جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن اور بے نظیر بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے اپنے دورۂ امریکہ کے موقع پر جمہوری ممالک کی ایسوسی ایشن قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جس پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حکومتی حلقوں کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مغربی پریس اس تجویز کو اس انداز سے اچھال رہا ہے جیسے یہ خود اس کے اپنے دل کی آواز ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اگست ۱۹۸۹ء

مولانا قاضی عبد اللطیف پر بغاوت کا مقدمہ؟

روزنامہ جنگ لاہور ۲۷ اگست کی ایک خبر کے مطابق وفاقی وزارت قانون جمعیۃ علماء اسلام صوبہ سرحد کے امیر مولانا قاضی عبد اللطیف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ خبر کے مطابق قاضی صاحب موصوف نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فوج کو موجودہ صورتحال میں مداخلت کی دعوت دی تھی جس کا وفاقی حکومت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۱۹۸۹ء

وفاق اور صوبوں کی کشمکش کا افسوسناک پہلو

وفاق اور صوبوں کے درمیان کشمکش جس انتہا کو چھو رہی ہے اس نے ملک کے ہر باشعور شہری کو اضطراب سے دوچار کر دیا ہے۔ اور نہ صرف ملک کا نظام اس کشمکش کے ہاتھوں تعطل کا شکار ہے بلکہ جمہوری عمل اور ملکی سالمیت کے لیے خطرات کا اظہار بھی اب سنجیدہ زبانوں سے ہو رہا ہے۔ اس افسوسناک کشمکش کا آغاز گزشتہ انتخابات کے بعد اس وقت ہوا جب پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی صوبوں میں برسرِ اقتدار آنے والی مخالف حکومتوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۱۹۸۹ء

ایم آر ڈی کے مذہبی رفقاء کے لیے لمحۂ فکریہ

روزنامہ جنگ لندن یکم اکتوبر کی ایک خبر کے مطابق پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بیگم بے نظیر بھٹو نے امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کی تبدیلی میں جلدی نہیں کریں گی کیونکہ اس سے دباؤ بڑھے گا۔ خبر کے مطابق پی پی حکومت کے وزیر قانون سید افتخار گیلانی نے بھی انٹرویو میں اپنے اس سابقہ موقف کا اعادہ کیا ہے کہ زنا کے جو قوانین پاکستان میں نافذ ہیں وہ غیر منصفانہ اور غیر منطقی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء

عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ میں ردوبدل کا معاملہ

الیکشن قوانین میں ترامیم کے سلسلہ میں پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والے بل میں درج عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامہ کی عبارت میں ردوبدل کے انکشاف پر ملک بھر میں گزشتہ دنوں خاصا اضطراب اور ہیجان پیدا ہوگیا تھا۔ اس پر قومی اسمبلی میں ایک نئی ترمیم کے ذریعے حلف نامہ کی سابقہ پوزیشن بحال کر دینے پر خوش اسلوبی کے ساتھ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے جبکہ پاک آرمی کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے اس اعلان نے مزید اطمینان و اعتماد کا اضافہ کیا ہے کہ پاک فوج ناموس رسالتؐ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور ختم نبوت کی شق کے خاتمہ کو کوئی پاکستانی قبول نہیں کر سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اکتوبر ۲۰۱۷ء

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ

حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ (وفات: اپریل ۱۹۹۸ء) کو پہلی بار اس دور میں دیکھا جب میرا طالب علمی کا زمانہ تھا اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں صرف ونحو کی کتابیں پڑھ رہا تھا۔ حضرت مولانا عبد اللطیف جہلمیؒ اس قافلہ کے سرگرم رکن تھے جو جمعیۃ علماء اسلام کو منظم کرنے کے لیے قریہ قریہ، بستی بستی متحرک تھا۔ شمالی پنجاب میں جمعیۃ علماء اسلام کو ایک فعال اور متحرک جماعت بنانے میں مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو جن بے لوث اور ان تھک رفقاء کا تعاون حاصل تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی تا نومبر ۱۹۹۸ء

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت

مرد اور عورت دونوں نسل انسانی کے ایسے ستون ہیں کہ جن میں سے ایک کو بھی اس کی جگہ سے سرکا دیا جائے تو انسانی معاشرہ کا ڈھانچہ قائم نہیں رہتا۔ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کو اپنی قدرت خاص سے پیدا فرمایا اور ان دونوں کے ذریعے نسل انسانی کو دنیا میں بڑھا پھیلا کر مرد اور عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور فرائض کی فطری تقسیم کر دی، دونوں کا دائرہ کار متعین کر دیا اور دونوں کے باہمی حقوق کو ایک توازن اور تناسب کے ساتھ طے فرما دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۱۹۹۰ء

دینی مدارس کی آزمائش کا نیا دور ، ہم سب کے لیے لمحۂ فکریہ

5 اکتوبر کو لاہور میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ لاہور میں منعقدہ اجلاس میں استاذ العلماء حضرت مولانا سلیم اللہ خان نور اللہ مرقدہ کی جگہ وفاق کے نئے سربراہ کا انتخاب کرنے والی ہے اور اس موقع پر ملک بھر سے دینی مدارس کے سرکردہ حضرات جمع ہو رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان دیوبندی علماء کرام اور دینی مدارس کی وحدت و مرکزیت، تعلیمی ترقی اور علمی وقار کی علامت ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی شاندار روایات اور تسلسل کے مطابق ملک و قوم اور دین و مسلک کی خدمات جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اکتوبر ۲۰۱۷ء

حق مہر اور دوسری شادی

نکاح میں بیوی کے حق مہر کے بارے میں ان کالموں میں متعدد بار معروضات پیش کی جا چکی ہیں مگر اس سلسلہ میں ہمارے معاشرہ میں پھیلی ہوئی غلط فہمیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ کوئی نہ کوئی لطیفہ سامنے آتا ہی رہتا ہے۔ اور بسا اوقات اچھے خاصے پڑھے لکھے دوست اس معاملہ میں اس قدر بے خبر نکلتے ہیں کہ بے ساختہ سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے ۔۔۔ دوسری شادی کرنے والے کسی صاحب کو ہائیکورٹ کے ایک محترم جج نے حکم دیا ہے کہ چونکہ اس نے دوسری شادی پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر کی ہے اس لیے وہ پہلی بیوی کو اس کا پورا حق مہر ادا کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ مئی ۲۰۰۰ء

ٹیکس وصولی کا نیا نظام اور عوامی رجحانات

ملک بھر میں تاجروں کی ہڑتال تادمِ تحریر جاری ہے اور حکومت اور تاجروں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک ممکن ہے حالات میں کوئی مثبت تبدیلی آجائے مگر ابھی تک اس کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔ اس سلسلہ میں راقم الحروف کو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے حضرات سے تبادلۂ خیالات کا موقع ملا ہے اور اس حوالہ سے جو تاثرات سامنے آئے ہیں ان میں سے کچھ امور کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جون ۲۰۰۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter