وفاقی وزیر جناب کوثر نیازی اور دینی مدارس
یادش بخیر جناب کوثر نیازی وفاقی وزیر مذہبی امور طویل عرصہ کی معنی خیز خاموشی کے بعد گزشتہ دنوں پشاور میں چہکے ہیں اور ان کی گفتگو کا عنوان وہی پرانا ہے جو ان کے ذمہ ہے یعنی دینی مدارس اور حکومت کی پالیسی۔ نیازی صاحب نے جو کچھ فرمایا روزنامہ نوائے وقت ۳ جنوری ۱۹۷۷ء کے مطابق اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: مولانا مفتی محمود کا یہ الزام درست نہیں ہے کہ حکومت دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا چاہتی ہے۔ دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے اور تعلیمی بجٹ کو نقصان پہنچے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اہم فیصلے
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء و نظماء کا مشترکہ اجلاس ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ بروز بدھ صبح ساڑھے دس بجے دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، اس لیے اجلاس کی صدارت نائب امیر اول حضرت مولانا محمد شریف وٹو مدظلہ العالی نے فرمائی اور مندرجہ حضرات اجلاس میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شراب پر پابندی کا بل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی
گزشتہ روز قومی اسمبلی کے حوالہ سے ایک افسوسناک خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری کہ قانون سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ایک غیر مسلم رکن ڈاکٹر رامیش کمار نے ملک میں شراب پر پابندی کے بارے میں بل پیش کیا جو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رامیش کمار کا تعلق ہندو مذہب سے ہے اور وہ ایک عرصہ سے شراب پر پابندی کے حوالہ سے مسلسل آواز اٹھاتے چلے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شراب اسلام کی طرح ہندو مذہب میں بھی حرام ہے مگر پاکستان میں غیر مسلموں کے نام پر شراب کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے جو درست نہیں ہے، اسے ختم ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تھنک ٹینک نے بتایا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جو اس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور آئندہ بیس سالوں میں دو ارب بیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات جو مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافے کے حوالہ سے مسلمانوں کے لیے خوش کن ہے مغربی ممالک کے لیے اسی درجہ میں قابل تشویش بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری
وزارت قانون کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہو جانے کے ساتھ وہ تکلیف دہ بحث و مباحثہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جو ایک عرصہ سے توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالہ سے قومی حلقوں میں جاری تھا اور جس میں عالمی حلقے اور لابیاں بھی بھرپور شرکت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اس سمری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وزارت قانون سے مختلف اطراف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون پر کیے جانے والے اعتراضات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مبینہ دہشت گردی کے اصل اسباب
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ فروری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے جاپان کے تین روزہ سرکاری دورے کے موقع پر جاپانی سرمایہ کاروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’پاکستان میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے دہشت گردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور عالمی امن کو تقویت حاصل ہو گی۔‘‘ جہاں تک پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے بیرونی سرمایہ کاروں کو توجہ دلانے کا مسئلہ ہے یہ ملکی معیشت کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کے لیے حکمرانوں کی کوششوں کو ہم سراہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پنجاب میں مسجد مکتب اسکیم کا مکمل خاتمہ
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء کی خبر کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اسپیکر رانا محمد اقبال خان نے مسجد مکتب اسکیم کی بندش پر وزیر تعلیم مجتبیٰ شجاع الرحمن کو ہدایت کی ہے کہ اس پر نظر ثانی کی جائے۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ارکان اسمبلی وارث کلو، سعید اکبر نوانی، علی اصغر منڈا اور دیگر ارکان نے اسمبلی میں اس بات پر احتجاج کیا کہ مسجد مکتب سکیم کو صوبائی محکمہ تعلیم نے بند کر دیا ہے جو غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سوات میں دارالقضاء کا قیام
روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۱ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق سوات میں دارالقضاء کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ صوبائی سطح پر دار القضاء کے قیام کا مطالبہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد نے کیا تھا اور پھر تحریک طالبان اسلام کے مولوی فضل اللہ صاحب نے اس کے لیے آواز اٹھائی تھی۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی نے ’’شرعی نظام عدل ریگولیشن‘‘ باقاعدہ طور پر منظور کیا تھا - - - مکمل تحریر
پاپائے روم کا بے جا غصہ و اضطراب
پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے ایک بار پھر پاکستان میں توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ’’اس قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے اور مسیحی اقلیت اس کا نشانہ بن رہی ہے۔‘‘ جہاں تک قانون کے غلط طور پر استعمال ہونے کا تعلق ہے ہم اپنے مختلف مضامین میں یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ یہ محض بہانہ ہے، اس لیے کہ ہمارے معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کا تعلق صرف اس قانون سے نہیں ہے بلکہ دوسرے بہت سے قوانین کا بھی غلط استعمال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی پالیسیوں کا رخ متعین کیا جائے
گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل کو مختلف پہلوؤں اور زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر متنوع قسم کے تبصرے سامنے آرہے ہیں، اس قتل کو افسوسناک قرار دینے والے بھی موجود ہیں اور اس پر خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے والے بھی کم نہیں ہیں، مگر یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اس واقعہ نے صورتحال بالکل بدل ڈالی ہے اور نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پالیسیوں اور اندازوں میں ہلچل کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 190
- 191
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »