حضرت مولانا عبد الحقؒ

موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، نہ کوئی پیغمبرؑ اس سے محفوظ رہا اور نہ کوئی ولی اور قطب، اس نے آنا ہوتا ہے اور یہ آ کر رہتی ہے۔ یوں تو لاکھوں افراد اس دار فانی سے گزر جاتے ہیں مگر بعض موتیں ایسی ہوتی ہیں جو ایک عالم کو یتیم اور بے سہارا کر جاتی ہیں اور ایسی موت کی کسک اور تکلیف صدیوں تک محسوس ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ ستمبر ۱۹۸۸ء

مولانا عبد العزیزؒ

مولانا عبد العزیزؒ ایران میں اہل سنت کے سب سے بڑے عالم دین تھے اور متعدد مرتبہ پارلیمنٹ کے رکن رہے ہیں۔ وہ ایک عرصہ سے صاحبِ فراش تھے اور اسی سال جنوری میں ایران کے دورہ کے موقع پر مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی اور راقم الحروف نے وفد کے دیگر ارکان کے ہمراہ تہران میں مولانا عبد العزیزؒ سے ملاقات اور ان کی بیمار پرسی کی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۱۹۸۷ء

الشیخ ابوالنصر البیانویؒ

شام کے مجاہد عالم دین اور اسلامی محاذ شام کے سیکرٹری جنرل الشیخ محمد غیاث ابوالنصر البیانوی گزشتہ دنوں بیالیس سال کی عمر میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کا تعلق حلب کے ایک ممتاز علمی گھرانے سے ہے، ان کے والد محترم الشیخ احمد الدین البیانویؒ اور دادا محترم الشیخ عیسیٰ البیانویؒ اپنے وقت کے ممتاز علماء اور روحانی پیشواؤں میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء

حضرت مولانا محمد مالک کاندھلویؒ

تحریک پاکستان کے رہنما شیخ الاسلام علامہ شبیر احمدؒ عثمانی کے فکری جانشین اور جامعہ اشرفیہ لاہور کے شیخ الحدیث مولانا محمد مالک کاندھلویؒ راہیٔ ملکِ عدم ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر باسٹھ سال تھی اور وہ تحریک پاکستان کے بزرگ راہنما، مفسر و محدث اور جید عالم دین مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے فرزند ارجمند تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اکتوبر ۱۹۸۸ء

مولانا امیر الزمان خانؒ

آزاد کشمیر کے بزرگ عالم دین، جمعیۃ علماء اسلام کے سرگرم رہنما او رمدرسہ قاسم العلوم نعمان پورہ ضلع باغ کے بانی و مہتمم حضرت مولانا امیر الزمان خان گزشتہ روز طویل علالت کے بعد اسلام آباد کے پولی کلینک میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۱۹۸۹ء

حضرت مولانا سید انور حسین نفیس الحسینیؒ

حضرت سید نفیس شاہ صاحبؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق رائے پور کی عظیم خانقاہ سے تھا اور وہ اپنی منفرد طرز کے باعث علمی و دینی حلقوں میں ایک امتیازی پہچان رکھتے تھے۔ وہ بنیادی طور پر ضلع سیالکوٹ کے ایک خوشنویس خاندان کے چشم و چراغ تھے، اس فن میں انہوں نے ایسی پیش قدمی کی کہ ان کا شمار عالم اسلام کے ممتاز خطاطوں میں ہوا اور ان کی اجتہادی صلاحیتوں نے اس فن کو حسن و نزاکت کی نئی جہتوں سے متعارف کرایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۸ء

صدام حسین اور عرب قومیت

عید قربان پر سابق عراقی صدر صدام حسین امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انا کی سولی پر لٹک گئے اور اتحادیوں نے عید کے روز عراقی عوام اور امت مسلمہ کو صدام حسین کی لاش کا تحفہ دے کر ایک بار پھر دنیا کو بتا دیا کہ مسلم دنیا میں امریکہ کی ’’ون قطبی طاقت‘‘ کے سامنے جھکنے سے انکار کرنے والوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور اتحادی جب چاہیں اپنے باغیوں کی گردن میں پھندا فٹ کر کے انہیں زندگی کے حق سے محروم کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جنوری ۲۰۰۷ء

اسامہ بن لادن کے ساتھ ملاقات

اسامہ بن لادن کا نام سب سے پہلے جہاد افغانستان کے دوران خوست میں سنا تھا جہاں یاور کے مقام پر مجاہدین کی عسکری تربیت گاہ تھی ۔دنیا کے مختلف ممالک سے نوجوان جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر وہاں آتے اور چند دن ٹریننگ حاصل کرکے افغان مجاہدین کے ہمراہ روسی استعمار کے خلاف برسر پیکار ہوجاتے۔راقم الحروف کو متعدد بار حرکت الانصار کی ہائی کمان کی فرمائش پر ایسی تربیت گاہوں میں جانے کا موقع ملا ۔میرے جیسے لوگ وہاں جاکر عملا تو کچھ نہیں کرپاتے مگر مجاہدین کا خیال تھا کہ ہمارے جانے سے ان کو حوصلہ ملتاہے،خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ مارچ ۱۹۹۷ء

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بے نظیر بھٹو گزشتہ روز راولپنڈی میں ایک خودکش حملہ کے نتیجہ میں جاں بحق ہوگئیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ملک بھر میں ان کا سوگ منایا جا رہا ہے اور ہر طبقہ کے افراد ان کے اس المناک قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس سوگ میں شریک ہیں۔ حکومت نے قومی سطح پر تین دن او رپاکستان پیپلز پارٹی نے چالیس روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ اور اس دوران احتجاجی مظاہروں، تعزیتی اجتماعات اور قرآن خوانی کی محافل کے ساتھ ساتھ کاروباری زندگی تین روز سے تا دمِ تحریر معطل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ دسمبر ۲۰۰۷ء

کرنل امیر سلطان تارڑ شہیدؒ

کرنل امام کی شہادت اور حضرت سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر خودکش حملہ بظاہر دو الگ الگ واقعات ہیں جن میں کوئی جوڑ اور تعلق دیکھنے والوں کو نظر نہیں آتا لیکن حالات میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے پس منظر پر نظر رکھنے والوں سے یہ بات اوجھل نہیں ہو سکتی کہ کراچی میں ہونے والے خودکش حملے سمیت ان تینوں واقعات کے پس منظر کو ایک دوسرے سے الگ کرنا آسان نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۱۱ء

حضرت مولانا شاہ احمدؒ نورانی

مولانا شاہ احمد نورانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے،انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔نواب زادہ نصراﷲ خان مرحوم کی وفات کے بعد یہ دوسرا بڑا صدمہ ہے جو سال رواں کی آخری سہ ماہی میں قومی سیاست کو برداشت کرنا پڑا۔ وہ دینی جماعتوں کے مشترکہ محاذ ’’متحدہ مجلس عمل‘‘کے صدر اور جمعیۃ علماء پاکستان کے سربراہ تھے۔ ایک سینئر پالیمنٹیرین، بزرگ عالم دین، تجربہ کار سیاستدان اور بااصول رہنما کے طور پر ان کا احترام تمام دینی و سیاسی حلقوں میں یکساں طور پر پایا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے تمام طبقات اور سیاسی و دینی حلقوں میں ان کی اچانک وفات کا غم شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ دسمبر ۲۰۰۳ء

عامر چیمہ شہیدؒ

عامر چیمہ شہید کو اس کے آبائی گاؤں ساروکی چیمہ تحصیل وزیر آباد میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ جنازے کے وقت کو آخر تک ابہام میں رکھا گیا اور پوری کوشش کی گئی کہ عوام کو نماز جنازہ کے پروگرام کی کوئی کنفرم اطلاع نہ مل سکے، اس کے باوجود عوام کے جم غفیر نے شہید کے جنازے میں شرکت کی۔ میری خواہش بھی جنازے میں شرکت کی تھی مگر اطلاعات متضاد تھیں، بعض اخبارات اور ایک ٹی وی چینل نے شام ۴ بجے کی خبر دی تھی مگر فون پر ساروکی سے اطلاع ملی کہ نماز جنازہ دس بجے کے لگ بھگ ادا کی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۰۶ء

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ

حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کا نام پہلی بار طالب علمی کے دور میں سنا جب ان کی خطابت کا ہر طرف شہرہ تھا اور توحید و سنت کے پرچار کے ساتھ ساتھ شرک و بدعات کے تعاقب میں وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ خطابت کے محاذ پر سرگرم تھے۔ ہم طالب علم تھے گوجرانوالہ شہر اور گرد و نواح میں جہاں بھی ان کی تقریر ہوتی ہم جتھہ بن کر جاتے اور ان کے پرجوش خطابت کا حظ اٹھاتے۔ یہ ان کی خطابت کے عروج کا دور تھا، وہ پورے جوش و جذبہ کے ساتھ دو دو تین تین گھنٹے بولتے اور پرجوش خطابت کے ساتھ ترنم کا جوڑ ملا کر عجیب سماں باندھ دیتے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

حضرت مولانا مفتی محمودؒ ، ایک بذلہ سنج شخصیت

۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیؐ کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو مذاکرات ہوئے، ان میں حکومتی ٹیم وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، مولانا کوثر نیازی مرحوم، اور جناب عبد الحفیظ پیرزادہ پر مشتمل تھی۔ جبکہ اپوزیشن یعنی پاکستان قومی اتحاد کی طرف سے مولانا مفتی محمودؒ ، نواب زادہ نصر اللہ خانؒ اور پروفیسر عبد الغفورؒ مذاکرات کی میز پر بیٹھے تھے۔ ان میں سے پیرزادہ صاحب کے علاوہ سب وفات پا چکے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کی مغفرت فرمائیں اور پیر زادہ صاحب محترم کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۱۴ء

حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی، چنیوٹ کے رہنے والے تھے اور دینی تعلیم کے حصول کے بعد چنیوٹ ہی ان کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ وہ بیک وقت دینی جدوجہد، سماجی خدمت اور سیاسی تگ ودو کے میدان کے آدمی تھے اور تینوں شعبوں میں انہوں نے بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کا تعاقب تھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے چنیوٹ میں دینی تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۰۴ء

الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ

الشیخ عبد اللہ بن احمد الناخبیؒ کی وفات کی خبر مجھے پاکستان ہی میں مل گئی تھی اور میرے سعودی عرب کے سفر کے پروگرام میں ان کے تلامذہ سے ملاقات بھی شامل تھی۔ شیخ ناخبیؒ میرے حدیث کے شیوخِ اجازت میں سے ہیں اور اپنے دور کے امت کے بڑے محدثین میں شمار ہوتے تھے۔ تین سال قبل جدہ کے ایک سفر کے موقع پر ان کی خدمت میں حاضری ہوئی تھی اور انہوں نے حدیث مسلسل بالاولیۃ سنا کر اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت اور اس کے ساتھ اہم نصائح سے نوازا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ ستمبر ۲۰۰۷ء

مولانا سید اسعد مدنیؒ

شیخ الاسلا م حضرت مولانا حسین احمدؒ مدنی کے جانشین اور جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ حضر ت مولا نا سید اسعدؒ مدنی گزشتہ رو ز انتقال کر گئے ہیں، اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہ گزشتہ تین ماہ سے کومہ میں تھے اور کافی عرصہ بستر علالت پر رہنے کے بعد کم وبیش ۸۰ برس کی عمر میں اس دنیا سے رحلت فرماگئے ہیں۔ حضرت مولا نا سید حسین احمدؒ مدنی برصغیر پاک وہند بنگلہ دیش کی ممتاز شخصیات میں سے تھے جنہیں برطانوی استعمار کے خلاف اس خطہ کے عوا م کی تحریک حریت میں علامت کی حیثیت حاصل ہے اور جن کے تذکرہ کے بغیر جدوجہد آزادی کا کوئی باب مکمل نہیں ہوسکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۶ء

مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ

حضرت مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ کے ساتھ غائبانہ تعارف تو بچپن ہی سے تھا۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں طالب علمی کے زمانے میں (۱۹۶۲ء تا ۱۹۷۰ء) میرا معمول یہ تھا کہ شہر میں جہاں کہیں کسی لائبریری یا دارالمطالعہ کا پتہ چلتا وہاں تک رسائی کی کوشش کرتا اور اخبارات و رسائل کے مطالعہ کے لیے کچھ نہ کچھ وقت روزانہ صرف ہوجاتا۔ انہی میں سے ایک دارالمطالعہ چوک نیائیں میں اہل حدیث دوستوں کا بھی تھا۔ سالہا سال تک یہ سلسلہ جاری رہا کہ روزانہ یا کم از کم ہفتہ میں دوبارہ وہاں ضرور جاتا اور کچھ وقت مطالعہ میں گزارتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۷ء

حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

عید الفطر کی رات جن چند دوستوں کو عید مبارک کہنے اور حال احوال معلوم کرنے کے لیے فون کیا ان میں برادرم مولانا سعید یوسف خان بھی تھے، انہیں فون کرنے کا ایک مقصد حضرت الشیخ مولانا محمد یوسف خان کی خیریت دریافت کرنا تھا جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے باقی ماندہ چند گنے چنے شاگردوں میں سے تھے اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے۔ مولانا سعید نے بتایا کہ حضرت کی صحت معمول کے مطابق ہے، وہ بخیریت ہیں اور انہوں نے رمضان المبارک کے روزے بھی سارے رکھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ ستمبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ

حضرت مولانا شفیق الرحمان درخواستیؒ کا شمار حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے، انہوں نے حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی نور اللہ مرقدہ کے زیرسایہ تعلیم و تربیت حاصل کی اور پھر ان کی سرپرستی میں ان کی مسند پر بیٹھ کر سالہا سال تک قرآن و حدیث کا درس دیا۔ وہ حضرت درخواستیؒ کے نواسے تھے، ان کے شاگرد و تربیت یافتہ تھے اور ان کی علمی روایات کے امین تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ ستمبر ۲۰۰۷ء

حاجی محمد زمان خان اچکزئی مرحوم

جمعرات ۲۸ جون کے اخبارات میں یہ خبر نظروں سے گزری کہ سابق وفاقی وزیر حاجی محمد زمان اچکزئی کا کراچی میں انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب ہمارے پرانے جماعتی رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی معیت میں کام کیا اور دینی سیاست کے محاذ پر اہم خدمات سرانجام دیں۔ میرا ان سے تعارف سب سے پہلے حضرت مولانا سید شمس الدین شہیدؒ کے ذریعے ہوا جو میرے دورۂ حدیث کے ساتھی تھے، ۱۹۷۰ء میں ہم دونوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورٔ حدیث کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۰۷ء

مولانا محمد طیبؒ ہارونی

مولانا محمد طیبؒ ہارونی ہارون آباد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علماء اسلام کے پرانے اور نظریاتی ساتھیوں میں سے تھے۔ ۱۹۸۰ء کے عشرہ میں جن علماء کرام اور کارکنوں نے جمعیۃ کے پلیٹ فارم پر شبانہ روز کام کیا اور اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے لیے صرف کر دیں ان میں ایک اہم نام مولانا طیبؒ ہارونی کا بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا عبد الرؤفؒ

مولانا عبد الرؤف آزاد کشمیر میں بیس بگلہ کے مقام پر دارالعلوم فیض القرآن کے مہتمم تھے اور جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے۔ ان کے والد محترم مولانا عبد الغنیؒ کا شمار آزاد کشمیر کے بڑے علماء کرام میں ہوتا تھا اور میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ابتدائی شاگردوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

حضرت مولانا حافظ نذیر احمدؒ

شیخ الحدیث مولانا حافظ نذیر احمدؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے، ملک کے معروف مدرسہ جامعہ ربانیہ اڈہ پھلور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک تعلیم و تدریس کے فرائض سرانجام دینے کے بعد گزشتہ دنوں اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آنکھوں سے نابینا تھے لیکن ان کے دل کی بینائی نے پورے علاقے کو حق کی راہ پر لگا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اپریل ۲۰۰۷ء

مولانا مفتی محمودؒ کے تفسیری افادات

مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کو اللہ رب العزت نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، وہ بیک وقت ایک کامیاب سیاستدان ہونے کے ساتھ محدث، فقیہ، خطیب، پارلیمنٹیرین، شب زندہ دار اور عارف باللہ تھے۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ نے یہ امتیاز عطا فرمایا تھا کہ وہ جس مسند پر بھی بیٹھے اپنے معاصرین سے ممتاز نظر آئے۔ انہوں نے مدت العمر جامعہ قاسم العلوم ملتان میں حدیث و فقہ اور منقولات و معقولات کے متنوع علوم کی تدریس کی اور مسند افتاء پر ہزاروں فتاویٰ جاری کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۰۷ء

مولوی محمد یونس خالصؒ

مولوی محمد یونس خالصؒ کی وفات کی خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ حالات کے اتار چڑھاؤ کا کرشمہ ہے کہ ان کی وفات کی یہ خبر پاکستان کے بہت سے قومی اخبارات کے ایک کونے میں جگہ پا سکی۔ ورنہ اگر زمانہ ناقدری کا خوگر نہ ہوتا اور لوگوں میں محسن کشی اور احسان ناشناسی اس قدر غلبہ نہ پا چکی ہوتی تو نہ صرف یہ کہ پاکستان کے قومی اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ میں مولوی محمد یونس خالص کا تذکرہ پاکستان کے ایک محسن کے طور پر کیا جاتا بلکہ امریکہ اور مغرب کا میڈیا بھی ان کا تذکرہ اس طور پر کرتا کہ افغانستان کا وہ عظیم رہنما دنیا سے رخصت ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء

مولانا مفتی عبد الستارؒ

حضرت مولانا مفتی عبد الستارؒ سمندری، فیصل آباد کے قریب ایک گاؤں کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دل میں علم دین کے حصول کا شوق ڈالا تو خاندانی ماحول اور روایات کے علی الرغم گھر سے دینی تعلیم کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ذہانت اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرما رکھی تھی اس کے ساتھ شوق اور محنت کا جوڑ ہوا تو توفیقِ خداوندی نے چند سالوں میں رسمی اور دینی تعلیم کے حصول کے مراحل طے کرا کے جامعہ خیر المدارس ملتان کے دارالافتاء تک پہنچا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جولائی ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا عزیر گلؒ

آزادیٔ ہند کے عظیم مجاہد مولانا عزیر گلؒ کی یاد میں شیر گڑھ مردان میں منعقد ہونے والا آج کا سیمینار اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ نئی نسل کو ان عظیم اسلاف کی جدوجہد اور قربانیوں سے واقف کرانے کی ایک کوشش ہے جنہوں نے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش پر برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف مسلسل جنگ لڑی اور جن کی جہد مسلسل کا ثمرہ ہے کہ آج یہ خطہ اسلامی روایات اور دینی حمیت کے امین کی حیثیت سے پورے عالم اسلام میں نمایاں نظر آرہا ہے اور جسے پوری دنیا میں اسلامی بنیاد پرستی کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۰۶ء

حضرت مولانا محمد یوسف خانؒ

مولانا محمد یوسف خانؒ کی ولادت ۱۹۱۹ء / ۱۹۲۰ء کی ہے۔ کشمیر کے علاقہ ’’منگ‘‘ کے ایک اچھے بااثر خاندان سے تعلق تھا۔ انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۰ء / ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا۔ حضرت والد صاحبؒ نے بھی اسی زمانے میں دورۂ حدیث کیا تھا۔ آپ مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے۔ مولانا محمد یوسفؒ کو اللہ تعالیٰ نے حق گوئی و بے باکی عطا فرمائی تھی۔ جب وہ دورۂ حدیث سے فراغت کے بعد واپس اپنے علاقے میں پہنچے تو اس وقت اہل کشمیر پر بڑی آزمائش کا دور تھا،ڈوگرہ فوج نے لوگوں پر مظالم کی انتہا کر دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۰ء

حضرت مولانا مفتی زین العابدینؒ

چند ماہ قبل فیصل آباد حاضری کے موقع پر حضرت مفتی صاحبؒ کے فرزند اکبر مولانا محمد یوسف اول کے ہمراہ زیارت کے لیے ان کے گھر گیا، تھوڑی دیر ان کی خدمت میں بیٹھا، باتیں سنیں اور دعا کی درخواست کی۔ نسیان کے مسلسل مرض کی وجہ سے پہچان نہیں پا رہے تھے، مگر گفتگو میں شفقت ونصیحت کا پہلو بدستور غالب تھا۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی، اس کے بعد ان کی زیارت کے لیے حاضری کا اتفاق نہ ہو سکا۔مجھے یاد نہیں کہ حضرت مفتی صاحبؒ کو پہلی بار کب دیکھا مگر یہ یاد ہے کہ بہت دیکھا اور بار بار دیکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جون ۲۰۰۴ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter