مختلف طبقات سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کا خطاب
اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں صدیوں سے چلے آنے والے مسلم اقتدار کو شدید بیرونی و اندرونی خطرات سے سابقہ درپیش تھا، اور جہاں ایک طرف سات سمندر پار سے آنے والے برطانوی، فرانسیسی اور پرتگیزی استعماری گروہ اس خطہ پر تجارت کے عنوان سے تسلط جمانے کے لیے مسلسل پیش قدمی کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور جہادِ کشمیر
قیامِ پاکستان کے بعد کشمیر کے علماء اور عوام نے ڈوگرہ سامراج کے ظالمانہ اور جابرانہ تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا پرچم بلند کیا تو پاکستان کے جن اکابر علماء نے اس کی حمایت میں سرگرم کردار ادا کیا ان میں شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کی شخصیت اور ذات گرامی نمایاں ہے۔ انہوں نے نہ صرف اس جنگ کو جہاد قرار دیا اور اس کی معاونت کے لیے لوگوں کو تیار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت: علامہ عثمانیؒ اور مولانا یوسف کا نقطۂ نظر
جب سے جنرل پرویز مشرف کو بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے دورۂ دہلی کی دعوت ملی ہے تب سے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے دونوں طرف سے سرکاری اور غیر سرکاری رابطوں کا سلسلہ بھی بڑھ گیا ہے، اور اس کے ساتھ ہی ایک مخصوص حلقہ لوگوں کے ذہنوں میں اس شک اور تردد کو پھر سے ابھارنے میں مصروف ہو گیا ہے کہ کشمیر کی جنگ شرعاً جہاد بھی ہے یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ کشمیر کی ایک تاریخی دستاویز
تحریکِ آزادئ کشمیر کے سلسلہ میں ایک گزشتہ کالم کے حوالے سے ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں جس کی طرف محترم سید بشیر حسین جعفری صاحب نے اپنے تفصیل خط میں توجہ دلائی ہے۔ اور بعد میں گزشتہ روز ایک ملاقات میں بھی انہوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ ۱۹۴۷ء میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت اور جہاد کے لیے حضرت مولانا سید مظفر حسین ندوی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ کشمیر اور شہدائے بالاکوٹ
جہادِ کشمیر کے بارے میں گزارشات پر محترم سید بشیر حسین جعفری صاحب نے قلم اٹھایا اور دو باتوں کو محلِ نظر ٹھہرایا ہے۔ ایک یہ کہ ۱۹۴۷ء کے جہادِ کشمیر میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان کا کوئی سرگرم کردار رہا ہے۔ اور دوسری یہ کہ ۱۸۳۱ء میں مجاہدینِ بالاکوٹ اور راولاکوٹ کشمیر کے مجاہدین کی جدوجہد کا دور ایک ہونے کے باوجود ان کے درمیان کوئی رابطہ تھا یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ بالاکوٹ اور جہادِ کشمیر
’’تحریکِ بالاکوٹ اور جہادِ کشمیر‘‘ کے عنوان سے محترم سید زاہد حسین نعیمی صاحب نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے جو راقم الحروف اور محترم سید بشیر حسین جعفری کے درمیان زیر بحث ہے۔ نعیمی صاحب نے جعفری صاحب کے اس موقف کی تائید کی ہے کہ مجاہدینِ بالاکوٹ اور مجاہدینِ کشمیر کے درمیان تعلق کا ثبوت ابھی تحقیق طلب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ کشمیر اور علماءِ کشمیر کا موقف
گزشتہ روز آزاد کشمیر کے سرحدی شہر عباس پور میں حرکۃ المجاہدین کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’جہادِ ہند کانفرنس‘‘ میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ کانفرنس عباس پور سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں عبد القیوم اور حامد رشید کی یاد میں منعقد ہوئی، جنہوں نے آزادئ کشمیر کی خاطر سرحد پار انڈین آرمی سے معرکہ آرائی میں جامِ شہادت نوش کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں دو شبہات کا جائزہ
جہادِ کشمیر کی شرعی حیثیت کے بارے میں شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف خان کے حوالے سے علماء کشمیر کا یہ موقف اس کالم میں عرض کیا جا چکا ہے کہ ان کے نزدیک انڈین آرمی کے خلاف مجاہدین کی یہ عسکری تگ و تاز شہدائے بالاکوٹ کے اس جہاد کا تسلسل ہے جس کا مقصد کشمیر کو آزاد کرا کے ایک اسلامی ریاست کی حیثیت دینا تھا، اور جب تک یہ مقصد پورا نہیں ہو جاتا جہاد کو بہرحال جاری رہنا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تحریکِ آزادئ کشمیر کا ایک اہم باب
راولپنڈی سے شیخ تجمل الاسلام صاحب کی ادارت میں ’’استقلال‘‘ کے نام سے ایک ماہوار جریدہ طبع ہوتا ہے جس کا بنیادی موضوع کشمیر ہے اور آزادئ کشمیر کے حوالے سے معلوماتی اور مفید مضامین اس میں شائع ہوتے ہیں۔ اگست ۲۰۰۱ء کے شمارہ میں اس جریدہ کے مدیر محترم نے ۱۹۳۱ء کی تحریکِ کشمیر کو اپنے شذرات میں گفتگو کا موضوع بنایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت سلمان فارسیؓ کی مختصر سرگزشت
گزشتہ دنوں بخاری شریف کے درس میں ایک دلچسپ واقعہ نظر سے گزرا جو امام بخاریؒ نے بخاری شریف کی ’’کتاب الادب‘‘ میں بیان کیا ہے اور جس میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کا فطری اور خوبصورت توازن بیان کیا گیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعہ قارئین کے سامنے بھی ذکر کر دیا جائے۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایران کے رہنے والے تھے، مجوسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور آتش پرست تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 77
- 78
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »