محاضراتِ تصوف

تصوف اور سلوک کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے اور اس کا دائرہ کیا ہے؟ یہ اس سلسلہ گفتگو کے عنوانات ہیں۔ آج اس حوالے سے کچھ تمہیدی گفتگو کروں گا کہ تصوف کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس حوالے سے با ضابطہ بات ان شاء اللہ اگلی نشست میں کریں گے۔ اس گفتگو کا پس منظر یہ ہے کہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا روحانی تعلق نقشبندی سلسلے سے تھا - - - مکمل تحریر

-

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۳) : چوتھا کبیرہ گناہ نماز کا چھوڑنا ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: فخلف من بعدھم خلف اضاعوا الصلوٰۃ واتبعوا الشھوات فسوف یلقون غیا۔ الا من تاب و آمن و عمل صالحا۔ (مریم ۵۹، ۶۰) ’’پھر ان کے بعد ایسے نا خلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا اور خواہشوں کی پیروی کی، سو یہ لوگ عنقریب خرابی دیکھیں گے۔ ہاں مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جون ۱۹۷۳ء

چناب نگر کی ختم نبوت کانفرنس اور دینی حلقوں کی توقعات

مخدوم العلماء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا ایک گرامی نامہ اس وقت میرے سامنے ہے، جس میں انہوں نے ملک بھر کے علماء کرام سے خطاب کرتے ہوئے انہیں ایک اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے۔ گرامی نامہ کا مضمون یہ ہے: جناب واجب الاحترام علماء کرام زید مجدكم العالی، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، آپ کو معلوم ہے کہ قادیانی، مرزائی اندر اندر مسلمانوں کو مرتد بنانے میں مصروف ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ اکتوبر ۲۰۰۷ء

محترم مجیب الرحمٰن شامی کی خدمت میں!

مجیب الرحمٰن شامی صاحب ہمارے محترم اور بزرگ دوست اور ملک کے ممتاز دانشور ہیں جنہوں نے دینی و قومی تحریکات میں ہمیشہ اجتماعی ضمیر کی نمائندگی کی ہے اور اپنے دائرہ کار میں صفِ اول کے راہنما کا کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ روز انہوں نے ایک نشری گفتگو میں قادیانیوں کے شہری حقوق اور ان کے بقول قادیانیوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کا تذکرہ کیا ہے اور ملک کی دینی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا کوئی حل نکالیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جون ۲۰۲۴ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۲) : دوسرا کبیرہ گناہ قتلِ ناحق ہے

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاءہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذاب عظیما۔ (النساء ۹۳) ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کو اس میں رہنا، اور اس پر اللہ تعالیٰ غضبناک ہوں گے اور اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیں گے اور اس کے لیے بڑی سزا کا سامان کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۱۰) : ماں باپ کی نافرمانی

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ اعراف کیا ہے اور وہاں کون سے لوگ جائیں گے؟ آپؓ نے فرمایا، اعراف جنت اور جہنم کے درمیان ایک پہاڑ ہے، اس پر درخت ہیں، نہریں ہیں، چشمے ہیں اور پھل بھی ہیں، اور اس جگہ وہ لوگ ہوں گے جو ماں باپ کی اجازت کے بغیر جہاد پر چلے گئے اور وہاں اللہ کی راہ میں شہادت پائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۹) : ماں باپ کی نافرمانی

آٹھواں کبیرہ گناہ ماں باپ کی نافرمانی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وقضیٰ ربک الا تعبدوا الا ایاہ و بالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھما قولا کریما۔ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ وقل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا۔ (الاسراء ۲۳، ۲۴) ’’اور تیرے رب نے حکم کر دیا کہ بجز اس کے کسی کی عبادت نہ کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اگست ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر (۷) : پانچواں کبیرہ گناہ منعِ زکوٰۃ ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لا یحسبن الذین یبخلون بما آتاہم اللہ من فضلہ ھو خیرا لہم بل ہو شر لہم سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیامۃ۔ (آل عمران ۱۸۰) ’’اور ہر گز خیال نہ کریں ایسے لوگ جو ایسی چیز میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بات کچھ ان کے لیے اچھی ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۱۹۷۳ء

امام ذہبیؒ کی کتاب الکبائر : رشتہ داروں سے قطع تعلق

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک مجلس میں بیٹھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہے تھے۔ دورانِ گفتگو آپؓ نے فرمایا کہ میں ہر ’’قاطع رحم‘‘ سے حرج محسوس کرتا ہوں، اس لیے ہماری مجلس میں جو قاطع رحم ہو وہ اٹھ جائے۔ ایک نوجوان مجلس سے اٹھ گیا اور اپنی پھوپھی کے پاس گیا جس سے اس نے کئی سالوں سے لاتعلقی اختیار کر رکھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

سنٹر فار اسلامک سٹڈیز: آکسفورڈ میں اسلامی ثقافت کی پہچان

برطانیہ کا سفر جتنے دن کا بھی ہو، آکسفورڈ میں ایک رات کی حاضری لازمی ہوتی ہے۔ مغربی دنیا کے اس عظیم تعلیمی و تہذیبی مرکز میں” آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک سٹڈیز “ کے نام سے ایک علمی و تحقیقی ادارہ سالہا سال سے کام کر رہا ہے، جسے سلطان آف برونائی اور برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس سمیت بہت سی عالمی شخصیات کی سرپرستی حاصل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جنوری ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter