بالغ لڑکی کے نکاح کا آزادانہ حق اور خاندانی نظام
روزنامہ جنگ لاہور ۱۵ جنوری ۲۰۰۵ء کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے محترم جسٹس چوہدری مزمل احمد خان نے گوجرانوالہ میں ینگ لائرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کے موقع پر روزنامہ جنگ کے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لڑکی بالغ ہو، اس کا کوئی شناختی کارڈ بنا ہو اور اس نے اپنی آزاد مرضی سے عدالت میں یا کسی مسجد میں نکاح کیا ہو، اس کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدود شرعیہ کے قوانین اور نیا حکومتی مسودہ قانون
روزنامہ نوائے وقت لاہور ۳ جنوری ۲۰۰۵ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سیکرٹری محترم ڈاکٹر امین نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر صاحب نے گزشتہ دنوں دانشوروں کے ایک اجلاس میں حدود آرڈیننس کے حوالہ سے جس نئے مجوزہ مسودہ قانون کا تعارف کرایا ہے اس کے مطابق زنا کو ناقابل دست اندازیٔ پولیس جرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جھگی نشینوں کی تعلیم و اصلاح کا ایک اچھا منصوبہ
۱۶ دسمبر کو مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں غیث ویلفیئر اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کا ایک سیمینار ہوا جس میں مجھے بطور خاص شرکت کی دعوت دی گئی اور میں نے ٹرسٹ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے علاوہ کچھ گزارشات بھی پیش کیں۔ یہ ٹرسٹ چند علماء کرام اور ان کے رفقاء پر مشتمل ہے جن میں ہمارے بعض شاگرد اور ساتھی بھی شریک ہیں جو ’’جھگی تعلیمی پروجیکٹ‘‘ کے عنوان سے خانہ بدوشوں میں اصلاح و ترقی اور تعلیم و تربیت کے حوالہ سے سرگرم عمل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ ۔ عظیم مؤرخ اور مفکر
جمعیۃ علماء ہند کے قیام کو ایک صدی مکمل ہونے پر انڈیا میں صد سالہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اور جمعیۃ کے بزرگ اکابر کی یاد میں مختلف سیمینارز منعقد ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جمعیۃ علماء ہند کے سرگرم راہنما، مؤرخ اور مفکر حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ کے حوالہ سے منعقدہ سیمینار کی مناسبت سے حضرتؒ کے ساتھ عقیدت اور چند ملاقاتوں کے تاثرات پر مشتمل کچھ گزارشات قلمبند ہوگئیں جو قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی تعلیم کا نظام اور قومی دھارا
روزنامہ پاکستان لاہور ۲۴ نومبر ۲۰۰۶ء کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے کہا ہے کہ حکومت دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو قومی دھارے میں لانا چاہتی ہے اور اس حوالہ سے تین پہلوؤں پر غور کیا جا رہا ہے۔ان میں پہلا اور اہم قدم یہ ہے کہ ملک بھر میں مدرسوں کے قیام کے لیے ٹھوس طریقہ کار اپنایا جائے، دوسرا پہلو یہ ہے کہ نرسری کی سطح پر نصاب میں چند اہم مضامین، ریاضی، سائنس اور انگلش کو بھی شامل کیا جائے، جبکہ تیسرا اور آخری پہلو مدرسوں کو قومی دھارے میں لانا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ کی منظوری اور مجلس تحفظ حدود اللہ پاکستان کا قیام
’’تحفظ حقوق نسواں بل‘‘ بالآخر قومی اسمبلی اور سینٹ نے منظور کر لیا ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ ملک کے دینی حلقوں کے متفقہ موقف اور اس سلسلہ میں حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی مشاورت سے قائم ہونے والی ’’علماء کمیٹی‘‘ کی سفارشات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے بلکہ حدود قرآنی میں عملاً ردوبدل کے باوجود اس بل کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیا جا رہا ہے۔ اور مقتدر ترین حلقوں کی طرف سے تحدی کے انداز میں یہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ بھی قانون کے معاملات میں دینی حلقوں یا بقول ان کے انتہا پسندوں کی کوئی بات نہیں چلنے دی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برطانیہ میں عورتوں کے حجاب کا مسئلہ
فرانس کے بعد اب برطانیہ میں بھی مسلمان عورتوں کے حجاب کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا ہے اور مسلمان خواتین کو حجاب سے باز رکھنے کی مہم میں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی میدان میں کود پڑے ہیں۔ اس سے قبل فرانس میں یہ سوال کھڑا ہوا تھا اور حکومت فرانس نے مسلمان عورتوں کا یہ حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اسلام کے شرعی احکام کے مطابق پردہ کریں اور شرعی حجاب استعمال کریں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر عبدالقدیر کی کردارکشی کی افسوسناک مہم
ڈاکٹر عبدالقدیر ہمارے ملک کے محترم سائنس دان ہیں جو اس حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی اس عظیم محنت کے نتیجے میں آج ہمارے حکمران پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر عالمی دباؤ پر ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تصوف اور روشن خیالی
گزشتہ دنوں پاکستان میں تصوف کے فروغ کے لیے قومی سطح پر ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے جس کا سرپرست اعلیٰ صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو چنا گیا ہے، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اس کے چیئرمین ہوں گے۔ اس کونسل کے اغراض و مقاصد میں بتایا گیا ہے کہ رواداری، انسان دوستی اور اعتدال پسندی کو عام کرنے میں ’’صوفی اسلام‘‘ نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے اور آج ان باتوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاپائے روم کا انتہائی افسوسناک بیان
کیتھولک مسیحیوں کے عالمی راہنما اور پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ نے گزشتہ دنوں جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ایک پرانے بازنطینی مسیحی بادشاہ عمانوتیل دوم کا یہ جملہ اپنی تائید کے ساتھ دہرا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو اضطراب کی کیفیت سے دو چار کر دیا ہے کہ حضرت محمدؐ نے اپنے پیروکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ مذہب اسلام کو تلوار کی زور سے دنیا میں پھیلائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 207
- 208
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »