ضلع دیامر کے زلزلے اور شمالی علاقہ جات کی سیاسی و مذہبی حیثیت

اوصاف نے گیارہ مارچ کو اے پی پی کے حوالہ سے شمالی علاقہ جات کے ضلع دیامر میں زلزلے کے نئے جھٹکوں اور ان سے درجنوں مکانات کے مسمار ہونے کی جو خبر دی ہے اس سے ماہرین ارضی کے ان خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ اس خطہ میں زلزلوں کا جو سلسلہ گزشتہ سال نومبر میں شروع ہوا تھا وہ ابھی ختم نہیں ہوا اور زیر زمین آتش فشاں لاوے کی مسلسل حرکت کی وجہ سے مزید زلزلوں کا خطرہ موجود ہے جو بہت زیادہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء

شکر ہے مسلم حکمرانوں نے بھی سکوت مرگ توڑا

خدا خدا کر کے اسلامی سربراہ کانفرنس تنظیم کا بھی اجلاس ہوا ہے اور قطر کے دارالحکومت میں او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں ۵۷ ملکوں کے نمائندوں نے مشترکہ اعلامیہ کے ذریعے عراق پر امریکی حملے اور طاقت کے زور پر عراق کی حکومت کی تبدیلی کے پروگرام کو مسترد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ممالک عراق یا کسی بھی اسلامی ملک کی جغرافیائی سرحدوں اور سلامتی پر حملے میں شرکت سے باز رہیں۔ صدام حکومت کی تبدیلی کے لیے امریکی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر مہاتیر محمد کے افکار پر ایک نظر

ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے گزشتہ دنوں کوالالمپور میں غیر وابستہ تحریک کی سربراہی کانفرنس منعقد کر کے اور اس کے بعد اسلامی سربراہ کانفرنس کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے جہاں اپنے لیے خطرات میں اضافہ کیا ہے وہاں دنیا بھر کے باضمیر افراد اور خاص طور پر مظلوم مسلمانوں کی یہ کہہ کر توجہ بھی حاصل کر لی ہے کہ مجھے بھی سپرپاور سے خوف محسوس ہوتا ہے اور مجھے بھی یہ خطرہ ہے کہ میری گردن دبوچ لی جائے گی لیکن اس کے باوجود ضمیر بھی آخر کوئی چیز ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مارچ ۲۰۰۳ء

کیا جنرل مشرف اس پیغام کو سمجھنے کی زحمت کریں گے؟

امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ کے خاتمہ اور سوویت یونین کے بکھر جانے کے بعد نیٹو کے مستقبل کا سوال پیدا ہوا تو نیٹو کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل نے ایک مختصر سے جملے میں یہ کہہ کر نیٹو کو باقی رکھنے کا جواز پیش کیا تھا کہ ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘۔ ’’نیٹو‘‘ اس فوجی معاہدہ کا نام ہے جو سوویت یونین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے باہمی مشترکہ دفاع کے لیے طے کر رکھا تھا، جبکہ اس کے جواب میں سوویت یونین نے ’’وارسا پیکٹ‘‘ کے نام سے ہم خیال ملکوں کے ساتھ باہمی فوجی تعاون کا معاہدہ کیا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۳ء

دینی مدارس کے بارے میں پانچ سوالات کے جوابات

پچھلے دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں دینی مدارس کے سالانہ اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا اور عام طور پر دینی مدارس کے جداگانہ تشخص اور کردار کے حوالے سے عام ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات اور سوالات کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں جامعہ عبد اللہ بن مسعودؓ خانپور، جامعہ مفتاح العلوم سرگودھا، دارالعلوم ربانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ، مدرسہ اسلامیہ محمودیہ سرگودھا، جامعہ رشیدیہ ساہیوال، جامعہ عثمانیہ شورکوٹ، جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کراچی، جامعہ مدینۃ العلم فیصل آباد، جامعہ فاروقیہ شیخوپورہ اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ تا ۱۵ اکتوبر ۲۰۰۲ء

قرآن کریم کا ایجنڈا اور سماج کی مزاحمت

قرآن کریم کے نزول کا بڑا مقصد انسانی سماج کی تبدیلی تھا اور اس نے تئیس سال کے مختصر سے عرصہ میں جزیرۃ العرب کے سماج کو یکسر تبدیل کر کے دنیا کو آسمانی تعلیمات و ہدایات پر مبنی ایک مثالی معاشرہ کا عملی نمونہ دکھا دیا جبکہ اس معاشرتی انقلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک بڑے حصے کو اپنے دائرے میں سمو لیا۔ اس حوالہ سے دو پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ انسانی سماج کی تبدیلی کے اس ایجنڈے پر اس وقت کے سماج کا ردعمل کیا تھا اور دوسرا یہ کہ قرآن کریم نے انسانی معاشرہ کو کن تبدیلیوں سے روشناس کرایا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۸ء

عالم اسلام پر طاری سکوتِ مرگ اور بائیں بازو کی بیداری

عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملے کے حوالہ سے عالم اسلام پر جو ’’سکوتِ مرگ‘‘ طاری ہے اس کے احساس میں گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں شہروں میں ہونے والے بھرپور مظاہروں نے اضافہ کر دیا ہے اور ہر باشعور مسلمان یہ سوچ رہا ہے کہ یہ کام جو ہمارے کرنے کا تھا وہ بھی کافروں نے ہی کر دکھایا ہے۔ محترم قاضی حسین احمد نے یہ فرما کر دل کو تسلی دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ مظاہرے مسلمانوں کے ردعمل کی سختی کو کم کرنے کے لیے بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر ہم پورا زور لگانے کے باوجود اپنے دل و دماغ کو ان کے ارشاد گرامی کے ساتھ اتفاق پر آمادہ نہیں کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۳ء

عام انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی کامیابی

عام انتخابات کے نتائج نے ایک دنیا کو حیران و ششدر کر دیا ہے اور ان کے بارے میں سب کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ خود میرا اندازہ یہ تھا بلکہ برطانیہ آمد کے بعد اکثر دوست مجھ سے پوچھتے رہے تو میں ان سے یہی کہتا تھا کہ متحدہ مجلس عمل بیس کے لگ بھگ سیٹیں قومی اسمبلی میں حاصل کر پائے گی، اور اگر اسمبلی میں مجلس عمل کی قیادت اسی طرح اکٹھی رہی جس طرح اس الیکشن کیمپین میں اس نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اگلے انتخابات تک یہ اتحاد قائم رہا تو مجلس عمل کے ملک گیر سطح پر الیکشن جیتنے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۲۰۰۲ء

حالات حاضرہ اور پاکستان شریعت کونسل کا موقف

متحدہ مجلس عمل نے مینار پاکستان پارک میں پرہجوم جلسہ عام منعقد کر کے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تو میں اس میں شریک تھا بلکہ مولانا فضل الرحمان اور جناب سراج الحق کے خطابات میں نے اسٹیج پر ان کے پیچھے بیٹھ کر سنے اور اس بات پر اطمینان حاصل ہوا کہ دینی جماعتوں کے اس اتحاد کا جوش و خروش، عزم و حوصلہ اور اس کے ساتھ عوامی اعتماد کی بھرپور لہر اس کے روشن مستقبل کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۸ء

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب آبدوز

پاک بحریہ نے ملکی وسائل سے تیار ہونے والی پہلی آبدوز سمندر میں اتار دی ہے اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں پاکستان کے سمندری دفاع کو تقویت حاصل ہوگی اور بھارت کے لیے بحری کارروائیاں کرنا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہے گا۔ اس آبدوز کو صحابیٔ رسول حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے منسوب کر کے اس کا نام ’’سعد‘‘ رکھا گیا ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معروف صحابیٔ رسول ہیں، عشرہ مبشرہ میں سے ہیں، بڑے جرنیلوں میں سے ہیں، فاتح ایران ہیں اور اپنے دور کے بڑے تیر اندازوں میں ان کا شمار ہوتا تھا - - - مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۰۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter