آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز

گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ کے دو مسلم اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ایک لیسٹر کی اسلامک فاؤنڈیشن اور دوسرا آکسفورڈ کا اسلامک سنٹر۔ اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر کے قریب مارک فیلڈ کے مقام پر پاکستان کے معروف دانشور پروفیسر خورشید احمد کی سربراہی میں مصروف کار ہے اور ڈاکٹر مناظر حسن ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس کے انتظامی معاملات چلا رہے ہیں۔ فاؤنڈیشن مختلف اسلامی موضوعات پر یورپی زبانوں میں لٹریچر کی اشاعت کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں کے لیے اسلامی عنوانات پر تربیتی کورسز کا اہتمام کرتی ہے اور علمی و تحقیقی کاموں میں پیش پیش ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ ستمبر ۱۹۹۷ء

تعلیمی نصاب ۔ اسلامی کانفرنس کا معذرت خواہانہ موقف

مکہ مکرمہ میں منعقدہ مسلم سربراہ کانفرنس کے حالیہ غیر معمولی اجلاس کے فیصلوں میں ایک اعلان یہ بھی تھا کہ مسلم ممالک اپنے اپنے نصاب تعلیم میں تبدیلی کریں گے۔ ہمارا خیال یہ تھا کہ مسلم دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی میں معاصر اقوام سے بہت پیچھے رہ گئی ہے اور اس کوتاہی کی گزشتہ دو صدیوں سے خوفناک سزا بھگت رہی ہے، اس سلسلہ میں ہمارے حکمرانوں کو کچھ احساس ہوگیا ہوگا اور انہوں نے باہم مل بیٹھ کر یہ طے کیا ہوگا کہ اس کی تلافی کے لیے کوئی راستہ اختیار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۰۵ء

’’جنگجو اسلام‘‘ اور امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی عوام کی ۸۲ فیصد اکثریت شریعت اسلامیہ کے قانون کو ملکی قانون کا درجہ دینے کے حق میں ہے۔ ایک قومی روزنامہ میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے حالیہ فوجی انقلاب سے تین ماہ قبل ایک پاکستانی ادارہ کے ذریعے کراچی، سکھر، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں سروے کا اہتمام کرایا۔ رائے عامہ کا سروے کرنے والے اس ادارے نے جو اعداد و شمار مرتب کیے انہیں امریکی ڈیپارٹمنٹ نے ۲۲ اکتوبر کو رپورٹ کی صورت میں شائع کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۱۹۹۹ء

مغربی کلچر کا نقطۂ عروج

گزشتہ دنوں امریکی ریاست ورماؤنٹ کے حوالہ سے ایک خبر شائع ہوئی کہ وہاں کی عدالت عظمیٰ نے ایک فیصلہ میں ہم جنس پرست جوڑے کو قانونی طور پر میاں بیوی کی حیثیت دیتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہم جنس پرست جوڑے کے طور پر اکٹھے رہنے والے افراد کے لیے ان حقوق اور تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنائے جو قانونی طور پر میاں بیوی کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے چند ہفتے قبل ایک برطانوی عدالت کا یہ فیصلہ بھی منظر عام پر آچکا ہے کہ ہم جنس پرست جوڑے کے ایک فرد کے انتقال کے بعد دوسرے شخص کو قانونی طور پر اپنے ساتھی کا وارث تسلیم کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۱۹۹۹ء

دیت کی ادائیگی اور بیت المال

جسٹس آصف سعید کھوسہ پر مشتمل فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ دستور کے آرٹیکل نمبر ۵۴۴ کے تحت کسی بھی شخص کو دیت کی رقم ادا نہ کرنے پر زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک قید میں رکھا جا سکتا ہے، اس لیے پنجاب کی جیلوں میں اپنی قید کی سزا پوری کرنے کے بعد چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزارنے والے قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔ اور اگر یہ قیدی اپنے وسائل سے دیت کی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو وہ زکوٰۃ فنڈ یا بیت المال سے یہ رقم ادا کریں، اس طریقے سے نہ صرف مقتول کے ورثاء مطمئن ہوں گے بلکہ معاشرہ میں امن و امان بھی قائم ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اگست ۲۰۰۲ء

سزائے موت کی معافی ۔آئینی اور اسلامی نقطۂ نظر

محترمہ بے نظیر بھٹو مرحومہ کی سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی طرف سے سزائے موت کے قیدیوں کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا اعلان ملک بھر کے دینی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا یہ پہلو بطور خاص اجاگر کیا جا رہا ہے کہ شاید وزیراعظم کی طرف سے اس سلسلہ میں صدر کو بھیجی جانے والی سمری میں سزائے موت کو ختم کرنے کے لیے بھی کہا گیا ہے جس سے پاکستان کے قانونی نظام میں سزائے موت کو کلیۃً ختم کیا جانا مقصود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۰۸ء

پاکستان پیپلز پارٹی کا تحفظ ختم نبوت سیمینار

ماہ ستمبر کے دوران ملک بھر میں جہاں وطن عزیز کے جغرافیائی دفاع و استحکام کے حوالہ سے مختلف تقریبات اور پروگراموں کا اہتمام ہوا وہاں تحفظ ختم نبوت کے عنوان سے بھی ملک کے نظریاتی دفاع و استحکام کے فروغ کے موضوع پر متنوع تقریبات منعقد کی گئیں۔ 6 ستمبر کو 1965ء کی جنگ کی یاد میں ’’یوم دفاع‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جبکہ 7 ستمبر کو ’’یوم فضائیہ‘‘ کے علاوہ ’’یوم تحفظ ختم نبوت‘‘ کا عنوان بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس روز 1974ء میں پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تاریخی دستوری فیصلہ کیا تھا۔ مجھے اس حوالہ سے دو تقریبات میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ ستمبر ۲۰۱۷ء

شرعی عدالتیں اور نوائے وقت

روزنامہ نوائے وقت لاہور کے مراسلات کے کالم میں چونیاں کے محترم نور احمد کا ایک مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے جمعیۃ علماء اسلام کی طرف سے شرعی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو حسن نیت او رخلوص پر مبنی قرار دیتے ہوئے دو وجوہ سے اسے ناقابل عمل اور سادہ لوحی کا شکار ہونے کے مترادف قرار دیا۔ ان کا ارشاد ہے کہ (۱) کوئی حکومت وقت اپنے مقابلے میں متوازی نظام کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتی خواہ وہ نظام صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ (۲) جمعیۃ علماء اسلام کے پاس کوئی ایسی قوت نہیں کہ وہ شرعی عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد کرا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۱۹۷۶ء

کمیونزم کا خطرہ اور ہمارا موجودہ نظام

روزنامہ نوائے وقت کی ۱۷ اپریل کی اشاعتِ ملی میں ’’کمیونزم اور سوشلزم کے سبز باغ‘‘ کے عنوان سے منشی عبد الرحمان خان صاحب کا مضمون نظر سے گزرا جس میں بعض باتیں اگرچہ مبالغہ آمیز ہیں، مثلاً مصر کے صدر ناصر مرحوم کے بارے میں یہ لکھا گیا ہے کہ انہوں نے سوشلزم کے خلاف فتوے دینے سے علماء ازہر کو حکماً روک دیا، جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ناصر مرحوم کے دورِ حکومت میں مصر میں ’’کمیونسٹ پارٹی‘‘ مسلسل خلاف قانون رہی اور روسی وزیراعظم مسٹر خروشچیف اپنے دورۂ مصر کے موقع پر بار بار اصرار کے باوجود ناصر مرحوم کو کمیونسٹ پارٹی پر عائد پابندی ہٹانے پر آمادہ نہ کر سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مئی ۱۹۸۰ء

نظام شریعت کنونشن کے اہم گوشے

جمعیۃ علماء اسلام کے زیر اہتمام دو روزہ نظامِ شریعت کنونشن گزشتہ شب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ کنونشن میں پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان اور آزادکشمیر سے کم و بیش دس ہزار مندوبین نے شرکت کی جن میں علماء کرام، وکلاء، طلباء اور ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ کنونشن کا اعلان ۲۸ و ۲۹ اپریل کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ملتان کے بعد کیا گیا تھا۔ مولانا مفتی محمود نے صوبائی حکومت سے بھی رابطہ قائم کیا مگر آخر وقت تک انتظامیہ نے شیرانوالہ باغ میں کنونشن کے انعقاد کی اجازت دینے یا نہ دینے کے بارے میں مجلس استقبالیہ کو کوئی باضابطہ جواب نہیں دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۱۹۷۵ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter