قرآن کریم کے احکام اور شہزادہ چارلس

روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۸ جون ۲۰۱۰ء کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق نیویارک میں ماحولیات کے حوالہ سے حال ہی منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس نے کہا ہے کہ دنیا کو ماحولیاتی تباہی سے بچانے کے لیے قرآنی احکام و قوانین پر عمل ضروری ہے انہوں نے اس موقع پر کہا ہے کہ اگر ہم دنیا کو ماحولیات کے حوالہ سے کسی بڑی تباہی سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے قرآن کریم کے قوانین پر عمل کرنا ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

ختم نبوت محاذ کی تازہ صورتحال اور دینی حلقوں کی ذمہ داری

لاہور میں قادیانیوں کے دو مذہبی مراکز پر مسلح حملوں کے بعد جس طرح قومی اخبارات اور میڈیا کے دیگر ذرائع میں قادیانیوں کے کفر و اسلام اور ایک اسلامی ریاست میں ان کے معاشرتی اسٹیٹس کے مسئلہ کو ازسرنو زیر بحث لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں وہ ملک بھر کے دینی حلقوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ جہاں تک قادیانی مراکز پر مسلح حملوں اور ان کے نتیجے میں ایک سو کے لگ بھگ شہریوں کے جاں بحق ہونے کا مسئلہ ہے ملک کے تمام سیاسی و دینی حلقوں نے اس کی مذمت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۰ء

مولانا شمس الحق مشتاقؒ

شہدائے کراچی کی تازہ کھیپ پر تعزیت اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے میں اپنے ایک اور ساتھی کو بھی اس میں شامل کرنا چاہتا ہوں اور وہ اچھڑیاں ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے مولانا شمس الحق مشتاق ہیں جن کا گزشتہ شب انتقال ہو گیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کی زندگی کا بھی ایک متحرک دور کراچی میں گزرا ہے اور وہ کچھ عرصہ پہلے تک کراچی میں جمعیت علماء اسلام کے سر گرم حضرات میں شمار ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

جیلوں میں بے سہارا لوگ

روزنامہ ایکسپریس گوجرانوالہ ۲۱ فروری ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق گجرات کے ڈی سی او سردار اکرم جاوید نے ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ بعض بے سہارا قیدی صرف اس لیے جیل میں بند ہیں کہ ان کے مقدمات میں ان کی مصالحت دوسرے فریق سے ہو چکی ہے اور دوسرا فریق ان سے قصاص لینے کی بجائے دیت پر راضی ہو چکا ہے مگر ان کے پاس دیت ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے اور وہ ادائیگی نہ کر سکنے کی وجہ سے برسوں سے جیلوں میں بند پڑے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

پیر صبغۃ اللہ شاہ راشدی شہیدؒ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۱ مارچ ۲۰۱۰ء کی خبر کے مطابق حکومت سندھ نے ۲۰ مارچ کو سندھ کے عظیم مجاہد حضرت پیر صبغۃ اللہ راشدی ؒ کے یوم وفات کے موقع پر سرکاری تعطیل کی ہے اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ یوم وفات یا اس قسم کے دیگر ایام کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے البتہ اس کے ذریعے آج کے دور میں کسی شخصیت، واقعہ یا مسئلہ کے ساتھ عوامی وابستگی اور جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

فیصل آباد میں فرقہ وارانہ دہشت گردی

اس سال بارہ ربیع الاول کو فیصل آباد میں جس افسوسناک فرقہ وارانہ دہشت گردی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس نے ملک بھر کے سنجیدہ مذہبی اور قومی حلقوں کو پریشان اور مضطرب کر کے رکھ دیا ہے اور کوئی صاحب شعور اس کی وجہ سمجھ نہیں پا رہا کہ آخر ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۰ء

عزیزم عمار خان ناصر کا اعزاز

۱۵ فروری ۲۰۱۹ء میرے لیے ذاتی اور خاندانی طور پر انتہائی خوشی کا دن تھا کہ اس روز میرے بڑے فرزند حافظ محمد عمار خان ناصر سلمہ نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر کے آخری زبانی امتحان (Viva) میں سرخروئی حاصل کی، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ عمار خان ناصر نے حفظ قرآن کریم اور درس نظامی کی تعلیم مدرسہ انوار العلوم اور مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے حاصل کی اور اپنے دادا محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ سے دورۂ حدیث میں بخاری شریف پڑھنے کا اعزاز حاصل کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۱۹ء

پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ

گزشتہ روز ایک قومی اخبار کے آخری صفحہ پر مختصر سی خبر نظر سے گزری کہ افغانستان کے سابق صدر پروفیسر صبغۃ اللہ مجددیؒ ۹۳ برس کی عمر میں کابل میں انتقال کر گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس خبر نے ذہن میں ماضی کے بہت سے یادگار مناظر ایک ایک کر کے تازہ کر دیے اور دل سے بے ساختہ مجددی صاحب مرحوم کے لیے مغفرت اور بلندیٔ درجات کی دعا نکلی، اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ فروری ۲۰۱۹ء

اسلامی شریعت ایک مغربی دانشور کی نظر میں

سہ روزہ دعوت دہلی نے ۴ دسمبر ۲۰۰۹ء کی اشاعت میں ایک رپورٹ پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مغربی ممالک کے دانشوروں میں اسلامی شریعت کی ضرورت و افادیت پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے قلم سے اسلامی شریعت کی خوبیاں مسلسل اجاگر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ میں مسیحیوں کے پروٹسٹنٹ فرقہ کے عالمی سر براہ آرچ بشپ آف کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز کے اس لیکچر کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے اس حق کی حمایت کی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۰ء

مغربی ممالک میں مساجد کی تعمیر پر منفی ردعمل کے اسباب

لندن میں برطانیہ کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر کے پروگرام کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے اور لندن کی نیو ہیم کونسل نے کہا ہے کہ مسجد کی انتظامیہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقررہ مدت کے اندر منصوبے کا ماسٹر پلان جمع نہیں کرایا اور یہ مدت گزشتہ ماہ ختم ہو گئی ہے، جبکہ روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ جنوری ۲۰۱۰ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق علاقہ کے اڑتالیس ہزار افراد نے مسجد کی تعمیر روکنے کے لیے متعلقہ محکموں میں درخواست جمع کرا رکھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۰ء

امریکہ کی ’’ٹی پارٹی‘‘

گزشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ مسز سارہ پالن نے، جو امریکہ کے گزشتہ انتخابات میں نائب صدر کے منصب کے لیے امید وار تھیں، امریکہ کی پرانی ’’ٹی پارٹی ‘‘ کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس طرح وہ امریکی معاشرہ کو ماضی کی قدروں کی طرف واپس جانے کا پیغام دے رہی ہیں۔ ’’ٹی پارٹی ‘‘ برطانوی استعمار کے خلاف امریکی عوام کی جدوجہد آزادی کا سب سے پہلا فورم تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

افغانستان کی صورتحال اور سابق روسی صدر میخائل گورباچوف کا تجزیہ

افغانستان کی صورتحال کے بارے میں لندن کانفرنس کے موقع پر طالبان سے مذاکرات پر زور دینے کے بعد افغانستان میں اتحادی فوجوں نے دباؤ بڑھا دیا ہے اور طالبان راہنماؤں کی گرفتاریوں کی مہم بھی تیز کر دی گئی ہے۔ لندن کانفرنس کا مقصد خود برطانوی حکومت کے نمائندے نے یہ بتایا ہے کہ افغانستان میں مذاکرات کا فیصلہ طالبان کی قوت کو تقسیم کرنے کے لیے کیا گیا ہے کیونکہ ان کے خیال میں طالبان کی ۸۰ فیصد اکثریت جنگ کی حامی نہیں ہے اور انہیں الگ کرنے کے لیے مذاکرات کا جال بچھایا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

اچھی حکمرانی، مگر کیسے؟

۹ فروری ۲۰۱۰ء کو سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے معزز جج سردار محمد رضا خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں یہ نظریہ درست نہیں ہے کہ انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا فریضہ ہے، اس غلط نظریہ کے باعث دوسرے سبھی متعلقہ اداروں نے خود کو ہلکا پھلکا سمجھنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں ’’اچھی حکمرانی‘‘ پر توجہ ہی نہیں دی جا رہی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۱۰ء

سنکیانگ کے مسلمانوں کا مسئلہ

ایک اہم مسئلہ کی طرف احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ چین کا مغربی صوبہ سنکیانگ جس کی سرحد ہمارے ملک کے ساتھ لگتی ہے اور جو کسی زمانے میں کاشغر کہلاتا تھا، ہمارے پرانے مسلم لٹریچر میں اس کا ایک اسلامی خطہ کے طور پر کاشغر کے نام سے ذکر موجود ہے لیکن بعد میں اسے سنکیانگ کا نام دیا گیا ہے، میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق وہاں مسلمانوں کے ساتھ معاملات بہت پریشان کن اور اضطراب انگیز ہیں کہ وہ ریاستی جبر کا شکار ہیں، انہیں مذہبی آزادی بلکہ شہری آزادیاں بھی حاصل نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۱۹ء

خلافتِ عثمانیہ اور ہمارے اکابر

جامعہ مظاہر علوم سہارنپور (انڈیا) کے ناظم اعلیٰ مولانا مفتی سید شاہد الحسنی سہارنپوری کا تحریر کردہ ایک کتابچہ گزشتہ روز نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اب سے ایک صدی قبل بپا ہونے والی تحریک خلافت میں جامعہ مظاہر علوم کی سرگرمیوں اور کردار کا تعارف کرتے ہوئے اس دور کے کچھ فقہی مسائل اور مباحث کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ ہماری ملی تحریک اور جدوجہد آزادی کا ایک اہم ریکارڈ ہے جس کا مطالعہ ہر دینی کارکن کو کرنا چاہیے البتہ اس میں سے چند باتیں قارئین کے علم میں لانے کے لیے اس کالم میں نقل کی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ فروری ۲۰۱۹ء

پلاٹوں کی سیاست: صوبائی حکومت اور حزب اختلاف کا ایک مستحسن فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ اکتوبر ۲۰۰۹ء شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق صوبائی اسمبلی میں شیخ علاء الدین ایم پی اے کی طرف سے پیش کی جانے والے اس تجویز کو حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے مسترد کر دیا ہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کی طرح صوبائی اسمبلی کے ارکان کو بھی لاہور میں حکومت کی طرف سے پلاٹ دیے جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

دینی مدارس پر چھاپوں کا نیا راؤنڈ

جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور دیگر متعدد مدارس پر چھاپوں کے بعد دینی مدارس کے خلاف کاروائی کا ایک نیا راؤنڈ شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مدارس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں طلبہ کو مبینہ دہشت گردی کی ٹریننگ دی جاتی ہے اور حکمرانوں کے بقول دہشت گرد ان مدارس کو پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل جنوبی پنجاب کے بہت سے مدارس پر چھاپے مارے گئے تھے لیکن ان چھاپوں سے کچھ حاصل نہ ہوا اور اساتذہ و طلبہ کی تفصیلی تلاشیوں کے بعد یہ دیکھنے میں آیا کہ ان غریبوں کے پاس کتابوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

دنیا میں مسلمانوں کی تعداد اور ہماری مجموعی صورتحال

روزنامہ پاکستان لاہور کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ’’ایک امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے ہر چار میں سے ایک شخص مسلمان ہے اور ان کی مجموعی تعداد ایک ارب ستاون کروڑ ہے جس میں ساٹھ فیصد ایشیائی ملکوں میں رہتے ہیں۔ ’’فورم آف ریلیجین اینڈ پبلک لائف‘‘ کی رپورٹ تیار کرنے میں تین سال صرف ہوئے، اس میں بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کی کل تعداد میں سے بیس فیصد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں رہتے ہیں، جرمنی میں لبنان سے زیادہ مسلمان ہیں جبکہ روس میں ان کی تعداد لیبیا اور اردن کے مسلمانوں سے زیادہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۰۹ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کرنے کی تجویز

روزنامہ جناح لاہور ۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے راہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ آئین میں ترامیم تجویز کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اے این پی نے یہ تجویز دی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام تبدیل کر کے عوامی جمہوریہ پاکستان رکھ دیا جائے اور ایم کیو ایم بھی اس تجویز کی حمایت کر رہی ہے۔ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کمیٹی اس وقت دستور میں ضروری ترامیم تجویز کرنے پر کام کر رہی ہے اور اس کے سامنے سیکولر حلقوں کی طرف سے اس قسم کی تجاویز بھی آرہی ہیں کہ ملک کا نام تبدیل کر دیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

فوجوں کے ذریعے دل جیتنے کا فارمولا

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۶ نومبر ۲۰۰۹ء کی خبر کے مطابق افغانستان میں برطانیہ کے سینئر کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نک پارکر نے، جو افغانستان میں نیٹو افواج کے ڈپٹی کمانڈر بھی ہیں، ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے بہتر جنگی ساز و سامان کی نہیں بلکہ لوگوں کے دل اور ذہن کو جیتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں جنگ جیتنے کے لیے مزید اور جدید ہتھیاروں کی ضرورت نہیں بلکہ نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس سے لوگوں کا اعتماد حاصل کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

دیوبندی جماعتوں کی خصوصی توجہ کے لیے

۱۹ نومبر ۲۰۰۹ء کو لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی کی دعوت پر دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی ایک درجن سے زائد جماعتوں کی صوبائی قیادتوں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد موجودہ ملکی صورتحال اور اس کے تناظر میں علماء دیوبند کے خلاف پروپیگنڈے میں مسلسل اضافے کا جائزہ لینا اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اجلاس میں طے پایا کہ صوبائی سطح پر ایک مجلس مشاورت قائم کی جائے جو باہمی مشاورت اور اشتراک عمل میں اضافہ کے لیے محنت کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۹ء

اربعین ولی اللّٰہی کا درس

دارالہدٰی (اسپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ) میں ہر سال حدیث نبویؐ کے کسی نہ کسی موضوع پر درس ہوتا ہے اور اصحابِ ذوق اس میں اہتمام کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔اس سال جولائی کے آخری ہفتہ کے دوران کئی روز تک حضرت امام ولی اللہ دہلوی کی روایت کردہ درج ذیل اربعین کے درس کی سعادت حاصل ہوئی، فالحمد للہ علی ذٰلک ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۰۹ء

قرضوں کی معافی کو غیر قانونی قرار دینے کا تاریخی فیصلہ

روزنامہ پاکستان لاہور ۲۳ دسمبر ۲۰۰۹ء میں شائع شدہ خبر کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے بینکوں سے حاصل کی گئی رقوم کی معافی کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو حکم دیا ہے کہ وہ ۱۹۷۱ء سے اب تک بینکوں سے معاف کرائے جانے والے قرضوں کی فہرست پیش کرے اور ان کی واپسی کے لیے نظام کار وضع کیا جائے۔ چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے، جس میں جسٹس انور ظہیر جمالی اور جسٹس خلجی عارف حسین شامل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

این آر او کا خاتمہ اور مسئلہ کا اصل حل

عدالت عظمیٰ نے ’’قومی مفاہمت آرڈیننس‘‘ (NRO) کو دستور پاکستان سے متصادم قرار دے کر ختم کرنے کا جو تاریخی اعلان کیا ہے اس پر ہر محبت وطن شہری خوش ہے اور اب کسی حد تک یہ توقع نظر آنے لگی ہے کہ قومی سیاست میں کرپشن، بددیانتی اور ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے افسوسناک رجحانات میں کمی آئے گی اور ملک میں صحت مند سیاست کا آغاز ہو سکے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

خودکش حملے اور حکومتی پالیسیاں

ان دنوں خودکش حملوں کے خلاف علماء کرام کے اجتماعی فتویٰ کے لیے سر کاری حلقوں کی طرف سے کوششیں جاری ہیں، وفاقی وزیر داخلہ کراچی کا دورہ کر چکے ہیں اور وفاقی وزارت مذہبی امور نے اسلام آباد میں سر کردہ علماء کرام کا ایک اجلاس منعقد کیا ہے مگر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۹ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ جناب محمد شہباز شریف نے صوبائی اتحاد بین المسلمین کمیٹی اجلاس لاہور میں طلب کیا تھا جو دراصل محرم الحرام کے دوران امن و امان سے متعلقہ مسائل و امور کا جائزہ لینے کے لیے منعقد ہوا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۱۰ء

مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں؟

ان دنوں جہاں بھی جا رہا ہوں ایک سوال کا کم و بیش ہر جگہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کیا کر رہے ہیں اور ان کا رخ کدھر ہے؟ میرا جواب عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ رخ تو ان کا صحیح سمت ہی ہے البتہ رفتار اور لہجے کے بارے میں کبھی کبھی سوچنے لگ جاتا ہوں کہ کیا وہ ضرورت سے زائد تو نہیں ہے؟ ہماری مقتدر قوتوں اور میڈیا دونوں کی یہ مجبوری چلی آرہی ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے وہ اس بات کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ قومی سیاست میں دینی حلقوں کے تناسب کو کم سے کم کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے، مکمل تحریر

۹ فروری ۲۰۱۹ء

حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کا مشن

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور جامعہ اشرفیہ لاہور میں دورۂ حدیث شریف کے طلبہ کو بخاری شریف کے اسباق پڑھانے کے علاوہ مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں اور دینی و قومی معاملات میں گفتگو اور راہنمائی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ شب مولانا عبد الرؤف فاروقی، قاری محمد عثمان رمضان اور اپنے دو پوتوں ہلال خان اور ابدال خان کے ہمراہ جامعہ اشرفیہ حاضر ہوا تو بہت خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ فروری ۲۰۱۹ء

صدر قذافی کا جنرل اسمبلی سے خطاب

لیبیا کے صدر معمر القذافی نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا جو ان کے چالیس سالہ دور اقتدار میں اس عالمی فورم پر ان کا پہلا خطاب تھا۔ انہوں نے مغربی ملکوں کی پالیسیوں اور اقوام متحدہ کے کردار پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسرائیل کی طرفداری کر رہے ہیں اور انہوں نے عراق اور افغانستان پر ناجائز فوج کشی کی ہے، انہوں نے سوال کیا کہ اگر وٹیکن میں مذہبی ریاست ہو سکتی ہے تو طالبان کی مذہبی حکومت کو کیوں برداشت نہیں کیا جا رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

خونی انقلاب، معاشی انصاف اور جعلی نظام

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۹ ستمبر ۲۰۰۹ء کی ایک خبر کے مطابق پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے ایوان کارکنان میں یوم پاکستان کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خونی انقلاب ہر گھر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے اگر حکمرانوں نے عوام کے لیے روٹی، تعلیم، معاشی و معاشرتی انصاف کا انتظام نہ کیا تو عوام اس جعلی نظام کو زمین بوس کر دیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

توہین رسالتؐ پر سزا کا قانون پھر موضوع بحث

توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا دستوری فیصلہ ایک بار پھر قومی سیاست میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اور مختلف اطراف سے ان پر اظہارِ خیال کا سلسلہ جاری ہے ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے سر براہ الطاف حسین نے ایک ٹی وی چینل کے پروگرام میں قادیانیوں کو مظلوم قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۰۹ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter