مغرب کو تیسرے نظام کی تلاش
روزنامہ جنگ لندن ۲۲ اگست ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں جناب آصف جیلانی نے ’’مغرب تیسری راہ کی کھوج میں‘‘ کے عنوان سے اپنے مضمون میں بتایا ہے کہ مغرب طویل سرد جنگ کے ذریعے مارکسی سوشلزم کا نظام ناکام ثابت کرنے، اور پھر مارگریٹ تھیچر کی آزاد معیشت کے نتائج میں سخت مایوسی کے سامنے کے بعد اب ایک تیسری راہ کا متلاشی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کنٹربری کی عالمی کانفرنس میں بشپ صاحبان کا ناروا مطالبہ
روزنامہ جنگ لندن نے ۸ اگست ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ کنٹربری میں منعقد ہونے والی مسیحی بشپ صاحبان کی عالی کانفرنس میں ایک قرارداد کے ذریعے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان میں توہینِ مذہب پر سزا کا قانون ۲۹۵بی اور ۲۹۵سی ختم کر دیا جائے۔ خبر کے مطابق اس کانفرنس میں دنیا بھر کے ایک سو ساٹھ ملکوں کے ساڑھے سات سو بشپ صاحبان شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ کی ڈرگز پالیسی اور چرچ آف انگلینڈ
لندن سے شائع ہونے والے ایک اردو روزنامہ ’’السلام علیکم پاکستان‘‘ نے ۱۵ جون ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ چرچ آف انگلینڈ نے اپنی نئی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ ہیروئن جیسے خطرناک ڈرگ کو ’’ڈی کریمینلائز‘‘ کر دیا جائے یعنی اسے جرم قرار دینے کی پالیسی ترک کر کے جائز تسلیم کر لیا جائے۔ رپورٹ میں حکومتِ برطانیہ کی ۱۹۶۰ء سے اب تک کی ڈرگز پالیسی پر شدید تنقید کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی معاشرہ اور اخلاق باختگی کا سمندر
روزنامہ جنگ لندن نے ۲۵ جون ۱۹۹۸ء کو رائٹر کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ ترکی کی دستوری عدالت نے ملک میں نافذ ضابطۂ تعزیرات کی دفعہ ۲۴۰ کو ختم کر دیا ہے جس میں زنا کی مرتکب عورت کی تین سال قید کی سزا رکھی گئی تھی۔ ترکی کے قانون میں مرد کے لیے زنا کی کوئی سزا نہیں ہے جبکہ عورت کو زنا کا مرتکب قرار پانے پر تین سال قید کی سزا دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق پر مغربی فلسفہ کی اجارہ داری
روزنامہ جنگ لندن ۳۰ جون ۱۹۹۸ء کے مطابق امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے حالیہ دورۂ چین کے موقع پر بیجنگ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کسی بھی ملک پر اپنے نظریات نہیں ٹھونسنا چاہتا، البتہ کئی حق ایسے ہیں جن کا بین الاقوامی سطح پر احترام کیا جانا چاہیے، ہر ملک میں لوگوں کو عزت سے رہنے، اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی‘‘
روزنامہ نیشن لندن نے ۴ جون ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ ۲۸ مئی کو جب پاکستان ایٹمی دھماکوں کے مراحل سے گزر رہا تھا، ایک پاکستانی نوجوان نے کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے جی ایچ کیو پینٹاگون کا انٹرنیٹ سسٹم جام کر دیا، اور انٹرنیٹ پر امریکی حکام کو پیغام دیا کہ وہ اسلامی ممالک بالخصوص پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت بند کر دیں ورنہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی ممالک میں سیاسی پناہ کا دھندہ
روزنامہ جنگ لندن نے ۶ اپریل ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں برطانوی اخبار ’’نیوز آف ورلڈ‘‘ کے حوالے سے ایک نئے پاکستانی مہدی کے بارے میں رپورٹ شائع کی ہے جس کا نام نہیں لکھا گیا، مگر مذکورہ برطانوی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ شخص پاکستان کے شہر گجرات کے رہنے والا ہے، پہلی بار ۱۹۸۳ء میں برطانیہ آیا اور کچھ عرصہ رہ کر امریکہ چلا گیا، پھر دوبارہ ۱۹۹۲ء میں لندن آیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور اسلامی تعلیمات
’’اسلام کے بنیادی ارکان مسلم ریاست کو کیا سبق سکھاتے ہیں؟‘‘ کے عنوان سے محترم افضال ریحان صاحب کے ایک حالیہ کالم کے ایک پہلو پر کچھ گزارشات پیش کر چکا ہوں، ایک اور پہلو کے حوالے سے چند معروضات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ محترم موصوف ارشاد فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر‘‘ کا جو فریضہ ہے، اس کو جتنا بھی بڑھا لیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی شدت پسندی کے خلاف امریکی مہم
روزنامہ جنگ لاہور ۱۶ مئی ۱۹۹۸ء کے مطابق امریکی کانگریس نے بھاری اکثریت کے ساتھ اس قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت ایسے تمام ممالک پر پابندیاں عائد کر دی جائیں گی جو مذہبی اعتبار سے جبر و استبداد کی کاروائیوں کے حامل ہوں، یا اس کی اجازت دیتے ہوں۔ وائس آف امریکہ کے مطابق قانون کے بل کے حق میں ۳۷۵ اور مخالفت میں ۴۱ ووٹ ڈالے گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر جان جوزف کی مبینہ خودکشی اور امریکی مطالبہ
بشپ آف فیصل آباد ڈاکٹر جان جوزف کی مبینہ خودکشی کی کہانی ابہام کا شکار ہوتی جا رہی ہے، اور اسے نہ صرف مسلمان راہنماؤں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ بعض سرکردہ مسیحی لیڈروں نے بھی اس کہانی کو مشکوک قرار دیا ہے۔ مبینہ طور پر ڈاکٹر جان جوزف نے ساہیوال میں سیشن کورٹ کی اس عدالت کے سامنے رات کی تاریکی میں دو افراد کی موجودگی میں احتجاجاً خودکشی کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 105
- 106
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »