وطن اور دین کا دفاع

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دونوں آج کی اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ان دینی و علمی مراکز کی قیادتوں کو جزائے خیر سے نوازیں اور ہم سب کے مل بیٹھنے کو قبول فرماتے ہوئے اسے دنیا و آخرت میں ہمارے لیے سعادتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ ستمبر ۲۰۱۳ء

اجتہاد، تجدید اور تجدد

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا سلسلہ مکمل اور پھر کسی بھی نئی نبوت کا دروازہ بند ہو جانے کے بعد قیامت تک دین کی حفاظت اور نئے پیش آنے والے مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں حل تلاش کرنے کے لیے جو نظام امت کو دیا گیا اور جو گزشتہ چودہ سو برس سے کامیابی کے ساتھ یہ خدمت سرانجام دیتا چلا آ رہا ہے، اسے تجدید و اجتہاد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مجددین اور مجتہدین کا ایک مربوط اور مسلسل سسٹم ہے جو کسی تعطل اور تساہل کے بغیر مصروف کار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۰۷ء

سوال و جواب

بزرگوں کے تفردات: سوال: بزرگوں کے تفردات کا ذکر ہوتا ہے تو اس بارے میں ہمارا کیا طرزِ عمل ہونا چاہیے؟ (حافظ دانیال عمر، گوجرانوالہ ۔ ۸ جون ۲۰۲۴ء) ۔ جواب: تفرد یعنی کسی علمی مسئلہ پر انفرادی رائے ہر صاحبِ علم اور صاحبِ مطالعہ و تحقیق کا حق ہوتا ہے اور یہ فطری بات ہے۔ اکابر اہلِ علم کے تفردات کو صرف شمار ہی کیا جائے تو اس سے ضخیم کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔ مگر اپنی انفرادی رائے کو حتمی قرار دینا اور جمہور اہلِ علم کے علی الرغم اس پر اصرار کر کے دوسروں کو غلط قرار دینا درست طریقہ نہیں ہے۔ میں بھی ایک طالب علم کے طور پر بہت سے مسائل پر اپنی انفرادی رائے رکھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۲۴ء

دستوری اصلاحات اور دینی حلقوں کے خدشات

دستوری اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی اپنا کام مکمل کرنے کے قریب ہے اور توقع ہے کہ اس کی تجاویز کا مسودہ چند روز تک پارلیمنٹ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ جب سے دستوری اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ کی قائم کردہ کمیٹی نے کام شروع کیا ہے، اس کے سامنے مختلف نوع کی تجاویز پیش کی گئی ہیں اور کمیٹی ان تجاویز کی روشنی میں اپنی تجاویز اور سفارشات مرتب کر رہی ہے۔ اس وقت منظر پر سب سے زیادہ سترہویں دستوری ترمیم ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۱۰ء

علماء کی شہادت

کراچی ایک بار پھر علماء کی قتل گاہ بن گیا ہے اور مولانا سعید احمد جلال پوریؒ اور مولانا عبد الغفور ندیم کی اپنے بہت سے رفقاء سمیت المناک شہادت نے پرانے زخموں کو پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ خدا جانے یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا اور اس عفریت نے ابھی کتنے اور قیمتی لوگوں کی جان لینی ہے۔ مولانا سعید احمد جلال پوری شہیدؒ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے قافلے کے فرد تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۱۰ء

دینی جدوجہد کے نئے ابھرتے امکانات

جوہر آباد سے فون پر ایک دوست نے توجہ دلائی ہے کہ میں نے ایران کے سفر کے حوالہ سے مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا شاہ احمد نورانیؒ کے بارے میں اپنے گزشتہ کالم میں جو کچھ لکھا ہے، اس میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے۔ اس لیے کہ یہ سفر ۱۹۸۷ء میں ہوا، جبکہ مولانا مفتی محمودؒ اس سے سات سال قبل وفات پا چکے تھے۔ اس دوست کا کہنا بجا ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں اپنی گفتگو صحیح طور پر بیان نہیں کر سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جنوری ۲۰۱۰ء

نسبت کے تقاضے اور تزکیہ و طہارت کا نظام العمل

بعد الحمد و الصلوٰۃ۔ مولانا میاں عبد الوحید اشرفی صاحب کی مہربانی ہے کہ اپنے روحانی سلسلہ کے ان اجتماعات میں وقتاً فوقتاً یاد کرتے ہیں، کچھ بزرگوں کی زیارت ہوتی ہے، دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور چند گزارشات پیش کرنے کا موقع مل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں، آمین یارب العالمین۔ آج کا یہ اجتماع ’’سالکین‘‘ کے عنوان سے ہے۔ سلوک، احسان اور تزکیہ تصوف کی اصطلاحات میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اکتوبر ۲۰۲۰ء

دراساتِ دینیہ کا نصاب سب کو پڑھنا چاہیے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم آج یہاں ’’دراساتِ دینیہ‘‘ کی کلاس کے افتتاح کے سلسلہ میں جمع ہیں جو دینی تعلیم کا دو سالہ کورس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے جاری کیا گیا ہے، اس موقع پر کورس کے اساتذہ ، طلبہ اور منتظمین کو اس کارخیر کے آغاز پر مبارک باد دیتے ہوئے حاضری اور شرکت کے لیے کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ دین کی تعلیم ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۲۰۲۰ء

دنیا میں دعوت اسلام کی معروضی صورتحال

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا مفتی محمد نعمان احمد کا شکر گزار ہوں کہ ’’تخصص فی الدعوۃ والارشاد‘‘ کی اس نشست میں آپ حضرات کے ساتھ گفتگو کا موقع فراہم کیا۔ دعوت اور ارشاد اس کورس کا موضوع ہیں۔ دعوت کا مطلب کسی کو کسی بات یا کام کی دعوت دینا، اور ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ صحیح راستہ کی طرف راہنمائی کرنا۔ انہیں امت مسلمہ کے مجموعی دائرہ میں دیکھا جائے تو یہ ہماری ملی ذمہ داریوں کے دو دائرے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جون ۲۰۲۰ء

دینی مدارس کا تعلیمی سال تذبذب کا شکار

دینی مدارس کا تعلیمی سال شوال میں شروع ہوتا ہے جو ابھی تک تذبذب کا شکار ہے اور مختلف مقامات سے احباب پوچھ رہے ہیں کہ اس سال کیا ترتیب ہو گی؟ ان سے یہی گزارش کر رہا ہوں کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادت اس سلسلہ میں باہمی صلاح مشورہ میں مصروف ہے اور امید ہے کہ دو چار روز تک وہ کسی حتمی پروگرام کا اعلان کر دے گی۔ جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ کرونا بحران کی وجہ سے تعلیمی ادارے مسلسل بند ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter