معراج النبیؐ: ایک سبق، ایک پیغام

معراج اور اسراء جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سے ہیں۔ اسراء اس سفر کو کہتے ہیں جو نبی اکرمؐ نے مسجد حرام سے مسجد اقصٰی تک کیا، اور معراج وہ سفر ہے جو زمین سے ساتوں آسمانوں اور اس سے آگے سدرۃ المنتہیٰ تک ہوا، اور اس میں رسالتمآبؐ نے سات آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کے بہت سے مناظر دیکھے جن کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے اور سینکڑوں احادیث میں ان کی تفصیلات مذکور ہیں۔ عام طور پر روایات میں آتا ہے کہ یہ دونوں سفر ایک ہی رات میں ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۰۹ء

اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور مغربی دنیا

ہفت روزہ اردو ٹائمز نیویارک کے ۱۳ اگست ۲۰۰۹ء کے شمارہ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ اویگڈر لیبرمین نے امریکی کانگریس کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے امن مذاکرات کے لیے فلسطینی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن معاہدہ محض ایک تخیل ہے اور اس سلسلہ میں اسرائیلی پالیسی حقائق پر مبنی ہے، انہوں نے کہا کہ البتہ امن مذاکرات سے فلسطین کی اقتصادی اور سیکیورٹی صورت میں بہتری آ سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

مغرب میں قبولِ اسلام کا بڑھتا ہوا رجحان

بی بی سی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لارڈ برٹ کے بیٹے جوناتھن برٹ نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا اور اب وہ یحییٰ برٹ کے نام سے اسلام کی دعوت و تبلیغ کے کام میں مصروف ہیں۔چند سال قبل لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کی طرف سے یحییٰ برٹ کے اعزاز میں ایک فکری نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں مولانا محمد عیسٰی منصوری اور دیگر حضرات کے علاوہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی، اس نشست میں یحییٰ برٹ نے اپنے قبولِ اسلام کا واقعہ اور اس کے بعد کے تاثرات بیان کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

امریکہ میں مسلمانوں کی سر گرمیاں

میں اٹھارہ جولائی سے امریکہ میں ہوں اور تین ستمبر تک گوجرانوالہ واپس پہنچنے کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔جامعہ نصرۃ العلوم میں سالانہ امتحان اور جلسہ دستار بندی کے بعد امریکہ آجاتا ہوں اور کم و بیش ایک ’’چلہ‘‘ یہاں گزر جاتا ہے، مختلف مقامات پر دینی مدارس اور مساجد میں حاضری ہوتی ہے اور مسلمان بھائیوں کے ساتھ دینی موضوعات پر گفتگو کا موقع بھی مل جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد اور دینی مدارس

گزشتہ دنوں ایک روز کے لیے کراچی جانے کا اتفاق ہوا اور جامعہ دار العلوم کورنگی، جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن کی مختلف علمی نشستوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ کراچی کے مختلف دینی اداروں کی طرف سے سوات آپریشن کے متاثرین کی امداد کی سر گرمیوں کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمارے بڑے دینی مدارس اپنے مظلوم اور متاثر بھائیوں کی امداد اور بحالی کے لیے پوری دلچسپی کے ساتھ سر گرم عمل ہیں، مجھے بتایا گیا کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۹ء

رعایا پروری اور حضرت عمر بن الخطابؓ

روزنامہ امت کراچی ۲ جولائی ۲۰۰۹ء کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ حضرت عمرؓ نے ریاست میں بسنے والوں کے مسائل کی ذمہ داری اپنے اوپر لی تھی اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر جائے تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے، اب اگر کوئی قیدی مر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا؟ آج عہدوں پر براجمان تمام ذمہ داران کو حضرت عمرؓ کے اس ارشاد سے راہنمائی لے کر ریاست میں بسنے والوں کی تکالیف اور مسائل کو حل کرنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۰۹ء

قاہرہ میں صدر اوباما کا خطاب

امریکہ کے صدر جناب باراک حسین اوباما نے ۴ جون کو قاہرہ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے خصوصی خطاب کیا ہے اور مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہیں ہے اور وہ مسلمانوں اور امریکہ کے درمیان غلط فہمیاں دور کر کے منافرت کی وہ فضا ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو مسلم دنیا میں امریکہ کے بارے میں پائی جاتی ہے۔ صدر اوباما نے اس سے قبل استنبول میں بھی اسی نوعیت کا خطاب کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۹ء

امام اہلسنتؒ کی رحلت

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کو ابھی ایک سال ہی گزرا ہے کہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہٗ بھی ہم سے رخصت ہو گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ۵ مئی کو صبح ایک بجے کے لگ بھگ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی، اس وقت قریب میں کوئی ڈاکٹر صاحب میسر نہ آئے، چند لمحے تکلیف میں رہے، ہمارے چھوٹے بھائی ڈاکٹروں کی تلاش میں رہے۔ والد محترم کے اصل معالج ڈاکٹر فضل الرحمان کو اطلاع کی گئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۰۹ء

سوات کے حالات، قومی کمیشن قائم کیا جائے

سوات اور دیگر ملحقہ علاقوں میں آپریشن جاری ہے، آبادی کا وسیع پیمانے پر انخلا ایک مستقل مسئلہ ہے اور ہزاروں خاندان کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں پر امن شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ بظاہر پاک فوج اس خطہ میں حکومتی رٹ قائم کرنے اور مبینہ دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے لیے یہ وسیع فوجی آپریشن کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۰۹ء

مذاہب اور مذہبی اکابر کی اہانت کا حق

سہ روزہ دعوت دہلی کی یکم اپریل ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ: ’’جنیوا میں تقریباً ۲۰۰ افراد اور میڈیا گروپوں سے وابستہ دانشوروں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے کہا ہے کہ وہ اسلامی ممالک کی جانب سے پیش کی گئی اس تجویز کو مسترد کر دے جس میں انہوں نے عالمی پیمانے پر ایسا قانون تیار کرنے کی مانگ کی ہے جس کے ذریعے مذہبی رہبروں اور مختلف ادیان کی اہانت سے لوگوں کو روکا جا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

سوات کے مظلوم عوام کا مقدمہ

۱۱ اپریل کو بادشاہی مسجد لاہور میں منعقد ہونے والی ’’قومی ختم نبوت کانفرنس‘‘ میں راقم الحروف کو بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع دیا گیا لیکن میں نے کانفرنس سے خطاب کی دعوت دینے پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا کہ کانفرنس کے موضوع پر بہت سے مقررین آپ سے خطاب کریں گے اس لیے میں اپنے معمول کے خلاف کانفرنس کے موضوع سے ہٹ کر ملک بھر سے آنے والے علماء اور دینی کارکنوں کے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

قومی ختم نبوت کانفرنس اور اس کے اہداف

۱۱ اپریل ۲۰۰۹ء کو بادشاہی مسجد لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام قومی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد دامت برکاتہم آف کندیاں شریف کے فرزند جانشین حضرت صاحبزادہ عزیز احمد صاحب زیدمجدہم نے کی اور مختلف مکاتِب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ ملک بھر سے ہزاروں علماء کرام، دینی کارکنوں اور عوام نے شریک ہو کر کانفرنس کے موضوع اور مقاصد کے ساتھ ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۹ء

سوات میں شرعی عدالتوں کا آغاز

مولانا صوفی محمد کے ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت کے معاہدہ کے تحت سوات اور ملحقہ علاقوں میں شرعی عدالتوں نے کام کا آغاز کر دیا ہے اور عدالتوں میں مختلف مقامات کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ مولانا صوفی محمد خود ان فیصلوں اور مقدمات کے نظام کی نگرانی کر رہے ہیں اور رفتہ رفتہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی سرگرمیاں

ربیع الاول کے وسطی عشرہ میں مجھے چار پانچ روز کے لیے ہانگ کانگ جانے کا موقع ملا ۔ ہانگ کانگ مشرق بعید کا ایک اہم جزیرہ ہے جو کم و بیش ایک صدی تک برطانیہ کے زیرنگیں رہا اور ۱۹۹۷ء میں عوامی جمہوریہ چین نے اسے برطانیہ سے واپس لیا ہے۔ انیسویں صدی کے وسط میں جب پوری دنیا میں برطانیہ کا طوطی بولتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ برطانیہ عظمٰی کی سلطنت اس قدر وسیع ہے کہ اس میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۰۹ء

مسلمان ممالک کا اسرائیل کو دہشت گرد قرار دینے پر اتفاق

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۲ فروری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں گزشتہ دنوں بچوں کے بارے میں منعقد ہونے والی مسلمان ملکوں کی دوسری سالانہ بین الاقوامی کانفرنس میں ۳۶ مسلمان ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دیتے ہوئے اسے دنیا میں مسلمانوں کے اجتماعی فورم کی طرف سے دہشت گرد ملک کے طور پر متعارف کرانے کی مہم چلائی جائے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

عالم اسلام کے خیالات اور امریکہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق امریکہ کی وزیر خارجہ محترمہ ہیلری کلنٹن گزشتہ روز جب انڈونیشیا کے دورے پر پہنچیں تو انڈونیشیا کے کئی شہروں میں امریکہ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی صورت میں عوام نے امریکہ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا، بلکہ انڈونیشیا کی ایک بڑی مسلمان تنظیم محمدیہ کے سر براہ جناب شمس الدین نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ دعوت میں شرکت کی دعوت مسترد کر کے امریکہ کو انڈونیشیا عوام کے جذبات سے باخبر کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

سوات میں نفاذ شریعت اور سیکولر حلقوں کی جھنجھلاہٹ

مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کے معاہدہ نے دنیا بھر کے سیکولر حلقوں میں بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے اور ہر سطح پر اس پر جھنجھلاہٹ کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ حالانکہ یہ سادہ سی بات ہے کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کا ایک مدت سے مطالبہ تھا کہ انہیں شرعی عدالتوں کا نظام فراہم کیا جائے، کیونکہ پاکستان کے ساتھ ریاست سوات کے الحاق سے قبل وہاں شرعی عدالتوں کا جو نظام موجود تھا اس میں انہیں جلد اور سستے انصاف کی سہولت حاصل تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۹ء

سانحۂ ساہیوال اور ریاستی نظامِ امن و عدل

سانحۂ ساہیوال نے پوری قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اس کا ارتعاش قومی زندگی میں ہر سطح پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ جس طرح ایک پر امن فیملی کو جی ٹی روڈ پر سفر کرتے ہوئے گولیوں سے بھون کر رکھ دیا گیا اس نے امن و امان اور عدل و انصاف کے نظام پر ایک عرصہ سے چلے آنے والے سوالیہ نشان کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ قوم کی اعلیٰ ترین سطح پر اس کی ایک جھلک آج کے قومی اخبارات میں شائع ہونے والی درج ذیل خبروں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۱۹ء

نواستعماری عزائم اور ایجنڈے پر دو اہم کتابیں

بہت سے احباب کو بعض معاملات میں مجھ سے شکایت رہتی ہے مگر ان دوستوں کے تمام تر خلوص و محبت کے باوجود ایسی شکایات کا ازالہ میرے بس میں نہیں ہوتا۔ مثلاً وقتاً فوقتاً مختلف مقامات میں دینی و علمی تقریبات میں شریک ہوتا ہوں تو وہاں کے دوستوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اس تقریب کے حوالہ سے کالم لکھوں اور اس میں کی جانے والی گفتگو بھی ریکارڈ میں لاؤں، جو کہ اس لیے ناقابل عمل ہو جاتا ہے کہ یہ کالم پھر اسی کام کے لیے مخصوص ہو جائے گا اور باقی اہم موضوعات نظرانداز ہو جائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ جنوری ۲۰۱۹ء

اقوام متحدہ یا پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت؟

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب حسین عبد اللہ ہارون نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں جمہوریت نہیں بلکہ پانچ بڑی طاقتوں کی فرعونیت ہے۔ روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء کے مطابق ’’ایکسپریس نیوز‘‘ کے میزبان جاوید چوہدری سے بات چیت کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے ان تاثرات کا اظہار کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

قادیانیوں کے بارے میں پارلیمنٹ کی کاروائی

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۷ جنوری ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے قومی اسمبلی کی اسپیکر محترمہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے نام ایک خط میں ان سے مطالبہ کیا ہے کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے پہلے پارلیمنٹ میں مسلسل کئی روز تک اس مسئلہ پر جو مباحثہ ہوا تھا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت کا درجہ دینے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

بلوچستان میں شرعی عدالتوں کی بحالی

روزنامہ پاکستان لاہور کی خبر کے مطابق بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتیں بحال کر دی گئی ہیں، اور بلوچستان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر جناب لشکری رئیسانی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام دیوانی کیسوں کے متعلق جلد اقدامات اٹھانے کے خواہاں ہیں اس لیے عوام کی خواہش پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں شرعی عدالتوں کو بحال کیا گیا ہے۔ خبر میں اس سے زیادہ کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی، اس لیے ان شرعی عدالتوں کی ہیئت اور طریق کار کیا ہے اس کے بارے میں سرِ دست کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

فلسطینی عوام کی مظلومیت اور مسلم حکمرانوں کی خاموشی

روزنامہ پاکستان ۲۰ جنوری ۲۰۰۹ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی ربی موردافے الیاہو نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ فلسطینی عورتوں اور بچوں کا قتل عام جائز ہے اور ایسا اقدام کرنے والوں کو مجرم تصور نہ کیا جائے بلکہ اگر دس لاکھ فلسطینی بھی قتل ہو جائیں تو پرواہ نہ کی جائے۔مڈل ایسٹ اسٹڈی سنٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو کاروائی ہو رہی ہے وہ یہودی ربی کے بقول یہودیوں کی ان تعلیمات کے مطابق ہے جن میں کہا گیا ہے کہ دشمنوں کو اجتماعی سزا دی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۹ء

بارک اوباما کو امریکی سینیٹر کا حقیقت پسندانہ مشورہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ دسمبر ۲۰۰۸ء کی ایک خبر کے مطابق امریکی سینیٹر جان کیری نے کہا ہے کہ مزید فوج بھیجنے سے افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ سیکیورٹی کے لیے افغان قوم کے دل و دماغ کو جیتنا لازمی ہے۔ بوسٹن میں ایک خبر رساں ادارے سے بات چیت کے دوران سینیٹر جان کیری نے کہا کہ وہ نو منتخب صدر بارک اوباما کی انتظامیہ کو یہ تجویز دیں گے کہ افغان پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرکے تربیت دی جائے کیونکہ یہی مسئلہ کا حل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

ہم جنس پرستی کی لعنت اور اقوامِ عالم

روزنامہ پاکستان لاہور میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ساٹھ ملکوں کی طرف سے یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ مرد کا مرد سے جنسی تعلق کوئی جرم نہیں ہے اور اس سلسلہ میں قانونی کاروائیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ فرانس کی طرف سے پیش کیے جانے والے اس اعلامیہ کو یورپی اور لاطینی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس پر ساٹھ ممالک کے نمائندوں نے دستخط کیے ہیں، جبکہ اسلامی سربراہ کانفرنس کی تنظیم، مسیحی کیتھولک چرچ، امریکہ، روس اور چین نے اس اعلامیہ کی مخالفت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

جمعیۃ علماء اسلام اور شرعی عدالتیں

عید الاضحٰی کی تعطیلات میں مجھے ایک روز کے لیے صوابی جانے کا موقع ملا جہاں علاقہ کے علماء کرام کے سالانہ اجتماع میں شرکت اور گفتگو کی سعادت حاصل ہوئی۔یہ اجتماع ہر سال ہوتا ہے، پہلے چند سال ضلع صوابی کے مقام باجہ میں ہوتا رہا، اس سال صوابی سے آگے ضلع بونیر کی حدود میں طوطالئی کے مدرسہ حقانیہ میں ہوا، علاقہ بھر کے علماء کرام جمع تھے، دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب مدظلہ العالی اور راقم الحروف کے علاوہ بہت سے دیگر علماء کرام نے خطاب کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۹ء

جنوبی افریقہ میں چند دن کی حاضری

نومبر کے آغاز میں مجھے چند روز کے لیے جنوبی افریقہ جانے کا موقع ملا۔۳۱ اکتوبر اور یکم و نومبر کو کیپ ٹاؤن میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ نے جنوبی افریقہ کی مسلم جوڈیشل کونسل کے تعاون سے بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کر رکھا تھا اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے سر براہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی نے مجھے بطور خاص اس میں شرکت کی دعوت دی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

اقوام متحدہ میں ’’بین المذاہب کانفرنس ‘‘

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ’’بین المذاہب کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جو دو روز جاری رہی اور اس میں کم و بیش ۷۰ ممالک کے سربراہوں، وزرائے خارجہ، سفیروں اور دیگر حکام نے شرکت کی جن میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، پاکستانی صدر آصف علی زرداری، برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن، اسرائیلی صدر شمعون پیریز، افغان صدر حامد کرزئی، اردن کے شاہ عبد اللہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ یہ کانفرنس سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبد اللہ کی تحریک پر ہوئی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

امریکہ سے پاکستانیوں کی نفرت کے اسباب

روزنامہ امت کراچی ۵ نومبر ۲۰۰۸ء کی خبر کے مطابق لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے پرنسپل آفیسر جناب برائن ڈرہنٹ نے رحیم یار خان میں مسلم لیگی راہنما چوہدری جعفر اقبال سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ بھارت کی نسبت پاکستان کو عوامی فلاح اور تعمیر و ترقی کے لیے منصوبوں کے لیے کئی گنا زیادہ امداد دیتی ہے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستانی امریکہ سے نفرت کیوں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

وفاقی وزیر مذہبی امور کی وضاحت کا خیر مقدم

روزنامہ اسلام لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۸ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی نے قومی اسمبلی میں مولانا عطاء الرحمن اور صاحبزادہ حاجی فضل کریم کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض پر کہا ہے کہ قرآن و سنت کے خلاف ملک میں کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا، اور اسلامی نظریاتی کونسل نے حال ہی میں نکاح و طلاق کے قوانین میں جن ترامیم کی سفارش کی ہے انہیں اسلامی نظریاتی کونسل کی تکمیل کے بعد کونسل میں ہی نظرثانی کے لیے دوبارہ پیش کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۸ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter