چند تقریبات اور مجالس میں شرکت

آج کا کالم چند تقریبات اور مجالس میں شرکت کے حوالہ سے ہے۔ ۲۸ اکتوبر کو، جو میرا یوم پیدائش بھی ہے، اقراء روضۃ الاطفال گوجرانوالہ زون کی سالانہ تقریب تھی، بچوں اور بچیوں کے لیے قرآن کریم اور ضروریات دین کے ساتھ ساتھ سکول کی عصری تعلیم کا یہ وسیع نیٹ ورک ملک بھر میں کام کر رہا ہے جس کا آغاز مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ نے اکابر علماء کرام کی سرپرستی میں ۱۹۸۴ء میں کیا تھا۔ یہ تعلیمی نیٹ ورک معیاری تعلیم اور قابل اعتماد دینی ماحول کے باعث اولاد کو دین و دنیا دونوں کی تعلیم دلوانے کے خواہشمند مسلمانوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ نومبر ۲۰۱۸ء

پشاور اور مردان کا تعلیمی سہ روزہ

عید الاضحٰی کے بعد ایک سہ روزہ تبلیغی جماعت کے ساتھ فیصل آباد میں لگا کر مجلس صوت الاسلام کلفٹن کراچی کی دعوت پر تین دن پشاور اور مردان میں گزارنے کا موقع ملا۔ مجلس صوت الاسلام کراچی کا ایک مرکز پشاور میں بھی ہے جہاں فارغ التحصیل علمائے کرام کے لیے ایک سالہ تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے، اس سے قبل بھی ایک بار مجھے وہاں حاضری کا موقع مل چکا ہے۔ مولانا محمد حلیم صدیقی اس مرکز کے نگران ہیں اور مختلف دینی اداروں اور جامعات کے سینئر اساتذہ متنوع موضوعات پر اپنی تحقیقات سے دینی مدارس کے فضلاء کو آگاہ کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۱۲ء

اقوام متحدہ کا ’’ملالہ ڈے‘‘

اقوام متحدہ نے ۱۰ نومبر ۲۰۱۲ء کو ’’ملالہ ڈے‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا اور دنیا بھر میں یہ ڈے منایا گیا۔ اس موقع پر ملالہ یوسف زئی کو تعلیم کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا جس کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ مسلمانوں میں اور پاکستان میں تعلیم کے فروغ اور تعلیم کی آزادی کے لیے ملالہ یوسف زئی ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا مسلم سوسائٹی میں تعلیم کا آغاز اور تعلیمی شعور کی بیداری ملالہ یوسف زئی سے شروع ہو رہی ہے اور اس کی مظلومیت پاکستان میں عورتوں کی تعلیم کا نقطۂ آغاز بن رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۱۲ء

قومی و ملی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

راقم الحروف نے ملک کی عمومی صورتحال اور پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت و تشخص کے خلاف سیکولر حلقوں کی مہم کا تذکرہ کیا اور گزارش کی کہ بین الاقوامی اور ملکی سیکولر حلقوں کی سرگرمیوں سے واقف رہنے کی ضرورت ہے اور ان کے سدباب کے لیے سنجیدہ اور مربوط محنت ہماری ذمہ داری ہے۔ میں نے عرض کیا کہ اس وقت سیکولر حلقے ملکی اور عالمی سطح پر ان اہداف کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہیں، چنانچہ اس حوالہ سے چند اہم امور خصوصاً قابل توجہ ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ نومبر ۲۰۱۲ء

سزائے موت ختم کرنے کی مہم اور آسمانی تعلیمات

گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے دفتر سے فون پر مجھ سے پوچھا گیا کہ حکومت ملک کے قانونی نظام میں موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں بل لانے کی تیاری کر رہی ہے، آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے اجمالاً عرض کیا کہ: اگر ایسا کیا گیا تو یہ قرآن کریم کے صریح حکم سے انحراف ہوگا اس لیے کہ قرآن کریم میں قصاص کے قانون کو مسلمانوں کے فرائض میں شمار کیا گیا ہے (البقرہ ۱۷۸)، پھر یہ دستور پاکستان کے بھی منافی ہوگا اس لیے کہ دستور میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنا سکے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ نومبر ۲۰۱۲ء

آسیہ مسیح کیس: حالیہ بحران اور وزیراعظم کا خطاب

تین سال قبل رہائش کی تبدیلی کے بعد سے معمول ہے کہ نماز فجر الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں پڑھاتا ہوں اور اس کے بعد بخاری شریف کا مختصر درس ہوتا ہے، جبکہ اس سے قبل مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں تقریباً چالیس برس تک نماز فجر پڑھانے اور اس کے بعد قرآن و حدیث کا درس دینے کی سعادت حاصل رہی ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ آج کے درس میں حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت گفتگو کا موضوع تھی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جب اسلام کی بیعت لی تو اس میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ’’والنصح لکل مسلم‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۱۸ء

چیف جسٹس آف پاکستان سے ایک مؤدبانہ سوال

چیف جسٹس آف پاکستان محترم جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب نے گزشتہ دنوں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا اور ملک کے دستور سے ہٹ کر کوئی بات قبول نہیں کی جائے گی۔ چیف جسٹس محترم کا یہ ارشاد سو فیصد درست ہے اور ملک و قوم کے دستور و قانون کے ساتھ ساتھ اس کی وحدت و استحکام کا بھی یہی تقاضہ ہے مگر ہم اس سلسلہ میں چیف جسٹس آف پاکستان کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا موجودہ حالات کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۸ء

انبیاء کرامؑ کی دعوت کے مختلف مناہج

اللہ تعالیٰ کے پیغمبر، نبی اور رسول کا بنیادی منصب داعی کا ہے کہ وہ نسل انسانی کے کس حصہ کو اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید کی طرف دعوت دیتے تھے، اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس بندگی کو شرک سے محفوظ رکھنا سب سے پہلی دعوت ہے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت سے اس کے نبی اور رسول کی اطاعت اس دعوت کا دوسرا حصہ ہے جبکہ اس دنیا کو عارضی زندگی سمجھتے ہوئے آخرت کی اصل اور ابدی زندگی کی تیاری کرنا جو انسان کی اصل ذمہ داری ہے اس کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنا دعوت کا تیسرا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۱۸ء

قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس

ہمارے ہاں یہ روایت سی بن گئی ہے کہ حکومت بدلتی ہے تو پہلی حکومت کے اچھے کاموں کی بساط بھی لپیٹ دی جاتی ہے اور ہر معاملہ میں نئی حکومت الگ پالیسی طے کر کے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ سے کام شروع کرنے کو ترجیح دیتی ہے جس سے کوئی کام بھی فطری رفتار سے آگے نہیں بڑھتا اور ایڈہاک ازم کا ماحول قائم رہتا ہے۔ اس لیے جب ’’قومی علماء و مشائخ کونسل پاکستان‘‘ کے اجلاس کا دعوت نامہ ملا تو خوشگوار حیرت ہوئی کہ سابقہ حکومت کے ایک اچھے کام کے تسلسل کو قائم رکھا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ نومبر ۲۰۱۸ء

قراردادِ مقاصد اور تنویر قیصر شاہد

روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار تنویر قیصر شاہد ارشاد فرماتے ہیں: ’’برصغیر پاک و ہند کے علمائے کرام اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سیاست میں حصہ لیتی رہی ہیں، تشکیل پاکستان کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا ہے، حتٰی کہ وہ مذہبی جماعتیں اور علمائے کرام بھی دھڑلے سے سیاسی و انتخابی عمل میں شرکت کرتے رہے جنہوں نے حضرت قائد اعظم، مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اب بنے بنائے پاکستان پر قبضہ کر کے اپنے ایجنڈے اور نظریے کی تنفیذ چاہتی ہیں۔ ۱۹۴۹ء میں قرارداد مقاصد کی منظوری اسی نیت کا شاخسانہ تھی۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اکتوبر ۲۰۱۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter