جی ایٹ کا اصل ایجنڈا

دنیا کے آٹھ بڑے ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی ایٹ کا سربراہی اجلاس گزشتہ روز کینیڈا میں ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں روس کے صدر نے بھی شرکت کی اور روس کو جی ایٹ کی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں دنیا میں دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بیس ارب ڈالر جبکہ غریب ترین ممالک کی امداد کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر دہشت گردی کے مراکز کو ختم کر کے کشمیر میں در اندازی کا سلسلہ مستقل طور پر روکنے کا اہتمام کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۰۲ء

سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم۔ چند مزید گزارشات

شیخ زاید اسلامک سنٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور کی سالانہ سیرت کانفرنس میں ’’سیرت نبویؐ کی روشنی میں جہاد کا مفہوم‘‘ کے عنوان سے راقم الحروف کی گزارشات قارئین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ اس کانفرنس میں مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی اور دیگر علماء کرام نے بھی خطاب کیا جبکہ مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان تھے جنہوں نے اپنے اختتامی خطاب میں راقم الحروف کی معروضات کو سیرۃ النبیؐ کے صحیح رخ پر مطالعہ کی کوشش قرار دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ مئی ۲۰۰۲ء

پرویز حکومت اور دینی مدارس

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں علماء کرام کے دو گروپوں سے ملاقات کے دوران اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت دینی مدارس میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور نہ ہی انہیں بند کیا جا رہا ہے البتہ ہم دینی مدارس کو جدید ترین نظام تعلیم کے دھارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے ضروری ہے کہ ان کے موجودہ نصاب میں تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی ہے کہ حکومت دینی مدارس کے خلاف ایکشن لے رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۰۲ء

عالم اسلام کی صورتحال اور صدر جنرل پرویز مشرف کا دورۂ امریکہ

صدر جنرل پرویز مشرف ان سطور کی اشاعت تک امریکہ کے دورے پر روانہ ہو چکے ہوں گے۔ وہ صدر امریکہ جارج ڈبلیو بش کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں اور ان کا سرکاری دورہ ۱۲ فروری سے ۱۴ فروری تک ہوگا جس کے دوران وہ صدر بش سے تفصیلی مذاکرات بھی کریں گے جبکہ اس سے قبل وہ امریکہ پہنچنے کے بعد غیر سرکاری مصروفیات بھگتائیں گے۔ صدر پرویز مشرف کے اس دورہ کو عالمی حلقوں میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے اور امریکی سفارت کاروں نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس موقع پر پاکستان کی امداد کا کوئی بڑا پیکیج دیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۰۲ء

جدید سائنسی ترقی سے محرومی اور گورنر پنجاب کا شکوہ

گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے رمضان المبارک کے دوران لاہور کے تین دینی مراکز کا دورہ کیا اور علماء و طلبہ کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وہ جامعہ اشرفیہ مسلم ٹاؤن، جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ اور جامعہ عثمانیہ ماڈل ٹاؤن تشریف لے گئے، اساتذہ، طلبہ اور مسجد کے نمازیوں سے ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر بات چیت کی۔ اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کراچی میں دارالعلوم کورنگی کا دورہ کیا اور اساتذہ و طلبہ سے بعض امور پر گفتگو کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۰۱ء

ترکی، سیکولرازم اور یورپی یونین

ایک قومی روزنامہ نے لاہور کی اشاعت میں ۲۳ نومبر کو انقرہ سے اے ایف پی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے کہ ترک پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا ہے جس کی رو سے مردوں کی عورتوں پر بالادستی ختم کرتے ہوئے عورتوں کو زیادہ حقوق دے دیے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق ان اقدامات کا مقصد یورپی یونین کا رکن بننے کی ضرورت پوری کرنا ہے۔ خانگی قوانین میں اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ: خاندان کا سربراہ خاوند نہیں ہوگا لہٰذا عائلی معاملات میں دونوں کی حیثیت برابر ہوگی، شادی کے دوران کمائے گئے تمام اثاثے میاں بیوی کی مشترکہ ملکیت ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۱ء

کیا پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہیے؟

جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

’’الرشید ٹرسٹ‘‘ کا جرأت مندانہ فیصلہ

ایک قومی روزنامہ نے لندن کے اخبار ٹیلی گراف کے حوالہ سے یہ رپورٹ شائع کی ہے کہ برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے پاکستان کے وزیر خارجہ جناب عبد الستار سے اپنی حالیہ گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ پاکستان طالبان کے ساتھ فاصلہ قائم رکھے ورنہ وہ عالمی برادری سے دور ہوتا چلا جائے گا۔ یہ انتباہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب کہ اقوام متحدہ نے کابل میں بے سہارا افغان عوام کو خوراک مہیا کرنے کے لیے قائم کی گئی ۱۵۵ بیکریاں (تنور) بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۲۰۰۱ء

سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد ۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور یونائیٹڈ بینک کی اپیل

گزشتہ اتوار کو جامعہ انوار القرآن کراچی میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ’’علماء کنونشن‘‘ میں شرکت کے لیے گیا تو اس موقع پر دارالعلوم کراچی کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی سے غیر سودی مالیاتی نظام کے سلسلہ میں تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ مفتی صاحب اس کمیشن کے واحد عالم دین رکن ہیں جو سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ کی روشنی میں غیر سودی مالیاتی نظام کے مسودہ کی تیاری کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر جناب ایم آئی حنفی کی سربراہی میں قائم کیا گیا ہے اور جس نے مسودہ قانون مرتب کر کے حکومت کے سپرد کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۰۱ء

نصابی کتابوں کی اشاعت بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کا حکومتی فیصلہ

نصابی کتابوں کی تیاری، طباعت اور تقسیم کا نظام بین الاقوامی اداروں کے سپرد کرنے کے حکومتی فیصلہ نے قومی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے اور پنجاب پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے عہدہ داروں نے گزشتہ دنوں لاہور میں ایک تقریب کے دوران اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے جن پر سنجیدگی سے توجہ دینا ضروری ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر مسٹر زبیر سعید کے مطابق وفاقی کابینہ کی طرف سے صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے احکامات صادر کر دیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مئی ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter