پولیس، حساس ادارے کی رپورٹ اور پنجاب حکومت کا مستحسن اقدام

ایک حساس ادارے کی طرف سے لاہور کے پولیس افسروں کے بارے میں خفیہ رپورٹ کے انکشاف پر پولیس کے حلقوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے جہاں ایک حساس ادارے کی اس خفیہ رپورٹ کی اشاعت پر آئی جی پنجاب سے جواب طلبی کی ہے، وہاں بدنام قرار دیے جانے والے افسران کو ملازمت سے فارغ کر دینے کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۰۷ء

سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع

تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع جمعرات کی شام کو رائے ونڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ اس سال اجتماع کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، اس لیے ملک کے مختلف حصوں کے حضرات دو الگ الگ پروگراموں کے مطابق اجتماع میں شریک ہوں گے۔ بعض علاقوں کے حضرات آج بھی رائے ونڈ پہنچ رہے ہیں، ان کا اجتماع اتوار کی صبح تک جاری رہے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ نومبر ۲۰۰۷ء

حیاتِ شہیدؒ کا ایک ورق

مولانا شمس الدینؒ کا قبیلہ حریف آل کہلاتا ہے۔ اس قبیلہ کے جد امجد حضرت حریف شہید رحمۃ اللہ علیہ بخارا سے ہجرت کر کے فورٹ سنڈیمن کے شمال جنوب میں ۳۰ میل دور ایک صحت افزا مقام شین غر میں آئے تھے اور وہیں قیام پذیر ہو گئے تھے۔ یہ ہجرت بھی عجیب حالات میں ہوئی، حریف شہیدؒ کے والد محترم حضرت عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۱۹۷۵ء

جمعیۃ کی انقلابی سیاست اور اس کے تقاضے

مرکزی ناظم انتخابات محترم جناب قاری نور الحق صاحب قریشی ایڈووکیٹ کے اعلان کے مطابق یکم شعبان المعظم مطابق ۹ اگست بروز ہفتہ ملک بھر میں آئندہ سہ سالہ مدت کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی رکن سازی کا آغاز ہو رہا ہے۔ رکن سازی کا یہ سلسلہ ۱۳۹۵ھ کے آخر تک جاری رہے گا۔ آئندہ ہجری سال کے آغاز پر ضلعی انتخابات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ اگست ۱۹۷۵ء

مجلس تحفظ ختم نبوت ہندوستان کے نائب صدر مولانا محمد اسماعیل کٹکی سے ملاقات

۳۱ اگست ۱۹۸۸ء کو لندن میں منعقد ہونے والی چوتھی سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس میں بھارت سے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد اسماعیل کٹکی تشریف لائے اور اپنے خطاب میں یہ کہہ کر سب حاضرین و سامعین کو چونکا دیا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کی میں ختم نبوت کے عقیدہ پر اختلاف نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں کی طرح قادیانی حضرات بھی سلسلۂ نبوت کو منقطع اور ختم مانتے ہیں ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ نومبر ۱۹۸۸ء

لال مسجد تنازع حل کرنے کی علماء کی کوششیں

میں گزشتہ روز (۸ جولائی) کو دارالعلوم رحیمیہ ملتان کے سالانہ جلسہ میں شرکت کے لیے گوجرانوالہ سے روانہ ہوا، لاہور پہنچا جہاں شیرانوالہ گیٹ میں جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب (سمیع الحق گروپ) کے زیر اہتمام ”دفاعِ اسلام سیمینار“ منعقد ہو رہا تھا، اس میں تھوڑی دیر کے لیے شرکت کی۔ حضرت مولانا قاضی عبد اللطیف صاحب سے ایک عرصہ کے بعد ملاقات ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جولائی ۲۰۰۷ء

لال مسجد تنازع پر مذاکرات کیسے سبوتاژ کیے گئے؟

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کے ساتھ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رہنماؤں کے مذاکرات کی رپورٹ گزشتہ کالم میں مختصراً قارئین کی خدمت میں پیش کی جا چکی ہے اور اب مذاکرات کے دوسرے دو مراحل کی صورتحال سے قارئین کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس سے قبل غازی عبد الرشید کا تذکرہ ضروری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جولائی ۲۰۰۷ء

دینی مدارس کی تعلیم کا زندگی کی عملی ضروریات سے تعلق

گزشتہ اتوار کو مجھے اسلام آباد کے معروف تعلیمی ادارہ ”ادارہ علوم اسلامی“ بھارہ کہو کے سالانہ اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ ادارہ مولانا فیض الرحمٰن عثمانی کی سربراہی میں کام کر رہا ہے اور اس میں درس نظامی کے مکمل نصاب کے ساتھ ساتھ عصری مضامین کی بھی معیاری تعلیم دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم دسمبر ۲۰۰۷ء

امریکہ میں پاکستانی دوستوں سے ملاقاتیں

پہلی بار ہیوسٹن جانے کا اتفاق ہوا، وہاں پاکستانی دوستوں کا خاصا بڑا حلقہ ہے اور متعدد دینی ادارے کام کر رہے ہیں۔ مدرسہ اسلامیہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ گزشتہ تیس برس سے مصروفِ عمل ہے، قاری محمد ہاشم صاحب اور مولانا حافظ محمد اقبال صاحب اپنے رفقاء کے ساتھ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۰۷ء

امریکا میں اردو صحافت

امریکہ کے مختلف شہروں سے اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں، جن میں پاکستان کے حالات، عالمی صورت حال اور امریکہ کی اہم خبروں کے ساتھ ساتھ امریکہ میں مقیم پاکستانی دانشوروں کی نگارشات اور پاکستان کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والے معروف کالم نگاروں کی تحریروں کا انتخاب بھی شائع ہوتا ہے اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی سرگرمیوں کی ایک عمومی جھلک ان میں نظر آ جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ ستمبر ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter