اسلام میں خواتین کے حقوق اور مغربی پراپیگنڈا

عالمی سطح پر خواتین کا ہفتہ منایا جا چکا ہے اور ہمارے معروف کالم نگار جناب اسلم کھوکھر کی تصنیف ’’دنیا کی نامور خواتین‘‘ اس وقت میرے سامنے ہے جس میں انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے ڈیڑھ سو سے زائد نامور خواتین کے حالات اور کارناموں کا تذکرہ کیا ہے۔ اور ساڑھے چھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل یہ خوبصورت اور معلوماتی کتاب فکشن ہاؤس ۱۸، مزنگ روڈ لاہور نے شائع کی ہے۔ کتاب کا آغاز ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ سے ہوا ہے اور ان کے بعد ام المومنین حضرت عائشہؓ کا تذکرہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مارچ ۲۰۰۱ء

مانچسٹر میں مسجد امدادیہ کی افتتاحی تقریب

الحاج ابراہیم باوا صاحب تبلیغی جماعت کے پرانے بزرگوں میں سے ہیں اور احکامِ شریعت کی پابندی کے اس قدر سختی کے ساتھ داعی ہیں کہ خود تبلیغی جماعت کی جن باتوں سے انہیں اتفاق نہیں ہوتا اور وہ انہیں شرعی دائرہ سے متجاوز سمجھتے ہیں، ان پر کھلے بندوں اعتراض و نکیر سے بھی نہیں چوکتے اور بعض مسائل پر تبلیغی جماعت کے بزرگوں سے ان کی آنکھ مچولی چلتی رہتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء

سود کا خاتمہ: سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف یونائیٹڈ بینک کی اپیل

سود کے خاتمہ کے بارے میں دینی حلقوں کی طویل عدالتی جنگ منزل پر پہنچتے پہنچتے ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بینچ نے تیس جون ۲۰۰۱ء تک ملک سے سودی نظام کے مکمل خاتمے کا ٹارگٹ دے کر حکومت کو غیر سودی نظام لانے کے لیے جو ہدایات جاری کی تھیں، انہیں یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ کی طرف سے دوبارہ چیلنج کر دیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۱ء

سیرتِ نبوی ﷺ پر جنرل مشرف کے خیالات اور سودی نظام

چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب محترم نے گزشتہ روز وزارتِ مذہبی امور کے زیراہتمام منعقد ہونے والی ’’قومی سیرت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مسائل کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار فرمایا ہے اور ان کے بعض ارشادات کے حوالے سے قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۰۱ء

حالاتِ حاضرہ پر پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس

پاکستان شریعت کونسل نے ملک میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کو تیز کرنے، سودی نظام کے خاتمہ، بڑھتی ہوئی عریانی و فحاشی کی روک تھام، این جی اوز کی اسلام دشمن سرگرمیوں کے تعاقب، دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ، افغانستان کی طالبان حکومت کی حمایت، مجاہدینِ کشمیر کی پشت پناہی، اور خلیج عرب سے امریکی افواج کی واپسی کے لیے مشترکہ جدوجہد کی راہ ہموار کرنے کی غرض سے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کی دینی جماعتوں سے رابطے قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۔

جمعیت علماء اسلام کی پشاور کانفرنس

دارالعلوم دیوبند کی کم و بیش ڈیڑھ سو سالہ دینی، علمی و ملی خدمات کے حوالے سے پشاور میں کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر جمعیت علماء اسلام پاکستان کی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ جمعیت علماء اسلام کی دعوت پر ملک بھر سے لاکھوں علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیندار عوام نے پشاور میں جمع ہو کر واضح کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے عوام کے ذہنوں میں اس تاریخی جدوجہد کا تسلسل بدستور موجود ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اپریل ۲۰۰۱ء

یومِ دفاعِ پاکستان

چھ ستمبر کو ملک بھر میں ’’یومِ دفاع پاکستان‘‘ منایا گیا۔ ۱۹۶۵ء میں اس روز بھارتی افواج رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کر کے لاہور پر قبضہ کے لیے چڑھ دوڑی تھیں، مگر پاک فوج کے جیالوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر انڈین آرمی کا راستہ روکا، اور سترہ دن کی جنگ میں دنیا نے دیکھ لیا کہ پاکستان کی افواج اپنی سرحدوں کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ دن ہر سال وطنِ عزیز کے دفاع میں پاکستانی فوج اور عوام کی قربانیوں اور جذبہ کی یاد تازہ رکھنے کے لیے منایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ ستمبر ۲۰۰۱ء

نظامِ خلافت اور عالمِ اسلام

ڈاکٹر میر معظم علی علوی پاکستان کے بزرگ دانشور ہیں اور تحریکِ پاکستان کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے ملک میں نظامِ خلافت کے اَحیا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسی عنوان پر ان کے خطبات کا ایک مجموعہ کتابی شکل میں شائع ہوا ہے جس کے پیش لفظ کے طور پر ان کی فرمائش پر یہ سطور تحریر کی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جولائی ۲۰۰۱ء

پاپائے روم اور ان کے معتقدین سے ایک گزارش

پاپائے روم جان پال دوم کی ہدایت پر جمعۃ الوداع کے روز مسیحی برادری نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے روزہ رکھا، اور اخباری اطلاعات کے مطابق بعض مقامات پر مسیحی دوستوں نے خود روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ مسلمان دوستوں کا روزہ بھی افطار کرایا۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق روزہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھا اور منتخب امتوں کے لیے روزوں کی تعداد اور روزے کا یومیہ دوران مختلف رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۲۰۰۱ء

معاشرتی جرائم کی شرعی سزائیں اور بائیبل

پروفیسر گلزار وفا چوہدری کے حوالے سے گزشتہ کالم میں ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ شریعت کے احکام کی خلاف ورزی پر دنیا اور آخرت دونوں جگہ میں سزا اور عذاب کی جو بات مسلم علماء اور فقہاء کرتے ہیں وہ ان کی خود ساختہ نہیں ہے، بلکہ ان کی بنیاد ’’آسمانی تعلیمات‘‘ اور ’’پاک نوشتوں‘‘ پر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter