خواتین کی وراثت کیلئے قانون سازی کا تاریخی پس منظر

ایک اخباری خبر کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حلف اٹھاتے ہی صوبہ میں خواتین کو وراثت کا شرعی حق دلوانے کے لیے قوانین میں ترامیم کے لیے متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔ خواتین کو وراثت میں ان کا حصہ دلانے اور دیگر معاشرتی حقوق سے بہرہ ور کرنے کا معاملہ قانونی اور معاشرتی دائروں میں عرصہ دراز سے زیربحث ہے۔ بالخصوص صوبہ خیبر پختونخوا میں تو اس پر قانون سازی کی تاریخ کم و بیش ایک صدی کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ و ۱۸ مارچ ۲۰۲۴ء

عورتوں کی وراثت پر ایک صدی قبل کی قانون سازی

گزشتہ کالم میں نوے برس قبل صوبہ سرحد اسمبلی میں قانون سازی کا ذکر کیا تھا۔ جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ’’کفایت المفتی‘‘ میں اس کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے جس کا آج کے علمی و قانونی ماحول میں دوبارہ سامنے آنے کو بوجوہ ضروری سمجھتے ہوئے اس کالم میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ و ۲۱ مارچ ۲۰۲۴ء

’’نوائے راشدی‘‘

مختلف دینی اور قومی مسائل پر اخبارات و جرائد اور مجالس و محافل کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اظہارِ خیال کا موقع ملتا رہتا ہے جو بحمد اللہ تعالیٰ سنجیدہ احباب اور اصحابِ فکر و دانش سے دعاؤں کے حصول کا ذریعہ بنتا ہے اور میرے لیے اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ عزیزم ناصر الدین خان عامر نے ایسی بہت سی گزارشات کو محفوظ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جن میں سے ایک انتخاب زیر نظر مجموعہ میں آڈیو لنک کے ساتھ تحریری صورت میں بھی پیش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مارچ ۲۰۲۴ء

’’مسئلہ رؤیتِ ہلال‘‘

ہماری عبادات کے نظام کا ایک بڑا حصہ چاند کی گردش کے ساتھ متعلق ہے اور چاند کا مہینہ چاند کی رؤیت پر طے پاتا ہے۔ اگر انتیس دن کے بعد چاند نظر آجائے تو اگلا مہینہ شروع ہو جاتا ہے ورنہ گزشتہ ماہ کے تیس دن پورے کیے جاتے ہیں۔ پہلی رات کا چاند اس قدر باریک ہوتا ہے کہ اسے دیکھنے کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے اور اس کے ثبوت کے لیے فقہاء اسلام نے ضابطے طے کیے ہیں جن میں فقہی اختلاف فطری امر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۲۰۲۴ء

’’خلافتِ اسلامیہ اور پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد‘‘

امتِ مسلمہ کی خودمختاری اور آزادانہ حیثیت کے ساتھ وحدت و ہم آہنگی اور مسلم معاشروں میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری اس وقت ملتِ اسلامیہ کی سب سے بڑی ضرورت ہے، جس کے لیے عالمِ اسلام کے مختلف حلقوں میں بیسیوں بلکہ سینکڑوں گروہ اپنے اپنے انداز میں جدوجہد کر رہے ہیں، اور ان کے اہداف میں خلافت کی بحالی کے علاوہ معاشی استحکام و آزادی، نفاذِ شریعت اور مسلم تہذیب و ثقافت کا تحفظ شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ مارچ ۲۰۲۴ء

’’اسوۂ رہبر عالم ﷺ‘‘

گزشتہ نصف صدی کے دوران بحمد اللہ تعالیٰ سینکڑوں اجتماعات میں جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کی سعادت حاصل ہوئی ہے جن میں سے کچھ صفحۂ قرطاس پر منتقل ہو کر اخبارات و جرائد میں شائع ہوئے ہیں۔ عزیزم حافظ ناصر الدین خان عامر نے ان میں سے چند مطبوعہ مضامین کو زیر نظر کتاب کی صورت میں مرتب کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اکتوبر ۲۰۱۶ء

’’قرآن کریم اور رمضان کریم‘‘

رمضان المبارک قرآن کریم کا مہینہ ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کا نزول ہوا ہے اور اسی میں وہ سب سے زیادہ پڑھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں تراویح، تہجد اور نوافل کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی اپنے طور پر تلاوت بھی اس ماہِ مبارک میں کثرت سے ہوتی ہے جو قرآن کریم اور رمضان المبارک کے ساتھ مسلمانوں کی عقیدت و محبت اور قلبی لگاؤ کا زندہ اظہار ہے۔ قرآن کریم نسلِ انسانی کی قیامت تک راہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کا جامع اور آخری پیغام ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مارچ ۲۰۲۴ء

’’تبلیغی جماعت‘‘

دورِ حاضر میں سادہ اور عام فہم انداز میں مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور دینی ماحول میں واپس لانے کی کوشش اور اس کے لیے دعوت و تربیت کا سب سے بڑا دائرہ تبلیغی جماعت کا ہے جو بلاشبہ حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی قدس اللہ سرہ العزیز کی مخلصانہ مساعی اور جہدِ مسلسل کا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس عمل و محنت نے پوری دنیا میں وسعت و پذیرائی حاصل کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۲۳ء

’’معیشت کے چند اہم پہلو، اسلامی نقطۂ نظر سے‘‘

معیشت انسانی معاشرہ کا ایک اہم شعبہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ’’جعل اللہ لکم قیاماً‌‘‘ بتایا ہے کہ اموال و دولت کو خالقِ کائنات نے انسانوں کے لیے زندگی گزارنے کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں اور تقاضوں پر کلام پاک میں تفصیلی بات کی گئی ہے۔ جبکہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام خصوصاً‌ نبئ آخر الزماں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اصول و ضوابط اور احکام و قوانین ہر پہلو سے واضح کیے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ اکتوبر ۲۰۲۳ء

’’بھٹو خاندان اور قومی سیاست‘‘

سر شاہنواز بھٹو مرحوم کا خاندان سندھ کی سیاست میں ایک متحرک خاندان کے طور پر متعارف چلا آرہا ہے، ان کا دور تو میں نے نہیں دیکھا البتہ ان کے فرزند ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے خاندان کے سیاسی کردار سے ملک کے دیگر شہریوں کی طرح میرا واسطہ بھی چلا آ رہا ہے، مجھے جب سیاست و صحافت کے کوچہ سے آشنائی ہوئی تو وہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کی حکومت میں وزیرخارجہ تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۲۳ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter