ابلاغیات اور ہماری اخلاقی ذمہ داریاں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مجلس صیانۃ المسلمین پاکستان کے سالانہ اجتماع میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات ہے، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی نسبت اتنی بلند و بالا ہے کہ نسبتیں بھی اس کے سامنے سر نیاز خم کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نسبتوں پر قائم رہنے کی توفیق دیں اور دنیا و آخرت میں ان نسبتوں کی برکات سے فیضیاب کریں، آمین یا رب العالمین۔ حضرات صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی محنت انسان کی روح، قلب اور نفس پر ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مارچ ۲۰۱۳ء

بخاری شریف حضرت شاہ ولی اللہ الدہلویؒ کی نظر میں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سب سے پہلے ان طلبہ کو مبارکباد پیش کروں گا جو آج بخاری شریف کے آخری سبق کے ساتھ اپنے درس نظامی اور دورۂ حدیث کے نصاب کی تکمیل کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو علم مبارک کریں اور آپ کا پڑھنا آپ کے لیے، آپ کے والدین کے لیے، اہل خاندان کے لیے، جامعہ نصرۃ العلوم کے اساتذہ و منتظمین کے لیے، معاونین اور بہی خواہوں کے لیے اور تمام متعلقین کے لیے دنیا و آخرت کی برکتوں کا ذریعہ بنائیں اور دونوں جہانوں کی خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ مئی ۲۰۱۳ء

امت کے زوال کے اسباب

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے میں اس کے بارے میں کچھ معروضات پیش کروں گا، اور اس کے ساتھ ہی مجھ سے کہا گیا ہے کہ آج کی گفتگو میں ’’امت کے زوال کے اسباب‘‘ کے حوالے سے بھی کچھ عرض کروں۔ اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے ہم سے پہلے دنیا میں مذہبی قیادت کے منصب پر فائز بنی اسرائیل کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور ان کے عروج و زوال کے مراحل بیان فرمائے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جولائی ۲۰۱۳ء

نئے علماء کے لیے لائحہ عمل

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج ہم اپنے ان عزیزوں کو رخصت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ وقت گزارا اور تعلیم حاصل کی- آج یہ فارغ ہو کر گھروں کو جا رہے ہیں اور ان کی جدائی سے ہم عجیب سی کیفیت سے دو چار ہیں، یہ ہمارے بچے ہیں، اولاد کی طرح ہیں اور اب ہم سے رخصت ہو رہے ہیں، میں ان بچوں کو مبارک باد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنا تعلیمی نصاب مکمل کر لیا ہے اور اب وہ عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۱۳ء

بخاری برادران کے ساتھ کچھ لمحات کی صدائے بازگشت

پیر جی سید عطاء المہیمن شاہ صاحب بخاریؒ کے ساتھ پہلی ملاقات جہاں تک مجھے یاد ہے مدینہ منورہ میں ہوئی تھی، وہ وہاں کچھ عرصہ قیام پذیر رہے۔ میرا مغربی ممالک میں کم و بیش تین عشروں تک آنا جانا رہا اور آتے جاتے چند دن حرمین شریفین میں حاضری کی سعادت حاصل ہو جاتی تھی۔ پیرجی سے غائبانہ تعارف تو تھا بلکہ پورے خاندان کے ساتھ میرا رابطہ، ملاقاتیں اور نیازمندی طالب علمی کے دور سے چلی آ رہی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۲۲ء

ہمارا خاندانی نظام اور مغربی یلغار

مغرب اپنے ہاں خاندانی نظام بکھر جانے پر سر پکڑے بیٹھا ہے جس کی ایک جھلک نوٹنگھم برطانیہ کے ایک بڑے مسیحی مذہبی راہنما فادر کینن نیل نے ایک ملاقات میں یوں بیان کی کہ آسمانی تعلیمات اور مذہبی احکام و اقدار سے بغاوت کے معاشرے پر اثرات تباہ کن ہیں، سوسائٹی بکھر کر رہ گئی ہے، پڑوسی، دوست اور رشتہ داری کا کوئی تصور باقی نہیں رہا، نفسا نفسی کا عالم ہے، خاندانی نظام تتر بتر ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۲۲ء

افتاء اور تحقیق کا ایک قابل توجہ پہلو

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج یہاں ایک نکاح کے سلسلہ میں حاضری ہوئی ہے، واہنڈو ضلع گوجرانوالہ کے حافظ محمد شفیق ہمارے عزیز شاگرد ہیں، جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں اور الشریعہ اکادمی میں ہمارے ساتھ شریک کار رہے ہیں، ان کے نکاح کے لیے ساہیوال آنا ہوا تو جامعہ حقانیہ میں حاضری ضروری تھی۔ یہ ہمارے بزرگوں کی جگہ ہے، حضرت مولانا مفتی سید عبد الشکور ترمذیؒ کے ساتھ میری نیازمندی رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ فروری ۲۰۱۵ء

قرآن کریم کے حوالہ سے تخصصات کی ضرورت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قرآن کریم کا بنیادی موضوع ہدایت ہے کہ وہ نسل انسانی کی راہنمائی کے لیے نازل کیا گیا ہے اور اس میں قیامت تک کے انسانوں کی راہنمائی اور ہدایت کا سامان موجود ہے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور مسلسل تغیر پذیر انسانی سوسائٹی کے ہر دور میں انسانی سوسائٹی کو قرآن کریم میں راہنمائی میسر آتی ہے اور قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ نومبر ۲۰۱۴ء

دارالعلوم دیوبند کے قیام کا مقصد

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بزم شیخ الہند گوجرانوالہ اور اپنے عزیز ساتھی حافظ خرم شہزاد کا شکر گزار ہوں کہ یہاں کسی نہ کسی عنوان سے ماہانہ فکری محفل ہوتی ہے ۔ آج کی نشست کو دارالعلوم دیوبند کے تذکرے سے مخصوص کیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند ۳۰ مئی ۱۸۶۶ء کو وجود میں آیا تھا۔ اس مناسبت سے یہ نشست رکھی گئی ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا تذکرہ ہو جائے۔ دارالعلوم دیوبند کے تذکرے کے بیسیوں پہلو ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مئی ۲۰۲۳ء

بزرگوں کی نسبت اور تذکرہ کا مقصد

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا شاہد معاویہ صاحب ہمارے باذوق ساتھی ہیں جو اہل بیت عظامؓ کے تذکرہ کے عنوان سے ہر سال اس بابرکت اجتماع کا اہتمام کرتے ہیں اور مجھے بھی اس میں حاضری کی سعادت سے بہرہ ور کرتے ہیں جس پر میں ان کا شکرگزار ہوں، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں۔ بزرگوں کی نسبت سے جمع ہونے اور ان کا تذکرہ کرنے میں جہاں برکتیں حاصل ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ تعلق و نسبت کا اظہار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۲۰۱۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter