دینی مدارس کی اصلاح و امداد کا مسئلہ

دینی مدارس کی اصلاح کے نام سے حکومتی پروگرام کا آغاز ہوگیا ہے جس کے تحت اربوں روپے کی مالی امداد کا سلسلہ شروع ہے اور حکومت نے دینی مدارس کے وفاقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے براہ راست دینی مدارس کی مالی امداد کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا کہ تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاق جو پوری وحدت اور ہم آہنگی کے ساتھ دینی مدارس کے آزادانہ نظام میں سرکاری مداخلت کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں انہیں غیر مؤثر کر دیا جائے اور اصلاح اور امداد کے نام سے دینی مدارس کے ساتھ براہ راست رابطہ کرکے انہیں سرکاری پروگرام میں شریک کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۴ء

بعض ریاستی اداروں کا سوال طلب طرز عمل

گیارہ اور بارہ ربیع الاول کو اسلام آباد میں وفاقی وزارت مذہبی امور کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی قومی سیرت کانفرنس میں شرکت کا دعوت نامہ مجھے موصول ہوگیا تھا اور میں نے شرکت کا فیصلہ کر کے اپنی عادت کے مطابق اس سے پہلے اور بعد اس علاقہ میں چند مزید پروگرام بھی سفر کی ترتیب میں شامل کر لیے تھے، مگر دو روز قبل ایک واقعہ ہوا جس کے باعث میں نے کانفرنس میں شرکت کا ارادہ منسوخ کر دیا البتہ دیگر سب پروگراموں میں حاضری دی اور دو تین دن مسلسل اسلام آباد میں ہی رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۱۸ء

سیرت کانفرنس میں وزیراعظم صاحب کی تقریر

وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے جو گفتگو کی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کے حوالے سے، ریاستِ مدینہ کے حوالے سے، فلاحی ریاست کے حوالے سے، اور اس حوالے سے کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کی ضرورت ہے، اور یہ بات کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی توہین اور مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا یہ دونوں آزادی رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتے، اور اس پر پاکستان کی حکومت کا یہ اعلان کہ ہم دنیا بھر میں کمپین کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۸ء

حضرت حاجی عبد الوہابؒ

حضرت حاجی عبد الوہابؒ کی وفات کا صدمہ دنیا بھر میں محسوس کیا گیا اور اصحاب خیر و برکت میں سے ایک اور بزرگ ہم سے رخصت ہوگئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ حاجی صاحب محترم دعوت و تبلیغ کی محنت کے سینئر ترین بزرگ تھے جنہوں نے حضرت مولانا محمد الیاس دہلویؒ، حضرت مولانا محمد یوسف دہلویؒ، حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ اور حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلویؒ جیسے بزرگوں کی معیت و رفاقت کی سعادت حاصل کی اور زندگی بھر اسی کام میں مصروف رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ نومبر ۲۰۱۸ء

عراق میں امریکی مقاصد

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ جون ۲۰۰۳ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے حال ہی میں سبکدوش ہونے والے صدارتی مشیر اینڈ بیئرز نے ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے عراق پر جنگ مسلط کرکے وہاں کے عوام کی ذہنی و افرادی قوت اور دولت کے تحفظ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے جس کے بہت برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۳ء

فرانسیسی وزیر داخلہ کی مسلمانوں کو دھمکی

روزنامہ جنگ لاہور ۱۸ اپریل ۲۰۰۳ء کے مطابق فرانس کے وزیر داخلہ نکلس سرکوزی نے مسلم راہنماؤں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ فرانس میں اسلامی اقدار کے فروغ کی کوشش نہ کریں ورنہ ایسے شدت پسندوں کو فرانس سے نکال دیا جائے گا۔ فرانس کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار ہے اور دنیا میں مغربی جمہوریت کے سفر کا آغاز انقلاب فرانس سے ہوا تھا لیکن دنیا بھر میں جمہوریت کا سبق پڑھانے والے یورپی لیڈر اسلامی اقدار کے بارے میں اس قدر حساس ہوگئے ہیں کہ انہیں اپنے ملکوں میں اسلامی اقدار کا فروغ کسی صورت میں گوارا نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

’’افادات امام اہل سنتؒ‘‘

والد گرامی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت (جولائی تا اکتوبر ۲۰۰۹ء) میں بہت سے احباب و حضرات نے اپنے جذبات و تاثرات کے ساتھ ساتھ حضرت مرحوم کے احوال و آثار کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ان کے افادات خود ان کے قلم سے پچاس کے لگ بھگ کتابوں میں محفوظ ہیں جن سے پورے عالم اسلام میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔ بہت سے خطبات جمعہ مولانا قاری گلزار احمد قاسمی نے کتابی شکل میں مرتب کر کے پیش کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲۰۱۴ء

سرحد کی صوبائی حکومت کے اعلانات

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۲ جنوری ۲۰۰۳ء کی خبر کے مطابق صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے سرکاری سکولوں میں میٹرک تک تعلیم مفت دی جائے گی۔ اجلاس میں دیگر کئی اہم فیصلوں کے علاوہ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ صوبہ میں اردو سرکاری زبان ہوگی اور صوبائی سطح پر تمام پیشہ وارانہ اور مقابلے کے دیگر امتحانات اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں ہوا کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

’’رانجھا سب دا سانجھا‘‘

والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتیؒ کا تعلق ہزارہ کے علاقہ شنکیاری میں آباد یوسف زئی سواتی قبیلہ سے تھا۔ دونوں بھائیوں نے ۱۹۴۲ء میں دارالعلوم دیوبند کے دورۂ حدیث شریف میں شمولیت کی سعادت حاصل کی، اس سال شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ گرفتار ہوگئے تھے۔ والد گرامیؒ بتایا کرتے تھے کہ حضرت مدنیؒ کی گرفتاری کے بعد طلبہ نے ہڑتال کر دی اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جن کی قیادت کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۲۰۱۸ء

متحدہ مجلس عمل کا ملین مارچ اور مولانا سمیع الحق شہیدؒ

حضرت مولانا سمیع الحق شہیدؒ اہل حق کے جری نمائندہ اور اکابر کی روایات کے امین تھے جن کی المناک شہادت سے ہر باشعور مسلمان دکھی اور غمزدہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ نئی نسل کے لیے مولانا سمیع الحقؒ کی جدوجہد اور خدمات کے مختلف پہلوؤں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان علماء کرام اور دینی کارکن ان سے راہنمائی حاصل کر سکیں۔ اس محفل میں چند پہلوؤں کی طرف مختصرًا اشارہ کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۲۰۱۸ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter