اور اب شام کی باری ہے!
بغداد پر قبضہ کے ساتھ ہی امریکی حکمرانوں نے شام کی حکومت کو دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور اس کے خلاف وہی الزامات دہرائے جا رہے ہیں جو اس سے قبل عراق کی حکومت کے خلاف ایک عرصہ سے دہرائے جا رہے تھے۔ عراق پر الزام تھا کہ اس نے مہلک کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ چھپا رکھا ہے، اقوام متحدہ کے معائنہ انسپکٹروں نے عراق کے بار بار معائنہ اور دورہ کے بعد اس کی واضح تردید کی کہ انہیں عراق کے پاس ممنوعہ ہتھیاروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عراق پر امریکی اتحاد کا قبضہ
امریکہ نے برطانیہ اور دوسرے اتحادیوں کے تعاون سے بغداد پر قبضہ کر لیا ہے اور عراق پر اپنی حکومت مسلط کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی اتحاد جس قسم کے خوفناک اسلحہ سے لیس ہو کر عراق پر حملہ آور ہوا تھا اور جو وسائل اس کی پشت پر تھے ان کے پیش نظر عراقی فوج کے اس حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کہ اس نے مسلسل تین ہفتے امریکی اتحاد کا مقابلہ کیا اور باوجود اس کے کہ گزشتہ ایک عشرہ سے عراق کی اقتصادی ناکہ بندی جاری تھی اور عراق پر کسی قسم کے مہلک ہتھیار بنانے پر پابندی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شمالی علاقہ جات کے مسلمانوں کی حالت زار
روزنامہ اوصاف اسلام آباد نے ۱۱ مارچ ۲۰۰۳ء کو اے، پی، پی کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں ایک بار پھر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے ہیں اور تازہ جھٹکوں میں درجنوں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ دیامر شمالی علاقہ جات کا ضلع ہے جس میں اہل سنت کی اکثریت ہے جبکہ شمالی علاقہ جات کے دوسرے اضلاع میں مجموعی طور پر اہل تشیع، آغا خانی اور نور بخشی فرقوں کو اکثریت حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عراق پر امریکی حملے کا مقصد
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بالآخر عراق پر حملہ کردیا ہے، تادم تحریر جنگ جاری ہے اور اس میں شدت پیدا ہو رہی ہے، ممکن ہے ان سطور کی اشاعت تک جنگ کا کوئی واضح رخ سامنے آچکا ہو مگر ابھی تک عراقی فوج مختلف محاذوں پر مزاحمت کر رہی ہے اور عراقی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس جنگ میں عراق پر قبضے کا ہدف حاصل نہیں کر پائے گا۔ یہ حملہ دراصل اسی عسکری کاروائی کا تسلسل ہے جس کا آغاز کویت پر عراق کے قبضے کے بعد خلیج عرب میں امریکی اتحاد کی فوجوں کی آمد سے ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیت اللحم میں ایک سوگوار کرسمس
روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء کی ایک خبر کے مطابق اس سال ۲۵ دسمبر کو کرسمس کے موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے شہر بیت اللحم میں ان کی یاد میں جو ایک دو تقریبات منائی جا سکیں ان میں دعائے نیم شب تھی جس میں چند سو عبادت گزاروں نے حصہ لیا، شہر میں خوشیوں کی بجائے سوگ کا سا ماحول رہا، میونسپل کمیٹی کے عہدیداروں نے اسرائیلی فوج کی موجودگی کی وجہ سے سب تقریبات منسوخ کردی تھیں اور صرف دعائیہ تقریبات رہنے دیں۔ اسرائیلیوں نے بعد میں اپنی فوج شہر کے وسط سے دو دن کے لیے ہٹا لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شخصی غلامی کا نیا ایڈیشن
روزنامہ جنگ راولپنڈی نے ۳۱ دسمبر ۲۰۰۲ء کی اشاعت میں امریکی محکمہ خارجہ کی ایک رپورٹ کے حوالہ سے بتایا ہے کہ ہر سال دنیا میں عصمت فروشی اور جبری مشقت کے لیے چالیس سے ساٹھ لاکھ افراد کی خرید و فروخت ہوتی ہے اور تقریباً ہر سال پچاس ہزار افراد کو غیر قانونی طور پر امریکہ سمگل کیا جاتا ہے جن میں زیادہ تر تعداد کمسن بچیوں کی ہوتی ہیں جنہیں زبردستی عصمت فروشی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے لاکھوں انسان بہتر مستقبل کی تلاش میں ۲۱ ویں صدی کے ’’غلامی‘‘ کے تاجروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلام آباد میں انسانی حقوق کا سہ روزہ
گزشتہ ہفتہ کے آخری تین دن اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ماحول میں گزرے، حافظ محمد حذیفہ خان سواتی اور مفتی محمد عثمان جتوئی ہمراہ تھے۔ ہم نے شریعہ اکادمی کے تحت منعقد ہونے والی تین روزہ ورکشاپ میں شرکت کی جو ’’حقوق انسانی کا قانون اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر منعقد ہوئی۔ جس کے لیے شریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مشتاق احمد اور ڈاکٹر حبیب الرحمان کا ذوق و محنت بڑا محرک تھا جبکہ معاونین میں مولانا محمد ادریس اور جناب اصغر شہزاد کی مساعی کارفرما تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسمانی مذاہب کے درمیان مکالمہ کے لیے قرآنی اصول
مجھے توحید کی اہمیت اور اس پر ہمارے ایمان و عقیدہ کی بنیاد کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور میری اس کمزوری اور مجبوری سے آپ حضرات واقف ہیں کہ کسی بھی موضوع پر بات کرنے سے پہلے معروضی حالات اور عالمی تناظر کو ضرور دیکھتا ہوں اور اسے سامنے رکھتے ہوئے گفتگو کی کوشش کرتا ہوں۔ آج کی دنیا میں مذاہب و ادیان کے درمیان مکالمہ اور ڈائیلاگ کی بات چل رہی ہے اور مختلف مذاہب کے دینی راہنماؤں کی مشترکہ کانفرنسیں ہو رہی ہیں، ابھی اسلام آباد میں ایک کانفرنس ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عید پر مختلف بچوں کا اقدام خودکشی
روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۴ نومبر ۲۰۰۴ء کی اشاعت میں یعنی عید کے روز یہ خبر شائع کی ہے کہ لاہور میں عید کے موقع پر نئے کپڑے اور چوڑیاں وغیرہ نہ ملنے پر خودکشی کا اقدام کیا ہے، خبر کے مطابق کوٹ لکھپت کے رہائشی عمران کی بیٹی نسرین نے عید کے کپڑے نہ ملنے پر گندم میں رکھی جانے والی گولیاں کھالیں، اور بادامی باغ کی آسیہ اور شالیمار نے بھی عید کی کی چوڑیوں اور کپڑوں کے لیے والدین سے پیسے نہ ملنے پر زہریلی گولیاں نگل لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
چناب نگر کی مسجد کا تنازعہ۔ وزیر اعلیٰ نوٹس لیں
قادیانی ہیڈ کوارٹر چناب نگر میں مسجد کے تنازعہ پر قادیانیوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، اس سلسلہ میں ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ کی طرف سے موصولہ رپورٹ کے مطابق یہ ہے کہ چناب نگر کی مرکزی سڑک پر پولیس چوکی کافی عرصہ سے موجود تھی جس میں مسلمانوں کی ایک پختہ مسجد بھی بنائی گئی تھی، قادیانیوں کی کوشش رہی ہے کہ وہ پولیس چوکی اور مسجد قادیانیوں کی تحویل میں دے دی جائے جسے مسمار کرکے وہ اسے جامعہ احمدیہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 222
- 223
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »