پوپ جان پال کی اپیل

روزنامہ جنگ ۳ مئی ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق کیتھولک مسیحی فرقہ کے عالمی سربراہ پوپ جان پال نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ اپنی مسیحی جڑیں دوبارہ دریافت کرے، پوپ نے یہ بات یورپی یونین میں دس نئے ملکوں کی شمولیت کے موقع پر کہی ہے، اس سے پہلے وہ اصرار کر چکے ہیں کہ یورپی یونین میں عیسائی مذہب کو شامل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

سزائے موت کے خاتمہ کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد

روزنامہ جنگ لاہور ۲۲ اپریل ۲۰۰۴ء کی خبر کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے سزائے موت کے خلاف قرار داد اکثریت سے منظور کر لی ہے۔ قرار داد کے حق میں ۲۹ ووٹ آئے جبکہ پاکستان، سعودی عرب، امریکہ، جاپان، چین، بھارت اور مسلم ممالک سمیت ۱۹ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ۵ ممالک بشمول برکینا فاسو، کیوبا، گوئٹے مالا، جنوبی کوریا اور سری لنکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۴ء

حماس کے نئے سربراہ کی شہادت

فلسطینی مجاہدین کے سربراہ الشیخ احمد یاسین شہیدؒ کے بعد ان کے جانشین کو بھی شہید کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی حکومت نے اپنے اس کارنامے کو فخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی لیڈروں کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے جنہیں اس طرح قتل کر دیا جائے گا۔ ادھر امریکی صدر بش نے اسرائیلی حکومت کی اس وحشیانہ کاروائی کو ’’حق دفاع‘‘ قرار دے کر اس کی حمایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۴ء

تعلیمی نصاب اورحکومتی وضاحتیں

سکولوں اور کالجوں کے نصاب تعلیم میں اسلامی حوالوں سے مبینہ تبدیلیوں کا مسئلہ ان دنوں قومی سطح پر زیر بحث ہے اور حکومتی حلقوں کی وضاحتوں کے باوجود اس سلسلہ میں شکوک و شبہات اور بے اعتمادی کی فضا بدستور موجود ہے۔ ملک کے دینی و تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نصاب کی جو نئی کتابیں سامنے آئی ہیں ان میں متعدد قابل اعتراض باتیں موجود ہیں اور بعض مقامات پر قرآنی سورتیں اور آیات نصاب سے خارج کرنے کے علاوہ نئی کتابوں میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جس کا مقصد نئی پود کے اذہان کو دینی پابندیوں سے آزاد کرنا اور ملک کے نصاب تعلیم کو سیکولر رُخ دینا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۴ء

تحریکاتِ آزادی کا جہاد اور صدر جنرل پرویز مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ’’علماء و مشائخ کنونشن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے جہاں اور بہت سی قابل توجہ باتیں کی ہیں وہاں مختلف مسلم حلقوں کی جہادی سرگرمیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ یہ سرگرمیاں دہشت گردی کے زمرہ میں آتی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں جہاد کا اعلان صرف حکومت کا حق ہے اور پرائیویٹ طور پر جہاد کے نام سے کوئی عمل ان کے نزدیک اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

جنسی آوارگی کی صدائے بازگشت

روزنامہ جنگ لاہور نے ۲۵ فروری ۲۰۰۴ء کو سی این این کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک انٹرویو میں ہم جنس پرستوں کی شادی پر پابندی کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اس معاملے میں مزید چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے، انہوں نے امریکی آئین میں ترمیم کے لیے کہا جس سے ہم جنس پرستوں پر پابندی لگائی جائے۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

ایٹمی سائنسدانوں کا معاملہ

پاکستان کے ایٹمی سائنسدانوں پر ابتلا اور آزمائش کا جو دور گزر رہا ہے اس نے ہر محب وطن شہری کو الم و اضطراب سے دو چار کر رکھا ہے اور ذہنوں میں خودبخود یہ سوال ابھر رہا ہے کہ ایٹمی سائنسدانوں کے ساتھ اس سلوک کے بعد ایٹمی پروگرام اور صلاحیت کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ڈاکٹر عبدالقدیر سمیت ممتاز سائنسدانوں پر الزام یہ ہے کہ انہوں نے ایٹمی پھیلاؤ جیسے ’’ناقابل معافی‘‘ جرم کا ارتکاب کیا اور ایٹمی ٹیکنالوجی بعض ملکوں کو منتقل کرنے میں حصہ لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

دینی مدارس کی اسناد کا مسئلہ

اخباری اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کے اسپیکر، سینٹ کے چیئرمین اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے متحدہ مجلس عمل کے متعدد منتخب ارکان پارلیمنٹ کی ان تعلیمی اسناد کو چیلنج کر دیا گیا ہے جن کی بنیاد پر انہوں نے گزشتہ انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ صدر پرویز مشرف نے ملک کے آئین میں ترامیم کرتے ہوئے جو نئے ضابطے نافذ کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ سینٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لیے گریجویشن کی شرط عائد کردی گئی تھی جس کے تحت جو شہری بی اے نہیں ہے وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

سرحد اسمبلی کا شریعت ایکٹ

سرحد اسمبلی نے گزشتہ دنوں ’’شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری دی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف پروپیگنڈے کی ایک نئی مہم کا آغاز ہوگیا ہے۔ شریعت ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبہ سرحد میں دستور کے مطابق صوبائی اختیارات کی حدود میں تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا اور قرآن و سنت کے احکام کی روشنی میں انتظامی و عدالتی امور چلائے جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد میں نفاذ شریعت کے اقدامات

روزنامہ اوصاف اسلام آباد ۲۱ اپریل ۲۰۰۳ء کے مطابق صوبہ سرحد کی اسمبلی میں نفاذ شریعت ایکٹ پیش کیا جا رہا ہے جو صوبہ سرحد کے مشہور عالم دین مولانا مفتی غلام الرحمن کی سربراہی میں نفاذ شریعت کونسل کی سفارشات کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے اور حسبہ ایکٹ اور مصالحتی کمیٹی ایکٹ کی صورت میں ایوان میں پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، ان کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کیے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter