ابلاغیات کی اہمیت اور روزنامہ اسلام

سیدنا حضرت موسٰی علیہ السلام کو جب اللہ تعالٰی نے کوہ طور پر نبوت سے سرفراز فرمایا اور بنی اسرائیل کی راہنمائی اور آزادی کی ذمہ داری سونپی تو حضرت موسٰیؑ نے اللہ رب العزت سے درخواست کی کہ میرے بھائی ہارونؑ کو بھی نبوت عطا فرما کر میرا مددگار بنا دیں۔ اس کی ایک وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ ’’ھو افصح منی لساناً‘‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے اور لوگوں کو بات سمجھانے میں میرا اچھا مددگار ثابت ہوگا۔ حضرت موسٰیؑ کی زبان میں لکنت تھی جس کی وجہ سے انہیں مسلسل بات کرنے میں دقت ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اکتوبر ۲۰۱۱ء

ملکی مسائل اور نفاذ شریعت کی جدوجہد ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی نے ملک کی موجودہ صورتحال اور دینی جدوجہد کے حوالے سے اہم امور پر مشاورت کے لیے ۶ اکتوبر کو کونسل کے اہم راہنماؤں کو ’’مرکز حافظ الحدیثؒ‘‘ حسن ابدال میں طلب کیا اور مشاورت کم و بیش دو گھنٹے جاری رہی۔ اجلاس مولانا درخواستی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا حافظ مہر محمد، مولانا عبد الرزاق، مولانا قاری عبید اللہ عامر، مولانا صلاح الدین فاروقی، مولانا رشید احمد درخواستی، مولانا مفتی سیف الدین گلگتی، مولانا محمد عمر عثمانی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۱۱ء

ماڈل مدارس ۔ چند غور طلب پہلو

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ میں ۲۵ ستمبر ۲۰۱۱ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق: ’’کروڑوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے ماڈل مدرسے میں پانچ سال بعد بھی تعلیمی سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔ ۸ کنال رقبہ پر تعمیر مدرسے میں نشئیوں، آوارہ کتوں اور بلیوں نے ڈیرے ڈال لیے۔ سابق وزیر اعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے دور حکومت میں پنجاب بھر میں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر شہروں میں طلبہ و طالبات کو دینی تعلیم سے روشناس کروانے کے لیے ماڈل دینی مدرسے تعمیر کروائے گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ ستمبر ۲۰۱۱ء

ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات و مسائل

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر ۱۸ ستمبر کو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کی مشکلات و مسائل‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جو صبح ساڑھے دس بجے شروع ہو کر چار بجے تک جاری رہا۔ اس سال اکادمی میں دو نئی کلاسوں کا آغاز کیا گیا ہے، ایک کلاس حفظ قرآن کریم کی ہے جس میں حفظ کے ساتھ مڈل تک عصری تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے اور دوسری درس نظامی کے اولٰی اور ثانیہ کے درجات کے ساتھ تین سال میں میٹرک تک تعلیم کی کلاس ہے جس کے ساتھ گوجرانوالہ بورڈ سے میٹرک کا امتحان دلوایا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

سی پیک معاہدات پر بحث کی ضرورت

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ’’سی پیک معاہدات‘‘ کو قومی اسمبلی میں زیربحث لایا جائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ یہ قرضے ہیں یا سرمایہ کاری ہے؟ اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح افغانستان سے مہاجر یہاں آئے تھے اب چینی گوادر میں بہت تعداد میں آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کی معدنیات چین لے جا رہا ہے اور ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا کہ کتنا سونا اور دوسری معدنیات نکل رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اکتوبر ۲۰۱۸ء

حضرت مولانا قاضی عصمت اللہؒ / حضرت مولانا محمد الطافؒ / مولانا خلیل احمد نعمانیؒ

مولانا سید عبد المالک شاہ اور مولانا میاں عبد الرحمان کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ دو اور بزرگ علماء کرام حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ اور حضرت مولانا محمد الطاف کی وفات کی غمناک خبر سننا پڑ گئی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ دونوں بزرگ ملک کے بڑے علماء میں سے تھے اور ان کی دینی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کے شاگردوں کا دائرہ بھی خاصی وسعت رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ نومبر ۲۰۱۱ء

خطبائے کرام سے چند گزارشات

چند ہفتے قبل میں نے اس کالم میں قرائے کرام اور نعت خواں حضرات کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کیں تو ایک معروف نعت خواں دوست نے فون پر شکوہ کیا کہ آپ نے ہمارے بارے میں تو بہت کچھ لکھ دیا ہے مگر خطباء اور مقررین کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اسی کالم میں یہ عرض کر دیا تھا کہ ابھی کہنے کی بہت سی باتیں باقی ہیں جو موقع و محل کی مناسبت سے ان شاء اللہ تعالٰی لکھی جاتی رہیں گی۔ چنانچہ آج خطبائے کرام اور مقررین کی خدمت میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں مگر پہلے مرحلے میں تمہید کے طور پر کچھ واقعات پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۱۱ء

تحفظ ختم نبوت کی تنظیموں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی کی ضرورت

قادیانیوں کی عالمی سرگرمیوں کے حوالے سے گزشتہ ایک کالم میں راقم الحروف نے کچھ معروضات پیش کی تھیں اور یہ عرض کیا تھا کہ قادیانیوں کی ان سرگرمیوں کو جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور پاکستان کے دستوری و قانونی فیصلوں کے خلاف لابنگ کے حوالے مسلسل سے جاری ہیں، ان پر نظر رکھنے، ان کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے اور ان کے تعاقب کے لیے کوئی مربوط سسٹم دینی حلقوں میں موجود نہیں ہے۔ اور وہ تنظیمیں جو خالصتاً تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے کام کر رہی ہیں ان کی بھی اس طرف سنجیدہ توجہ دکھائی نہیں دیتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۱۱ء

ائمہ مساجد کی مشکلات اور ان کا حل

۱۶ رمضان المبارک کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں چالیس روزہ دورۂ تفسیر قرآن کریم کا اختتام تھا، ہم نے روایتی طرز کی کوئی تقریب رکھنے کی بجائے اس روز علماء کرام اور خطباء و ائمہ کے لیے ایک فکری نشست کا اہتمام کیا جو ’’ائمہ و خطباء کی ذمہ داریاں اور ان کو درپیش مشکلات‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس میں علاقے کے ائمہ مساجد اور خطباء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر راقم الحروف نے عرض کیا کہ ہم آج اپنی طرف سے کچھ عرض نہیں کریں گے بلکہ ان ائمہ و خطباء کی بات ان کی زبانی سننا چاہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۱۱ء

اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع

اسلام آباد کے امریکی سفارت خانے میں گزشتہ جون کے آخر میں منعقد ہونے والے ہم جنس پرستوں کے اجتماع پر پاکستان کے دینی و عوامی حلقوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور اسے ایک غیر ملکی سفارت خانے کی طرف سے ملک کے دستور و قانون کے منافی سرگرمیوں کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی قرار دیا جا رہا ہے۔ جبکہ ہمارے نزدیک یہ اس تہذیبی و ثقافتی کشمکش کا حصہ ہے جس کے تحت مغربی دنیا عالم اسلام میں آسمانی تعلیمات کی پابندی سے آزاد تہذیب و ثقافت کو مسلط کرنے کے لیے دباؤ، لابنگ، میڈیا، خوف اور لالچ کے تمام حربے استعمال کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter