ کار عناصر کے ذریعے ایک عرصہ سے مسلم معاشرہ میں سرگرمِ عمل ہیں۔ نصف صدی قبل تک بیشتر مسلم ممالک پر سامراجی قوتوں کے غلبہ و استعلاء کے دور میں سامراجی آقاؤں نے مسلسل سازشوں اور محنت کے باوجود جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کو دین کی بنیاد قرآن و سنت سے برگشتہ کرنا ممکن نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چند باتیں حضرت درخواستیؒ کی یاد میں
گزشتہ کچھ عرصہ سے ہمارا یہ ذوق بڑھتا جا رہا ہے کہ اپنے بزرگوں کا نام تو لیتے ہیں اور ان کے تذکرہ کے فوائد و ثمرات بھی حاصل کرتے ہیں مگر ان کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و آگاہی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی راہنمائی سے محروم رہتے ہیں، اور دوسرا نقصان اس سے بھی بڑا یہ ہوتا ہے کہ بار بار ان کا نام لینے سے لوگ انہیں بھی ہم پر قیاس کرنے لگتے ہیں اور ہم ان کی نیک نامی کا ذریعہ بننے کے بجائے ان کے تعارف کو خراب کرنے کا باعث بن جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا فقہی ذوق و اسلوب
اسلام آباد میں ’’دفاع پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ کے اجلاس کے موقع پر حافظ محمد ریاض درانی سکیرٹری اطلاعات جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے یہ خوش خبری سنائی کہ مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود قدس اللہ سرہ العزیز کے فتاویٰ کا پہلا حصہ جمعیت پبلی کیشنز لاہور کے زیر اہتمام شائع ہو گیا ہے اور وہ میرے لیے اس کا نسخہ ساتھ لائے ہیں۔ یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی اس لیے کہ مدت سے اس بات کی تمنا تھی کہ مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے فتاویٰ کا جو ریکارڈ موجود ہے وہ کسی طرح اشاعت پذیر ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی یاد میں
راقم الحروف کو مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک کارکن اور پھر ایک رفیق کار کے طور پر کم و بیش پندرہ برس تک کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ اور میرے لیے یہ بات بھی سعادت و افتخار کی ہے کہ ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس شوریٰ نے مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں منعقدہ اجلاس میں جب پہلی بار مجھے جمعیۃ کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا تو میرا نام پیش کرنے والے اور مجلس شوریٰ کو بحث اور دلائل کے ساتھ اس پر قائل کرنے والے خود مولانا مفتی محمودؒ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ
آج کی نشست میں تذکرہ ہے حضرت مولانامفتی عبد الواحد نور اللہ مرقدہ کا، ان کے تعارف اور تذکرہ سے پہلے کچھ پسِ منظرعرض کرناچاہتاہوں۔ مرکزی جامع مسجدشیرانوالہ باغ گوجرانوالہ شہر کی قدیمی مساجدمیں سے ہے، اب سے تقریباً ڈیڑھ سوسال پہلے یہاں ایک بزرگ ہواکرتےتھے مولانا سراج الدین احمد جو کہ بڑے عالم اور فقیہ تھے انہیں فقیہِ پنجاب کہا جاتا تھا۔ مسجد کے عقب میں بازار تھانے والا کی گلی مولوی سراج دین اور مسجد مولوی سراج دین ان ہی کےنام پر ہیں اور وہ مسجد شہرکی جامع مسجد ہوا کرتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد حیاتؒ
حضرت مولانا محمد حیاتؒ شکرگڑھ کے قریب ایک گاؤں کے رہنے والے تھے اور درویش صفت عالمِ دین تھے۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے ان کو علم و تکلم، تقویٰ و عمل کی بڑی خصوصیات سے نوازا تھا۔ مولانا کی ڈاڑھی قدرتی طور پر نہیں تھی اور ان کا طرزِ زندگی بہت سادہ تھا،کوئی آدمی بظاہر انہیں دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ عالم دین اور دینی بزرگ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولوی نصر اللہ منصور شہیدؒ
مولوی نصر اللہ منصورؒ کا تعلق مولوی محمد نبی محمدی کی جماعت ’’حرکت انقلاب اسلامی‘‘ سے تھا اور وہ مولوی محمد نبی محمدی کے بعد اس جماعت کے بڑے لیڈر شمار کیے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ جہادی سرگرمیوں میں یکسانیت پیدا کرنے کےلیے چھ جماعتوں نے ’’اتحاد اسلامی افغانستان‘‘ کے نام سے متحدہ محاذ قائم کیا تو مولوی نصر اللہ منصور کو اس کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن وہ زیادہ دیر دوسرے لیڈروں کے ساتھ نہ چل سکے اور پالیسی اختلاف نے نہ صرف ان کا راستہ دوسرے افغان لیڈروں سے الگ کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ
آج جس شخصیت کے حوالے سےگفتگو کرنے لگا ہوں وہ صرف ہمارے پاکستان نہیں بلکہ برصغیر کی بڑی علمی اور تحریکی شخصیات میں سے ہیں۔ حضرت مولانا محمدعلیؒ جالندھر کے رہنے والے تھے۔ جامعہ خیر المدارس ملتان پہلے جالندھر میں تھا۔ مولانا خیرمحمد جالندھریؒ حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بڑے خلفاء میں سے تھے، انہوں نے جالندھرمیں جامعہ خیر المدارس بنایا تھا۔ مولانا محمدعلی جالندھریؒ ان کے خلفاء میں سے تھے اور خیرالمدارس میں پڑھاتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی چند بھولی بسری یادیں
دار العلوم تعلیم القرآن پلندری آزاد کشمیر کے بانی ومہتمم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان آزاد کشمیر کے ان بزرگ علماء میں سے ہیں جنہوں نے ۱۹۴۷ء کے جہاد آزادی کو منظم کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا، اس میں عملی حصہ لیا اور آزاد کشمیر کی ریاست قائم ہونے کے بعد اس میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے سرگرم عمل ہو گئے جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں سرکاری طور پر قضا اور افتا کے شرعی محکمے الگ الگ کام کر رہے ہیں، ہر ضلع اور تحصیل میں ججوں کے ساتھ جید علماء کرام بطور قاضی بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شاہ حسین مرحوم
جہاں تک شاہ حسین کی وفات کا معاملہ ہے ایک مسلم حکمران اور پاکستان کے ایک دوست کی وفات کا ہمیں بھی رنج ہے اور ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت ان کی غلطیاں معاف فرمائے اور جوارِ رحمت میں جگہ دے کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے یہ ہم پر ان کا حق ہے۔ لیکن ان کے اور ان کے خاندان کے جو فضائل و مناقب بیان کیے جا رہے ہیں اور جس طرح مشرق وسطیٰ میں امن کے ہیرو کے طور پر انہیں پیش کیا جا رہا ہے اس کے پیش نظر اصل حقائق کو سامنے لانا اور نئی نسل کو ان سے متعارف کرانا بھی ہماری ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت قاری محمد انورؒ
استاذ الحفاظ و القراء حضرت قاری محمدانور صاحبؒ کاچند روز پہلے مدینہ منورہ میں انتقال ہو گیا ہے، آپؒ میرے حفظ کے استاذتھے اور صرف میرے ہی نہیں بلکہ ہمارے پورے خاندان کے استاذ تھے، ہم سب بھائی بہنیں ان کے شاگرد ہیں۔الحمدللہ نو بھائیوں نے اور تین بہنوں نے حفظ کیا ہے اور ایک بڑی بہن کے سوا باقی سب کے استاذ وہی تھے۔ جبکہ وہ گکھڑ اور اس کے ارد گرد سینکڑون حفاظ کے استاذ تھے۔ گکھڑ سے وہ افریقہ کے ایک ملک میں تشریف لے گئے، وہاں بھی بیسیوں حفاظ کے استاذ ہیں۔ پھر مدینہ منورہ میں تقریباً پینتیس سال انہوں نے قرآن کریم پڑھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی
حضرت مولانا مفتی محمد عیسیٰ خانؒ گورمانی گزشتہ ماہ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق تونسہ شریف کے قریب لتڑی جنوبی سے تھا لیکن ان کی زندگی کا بیشتر حصہ گوجرانوالہ میں گزرا۔ وہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے ابتدائی فضلاءمیں سے تھے جب نصرۃ العلوم کے شیخ الحدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ تھے۔ بخاری شریف انہوں نے حضرت قاضی صاحبؒ سے پڑھی جبکہ دورۂ حدیث کے دیگر اسباق حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور حضرت مولانا عبد القیوم ہزارویؒ سے پڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی اور ہمارا تعلیمی نصاب
عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق اس بارے میں یہ تھا کہ وہ درس نظامی کی تعلیم کے دوران جہاں خلا محسوس کرتے تھے، اسے پُر کرنے کی اپنے طور پر کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ وہ دورۂ حدیث کے طلبہ کو حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی کتاب ”حجۃ اللہ البالغۃ“ سبقاً سبقاً پڑھاتے تھے۔ صبح کا دو سالہ ترجمہ قرآن کریم اور ”حجۃ اللہ البالغۃ“ کی تدریس بحمد اللہ تعالیٰ جامعہ نصرۃ العلوم کے نصاب تعلیم کے امتیازی شعبے ہیں جو ہمارے ان دو بزرگوں کے ذوق کی علامت اور ان کا صدقہ جاریہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی ایک نو مسلم خاتون دانشور سے ملاقات
۱۹۹۰ء کی بات ہے ایک دن ہمارے محترم دوست پروفیسر عبد اللہ جمال صاحب کا فون آیا کہ امریکہ سے ایک محترمہ خاتون جو پروفیسر ہیں اور نو مسلم ہیں، پاکستان آئی ہوئی ہیں اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی سے ملنا چاہتی ہیں مگر حضرت صوفی صاحبؒ نے معذرت کر دی ہے، آپ اس سلسلہ میں کچھ کریں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر چہ یہ بات بہت مشکل ہے کہ حضرت صوفی صاحبؒ کے انکار کے بعد انہیں اس ملاقات کے لیے آمادہ کیا جاسکے مگر میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں۔ چنانچہ میں حاضر خدمت ہوا اور گزارش کی کہ ملاقات میں کیا حرج ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انہوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ
۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کی بات ہے، میں اس وقت کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ضلع گوجرانوالہ کا رابطہ سیکرٹری تھا اور مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ چونکہ تحریک کامرکز تھی اس لیے تحریک کے تنظیمی اور دفتری معاملات کا انچارج بھی تھا۔ ضلع گوجرانوالہ کے ایک قصبے میں تحریک کے جلسے کاپروگرام تھا جس میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت کے لیے اے سی صاحب کو درخواست دے رکھی تھی۔ راقم الحروف تحریک ختم نبوت کے ایک اور راہ نما کے ساتھ اے سی گوجرانوالہ سے ملا کہ وہ اجازت دے دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا قاضی عبداللطیفؒ
حضرت مولانا قاضی عبد اللطیفؒ ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے، کلاچی میں ان کا مدرسہ نجم المدارس کے نام سے قرآن و سنت کی تعلیمات لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔ حضرت قاضی صاحبؒ کلاچی کے عوام کا مرجع تھے، لوگ دور دور سے راہ نمائی اور اپنے معاملات کے فیصلے کروانے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔ وہ ہمیشہ جمعیۃ علماءاسلام میں سر گرم رہے۔ جب میں گوجرانوالہ میں جمعیۃ کا سیکرٹری جنرل تھا، اس وقت وہ کلاچی میں جمعیۃ کے سیکرٹری جنرل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ
حضرت مولانا نور محمد شہیدؒ سے عام طور پر بہت کم لوگ واقف ہیں، میں نے پہلی مرتبہ انہیں ۱۹۷۶ء میں دیکھا جب میں ایک طالب علم تھا۔ اس وقت اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کیا ہوا تھا، مفتی محمود صاحبؒ نے ایک جلسے میں فرمایا کہ اگر حکومت ہمیں اجازت دے تو ہم اپنے خرچے پر وہاں جہاد کے لیے جائیں گے۔ مفتی صاحبؒ کے بعد ایک نوجوان کھڑا ہوا اور بڑے جوشیلے انداز میں اس نے اس با ت کا اعلان کیا کہ اگر حکومت اجازت دیتی ہے تو میں قبائل کی طرف سے دس ہزار کا لشکر فراہم کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ
۵ مئی کو حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر کا انتقال ہوا تھا۔ وہ دونوں دار العلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھاکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں موسیٰ زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی جو خانقاہ سراجیہ کے بانی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقبؒ
حضرت مولانا محمد فیروز خان ثاقب بھی انتقال فرما گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ شاید فضلائے دیوبند میں سے ہمارے علاقے میں آخری بزرگ تھے۔ ابھی چند ماہ قبل مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق ناظم اور محکمہ اوقاف کے سابق ڈسٹرکٹ خطیب مولانا لالہ عبد العزیز سرگودھوی کا انتقال ہوا تو ان کے بعد ہم کہا کرتے تھے کہ اب دیوبند کی آخری نشانی ہمارے پاس حضرت مولانا محمد فیروز خان رہ گئے ہیں، وہ بھی ۹ مارچ کو ہم سے رخصت ہو گئے۔ان کا تعلق آزاد کشمیر کی وادی نیلم سے تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر محمد دین مرحوم
بدھ (۹ اپریل ۲۰۰۸ء) کے روز میرے خسر بزرگوار ڈاکٹر محمد دین بھی طویل علالت کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق کھاریاں سے کوٹلہ جانے والے روڈ پر واقع قصبہ گلیانہ سے تھا اور انتہائی نیک دل اور ذاکر وشاغل بزرگ تھے۔ طب و علاج کے شعبہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں ڈاکٹر کہا جاتا تھا ورنہ وہ ڈسپنسر تھے، اسی حیثیت سے انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر تک سرکاری ملازمت کی اور مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قاری محمد عبد اللہؒ
گزشتہ دنوں جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ حفظ کے سابق صدر مدرس قاری محمد عبد اللہ صاحب طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے پرانے ساتھی اور رفیق کار تھے، ان کا تعلق منڈیالہ تیگہ کے قریب بستی کوٹلی ناگرہ سے تھا۔ ان کے والد محترم حاجی عبد الکریم جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم حضرات میں سے تھے اور مفتیٔ شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ خصوصی تعلق رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا محمد اعظمؒ
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم تعلیمات مولانا محمد اعظمؒ کی اچانک وفات پر بے حد صدمہ ہوا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ ہمارے شہر کے بزرگ علماءکرام میں سے تھے اور دینی تحریکات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ معتدل اور متوازن مزاج کے بزرگ تھے اور انہیں شہر کے تمام مکاتب فکر میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد طاسینؒ
حضرت مولانا محمد طاسینؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ پاکستان کی علمی دنیا کی معروف شخصیت تھے، حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز کے داماد اور مجلس علمی کے سربراہ تھے۔ متبحر اور محقق عالم دین تھے، اسلامی معاشیات پر ان کی گہری نظر تھی اور اس کے مختلف پہلوؤں پر ان کے گراں قدر مقالات مختلف دینی و علمی جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اہم علمی مجالس میں انہیں اہتمام کے ساتھ بلایا جاتا اور ان کے مطالعہ و تحقیق سے استفادہ کیا جاتا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
الاستاذ عبد الفتاح ابو غدۃؒ کے ساتھ ملاقات
شام کے بزرگ عالم دین الاستاذ عبد الفتاح ابوغدۃ حفظہ اللہ تعالیٰ کا نام کافی عرصہ سے سن رکھا تھا اور محدث کبیر حضرت الشیخ زاہد الکوثری الحنفیؒ کے مایہ ناز شاگرد اور علمی جانشین کے طور پر ان کا غائبانہ تعارف ذہن میں محفوظ تھا۔ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے حوالہ سے علامہ کوثریؒ اور الشیخ ابو غدۃ مدظلہ کا تذکرہ ایک مدت سے علمی مجالس میں سننے میں آرہا تھا اور ملاقات کا اشتیاق تھا۔ کئی بار خواہش ہوئی کہ لندن کا سفر براستہ دمشق ہوجائے تو شاید ملاقات و زیارت کی کوئی صورت نکل آئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 100
- 101
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »