وکلاء تحریک کی قیادت کے ساتھ ایک اتفاقیہ سفر

ان دنوں ملک بھر کے دینی مدارس میں سالانہ اجتماعات اور خاص طور پر ختم بخاری شریف کی تقریبات کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ ۲۵ جولائی کو مجھے اسی حوالہ سے خانپور ضلع رحیم یار خان کے معروف دینی مدرسہ جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا تھا، جمعہ کی نماز گوجرانوالہ میں پڑھا کر عشاء کے بعد کی نشست کے لیے خانپور پہنچنا تھا لیکن اس موقع پر رحیم یار خان یا بہاولپور کے لیے کوئی فلائیٹ نہیں تھی اس لیے میں نے لاہور سے ملتان تک کا سفر بذریعہ طیارہ اور اس سے آگے کا سفر بذریعہ ٹرین کرنے کا پروگرام بنایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی ۲۰۰۸ء

’’احسان شناسی‘‘ اور حسین حقانی کا شکوہ!

جناب حسین حقانی واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر محترم ہیں اور ملک کے معروف دانشوروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ انہیں شکوہ ہے کہ پاکستانی لوگ امریکہ سے شکایتیں تو بہت کرتے ہیں اور تنقید و اعتراض کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن امریکہ کے احسانات انہیں یاد نہیں رہتے اور امریکہ نے پاکستان اور اس کے عوام پر جو مہربانیاں کی ہیں ان کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ حقانی صاحب کا یہ شکوہ گزشتہ روز ایک اخبار میں نظر سے گزرا جو خدا جانے انہوں نے کس پس منظر میں کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۲۰۰۸ء

علماء کرام کی ذمہ داریاں اور جدوجہد کے دائرے

جون بدھ کو جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ جنڈ ضلع اٹک کے زیراہتمام جامعہ سراج العلوم میں علماء کرام کے ایک بھرپور علاقائی اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ جمعیۃ علماء اسلام ضلع گوجرانوالہ کے نائب امیر اول مولانا قاری محمد رفیق عابد علوی اور عزیز ساتھی عبد القادر عثمان رفیق سفر تھے۔ اس اجتماع میں موجودہ حالات کے تناظر میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے حوالہ سے تفصیلی گفتگو کا موقع لا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۱۸ء

کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر

پانچ فروری کو پاکستان میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال قومی سطح پر منایا جاتا ہے، قوم کے مختلف طبقات عام جلسوں، ریلیوں، مذاکرات اور مضامین و بیانات وغیرہ کی صورت میں کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہراتے ہیں اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کے عوام نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے اس جدوجہد میں مصروف ہیں کہ بھارت اقوام متحدہ کے فورم پر ان کے ساتھ کیا گیا یہ وعدہ پورے کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲۰۰۵ء

قرآن و سنت کی بالادستی اور پندرہویں آئینی ترمیم کا بل

دستور پاکستان میں پندرہویں ترمیم کا بل جسے شریعت بل کے نام سے موسوم کیا جا رہا ہے قومی اسمبلی سے منظور ہو کر سینٹ میں جا چکا ہے اور حکومتی حلقے اس بات کا اعتماد کے ساتھ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ بل سینٹ میں بھی مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے دستور کا حصہ بن جائے گا۔ جبکہ بعض اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت کو سینٹ میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہے اور وہ قومی اسمبلی میں بعض ایسی جماعتوں کا ووٹ حاصل نہیں کر سکی جن سے حکومت حمایت کی توقع کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اکتوبر ۱۹۹۸ء

ڈاکٹر محمود احمد غازی کی فکر انگیز باتیں

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد غازی ۲ جنوری کو ہماری دعوت پر ایک روز کے لیے گوجرانوالہ تشریف لائے اور بہت مصروف دن گزارا۔ وہ یکم جنوری کو ہی رات وزیرآباد آگئے تھے جہاں ہمارے رفیق کار پروفیسر حافظ منیر احمد ان کے میزبان تھے۔ ۲ جنوری کو صبح ناشتے پر انہوں نے وزیرآباد کے معززین کی ایک بڑی تعداد کو مدعو کر رکھا تھا جن سے ڈاکٹر صاحب نے مختلف مسائل پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۰۵ء

دینی خدمات کا معاوضہ

گزشتہ دنوں کسی دوست نے واٹس ایپ پر جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے صدر اور مدرسہ عالیہ عربیہ فتح پوری دہلی کے مہتمم مولانا محمد مسلم قاسمی کے اس فتویٰ کا ایک صفحہ بھجوایا ہے جو ائمہ مساجد اور مدارس و مکاتب کے اساتذہ کی تنخواہوں کے بارے میں ہے اور اس پر کچھ دیگر حضرات کے دستخط بھی ہیں۔ اس کا ایک حصہ ملاحظہ فرما لیجئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۸ء

قرآن کریم اور سماجی تبدیلیاں

اس سال ہماری گفتگو کا موضوع ’’قرآن کریم اور انسانی سماج‘‘ ہے جس کے ایک حصہ پر ۳ رمضان المبارک کی نشست میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں کہ اس وقت کے انسانی سماج کے لیڈروں نے بجا طور پر یہ بات سمجھ لی تھی کہ قرآن کریم سماج کے پورے نظام کو تبدیل کرنے کی بات کر رہا ہے اس لیے انہوں نے ہر ممکن مزاحمت کی اور اس مزاحمت کی مختلف صورتوں اور مراحل کا ہم نے تذکرہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۸ء

پاسپورٹ سے مذہب کے خانے کا خاتمہ ۔ خطرات و خدشات

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ۱۸ دسمبر ہفتہ کو اسلام آباد میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس طلب کر لی ہے جس کا مقصد پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے بارے میں حکومتی کارروائی کا جائزہ لینا ہے اور دینی حلقوں کے اس مطالبہ کی حمایت کرنا ہے کہ حسب سابق پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جائے۔ مولانا موصوف نے مختلف جماعتوں کے رہنماؤں کو اس سلسلہ میں جو دعوت نامہ جاری کیا ہے اس کا متن یہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۰۴ء

انسانی حقوق کا عالمی دن یا ان کا مرثیہ؟

آج جبکہ میں یہ سطور قلمبند کر رہا ہوں دس دسمبر ہے اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے۔ ۱۹۴۸ء میں آج کے دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کے اس چارٹر کی منظوری دی تھی جسے آج کی دنیا میں بین الاقوامی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ اس چارٹر پر کم و بیش تمام ممالک نے دستخط کر کے اس کی پابندی کا عہد کر رکھا ہے، اس کے تحت بین الاقوامی ادارے کام کر رہے ہیں، اس کی خلاف ورزی پر بہت سے ملکوں کو چارج شیٹ کیا جاتا ہے، سالانہ رپورٹیں جاری ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ دسمبر ۲۰۰۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter