سیدنا ابراہیم علیہ السلام، عزیمت و استقامت کے پیکر

سیدنا ابراہیم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام وہ ذات گرامی ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے سرور کائنات خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ساری کائنات میں افضل ترین مقام و مرتبہ عطا فرمایا۔ اور ان کی عظیم قربانیوں اور عزیمت و استقامت کے شاندار مظاہروں کے عوض دنیا بھر کی ایسی امامت بخشی کہ آج دنیا کا کم و بیش ہر الہامی مذہب خود کو حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب کرنے میں فخر محسوس کرتا ہے۔ یہودی اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ کا پیروکار کہتے ہیں، عیسائی اس بات کے اپنے لیے دعوے دار ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۷۶ء

دکانداروں کا قصور؟ ‒ بدحواسی یا کچھ اور؟

پولیس ان دنوں اپنی کارکردگی دکھلانے کے لیے چھوٹے دکانداروں اور پرچون فروشوں کے خلاف دھڑادھڑ کاروائیوں میں مصروف ہے اور روزنامہ اخبارات میں ملاوٹ اور گراں فروشی کے الزامات میں مختلف مقامات سے ان دکانداروں کی گرفتاریوں اور سزاؤں کی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ملاوٹ اور گراں فروشی کے خلاف کارروائی ضروری ہے اور مستحسن بھی، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان دونوں چیزوں کی ذمہ داری پرچون فروشوں اور چھوٹے دکانداروں پر ہی عائد ہوتی ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ جنوری ۱۹۷۸ء

شریعت کا نفاذ کیوں ضروری ہے؟

مجھے جس موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی گئی ہے اس کے تین حصے ہیں: (۱) ایک یہ کہ شریعت کیا ہے؟ (۲) دوسرا یہ کہ اس کے نفاذ کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ (۳) اور تیسرا یہ کہ اس کے نفاذ کا طریق کار کیا ہوگا؟ جہاں تک شریعت کا تعلق ہے، یہ بات واضح ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام و فرامین کو شریعت کہا جاتا ہے اور قرآن و سنت سے مستنبط احکام شریعت کہلاتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آج کے دور میں ایک سوال کیا جاتا ہے کہ شریعت کے بارے میں آپ کا وژن کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۹ء

سوہدرہ ڈکیتی کیس اور ڈی آئی جی کا مستحسن اقدام

چوہدری محمد رمضان نے سوہدرہ ڈکیتی کیس کے مدعی نیاز علی پر تشدد کر کے اصل واقعات چھپانے پر مجبور کرنے کے الزام میں سی آئی اے سٹاف گوجرانوالہ کے انسپکٹر محمد اسلم جوڑا سمیت پولیس کے ۶۸ افسروں اور اہل کاروں کو لائن حاضر کر دیا ہے۔ سوہدرہ ڈکیتی کیس کے سلسلہ میں ڈی آئی جی پولیس کا یہ اقدام اس لحاظ سے مستحسن اور اطمینان بخش ہے کہ کیس کی انکوائری صحیح رخ پر آگے بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ مارچ ۱۹۷۸ء

قرآن کریم کی بے حرمتی کا افسوسناک واقعہ ‒ قادیانی اور آئین

گزشتہ دنوں سرکاری ذرائع سے یہ خبر قومی اخبارات میں شائع ہوئی ہے کہ تخریب کاروں کے خلاف پولیس کی مہم کے دوران قرآنِ کریم کی بے حرمتی کا یہ افسوسناک سانحہ سامنے آیا ہے کہ کچھ بدبخت عناصر نے قرآن کریم کے نسخوں کو اندر سے کاٹ کر ان میں بارود بھرا اور پھر ان نسخوں کو بعض اہم شخصیات کو پیش کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس ضمن میں اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذریعے قرآن کریم کے کٹے ہوئے نسخے کی نمائش بھی کی گئی ہے اور ملک کے طول و عرض میں اس المناک واقعہ پر احتجاج اور غم و غصہ کے اظہار کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ مارچ ۱۹۸۲ء

نفاذِ شریعت کی جدوجہد فیصلہ کن موڑ پر

متحدہ شریعت محاذ پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس ۷ جون ۱۹۸۷ء کو محاذ کے مرکزی دفتر واقع گڑھی شاہو لاہور میں صبح دس بجے منعقد ہو رہا ہے جس میں ۲۷ رمضان المبارک تک ’’شریعت بل‘‘ منظور نہ ہونے کی وجہ سے متحدہ شریعت محاذ پاکستان کے پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق حکومت کے خلاف ’’راست اقدام‘‘ کی تحریک کا عملی طریقِ کار طے کیا جائے گا۔ اس سے قبل ۶ جون کو جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے اور اس اجلاس میں زیربحث آنے والے امور میں بھی اہم ترین مسئلہ راست اقدام کی تحریک کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۱۹۸۷ء

’’مجدد زماں‘‘ کا فتنہ

کچھ دنوں سے اخبارات میں ’’سحر‘‘ نامی ایک پندرہ روزہ کے اشتہارات شائع ہو رہے ہیں جن میں بعض قومی قائدین کی موت اور لاہور سمیت کچھ شہروں کی تباہی کی پیش گوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اب تک ہم اسے مزاحیہ قسم کا کوئی جریدہ سمجھتے رہے ہیں جو اس قسم کی حرکات سے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۷۸ء

ہمارے دینی مدارس — مقاصد، جدوجہد اور نتائج

دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر کے دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ سالانہ تعطیلات گزارنے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کے نئے مرحلہ کا آغاز ماہِ گزشتہ کے وسط میں کر چکے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں دینی مدارس کا تعلق مختلف مذہبی مکاتبِ فکر سے ہے اور ہر مذہبی مکتب فکر کے دینی ادارے اپنے اپنے مذہبی گروہ کے تشخص و امتیاز کا پرچم اٹھائے نئی نسل کے ایک معتد بہ حصہ کو اپنے نظریاتی حصار اور فقہی دائروں میں جکڑنے کے لیے شب و روز مصروف عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۱۹۹۰ء

ربوہ کا نام اور مولانا اللہ وسایا

ربوہ کے نام کی تبدیلی اور ’’نواں قادیاں‘‘ کی تجویز کے حوالہ سے راقم الحروف کے ایک کالم پر مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا اللہ وسایا نے اظہار خیال فرمایا ہے اور بعض دوستوں نے اپنے خطوط میں تقاضا کیا ہے کہ مولانا موصوف نے اپنے مضمون میں جو نکات اٹھائے ہیں ان پر میں بھی اظہار خیال کروں۔ جہاں تک مولانا کے لہجے میں تلخی کا تعلق ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری نہیں سمجھتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جنوری ۱۹۹۹ء

ملتان، احمد شاہ ابدالی کا شہر

ملتان ایک پرانا اور تاریخی شہر ہے جس کا ذکر قبل از مسیح دور کی تاریخ میں اسی نام سے ملتا ہے اور تاریخ کی بہت سی یادیں اس شہر سے وابستہ ہیں۔ خلافت بنو امیہ کے دور میں جب اسلامی فوجیں ۴۴ھ میں سجستان اور مکران پر قابض ہوئیں تو مسلم کمانڈر ابن المہلبؒ کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ملتان تک پہنچا لیکن اس شہر پر قبضہ نہ کر سکا۔ اس کے بعد جب سندھ کے راجہ داہر کے خلاف محمد بن قاسمؒ کی قیادت میں اسلامی فوجوں نے یلغار کی اور سندھ کو فتح کرتے ہوئے محمد بن قاسمؒ نے پیش قدمی جاری رکھی تو ۹۵ھ میں اس نے ملتان کا محاصرہ کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اگست ۲۰۰۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter